Tuesday, 10 March 2020

حکومت سازی کے آپشن - May 16, 2013

 Thu, May 16, 2013 at 1:25 AM
حکومت سازی کے  آپشن
سہیل سانگی
 ”ہنگ پارلیمنٹ“  تو نہیں آئے جس کا بڑا چرچہ تھامگرصوبوں کا مینڈیٹ مختلف ہے۔جس کی وجہ سے معاملات الجھ رہے ہیں۔ وفاق مسلم لیگ (ن) کو برتری حاصل ہے۔ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر اور تحریک انصاف تیسرے نمبر پر ہے۔ پنجاب میں نواز لیگ کی اکثیرت ہے تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی اور خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومتیں بنیں گی۔ جبکہ یہ جماعتیں وفاق میں اپوزیشن میں ہونگی۔ اس صورتحال میں حکومت سازی کااور اپوزیشن کی قیادت کا فیصلہ کرنا امتحان بن گیا ہے۔ پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں کو ایک نئی رلیشن شپ بنانی پڑے گی۔ سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورکنگ انڈر اسٹینڈنگ پیدا کرنی پڑے گی۔ 

 مسلم لیگ نون کو قومی اسمبلی میں برتری حاصل ہے، اس کے سامنے مختلف آپشن ہیں۔ 
پہلا آپشن: نون لیگ آزاد اراکین کو ملا کر حکومت بنا لے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نواز شریف بمقابلہ باقی تمام سیاسی جماعتیں۔ یہ کوئی دانشمندانہ فیصلہ نہیں ہوگا۔ جے یوآئی کے مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف کو ساتھ دینے کی پیشکش کی ہے۔ تاہم بعض بڑے اور اہم پارلیمانی گروپ پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ دائرے سے باہر رہ جاتے ہیں۔اس صورت میں ایک مضبوط اپوزیشن بنے گی۔ سنیٹ میں اکثریت نہ ہونے اور اتنی مضبوط اپوزیشن  جس کے ساتھ دو صوبوں میں حکومتیں بھی ہوں نون لیگ کو ایسی صورتحال سے ڈیل کرنا مشکل کام  ہوجائے گا۔

 مزید یہ کہ نواز شریف کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ ان کی حکومت کو چاروں صوبوں میں حمایت حاصل ہو۔ 

دوسرا آپشن: نواز شریف  پیپلز پارٹی کو وفاقی حکومت میں شامل کرے اور قانون سازی وغیرہ میں  سنیٹ میں موجود اس کی اکثریت کی  مدد لے۔ اس آپشن کے نتیجے میں تجربیکار پارٹیاں ایک طرف ہو جائیں گی اور ناتجربیکار پارٹی تحریک انصاف دوسری طرف چلی جائے گی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو تحریک انصاف پانچ سال تک اپوزیشن میں رہے گی  تو وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پائے گی۔ جبکہ دوسروں کی رائے اس سے مختلف ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کامیاب حکومت کرنے اور قومی اسمبلی میں موثر رول ادا کرنے کے بعد وہ ایک مضبوط پارٹی کے طور پر بھی ابھر سکتی ہے۔ اور مستقبل میں اپنے لیے راستہ بنا سکتی ہے۔ 

تیسرا آپشن: تحریک انصاف کے ساتھ ملکر حکومت بنائی جائے۔ لیکن اس صورت میں حساس صوبہ سندھ اقتدار کے دائرے سے باہر رہ جاتا ہے جبکہ اس صوبے کی جماعت کو سنیٹ میں بھی اکثریت حاصل ہے۔ بہرحال خیبر پختونخوا کی حمایت کے لیے وہاں کی اکثریتی پارٹی تحریک انصاف سے بھی دوستانہ تعلقات رکھنا ضروری ہیں۔
حیران کن بات ہے کہ  باقی تمام صوبے حکومت سازی کے حوالے سے زیر غور ہیں۔ لیکن سب سے زیادہ گرم صوبے بلوچستان کو اس مرحلے پر کوئی ہاتھ لگانے کے لیے تیار نہیں۔
جس طرح سے حکومت سازی میں دقت ہو رہی ہے اسی طرح سے اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں بھی مسائل سامنے آرہے ہیں۔کیا تحریک انصاف پیپلز پارٹی کی قیادت میں اپوزیشن کا رول ادا کرنے کے لیے تیار ہوگی؟ بظاہر تو نہیں لگتا لیکن یہ تاریخ کی مجبوری ہوگی کیونکہ پی پی اور ایم کیو ایم کے بعد تحریک انصاف کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچتا۔یہاں ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کے درمیاں تازہ ابھری ہوئی رقابت آڑے آسکتی ہے۔ 

 سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت بنا سکتی ہے۔ یہ بات ایم کیو ایم کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ لیکن سندھ کے عوام ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد سے شاکی ہیں۔ایک مرتبہ پھرایم کیو ایم سیاسی تنہائی کے دہانے کھڑی ہے۔ ایسے میں اگر اس کی قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کیا اور سندھ  سے متعلق اپنی پالیسی تبدیل نہ کی توتنہائی کی طرف چلی جائے گی۔ 

یہ صحیح ہے کہ الطاف حسین نے انتخابات کی جیت پر نواز شریف کو مبارکباد کا پیگام بھیجا ہے۔ مگران دو جماعتوں کے درمیان تعلقات کی تاریخ خوشگوار نہیں رہی۔ ماضی قریب میں نواز شریف ایم کیو ایم کے خلاف بولتے رہے ہیں۔ اور یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ وہ ایم کیو ایم کے ساتھ حکومت نہیں بنائیں گے۔چند سال قبل نواز شریف کی لندن میں طلب کردہ منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں قراداد منظور کی گئی تھی کہ ایم کیوا یم کے ساتھ کوئی جماعت اتحاد نہیں کرے گی۔ 

 بارہ مئی کی تقریر میں الطاف حسین  نے تحریک انصاف کو نشانہ بنایا۔ حالانکہ نواب شاہ میں پیپلز پارٹی اور ایم کیوایم کے کارکنوں کے درمیان جھگڑا چل رہا ہے جس میں دو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ لیکن الطاف حسین نے اس معاملے کو جان بوجھ کر نہیں چھوا۔ ایم کیو ایم اورپی ٹی آئی کی اس وجہ سے بھی نہیں بن پائے گی کہ تحریک انصاف نے ایم کیو ایم کے ووٹ بنک میں گھسنے کی کوشش کی ہے۔ تین تلوار کا دھرنا  ایم کیوایم کے لیے دوسرا چیلینج تھا۔

نتائج  بتاتے ہیں کہ ایم کیوایم کے گڑھ میں تحریک انصاف کوپندرہ سے پچاس ہزار ووٹ تک ملے ہیں۔ بعض حلقوں میں دوسری اور تیسری پوزیشن بھی ہے۔ وہ بھی اس صورت میں کہ لوگ نہ امیدوار کو جانتے تھے نہ کوئی انتخابی مہم چلائی گئی۔ کراچی میں ایم کیوایم مخالف ووٹ جماعت اسلامی کو نہیں بلکہ تحریک انصاف کو ہی پڑ رہا تھا۔ اس صورتحال کو پولنگ کے دوران ہی جماعت اسلامی نے بھانپ لیا تھا اور خود کو پولنگ کے بائکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔ لہٰذا الطاف حسین عمران خان کو اپنے لیے پوٹینشل خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الطاف حسین کا تحریک انصاف کی طرف لہجہ جارحانہ تھا۔

وفاق میں جب نوز شریف کی حکومت بن جائے گی تو لازمی طور  پر وہ گورنر سندھ کو بھی تبدیل کریں گے۔ کیاایم کیو ایم اپنا گورنر برقرار رکھنے کے لیے  نون لیگ کے ساتھ اتحاد کر لے گی؟ بظاہر اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ 

 زیادہ بری فکشنل لیگ کے ساتھ ہوئی ہے جو سندھ میں پیپلز پارٹی کے متبادل ہونے کا دعوا کر رہی تھی۔لیکن وہ ماضی کے مقابلے میں صرف ایک نشست زیادہ حاصل کر پائی ہے۔ اب حکومت میں شامل و ہ نہیں ہوسکتی اور  طویل عرصے تک اپوزیشن میں بیٹھنا اس کی طبیعت میں شامل نہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ نواز شریف اپنی اس اتحادی جماعت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں جس کے ذریعے انہوں نے سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف مہم چلائی تھی۔ وفاق میں فنکشنل کو  دی جا سکتی ہے۔
سندھ میں حکومت سازی: 
 گزشتہ دور حکومت میں پیپلز پارٹی کو ایم کیوایم کے ساتھ اتحاد کی وجہ سے مشکل وقت دیکھنا پڑا تھا۔لیکن صدر آصف زرداری نے سندھ میں حکومت  بنانے کا اعلان کرتے ہوئے ایم کیو ایم کو شامل ہونے کی دعوت دی ہے۔  مبصرین کے مطابق ایم کیوا یم کو یہ سوٹ کرتا ہے کہ وہ  پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر سندھ میں حکومت بنائے اور قومی اسمبلی میں بھی پیپلز پارٹی کا ساتھ دے۔اس صورت میں پیپلز پارٹی کا لیڈر آف اپوزیشن بن جائے گا اور ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کو ڈپٹی لیڈرآف اپوزیشن کی سیٹ مل جائے۔  

سندھ میں پیپلز پارٹی کو مضبوط وزیراعلیٰ کی ضرورت ہے۔ وزارت اعلیٰ کے لیے  سید مراد علی شاہ موسٹ فیوریٹ امیدوار تھے لیکن دہری شہریت کی وجہ سے انہیں نااہل قرار دے دیا گیا۔دوسر ے امکانی امیدوار خورشید شاہ اور پیر مظہرالحق ہوسکتے تھے۔ لیکن یہ دونوں صاحبان میدان میں نہیں۔ پیر مظہر انتخاب ہی نہیں لڑے۔ سیدخورشید شاہ  صوبائی اسمبلی کے نہیں بلکہ قومی اسمبلی  کے رکن ہیں۔  

اس وقت  نثار کھڑو،  میر ہزار خان بجارانی، مخدوم رفیق، نادر مگسی، اویس مظفر ٹپی، خورشید جونیجو کے نام وزارت اعلیٰ کے لیے زیر غور ہیں ہیں۔ اویس مظفرٹپی وقت سے پہلے  سیاسی حلقوں اور پارٹی میں متنازع ہوگئے ہیں۔ ہزار خان بجارانی ایم آرڈی تحریک کے بعد پیپلز پارٹی سندھ کے صدر تھے لیکن اچانک انہوں نے وزیر اعظم جونیجو سے دوستی کرلی اورلیگ میں شمولیت اختیارکر کے سنیٹر ہو گئے تھے۔ اس وجہ سے پارٹی شاید ان کو قبول نہ کرے۔ خورشیدجونیجو  بینظیر بھٹو کے قریبی لوگوں میں سے ہیں۔ لیکن پارلیمانی سیاست میں نئے ہیں۔ 

نثار کھڑو 1988ع سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔ وہ لیڈر آف اپوزیشن بھی رہے ہیں۔ انہوں نے جام صادق علی کے کٹھن دور میں بھی  سندھ اسمبلی میں اہم کردار  ادا کیا تھا۔ اور بطور اسپیکر بھی معاملات کو احسن طریقے سے چلایا۔ ایسے وقت میں جب وفاق میں  مخالفانہ حکومت ہو وہ شاید بہتر طور پر معاملات چلا سکتے ہیں۔

No comments:

Post a Comment