Mon, Dec 31, 2012, 10:15 AM
پیپلز پارٹی کے فریم میں بلاول کی تصویر
میرے دل میرے مسافر۔۔سہیل سانگی
بالآخر صدر آصف علی زرداری ترپ کا پتہ نکال لیا۔ گڑھی خدابخش میں باقاعدہ اعلان کیا گیا کہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات بلاول بھٹو زرادری کی قیادت میں لڑے گی۔بلاول نے پارٹی کی سربراہی کا منصب باقاعدہ سنبھال لیا ہے۔ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرادری نے والدہ کی پانچویں برسی کے موقعے پر جلسہ عام سے خطاب سے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز کیاہے۔ بینظیر کے قتل کے بعداگرچہ بلاول کو پارٹی کا چیئرمین بنایا گیاتھا، مگر تمام معاملات ان کے والد آصف علی زرداری ہی دیکھ رہے تھے جن کے پاس پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ تھا۔ اب انتخابات ہونے جارہے ہیں تو ووٹ لینے کے لیے بلاول بھٹو کو آگے لایا گیا ہے۔ یوں آکسفرڈ یونیورسٹی سے جدید تاریخ اور سیاست میں گریجوئیشن کرنے والے صدر زرادری کے بیٹے نے بھٹو فیکٹر کی سیاسی میراث سنبھال لی ہے اور سیاسی کریئر کا آغاز کردیا ہے۔
وہ آکسفرڈ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے جب والدہ کا قتل ہوا تو انہیں پارٹی کا چیئرمین بنایا گیا تب سے ملکی سیاست میں دلچسپی لینے لگے۔ گزشتہ ایک دو سال سے پاکستان میں قیام کے دوران والد آصف علی زرداری کے پاس زیر تربیت رہے۔
بلاول بھٹو کے سیاسی کریئر کے بارے میں امیدیں بھی ہیں اور خدشات بھی۔ مجموعی طور پر ملے جلے تاثرات ہیں۔اسٹبلشمنٹ جو کہ بھٹو فوبیا کا شکار ہے اب اس کو بلاول کی شکل میں نئے چلینج کا سامناہے۔ تاہم ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو سمجھتا ہے کہ سندھ اب تبدیل ہو چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کو اچھا ریسپانس نہیں ملے گا۔
پیپلز پارٹی کے کارکنان خوش ہیں کہ آصف علی زرادری جن کو وہ ”بحالت مجبوری“ پارٹی کا سربراہ مانے ہوئے تھے ان سے پارٹی کی قیادت بینظیر کے بیٹے کے پاس آگئی ہے۔لیکن اس پر بھی سوالات ہیں کہ کیا پارٹی کی لیڈرشپ واقعی بلاول کے پاس آگئی ہے اور تمام فیصلے وہی کریں گے؟ ان فیصلوں میں ان کے والد آصف علی زرادری کا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا؟ ایسا ہونا ناممکنات میں ہے۔ صدر زرداری بہرحال موجود ہیں انہوں نے سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان نہیں کیا ہے۔
بلاول بھٹو کی تقریر اچھی تھی جو کہ پوری تیاری کیساتھ کی۔ تقریر کا آغاز نعرہ تکبیر سے کیا۔ یہ نعرہ کبھی بھی پیپلز پارٹی کا سیاسی نعرہ نہیں رہا۔یہ نعرہ مذہبی جماعتیں سیاسی نعرے کے طور پر لگاتی رہی ہیں۔ شاید بلاول نے ملک میں مذہبی ماحول کو کچھ زیادہ اثرلیا اور مذہبی جماعتوں کا سیاسی نعرہ لگایا۔ بلاول کی تقریر جذبات سے خالی اور سنجیدہ تھی۔ جبکہ بعض مبصرین تقریر کو جارحانہ بھی قرار دے رہے ہیں کیونکہ انہوں اپنی والدہ کے قتل کیس کے حوالے سے عدلیہ کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے اپنی تقریر میں ذوالفقار علی بھٹو کا ”روٹی کپڑا اور مکان“ کا بھی نعرہ دہرایا۔یہ درست ہے کہ ملک میں انتہا درجے کی غربت ہے۔ لاکھوں لوگ ان تینوں بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ مگرآج کے دور میں گورننس، سروس ڈلیوری، انسانی حقوق زیادہ اہم اشوزہیں۔ یہ وہ نکات ہیں جو جمہوریت کی نئی تعریف کے دائرے میں شامل ہیں۔ اور لوگوں کی دلچسپی اور توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔”روٹی کپڑا اور مکان“اس دور کا نعرہ ہے جب سوشلزم اور سرمایہ داری کے درمیان مقابلہ عروج پر تھا۔ دولت کی پیداوار کے ساتھ ساتھ اسکی تقسیم کا سوال ایجنڈا پر تھا۔آج یہ نعرہ خود پارٹی کے اندر بھی کوئی جوش و خروش پیدا نہیں کر پائے گا۔کیونکہ آج کی پیپلز پارٹی میں نہ مبشرحسن ہیں نہ معراج محمد خان اور نہ ہی شیخ رشید جیسے سوشلسٹ جو ملک میں پیپلز پارٹی کے ذریعے سوشلزم بپا کرنا چاہ رہے تھے۔
بھٹو کی میراث سنبھالنے والے نوجوان کا آغاز تو اچھا ہوا ہے۔ لوگوں کے دلوں میں بینظیر کے بیٹے کے طور پر ان کے لیے عزت ہے۔ لوگ انہیں دیکھنے اور سننے بھی آئیں گے۔ اس کا اندازہ گڑھی خدابخش میں نعروں ”دیکھو دیکھو کون آیا“سے لگایا جاسکتا ہے۔
بلاول کی سیاست میں آمد سے سندھ میں سیاسی بحث اور گفتگو کے موضوعات تبدیل ہوگئے ہیں۔چند ہفتوں سے پیرپاگارا اور قوم پرستوں کی سرگرمیاں موضوع بحث تھیں۔اب موضوع بلاول بھٹو ہیں۔مگربلدیاتی نظام اور کراچی کی سیاست اور صورتحال ابھی بھی سندھ کے لوگوں کے لیے باعث تشویش ہیں۔ تاہم سندھ کے لوگ ملک کے باقی لوگوں کی طرح معجزوں میں یقین رکھنے والے ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بلاول بھٹو اسٹیئرنگ والی سیٹ پر بیٹھے گا تو سب کچھ ٹھیک ہو جائیگا۔
وہ لوگ جو مستقبل قریب میں ملک میں کسی عوامی جمہوری تبدیلی رونما ہوتی نہیں دیکھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہایسے میں پیپلز پارٹی ہی کوئی جمہوری کردار ادا کرسکتی ہے۔ اور چاہتے ہیں کہ پارٹی میں اور ملک کی سیاست میں تبدیلی آئے۔ ان کے نزدیک بلاول ابھرتے ہوئے سیاستدان ہیں پی پی ملک کی بڑی پارٹی ہے لہٰذا اس کی ہی قیادت سے یہ توقع کی جارہی ہے۔
اکثر لوگ بلاول کو بینظیر بھٹو کی طرح ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ ان کا موازنہ بھی والدہ سے ہی کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلاول نے تقریر بھی والدہ کے انداز میں کی۔ بینظیر کے لیے یہ نعرہ لگا تھا ”بھٹو کی تصویر بینظیر“۔ بالکل اسی طرح لوگ بلاول کو بھی سمجھتے ہیں۔ اوران میں بینظیر کا ہی عکس تلاش کررہے ہیں۔24سالہ بلاول بھٹو جن کی عمر انتخابات لڑنے کی عمر سے ایک سال کم ہے ان کو ماں کی طرح مجمعے کٹھا کرنے اور تقریر کرنے کا فن وراثت میں ملا، مگر بینظیر کے مقبول ہونے کی صرف یہ وجہ نہیں تھی۔وہ غضب کا ویزن اور قائدانہ صلاحیتیں رکھتی تھی۔
سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ گواہی دیتاہے کہ نوے کے عشرے میں سول و ملٹری نوکرشاہی نے محترمہ کو شکست دینے اور انہیں اقتدار سے دور رکھنے کے لیے کتنی گہری سازش کی تھی۔
بینظیر بھٹو جب سیاست میں داخل ہوئیں تو اس کے مخالفین بہت تھے۔ طاقتور اسٹبلشمنٹ سے لیکردائیں بازو کا جھکاؤ رکھنے والی میڈیا، اور اس کے انکلز تھے۔ انہوں نے ہر وہم و گمان کو غلط ثابت کیا اور بیس سال تک پاکستان کی آمریت کی دلیری کے ساتھ مزاحمت کرتی رہی۔ اور تیس سال تک ملک کی سیاست پر چھائی رہی۔
دونوں کا موازنہ شاید ممکن نہیں۔ دونوں کے حالات میں فرق ہے۔ بینظیر بھٹو نے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز ضیاء الحق کے بدترین مارشل لاء دور میں کیا۔جب ان کے والدذوالفقار علی بھٹواڈیالہ جیل کی کال کوٹھری میں پھانسی کا انتظار رکرہے تھے۔ جبکہ بلاول بھٹو اپنی سیاست کا آغاز ایسے وقت میں کر رہے ہیں جب ان کی پارٹی کی حکومت ہے۔
بینظیر نے سیاسی کریئر کاآغاز اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو کی سرپرستی میں کیا۔جس پر عوامی سیاست کا رنگ حاوی تھاجلسے، جلوس،احتجاج اورپارٹی کارکن تھے۔بلاول بھٹوسیاسی کریئر کا آغاز والد کے سائے میں کر رہے ہیں۔ جن کی سیاست پر عوامی رنگ کم اور بادشاہ گری کا رنگ زیادہ جھلکتا ہے۔
بینظیر کو آتے ہی اپنے انکلز کا سامنا کرنا پڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی غیر موجودگی میں پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا خیال تھا کہ وہ ایک”لاوارث سی بچی“ ہے۔ جس کو سیاست وغیرہ کا کوئی تجربہ یازیادہ پتہ نہیں۔ اور اس کو آسانی کے ساتھ استعمال کرسکتے ہیں۔ بلاول بھٹوکے لیے یہ صورتحال نہیں۔انکے والد آصف علی زرداری سرپرستی، رہنمائی اور مدد کے لیے موجود ہیں۔ یہ ان کے لیے اضافی مارکس ہیں، مگر لوگ اس کو منفی مارکس میں شمار کر رہے ہیں کہ بھٹو کی سیاسی میراث سنبھالنے کے لیے آنے والے نوجوان کو اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے یا آزادانہ سیاست کرنے کا موقعہ نہیں مل پائے گا۔
بینظیر بھٹو نے ضیاء کے مارشل لاء، اسٹبلشمنٹ اور مخالف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ پارٹی کے اندر موجود مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کٹھن حالات میں جدوجہد، اور سیاسی ویزن کے ذریعے اپنی جگہ بنائی اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ یوں وہ ایک سیاسی پروسیس کے ذریعے ابھری۔بلاول بھٹو نے یہ سیاسی پروسیس نہیں دیکھا۔ انہیں اس پورے جھمیلے تجربہ ہے۔
بینظیر کو سیاسی عمل میں جانے سے انہیں یہ بھی فائدہ ہوا کہ وہ کارکنوں سے زیادہ قریب رہیں۔ کارکن انہیں جانتے تھے اور بینظیر کارکنوں کو جانتی تھی۔ یوں پارٹی کی نچلی سطح اور اوپری قیادت کے درمیان کوئی خلیج نہیں تھی۔اس کے مقابلے میں بلاول بھٹو کارکنوں سے کٹے ہوئے نظرآتے ہیں۔ بینظیر کے زمانے میں کارکنوں کی اعلیٰ قیادت تک آسانی سے رسائی تھی، اور کارکن وزراء اور اراکین اسمبلی یا پارٹی کے دیگر رہنماؤں کو دھمکی بھی دے دیتے تھے کہ وہ بی بی کو شکایت کردیں گے۔
خاندانی سیاسی وراثت کی ایک مثال گاندھی خاندان کی بھی ہے۔ وہاں راجیو کاندھی کے بیٹے راہول گاندھی کو ایک سیاسی پروسیس میں ڈالا گیا ہے۔ ان کو پارٹی کی یوتھ ونگ کا جنرل سیکریٹری بنایا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی نے پارٹی کے فریم میں بلاول کی تصویر کا اضافہ تو کیا ہے۔ قیادت کی سطح پر نوجوان اور نیا خون دیا ہے۔ کیا باقی سطحوں پر بھی پارٹی تبدیلی لے آئے گی یا پرانے سامان کے ساتھ چلتی رہے گی؟
بلا ل نے بولڈتقریر میں عدلیہ کو چیلینج کیا ہے۔ بینظیر بھٹو نے فوجی آمریت کو چیلینج کیا۔ دنیا بھر میں آمریت کے خلاف جدوجہدکو بڑے پیمانے پر پزیرائی ملتی ہے۔ جبکہ عدلیہ اور عدالتی فعالیت کو چیلینج کرنے کو مقبولیت ملنا ذرا مشکل کام ہوتا ہے۔ لہٰذا بلاول بھٹو کو والدہ سے مختلف قسم کے چیلنجز ہیں۔
دیکھنا یہ ہے کہ بلاول اپنی سیاست کا انداز اور رنگ ڈھنگ والدہ کا رکھتے ہیں یاوالد کی سیاست کا طریقہ اپناتے ہیں۔
No comments:
Post a Comment