Sat, Feb 23, 2013 at 11:43 PM
متنازع بلدیاتی نظام کی منسوخی
سہیل سانگی
بعد از خرابی بسیارسندھ اسمبلی نے متنازع بلدیاتی نظام کا قانون واپس لے لیا۔ اس قانون کے خلاف سندھ میں گزشتہ ساڑھے چار ماہ سے حتجاج ہوتے رہے۔ دو مظاہرین پولیس کے ہاتھوں مارے گئے۔ درجنوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے۔اس قانون کے واپس لینے پر کئی شہروں میں جشن منایا گیا اور اسے عوام کی فتح قرار دیا گیا۔ایسا کرنے سے سندھ میں موجود ایک بے چینی توختم ہوئی۔ لیکن مبصرین متنازع قانون کی واپسی کو ایک ڈرامہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کاکہناہے کہ پیپلز پارٹی کو سہولت دینے کے لیے سب اسکرپٹ کے تحت کیا گیا ہے۔
یہ قانون اس وقت منسوخ کیا گیا ہے جب موجودہ حکومت کی مدت میں بمشکل تین ہفتے باقی ہیں اور اتحادی جماعت ایم کیو ایم جس کی فرمائش پر یہ نظام نافذ کیا گیا تھا، حکومتی اتحاد چھوڑ کر اپوزیشن کی بینچوں پر جا بیٹھی ہے۔
پیپلز پارٹی کی اس 180درجے کی قلابازی پر عوام سراپا حیرت ہیں۔ بلدیاتی نظام کا قانون واپس لینے سوالات بھی بہت ہیں تو خدشات بھی بہت۔ لوگ حکمراں جماعت کے اس اچانک تبدیلی اور اس کے مختلف رخوں پر باتیں کر رہے ہیں۔ اکثر مبصرین حکومت کے اس اقدام کو شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے وزراء پانچ ماہ تک بل کی حمایت میں تعریفوں کے پل باندھتے رہے اور یہ قرار دیتے رہے کہ اس قانون سے صوبے میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ لیکن پھر ایک ہی دن میں قانون کی تمام برائیاں نظر آ گئیں۔اور جس پر اسرار طریقے سے پہلے قانون منظور کیا گیا تھا اسی پراسراریت سے واپس لے لیا گیا۔ اگر پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس سندھ کے نقصان میں تھا تو اس لاپروائی سے اسمبلی نے منظور کیسے کیا؟ صرف اتنا ہی نہیں پیپلز پارٹی کی قیادت اس قانون کی حمایت میں تمام حدود کراس کر گئی۔ کیا اس کامطلب یہ سمجھا جائے کہ سندھ کی قیادت اور نمائندگی اتنے غیرسنجیدہ لوگوں کے پاس ہے؟
بلدیاتی نظام کا قانون کیوں واپس لیا گیا؟ اس کے تین امکانی اسباب بتائے جاتے ہیں۔ اول یہ کہ سندھ کے عوام کی مسلسل جدوجہد نے پیپلز پارٹی کو مجبور کردیا کہ وہ متنازع قانون واپس لے۔ اگر سندھ کے لوگ اتنا احتجاج نہیں کرتے اور دباؤ نہیں ڈالتے تویہ قانون منسوخ نہیں ہوتا۔یہ موقع اس کو ایم کیوایم کی اتحاد سے علحدگی کے بعد مل گیا۔ اس علحدگی کے بعد بظاہر پیپلزپارٹی کے پاس کوئی عذر نہیں باقی بچا تھا۔اگر ابھی بھی پارٹی ایسا نہیں کرتی تو پارٹی کے اندر دباؤ بڑھ جاتا۔
دوسری وجہ سپریم کورٹ میں اس قانون کیخلاف بیریسٹر ضمیر گھمرو کی زیرسماعت آئینی درخواست ہو سکتی ہے جہاں حکومت اپنا دفاع نہیں کر پارہی تھی اور عدلیہ کے ریمارکس سے لگ رہا تھا کہ مقدمہ کس طرف جا رہا ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ عدالت قانون کو مسترد کردے حکومت نے اس کو واپس لینے کا فیصلہ کیا۔ عدالت کے ریمارکس بہت ہی دل لبھانے والے تھے جن سے سندھ کے عوام کی تسکین ہو رہی تھی۔بیریسٹر ضمیر گھمرو کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں مقدمی کارروائی آخری مرحلے میں تھی۔باقی صرف متحدہ کے ایک وکیل کے دلائل باقی تھی۔ عین اس وقت ”امین“ کے فیصلے سے بچنے کے لیے متحدہ نے پیپلز پارٹی کی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ فی الحال اس قانون کو واپس لیا جائے۔ اگر عدالت فیصلہ صادر کردیتی تو یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا۔ اور متحدہ بلدیاتی نظام کو کبھی بھی تبدیل نہیں کر سکے گی۔ اگر یہ تھیوری مان لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ایک اورسیاسی مصلحت ہی نہیں بلکہ کمپرومائز کیا ہے۔ اور آئندہ انتخابات جیتنے کے بعد ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی مل کر یہ نظام دوبارہ بحال کردیں گی۔
تیسری وجہ عام انتخابات ہو سکتے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران اس قانون کے حوالے سے دباؤ بڑھ جاتا جو کہ برداشت کرنا پیپلز پارٹی کے بس میں نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار ون کے لیے ووٹرز کے پاس جانا اور اپنی پوزیشن کا دفاع کرنا مشکل ہو گیا تھا۔پارٹی کے کارکن اس پر خوش ہیں۔ بقول ایک مقامی رہنما کے اب تو صرف طنز برداشت کرنی پڑے گی۔ لیکن بات کرنے کی پوزیشن میں تو ہیں۔
ایک خیال یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسٹبلشمنٹ کو سندھ میں دہرا بلدیاتی نظام قبول نہیں تھا۔کیونکہ باقی صوبوں میں موجود نظام سے اس کی مماثلت نہیں تھی۔ اس کے علاوہ خود صوبے کے اندر یہ نظام متنازع بن گیا تھا، جو ہر وقت مسئلے کھڑا کرتا۔خاص طور پر اس وقت جب پیپلز پارٹی حکومت میں نہیں ہوتی۔یوں صوبے میں شہری دیہی کشمکش انتظامی سطح پر جاری رہتی۔
جس طرح سے بلدیاتی نظام کا قانون نافذکیا گیاور بعد میں واپس لیا گیا، اس سے پیپلز پارٹی کی سیاسی دانشمندی اور اسمبلی ممبران کے پر شبہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کیا وہ صرف مہرے ہیں یا عوام کے نمائندے؟ ادھر یہ بھی سوال کیا جا رہا ہے کہ قانون پاس کرنے اور اسے واپس لینے دونوں مرحلوں پر کسی بھی بھی اسٹیج پر پارٹی کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اگر پارٹی نے اس قانون کے حق میں جلسہ بھی کیا تو وہ مخالفین کو دکھانے کے لیے تھا،اس سے پارٹی سطح پر کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔
بل کی منظوری کے بعدگورنر سندھ عشرت العباد کے استعیفا نے بھی سوال پیدا کر دیئے ہیں کہ وہ صوبے میں صدر یا وفاقی حکومت کے نمائندے تھے یا صرف اور صرف متحدہ کے نمائندہ تھے۔ جب اسمبلی نے اکثریت رائے سے بل منظور رکر لیا تو اسے دستخط کرنے چاہئیں تھے۔ مگر انہوں نے ا س کے بجائے بیرون ملک چلے جانے کو ترجیح دی اور استعیفا دے دیا۔ گورنر اگر اس بل کو درست نہیں سمجھتے تھے تو اس پر اعتراض ڈال کر واپس اسمبلی کو بھی بھیج سکتے تھے۔
پیپلز پارٹی نے پانچ سال کے دوران جس پالیسی پر گامزن رہی ہے سندھ اس سے ناخوش ہے۔ متنازع بلدیاتی نظام کی منسوخیسے بلاشبہ پارٹی کی پوزیشن کچھ بہتر ہوئی ہے۔ شاید سندھ کے لوگ اس کو معاف بھی کر سکتے ہیں، لیکن پارٹی کو اپنا اعتماد اور ساکھ بحال کرانے کے لیے کچھ مزید اقدامات کرنے پڑیں گے۔اول یہ کہ اس شبہ کو دور کرنا پڑے گا کہ ا ّئندہ انتخابات کے نتیجے میں اگر یہ دونوں جماعتیں صوبے میں حکومت بناتی ہیں تو یہ متنازع قانون کسی دوسری شکل میں نافذ نہیں کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے اندرون سندھ کے لوگوں کی کراچی کے تعلیمی اداروں میں داخلے اور صوبائی دارلحکومت میں سندھ کے لوگوں کو ملازمت کرنے کے مساوی مواقع جیسے مطالبات کو تسلیم کرنا پڑے گا۔
مبصرین اس رائے کے ہیں کہ تمام تر مخالفت کے باوجود قوم پرست اور پیر پاگارا مطلوبہ دباؤ نہیں ڈال سکے کہ حکومت مجبور ہو جاتی کہ بل واپس لے لیتی۔در اصل ان جماعتوں نے اس اشو کو انتخابی مہم کے لیاٹھا کے رکھا۔
اس جدوجہد ے ہر جماعت کے لیے کئی سبق ہیں۔ پیپلز پارٹی کے لیے یہ کہ عوام کی مرضی کے بغیر سیاسی مصلحت کے ساتھ بننے والا قانون زیادہ عرصہ چل نہیں سکتا۔ قوم پرستوں کے لیے یہ سبق ہے کہ ان کو اپنی جدوجہد دوسرے کی جھولی میں نہیں ڈالنی چاہئے تھی اور اپنی جدوجہد پر یقین رکھتے۔ اگر ان کی جدوجہد کی حیثیت بنے گی تواشو حل ہوگا نہیں تو دو سرے فریق اس کو اپنے مقاصد کے لیے ہی استعمال کریں گے۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں قوم پرست جو سندھ کی تیسری قوت سمجھے جاتے تھے ان کی پوزیشن متاثر ہوئی ہے۔
No comments:
Post a Comment