Tuesday, 10 March 2020

تبدیلی لانے والے کہاں ہیں؟ - Apr 25, 2013

 Thu, Apr 25, 2013 at 10:17 AM
تبدیلی لانے والے کہاں ہیں؟
سہیل سانگی
اب بال عوام کے کورٹ میں ہے۔ پہلے انتخابات کا کھیل سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں تک محدود تھا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری ہونے  بعد انتخابی مہم شروع ہوچکی ہے۔ امیدوار اور سیاسی جماعتیں عوام سے رجوع کر رہی ہیں۔عوام  اپنے ردعمل کا اظہار کر رہا ہے۔اس مرتبہ بعض نئے مثبت  رجحانات سامنے آئے ہیں۔  انتخاب لڑنے والوں کے مقابلے میں لوگوں کا جذبہ زیادہامید افزا ہے۔
 اپنے خاندان میں ہی پارٹی ٹکٹ بانٹنے سے اپر کلاس کی سوچ کھل کر سامنے آگئی ہے۔ لیکن عوام میں صرف قوت برداشت ہی نہیں ہوتی بلکہ بے پناہ تخلیقی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔وہ اپنااظہار سیاسی رویے سے ہی کرتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق لاڑکانہ، دادو  اورسکھر وغیرہ میں امیدواروں کوووٹرز کی  جانب سے کئی سوالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بعض مقامات پر امیدواروں کو روکا بھی گیا ہے۔ یہ شکایات عام ہیں کہ انتخاب جیتنے کے بعد منتخب نمائندوں نے واپس حلقے کا رخ ہی نہیں کیا۔ امیدواروں سے سیاسی پالیسی اور حکمت عملی  کے بارے میں بھی سوالات کئے جارہے ہیں۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی کے لیڈروں سے حکومت کی مفاہمتی پالیسی پر پوچھا جا رہا ہے کہ ایک اتحادی جماعت کو خوش کرنے کے لیے صوبے کے مفادات کا سودا کیا گیا ہے۔ 
ایک منتخب حکومت کی آئینی مدت مکمل کرنے کے بعض ٖیر محسوس فوائد بھی ہوتے ہیں۔ جب انتخاب ہونے لگے ہیں لوگ اسمبلی ممبران سے سوالات پوچھنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔ ان کی کارکردگی کے بارے میں پوچھا جارہا ہے۔ اگر حکومت آئینی دت مکمل نہ کرتی اور کوئی طالع آزما اس سے پہلے ہی حکومت کو برطرف کرتا تو یہ عمل پیپلز پارٹی کو مظلوم بنا کر مضبوط کر دیتا۔اس صورت میں لوگوں کے پاس  نہ کوئی اور راستہ بچتا اور نہی سوال ہوتا۔ وہ ہمدردی کی بنیاد پر اس پارٹی کو ووٹ دے دیتے۔ یوں انتخابی عمل یک طرفہ رہتا جس میں کارکردگی یا پروگرام زیر بحث نہیں آتے۔ تجربہ  نے چابت کردیا کہ جمہوری عمل ہی سب سے بڑا فلٹر ہے کو سیاست کو صاف کردے گا۔
 یہ درست ہے کہ آج انتخابات میں لوگوں کے پاس کوئی زیادہ یا بہتر آپشنز نہیں ہیں۔ ایک طرف سابق حکمران جماعت ہے جس کی کارکردگی اور طرز حکمرانی کا تجربہ ابھی تازہ تازہ ہے۔ اس جماعت میں روایتی وڈیرے، میر اور پیر اسمبلی ممبر تھے۔ دوسری طرف دس جماعتی اتحاد ہے جو نہ اپنا سیاسی پروگرام دے سکا ہے اور نہ ہی اپنا نام رکھ سکا ہے۔ پیپلز پارٹی اور دس جماعتی اتحاد کے مابین طبقاتی اور عملی طور پر کوئی فرق نہیں۔ د س جماعتی اتحاد میں بھی وڈیرے ہیں جو حالیہ حکومت کا حصۃ تھے یا اس میں بعض ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو 2002 کے انتخابات میں بھی تھے جن کو لوگ آزما چکے ہیں۔ لہٰذا دونوں جماعتیں آزمائی ہوئی ہیں۔ 
 دعوے خواہ کچھ بھی ہوں لوگ جانتے ہیں کہ حقیقی معنوں میں کس فریق نے کیا دیا؟ اب عوام جذبات سے ہٹ کر امیدواروں کی کارکردگی پرکھنے کی پوزیشن میں ہے۔ 
عوام  اس پوزیشن میں آئے ہیں تبھی نو لکھی گدڑی کے پیر آف ہالہ مخدوم امین فہیم اپنے آبائی حلقے ہالہ میں لوگوں کے درمیان موجود ہیں۔اور عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ تمام مخدوم برادران انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔کیونکہ وہ لوگوں کے بدلے ہوئے تیور محسوس کر رہے ہیں۔ ورنہ یہی مخدوم امین فہیم پولنگ والے دن بغیر ووٹ ڈالے اور پولنگ اسٹیشن کا معائنہ کئے ہالہ سے اسلام آباد روانہ ہو جاتے تھے۔  
ملتان کے پیر کی بھی یہی صورتحال ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی گزشتہ تین ہفتوں سے عمرکوٹ اور تھر میں ٹہرے ہوئے ہیں۔ورنہ یہی پیر صاحبان کی چٹھی پر مرید ووٹ ڈالتے تھے۔  اگرچہ مخدوم صاحب ملتان سے بھی امیدوار ہیں۔ مگر وہ زیادہ سنجیدہ تھر کی ان دو  حلقوں پر ہیں۔ شاید انہیں اندازہ ہے کہ وہ وہ اپنی آبائی حلقے سے جیت نہیں سکتے۔ یہاں تھر  کے سادہ لوگوں کو پیر پرستی میں لاکر مستقبل کا آسرا دے کر ووٹ لیا جاسکتا ہے آج مخدوم صاحب تھر کی غیرب بڑہیا کے ساتھ زمین پر بھی بیٹھ جاتے ہیں۔ ورنہ کہا ملتان کے سجادہ نشین اور کہاں تھر کے غیرب لوگ!! یہ صورتحال صرف دو امیدواروں یا دو حلقوں تک محدود نہیں۔ فریال تالپور اور عذرا پیچوہو کو بھی در در جا کر ووٹ مانگنے پڑ رہے ہیں۔ اور حلقوں میں بھی سابق اسمبلی ممبران سوالات کو منہ دے رہے ہیں۔ جب بینظیر زندہ تھیں تو ان ست یہ احتساب معاف تھا۔ 

بعض مقامات پر ووٹر ممبران کو مخصوص سندھی اسٹائل میں کہتے ہیں ”باقی تو آپ لوگوں کی مرضی ہے، مگر سندھ کی پارت ہو۔“ان الفاظ میں بہت بڑا پیغام اور بہت بڑا طعنہ پنہاں ہے۔ 
پیپلز پارٹی اس سے پہلے بااثر اور وڈیروں کو پارٹی میں لانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا تھی۔ ٹھٹہ کے شیرازیوں کی عین وقت پر بیوفائی، گھوٹکی کے مہروں اور لنڈوں  یا لاڑکانہ کے انڑکے نخروں نے شاید پارٹی کی قیادت کو یہ یاد دلادیا کہ عوام بھی ہوتے ہیں۔ لہٰذا اب عوام سے رجوع کرنا شروع کردیا۔
اسمبلی ممبران سے لوگوں کے سوالات، اور طعنے ظاہر کرتے ہیں کہ تبدیلی کی علامات موجود ہیں۔ لوگ اس کا اظہار متنازع دہری بلدیاتی نظام کے خلاف احتجاجوں کی صورت میں کر چکے ہیں۔ اور اب انتخابی مہم کے دوران بھی کر رہے ہیں۔عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔ایسی تبدیلی جو واقعی بامقصد ہو۔ جس سے اقتدار کا ڈھانچہ تبدیل ہو۔لیکن قیادت اس پوری صورتحال کو ایک طاقت میں تبدیل نہ کر سکی۔ المیہ ہے کہ متبادل نہیں۔ لوگ اس بات کے لیے تیار نہیں کہ ایک وڈیرے کو چھوڑ کر دوسرے  وڈیرے کے سیاسی ہاری بن جائیں۔ اگر سیاسی ہاری ہی ہونا ہے اور کچھ تبدیل نہیں ہونا ہے تو پہلے والے وڈیرے میں کیا برائی ہے۔ اگربرائی ہوگی بھی تو کہیں دو آنے کم تو کہیں دو آنے زیادہ ہوگی۔ صرف اس بنیاد پر وفاداری کیوں تبدیل کریں؟
  مطلب معروضی حالات تو موجود ہیں لیکن موضوعی عنصر گم ہے۔ ایسے میں کسی مثبت تبدیلی کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔دراصل سندھ کی قوم پرست جماعتیں لوگوں کو متبادل نہیں دے سکی ہیں۔ترقی پسند اور وشن خیال طبقہ غائب ہے۔ جو متبادل بن کر آرہا ہے اس کو لوگ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ دنیا بھر میں قوم پرست اور ترقی پسند نظریات کے حامل لوگ نظریاتی بنیادوں پر کام کرتے ہیں، جس کا فائدہ مجموعی طور پر سماج کو ملتا ہے اور سماج میں روشن خیال، ترقی پسند اور جمہوری سوچ آگے بڑھتی ہے جو کہ بامقصد تبدیلی کا راستہ کھولتی ہے۔ لیکن سندھ میں یہ فکری کام اب نہ ہونے کے برابر ہے۔

سندھ کے لوگ اس صورتحال کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کہ ماؤزے تنگ، جی ایم سید، مولانا مودودی  اور اسٹبلشمنٹ کے اعلانیہ حامی کے پیروکار ایک ساتھ کھڑے ہیں۔محمود وایاز تو دو تھے جو کہ شاید ایک ہی صف میں کھڑے بھی ہوجاتے یہاں تو چار بھانت بھانت کے  لوگ ہیں۔ کیا یہ لوگ اقتدار میں حصہ پتی لینے کے لیے کٹھے ہو گئے ہیں یا ان کی نظریاتی سرحدیں مل گئی ہیں؟ اگر نظریاتی سرحدیں مل گئی ہیں تو یہ وہ نقطہ ہے جس کے بارے میں ان تینوں بزرگوں کو اپنی زندگی میں کبھی احساس نہیں ہوا۔ تاہم ان کے پیروکاروں نے پاکستان میں یہ  ملنے کا نقطہ تلاش کر لیا ہے۔ 

No comments:

Post a Comment