Fri, Jun 21, 2013 at 12:15 PM
سندھ بجٹ:نہ ویزن بدلا نہ منیجرز
سہیل سانگی
نئے مالی سال کے لیے سندھ کے بجٹ سے ایسی کوئی بات نظر نہیں آتی کہ یہ ایک اسی پارٹی نے بجٹ پیش کیا ہے جو تین صوبوں میں انتخابات ہاری ہے۔ یا یہ کہ پارٹی کے ایڈیشنل سیکریٹری جنرل رضا ربانی صاحب کے اس دعوے کا بھی عکس نہیں ملتا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی سندھ کو مثالی حکومت بنائے گی۔اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرے گی۔
نہ ویزن میں تبدیلی ہے۔ نہ پروگرام میں۔ معیشت کے منیجرز اور پالیسی ساز بھی وہی ہیں اور ان پر عمل کرنے والی انتظامی مشنری میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہے۔
ہر حکومت مالی سال کے اختتام پر اپنی معاشی کارکردگی کی رپورٹ اسمبلی میں اور عوام کے سامنے پیش کرتی ہے۔تاکہ پتہ چل سکے کہ حکومت کے اقدامات سے معاشی اور سماجی طور پر کیا فرق پڑا۔ کن کن شعبوں میں ترقی ہوئی؟ کیا کیا نقص اور کوتاہیاں رہیں۔مگر ایسا کوئی دستاویز اسمبلی میں پیش نہیں کیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ بجٹ پانچ حصوں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں آمدن کی تفصیل اور ترقیاتی پروگرام کی تفصیلات وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ یہ ایک پبلک دستاویز ہوتا ہے۔ لیکن اسمبلی میں پانچ میں سے صرف تین حصے پیش کئے گئے۔
ویزن میں مجموعی طور پر ویزن کی فقدان نظر آتا ہے۔ اور وہی گھسی پٹی حکمت عملی اپنائی ہوئی ہے۔ ضیاء الحق نے ایم پی ایز کو سیاسی رشوت کے طور پر ترقیاتی اسکیمیں دی تھی۔ موجودہ حکومت نے اس روایت کو برقرار رکھا۔ اور اس مقصد کے لیے آٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ایم پی ایز کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایم پی ایز اسمبلی کا حصہ نہیں جو بجٹ پاس کرتی ہے؟کیا وہ اپنی اسکیمیں پہلینہیں دے سکتے تاکہ ان کو منصوبہ بندی کا حصہ بنیاجا سکے؟ دراصل یہ اسکیمیں منصوبہ بندی کا حصہ نہیں بنتی اور صوابدیدی ہوتی ہیں لہٰذا ان کا فائدہ اجتماعی نہیں ہوتا۔یوں ہرسال ایک خطیر رقم ضائع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ چھ ارب روپے بلاک الوکیشن صوابدیدی رکھی گئی ہے۔ اس رقم کا بھی منصوبہ بندی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یعنی پندرہ ارب روپے کے لگ بھگ رقم منصوبہ بندی سے ہٹ کر خرچ ہو جاتی ہے۔
سرکاری اخراجات کم کرنے کے لیے کوئی موثر اقدام تجویز نہیں کیا ہے۔ تنخواہوں اور انتظامی اخراجات کے لیے41 ارب روپیکی رقم رکھی گئی ہے یوں اس مد میں گیارہ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
ترقیاتی پروگرام سے ویزن کا نادازہ ہوتا ہے۔مختلف اضلاع اور علاقوں کے لیے جو منصوبے تجویز کئے گئے ہیں ان میں عدم مساوات عیان ہے۔ ایک بار پھر تین اضلاع جو کہ نسبتا ترقی یافتہ ہیں انہی کو ترجیح دی گئی ہے۔یعنی وزیراعلیٰ کے ضلع خیرپور، صدر آصف زرداری کے ضلع بنیظیرآباد اور کاڑکانہ کو مجموعی طور پر تیس فیصد سے زیادہ اسکیمیں یا ترقیاتی فنڈ دیئے گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں صوبے کے پسماندہ ترین علاقے تھرپارکر کو نظر انداز کیا گیا ہے۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں صرف ایک کالیج ہے۔تعلیم، صحت ٹرانسپورٹ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ فنی تعلیم کا کوئی ادارہ نہیں۔یہاں تک کہ یہاں پر پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں۔ ہر دوسرے سال قحط کا شکار ہوتا ہے۔ایک درجن سے زائد محکموں میں تھرپارکر کا ذکر ہی نہیں کیونکہ کوئی ایک بھی اسکیم اس ضلع کو نہیں دی گئی ہے۔ حالانکہ یہ وہ ضلع ہے جس نے کے عوام نے حالیہ انتخابات میں ایک بہت بڑے بت ارباب غلام رحیم کو شکست دی اور بدترین تشدد کے حالات اور دھاندلیوں میں بھی پیپلز پارٹی کوکامیاب کیا۔ اسی طرح سے دوسرے پسماندہ اضلاع سانگھڑ، عمرکوٹ، بدین اور ٹھٹہ کو بھی ترقیاتی پروگرام میں کم حصہ دیا گیا ہے۔ مطلب جو علاقے ترقی یافتہ ہیں وہ زیادہ ترقی کریں اور کو پسماندہ ہیں وہ مزید پسماندہ رہیں۔یہ صورتحال گزشتہ کئی برسوں سے چلی آرہی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم جن کا تعلق تھرپارکر سے تھا وہ بھی اس پسماندہ علاقے کے لیے کچھ نہ کر سکے۔
اقلیتیں ہر جگہ پر خصوصی توجہ کی طلبگار ہوتی ہیں۔ اوردنیا بھر میں یہ مسلمہ اصول ہے کہ ان کے لیے خصوصی منصوبے رکھے جاتے ہیں۔اقلیتوں کے لیے اگرچہ 720 روپے رکھے گئے ہیں مگر یہ تمام رقم بندوں کے لیے نہیں بھگوان کے لیے رکھی گئی ہے۔ کیونکہ یہ تمام کی تمام رقم مندروں اور دیگر مذہبی مقامات کی تعمیر پر خرچ کی جائے گی۔ اقلیتوں کی ضروریات یا ان کی ترقی کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی ہے۔ صوبے کے تنین اضلاع ایسے ہیں جہاں اقلیتوں کی آبادی چالیس فی صد سے زیادہ ہے۔ اور جنرل نشستوں یا مخصوص نشستوں پر دس کے قرب ممبران ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں ایک دو کو چھوڑ کر باقی سب اقلیتی ممبران دولتمند ہیں۔ نتیجتاان لوگوں کی ترجیحات وہ نہیں بنتیں جو اقلیت سے تعلق رکھنے والے عام آدمی کی ہوتی ہیں۔ گزشتہ سال سولہ ہزار کی آبادی کے ایک شہر کو اقلیتی ممبران نے کروڑوں روپے کی اسکیمیں دیں جبکہ تھرپارکر، عمرکوٹ وغیرہ جہاں لاکھوں کی تعداد میں اقلیتی بستے ہیں کوئی ایک بھی اسکیم نہیں دی گئی۔ لہٰذا یہ بجٹ بھی عدم مساوات اور علاقوں کے درمیاں فاصلہ بڑھانے کا بجٹ ہے۔ جس میں پسماندہ لوگوں اور علاقوں کو مزید نظرانداز کیا گیا ہے۔
جہاں تک اچھی اور موثرحکمرانی کا تعلق ہے اس کا اندازہ گزشتہ سال کی کارکردگی سے لگایا جاسکتا ہے۔
گزشتہ سال وفاق سے رقومات کی منتقلی کا تخمینہ 382 ارب روپے لگایا گیا تھا۔ اور صوبائی ٹیکس سے 96 ارب 63کروڑ روپے کی رقم وصول ہونی تھی۔ مگریہ دونوں ہدف حاصل نہیں کئے ا سکے۔تنخواہوں اور انتظامی اخراجات 315ارب روپے ہونے تھے۔ مگر غلط فیصلوں اور ناقص پالیسیوں اور خراب گورننس کی وجہ سے یہ اخراجات 342ارب روپے تک جا پہنچے۔ یہاں تک کہ ایک موقعہ پر اسٹیٹ بینک سے قرضہ لے کر تنخواہیں دینی پڑیں۔
گزشتہ سال ترقیاتی پروگرام کے 181ارب روپے رقم رکھی گئی تھی مگر 30 جون تک صرف 97ارب روپے خرچ کئے جا سکے۔تعجب کی بات ہے کہ انتظامی اخراجات پر رکھی گئی رقم سے زیادہ پیسے خرچ ہو جاتے ہیں مگر ترقیاتی پروگرام پر رکھی گئی رقم کا بمشکل پچاس فیصد ہی خرچ ہوتا ہےَ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صوبائی حکومت کے منیجروں اور انتظامیہ میں یہ صلاحیت ہی نہیں کہ منظور کی گئی ر قم ترقیاتی پروگراموں پر خرچ کر سکے۔یا حکومت کے پاس سیاسی فیصلہ سازی یا ارادے کی کمی ہے۔
اس صورتحال میں بہت کم امیدہے کہ سندھ کے لوگوں کے حالات تبدیل ہونگے۔
No comments:
Post a Comment