Sun, Mar 17, 2013 at 11:10 PM
پانچ سال کیسے بیتے
سہیل سانگی
ملک میں پہلی منتخب حکومت کا آئینی مدت مکمل کرنا بڑا معجزہ ہے۔ وہ کونسے عوامل تھے جن کی وجہ سے حکومت نے آئینی مدت مکمل کی؟ تجزیہ نگار اس کے اسباب جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔ایک حلقے کا کہنا ہے کہعدلیہ کو رول ہے جس کی فعالیت نے جمہوریت کو پٹری سے اترنے نہیں دیا۔ اور آئینی نظام کا تسلسل برقرار رکھا۔دوسرے گروپ کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ عسکری قیادت مہم جو نہیں تھی۔بعض تو یہ کریڈٹ امریکہ کو دے رہے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ ایسی ہی حکومت امریکہ کو سوٹ کر رہی تھی۔ نواز شریف کا خیال ہے کہ وہ اگر اتنا نرم گوشہ نہیں رکھتے تو حکومت کو مدت مکمل کرنا محال ہوجاتا۔وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ صدر آصف زرداری کی مفاہمت، الطاف، پیر پاگارا، اور اسفندیار کی (سندھ میں) غیر مشروط حمایت کے باعث حکومت نے پانچ سال پورے کئے۔سب سے صحیح بات شاید آصف علی زرداری نے کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ”کوئی ہم سے پوچھے کہ پانچ سال کیسے گزارے ہیں“۔
چلو یہ معجزہ بھی ہوگیا۔اور سب کا کارنامہ بھی رہا۔ سوال یہ ہے کہ عوام کو کیا ملا؟ عوام کے خوابوں اور امیدوں کا کیا ہوا؟
یہاں یہ بات اہم ہے کہ معاملات کا جائزہ لیتے وقت صرف پیپلز پارٹی کی کارکردگی نہیں بلکہ 1997ع سے یہ کارکردگی پرکھی جانی چاہئے۔ جس میں نواز شریف کا آخری دور اور مشرف دور کو بھی شامل کیا جانا چاہئے۔
حکومت کی رٹ کئی معاملات میں غیرموثر رہی، جس میں بہت سارے گروہوں کو بہت کچھ کرنے کو ملا۔جس سے بھی حکومت کو دوام ملا۔کیا پاکستان میں کسی حکومت کو مدت پوری کرنے کے لیے نااہل اورغیر موثر ہونا ضروری ہے؟ یا یہ کہ اپوزیشن کو بھی مراعات دینا ضروری ہے؟ سندھ کے درویش وتایو فقیر نے کہا تھا کہ کبھی کبھی برائی بھی کام آجاتی ہے۔ یہ بات پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ آئینی مدت مکمل کرنے پر صادق آتی ہے۔
سچ یہ ہے پیپلز پارٹی نے کھینچ تان کر مدت پوری کی ہے اس کی تھک ہوئے کھلاڑی کی طرح اس کی دم بھی پھول گئی تھی۔
سیاسی معاملات:
بلوچستان کے بعد سندھ دوسرے نمبر پر تھا جہاں اتنا سیاسی عدم استحکام تھا۔صوبے میں پیپلز پارٹی کی اکثریت تھی وہ بلا شرکت غیرے حکومت بنا سکتی تھی۔ لیکن اس نے مفاہمت کا فارمولا اپنایا اور پہلے ایم کیو ایم کو اور بعد میں سندھ اسمبلی میں موجود تمام پارٹیوں کو حکومت میں شامل کیا۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ اس کے باجود پورا وقت سندھ سیاسی بحران کی لپیٹ میں رہا۔ یہ سیاسی عدم استحکام آخر تک رہا پہلے دن سے آخر تک رہا۔ پیپلز پارٹی اتحادیوں کی منتیں کرتی اور اس کے مطالبات مانتی رہی۔ حکومت کی بڑی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پانچ سال میں کم از کم پانچ مرتبہ ناراض ہوئی۔
بلدیاتی نظام ایک کھیل بنا رہا۔ پہلے اس نے مشرف کا نظام ختم کرکے79ع کا نظام بحال کیا۔ مگر چند روز کے بعد پھر مشرف کا ضلع حکومتوں کا نظام را رائج کیا، اس کے بعد ایک ایسا نظام لے آئی جس پر سندھ سراپا احتجاج رہی۔ اس نظام کو فروری میں واپس لیا اور دوبارہ دو مرتبہ نافذ کیا اور79ع کا نظام بحال کیا۔
سندھ اسمبلی آدھی مدت تک بغیر اپوزیشن کے رہی۔ اسمبلی میں موجود تمام پارٹیاں حکومت میں رہیں کوئی مخالفت نہیں تھی۔ اگر کچھ عرصہ اپوزیشن رہی بھی تو وہ دوستانہ اپوزیشن تھی۔سب اتحادیوں کو خوش رکھنے کے لیے کسی کو وزیر کسی کو مشیر تو کسی کو خصوصی معاون اور کسی کو کوآرڈینیٹر بنایا گیا۔ کابینہ تو بہت بڑی تھی، مگر پھر بھی آدھی درجن محکمے وزیراعلیٰ کے پاس رہے۔ جس کی وجہ سے انتظامی اور فیصلہ سازی متاثر ہوتی رہی۔صوبہ ڈھائی سال تک بغیر وزیر داخلا کے رہا۔صدر زرداری کے دوست ذوالفقار مرزا کے استعیفے کے بعد منظور وسان وزیر داخلہ رہے مگر چند ہی ماہ بعد ان سے یہ محکمہ لے لیا گیا۔ اور صوبے کے داخلی معاملات عملا وفاق کے حوالے تھے جن کو وفاقی وزیر داخلا رحمان ملک دیکھتے تھے۔
پانچ سندھی قوم پرست رہنما قتل ہوئے۔ بشیر قریشی کی پراسرا رحالات میں موت واقع ہوئی جبکہ روپلو چالیانی اور اس کے دو ساتھیوں کو کھپرو کے قریب قتل کرکے ان کی لاشوں کو آگ لگادی گئی۔ مظفر بھٹو کی لاش اس کی پراسرار گمشدگی کے بعد ملی۔ایک مرحلے پر سندھ میں پراسرار طور پر گمشدہ افراد کی تعداد 68 تک بھی پہنچی۔
گورننس اور اقرباء پروری:
صوبے میں ذاتی قسم کا طرز حکمرانی رہا۔ایک عرصے تک ذوالفقار مرزا اور سراج درانی کو وزیراعلیٰ کے برابر اختیارات حاصل تھے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات عام تھی کہ سب فیصلے صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کرتی ہیں۔وزیر اعلیٰ سندھ صرف ان فیصلوں پر عمل کرتے تھے۔ بعدصدر کے منہ بولے بھائی اویس ٹپی بھی سامنے آئے۔
سندھ سروسز ایکٹ میں ترمیم کی گئی جس کے بعد حکومت کو یہ صوابدیدی اختیار مل گیا کہ وہ کسی بھی افسر کو ترقی دے سکتی ہے اورکسی بھی محکمہ میں تعینات کر سکتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ نیم سرکاری اداروں کے افسران کے ریگیولر کیڈر میں ضم کرنے کا بھی حکومت کو اختیار مل گیا۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کو بالائے طاق رکھ کر آفیسر گریڈ میں بھرتیوں کا اختیار بھی حکومت نے حاصل کر لیا۔ نتیجے میں وزراء نے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کی اپنے محکمہ میں بھرتی کر کے انہیں ریگیولر افسر گریڈ میں ضم کرا دیا۔
اب صورتحال یہ ہے پیپلز پارٹی کے ہر وزیر، ایم این اے، اور ایم پی اے کا بیٹا، بھائی، یا کوئی اور قریبی رشتہ دار کسی اچھے محکمے میں افسر ہے۔
امن امان کی صورتحال:
خودکش دھماکے اور دہشتگردی کے واقعات جو مشرف دور میں شروع ہوئے تھے وہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھی جاری رہے۔ صوبے میں بدامنی برقرار رہی، بلکہ بڑھی۔اغوا برائے تاوان کی وارداتیں اور ہوتی رہیں۔ جبکہ قبائلی جھگڑے اور جرگے بھی جاری رہے۔
لسانی و فرقہ وارانہ تشدد اور قتل کے واقعات ہوتے رہے جس میں بڑی تعداد لاسنی تشدد کے واقعات کی تھی۔
صوبے میں پہلی بار درگاہوں پر حملے ہوئے۔جن کو حکومت روک نہ سکی۔
کراچی میں ٹارگیٹ کلنگز نہیں رکی۔ یہ لسانی زیادہ تھی اور فرقہ وارنہ کم تھی۔ مختلف حکومتی اعلانات ہوتے رہے۔ وفاقی وزیر داخلا رحمان ملک نے کمیٹیاں بنائیں مگر سب فضول تھا۔ کراچی میں امن امان کی صورتحال پر سپریم کورٹ کو نوٹس لیا پڑا۔
تعلیم اور صحت:
صوبے میں اسکولوں پر قبضے برقرار رہے۔ ہزاروں اساتذہ گھروں پر بیٹھ کر تنخواہیں لیتے رہے۔ امن وامان کے بعد اس شعبے میں بھی عدالت نے حکومت کے آخری چار ہفتوں میں کارروائی کی کرنی پڑی۔ بند اسکول کھولنے اور غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے مقامی ججز کو چھاپے مارنے کی ہدایت کی۔سندھ یونیورسٹی ساتذہ اور ملازمین کے احتجاج کی وجہ سے دو ماہ تک مسلسل بند رہی۔ جبکہ صوبے کی باقی سرکاری یونیورسٹیوں میں تدریسی عمل تعطل کا شکار رہا۔
حیدرآباد، لاڑکانہ اور میرپورخاص کی ہسپتالیں میں انتظامی افسران کے تبادلے کے تنازعے ہفتوں تک طبی سہولیات دینے میں رکاوٹ بنے رہے۔صوبے میں خسرے کی بیماری کی وجہ سے دو سو سے زائد بچے پلاک ہوئے۔ حکومت اس مرض سے تحفظ اور علاج کے لیے موثر اقدامات نہ کر سکی۔
ؑبیچارہ عوام:
سیلاب آیا۔ کئی حفاظتی بند غیر متوقع طور پر ٹوٹے۔ ہزاروں گاؤں زیر آب آگئے۔ 2010ع میں دریائے سندھ کے بائیں کنارے اور دوسرے سال بائیں کنارے تباہ ہوئے۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ کئی علاقوں میں ابھی تک پانی کھڑا ہے۔ حکومت ان متاثرین کی بروقت امداد نہ کرسکی۔لاکھوں لوگ بغیر کسی شیلٹر کے مہینوں کیمپوں میں پڑے رہے۔ پہلے یہ اعلان کیا یا کہ متاثرین کو کراچی اور حیدرآباد میں آباد کیا جائے گا۔ لیکن بعد میں حکومت اس وعدے سے مکر گئی۔ ابھی تک لوگ دربدر ہیں۔
تھر میں قحط آیا۔ مگر حکومت کوئی مدد نہ کرسکی۔
ترقیاتی اسکیمیں:
سندھ حکومت صوبے میں کوئی میگاپروجیکٹ شروع نہ کرسکی۔ چند جوبڑی ترقیاتی اسکیمیں شروع کی گئیں ان میں نابرابری رکھی گئی۔ بڑی یہ اسکیمیں بالائی سندھ تک ہی رہیں جہاں یونیورسٹیاں اور دیگر منصوبے شروع ہوتے رہے۔
ذوالفقارآباد اسکیم مخالفت کی وجہ سے شروع نہیں کی جاسکی۔ تھر کول پرپی پی کے وعدے مشرف کے وعدوں کی طرح ہی رہے۔ ڈاکٹر ثمرمبارک کو خطیر رقم فراہم کی گئی لیکن ان کا منصوبہ بھی تھر کول کو استعمال نہ کر سکا۔
وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت سے پوچھے بغیر ساحلی علاقے میں واقع دو جزیرے دو نجی کمپنیوں کو الاٹ کئے گئے۔ بعض ممبران کی نشاندہی کے باجود سندھ اسمبلی آخری دن بھی اس کے خلاف قرارداد منظور نہ کرسکی۔
ملازمتیں دی گئیں۔جوزیادہ تر محکمہ تعلیم میں تھیں۔اس کے ساتھ ساتھ ملازمتیں پیسوں پر بیچنے کے الزامات بھی لگتے رہے۔ سرکاری ملازمین مطالبات منوانے کے لیے احتجاج کرتے رہے۔ اساتذہ، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور دیگر سرکاری ملازمین پر لاٹھیاں برسائی گئیِ۔
اقلیتیں:
ہندو لڑکیوں کو اغوا کر کے مذہب تبدیل کرنے کے بھی واقعات رپورٹ ہوتے رہے۔جن کو حکومت تحفظ دینے میں ناکام رہی۔نتیجے میں ہندو آبادی کے انخلاء میں اضافہ ہوا۔
عوام کو کچھ ملا یا نہ ملا اسمبلی ممبران جاتے جاتے اپنے لیے عمر بھر کا سامان کر گئے۔ عوام کا اسٹیٹس تو وہی رہا۔ ان حضرات نے خود کو ایک قانون بنا کر تاحیات مراعات یافتہ طبقہ بنا لیا۔
پروین شاکر نے شاید اس موقع کے لیے کہا تھا:
کل رات ایک گھر میں بڑی روشنی رہی،
تارا میرے نصیب کا تھا اور کھلا کہیں اور
No comments:
Post a Comment