Wed, Oct 24, 2012, 9:54 AM
تاریخ کس نے پڑھی ہے؟ ۔۔۔۔ سہیل سانگی
دسویں جماعت میں زیر تعلیم میرے بچے پر اس وقت میرا غصہ ٹھنڈا ہوا جب اس نت بتایا کہ نصاب میں نہ برسغیر کی اور نہ ہی سندھ کی تاریخ پڑھائی جاتی ہے۔ میں اس کو راجا پرتھوی راج کا قصہ سنا رہا تھا جو ان کی بہن کے سویمبر سے متعلق تھا۔
تقریبا تین دہائی پہلتک یہ شکایت تھی کہ تاریخ غلط پڑھائی جا رہی ہے۔ اور یہ صحیح کیون نہیں پڑھائی جاتی۔ لگتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے شکایات کی بنیاد ہی ختم کردی ہے کہ نہ تاریخ پڑھائی جائے گی اور نہ ہی اس کے صحیح غلط کا تنازع ہوگا۔ لہٰذا اب ہمارا نوجوان نہ سما اور سومرو کی حکمرانی سے واقف ہے اور نہ ہی اس دور کیواقعات، کرداروں کو جانتا ہے اور نہ ہی ان واقعات کے اسباب اور اثرات کو سمجھ پا رہا ہے۔اگر اس کے سامنے بعض کرداروں کے نام لیے جاتے ہیں تو اسے یہ کسی لوک کہانی کے فرضی کردار لگتے ہیں۔ نقول ایک استاد کے ہمااری تاریخ زیادہ سے زیادہ تحریک پاکستان سے شروع ہتی ہے اور قیام پاکستان پر آکر ختم ہو جاتی ہے۔ یعنی ہماری کل تاریخ 110 سال کی ہے۔ گزشتہ سال آخری سال کی میری ایک طالبہ کا یہ سوال میں کبھی بھی بھول نہیں سکتا جو سن کر میں کچھ دیر کے لیے صدمے میں آگیا تھا۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ”سر کراچی شہر تو قیام پاکستان کے بعد بنا ہیں نا۔۔۔“
ہم تاریخ سے بانجھ نسل پیدا کر رہے ہیں جس کو ماضی دور کے واقعات اور حلات تو دور کی بات ماضی قریب کے واقعات بھی یاد نہیں۔ ظاہر ہے جن کو اپنے ماضی کا پتہ نہیں ان کو اپنے حال کا بھی پتہ نہیں ہے۔دنیا میں بہت ہی پرانے واقعات پر تحقیق ہو رہی ہے اور محقق ان واقعات کے رونما ہونے کے اسبا ب کی کھوج لگا رہے ہیں اور نئے پہلو اور نئے زاویے نکال رہے ہیں اور ان واقعات کے ریکارڈ سے تاریخ کے جھول اور سلوٹیں سیدھی کر رہے ہیں۔ اور قوموں کے سیاسی اور معاشی جنگوں کو صحیح پس منظر میں رکھ کے دیکھ رہے ہیں۔
کسی مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ وہ جو اپنا ماضی یاد نہیں رکھتے وہ اس کا خمیازہ یوں بھگتے ہیں کہ وہ اپنے ماضی کو اور غلطیوں کو دہراتے ہیں۔
تاریخ تحقیق کا وہ شعبہ ہے جو واقعات کی ترتیب کا جائزہ کیا ہے اور بسا اوقات اس طریقہ کار کی بھی تحقیق کرتا ہے جو واقعات کے رونما ہنے کا سسب بنتے ہیں اور گھرا اثر چھوڑتے ہیں۔تاریخ ماضی کے واقعات کا ریکارڈ ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ متعلقہ دور میں انان ے ساتھ کیا ہوا۔ واقعات کا مستند ریاکرڈ ہے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔
بقول ڈاکٹر مبارک علی کے تاریخ واقعات کو ریکارڈ کرتی ہے مگر ان کے بارے میں سچ نہیں بتاتی۔ یہ تحقیق ہی ہے جو اس سچ سے پردہ اٹھاتی ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ ہمارے تاریخی واقعات نہ تو جمع کئے ہوئے اور قلمبند کئے ہوئے ہیں، تو ان کے پیچھے چھپا ہوا سچ تلاش کرنا تو دور کی بات ہے۔مطلب ان واقعات کو ہی چھپا دیا جائیسچ کی تلاش کے راستے ہی بند ہوجاتے ہیں۔ کیا ہماری تاریخ اتنی بھیانک ہے کہ ہمارے حکمران اور پالیسی ساز تاریخی واقعات بیان کرنے اور بچوں کو پڑھانے سے خوزدہ ہیں؟ کیا ہماری تاریخ 1857ع سے شروع ہوکر 1947ع تک ہے اور صرف90 سال کے عرصے پر محیط ہے؟
تاریخ لکھنا اور صحیح تاریخ لکھنا کتنا ضروری ہے؟ یہاں یہ موضوع زیر بحث نہیں۔ میرا موضوع یہ ہے کہ تاریخ اور تاریخی واقعات کی عدم موجودگی میں ہم ہوا میں محلق اور لاوارث بچوں کی طرح ہیں جس کو جو آئے تھپڑ مار کے چلا جائے۔ جس کی نہ کوئی شناخت ہے اور نہ ہی کوئی بنیاد۔ جیسے کوئی جپسی ہوں جس کی کوئی تہذیب یا ثقافت نہ ہو، کوئی عزت نفس نہ ہو، حیثیت نہ ہو۔ جیسے ہر شخص کی ذاتی انا اور عزت نفس ہوتی ہے بالکل اسی طرح سے ہر قوم کی بھی عزت نفس، انا اور حیثیت ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کی انا یا عزت نفس کو ضرب لگتی ہے تو اس کی شخصیت اور ذات ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ خود کو دوسروں سے کم تر سمجھنے لگتا ہے۔یہ عمل مسلسل جاری رھنے کی صورت میں اس کی مخصوص نفسیاتی ساخت اور ذہنیت بن جاتی ہے۔ وہ خود کو غلام تصور کرنے لگتا ہے اور اپنے حالات تبدیل کرنے کی کوشش چھوڑ دیتا ہے۔اسی طرح سے قوم کی بھی اجتماعی عزت نفس ہوتی ہے۔ وہ اگر مسلسل مجروح ہو تو یہ قوم خود کو قوموں کی برادری میں بیگانہ، اکیلا اور نیچ سمجھنے لگتا ہے۔ انڈیا کے ژیڈیولڈ کاسٹ اور امریکہ کے پرانے باشندے اس کی واضح مثالیں ہیں۔
کسی قوم یا گروہ کو کم تر رکھنا ہوتا ہے تو تین طرح سے تاریخ کو مسخ کیا جاتا ہے۔ پہلا یہ کہ تاریخی واقعات اور کردار قلمبند اور بیان ہی نہ کئے جائیں۔جیسے یہ واقعات اور کردار روئے زمین پر پیدا ہی نہیں ہوئے تھے یا وجود ہی نہیں رکھتے تھے۔یہ وہ سلوک ہے جو امریکہ اور آسٹریلیا کے پرانے باشندوں کے ساتھ یورپی قوموں نے کیا۔آج ان کی تاریخ، ثقافت اور شناخت سب گم ہیں۔ان کی زبانیں بھی ختم ہو گئیں۔دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ”اپنوں‘‘ کو یا کسی مخصوص گروہ کے کارناموں کو س اجگر کیا جائے اور ان کے کرداروں کو مجاہد، بہادر اور عقلمند کے طور پر پیش کیا جائے۔تیسرا طریقہ ہے کہ تاریخی واقعات، حقائق اور کرداروں کو مسخ کیا جائے۔لگتا ہے کہ ہمارے پاس تیسرا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔اسی وجہ سے تاریخی واقعات، حقائق اور کردار ہی گم ہیں۔یہ سب نہ ہمارے نصاب کا حصہ ہیں اور نہ ہی کسی علمی بحث کا حصہ ہیں۔پرانی تاریخ تو دور کی بات ہے، ماضی قریب کی تاریخ جس کے کئی کردار ابھی تک زندہ ہیں وہ بھی قلبند نہیں کی گئی ہے۔نتیجے میں یہ سب واقعات اور کردار وقت کی دھول میں گم ہو جائیں گے۔اکل ان کا کوئی ذخر فکر ہی نہیں ملے گا۔تاریک کی زنجیر کی کئی اہم کڑیاں ختم اور گم ہو جائیں گی۔
قیام پاکستان کے بعد ملک میں کون سی تحریکیں اٹھیں، کیوں اٹھیں، انکا پس منظر، واقعات مختلف گروہوں اور افراد کا کردار خواہ منفی ہو یا مثبت، ہم ان سے محروم رہ جائیں گے۔اس تمام اثاثے سے ہم اگر آج محروم ہیں تو کل تو بالکل ہی محروم ہوں گے اور ان کا کوئی نام و نشان بھی نہیں ہوگا۔یونانی علم و دنش کے باوا آدم سمجھے جاتے ہیں۔ان کی اس کاریگری نے جہاں بہت سے اچھے اثرات ڈالے وہاں بعض منفی اثرات بھی۔یونانیوں کے پاس اپنے تاریخ داں بھی تھے۔لہٰذا یونانیوں کے حوالے سے جنگوں، معاہدوں وغیرہ کی تاریخ ہے وہ وہی ہے جو یونانیوں نے لکھی ہے۔ان تمام واقعات میں یونانیوں کو ہی بہادر، شاندار، عقلمند، بااصول دکھایا گیا ہے۔یونانیوں کی اصؒ دانش مندی یہ تھی کہ انہوں ے اپنی تاریخ اپنے ہاتھوں سے لکھی۔ اور کیس کے ہاتھ میں نہیں دی۔لہٰذا پوری تاریخ ان کے حق اور حمایت میں ہے۔ قبل مسیح کے دور میں یونانیوں اور ایرانیوں کے درمیان جو جگیں ہوئیں ان میں بعض جنگوں میں یونانیوں کو شکست بھی ہوئی تھی اور ایرانیوں کو فتح۔مگر یونانی تاریخدانوں نے یونان کی شکست کو بھی شاندار، باوقار، پیشہ ورانہ وغیرہ وغیرہ کر کے پیش کیا۔اس کے برعکس ایرانیوں کی فتح کو کم درجے کا شمار کیا۔
یورپی قومیں خاص طور پر انگریز جب کسی ملک پر قبضہ یا تسلط کرنے کی ٹھانتے ہیں تو اس ملک کے تاریخ جغرافیہ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرتے ہیں۔وہاں کے لوگوں کے تہذیب، ثقافت، مختلف رجحانات، معاشی و سیاسی درجہ بندی اور تضادات وغیرہ کے بارے میں تحقیق اور سروے کرتے ہیں۔یورپی سیاحوں اور مورخین کے سفرنامے اور تاریخ وغیرہ اسی پس منظر میں ہے۔
ہم پاکستانیوں نے آج تک پاسکتان کی سیاسی dynamics پر ڈھنگ سے کام نہیں کیا کہ یہ سمجھ میں آسکے کہ کون سے طبقے، گروہ یا سیاسی پارٹی یہاں تک کہ فرد کا کونسا رول کیوں ہے؟ اس کا یہ رول اس سے ہٹ کے کیوں نہ ہوسکا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ سندھ کے لوگ پنجاب کی تاریخ سے بھی واقف ہوتے انہیں پنجاب سے جو شکایات ہیں جو تضادات ہیں ان کا صحیح طور پر اندازہ ہوتا۔ مگر وہ تو اپنی ہی تاریخ سے بے بہرہ ہے۔ آج اگر پنجاب کی بڑی پارٹی نواز لیگ سندھ اور بلوچستان کے قوم پرستوں کی حمایت کر رہی ہے، اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟ پنجاب بھی سندھ کو نہیں سمجھ رہا کہ اس کی شکایات کا کیا پس منظر اور تاریخ ہے۔یہ سب کچھ نہ سمجھنے کی وجہ سے پنجاب کو سندھ کا رویہ صوبائیت یا عصبیت والا نظر آتا ہے۔بینگال کی تحریک، ون یونٹ کے خلاف چھوٹے صوبوں کی تحریک، ضیاء الحق اور اس کے خلاف ایم آرڈی کی تحریک ان سب کو پس منظر، تحریک کے دوران واقعات، رجحانات اور اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے سے ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کرنے کی بھی صالحیت بڑھ سکتی ہے۔
آج سندھ میں جو نئے بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک چل رہی ہے وہ تحریک کوئی ایک قانون کے خلاف نہیں ہے۔ بلکہ ایک نظام کے خلاف ہے۔ سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ نظام ان کی دھرتی کو دولخت کردے گا۔خود اس تحریک شامل مختلف گروہوں کی موئثر یا غیر مؤثر شمولیت کے بھی معاشی، سیاسی، اور ذاتی اسباب اور پس منظر ہے۔
پنجاب میں سرائکی صوبے کی تحریک، نواز شریف کے دو مرتبہ کے دور حکومت میں نئے معاشی و سیاسی طبقے کو پیدا ہونا، شہری آبادی کا بڑھنا وغیرہ کئے ایسے مظاہر ہیں جن کا نوتس لینا اور ان کا جائزہ لینا آج کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ اگر صحیح سے تاریخ اور تاریخی حقائق موجود ہوں تو ہمارا خاصا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔
تاریخ کس نے پڑھی ہے؟ ۔۔۔۔ سہیل سانگی
دسویں جماعت میں زیر تعلیم میرے بچے پر اس وقت میرا غصہ ٹھنڈا ہوا جب اس نت بتایا کہ نصاب میں نہ برسغیر کی اور نہ ہی سندھ کی تاریخ پڑھائی جاتی ہے۔ میں اس کو راجا پرتھوی راج کا قصہ سنا رہا تھا جو ان کی بہن کے سویمبر سے متعلق تھا۔
تقریبا تین دہائی پہلتک یہ شکایت تھی کہ تاریخ غلط پڑھائی جا رہی ہے۔ اور یہ صحیح کیون نہیں پڑھائی جاتی۔ لگتا ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے شکایات کی بنیاد ہی ختم کردی ہے کہ نہ تاریخ پڑھائی جائے گی اور نہ ہی اس کے صحیح غلط کا تنازع ہوگا۔ لہٰذا اب ہمارا نوجوان نہ سما اور سومرو کی حکمرانی سے واقف ہے اور نہ ہی اس دور کیواقعات، کرداروں کو جانتا ہے اور نہ ہی ان واقعات کے اسباب اور اثرات کو سمجھ پا رہا ہے۔اگر اس کے سامنے بعض کرداروں کے نام لیے جاتے ہیں تو اسے یہ کسی لوک کہانی کے فرضی کردار لگتے ہیں۔ نقول ایک استاد کے ہمااری تاریخ زیادہ سے زیادہ تحریک پاکستان سے شروع ہتی ہے اور قیام پاکستان پر آکر ختم ہو جاتی ہے۔ یعنی ہماری کل تاریخ 110 سال کی ہے۔ گزشتہ سال آخری سال کی میری ایک طالبہ کا یہ سوال میں کبھی بھی بھول نہیں سکتا جو سن کر میں کچھ دیر کے لیے صدمے میں آگیا تھا۔ انہوں نے پوچھا تھا کہ”سر کراچی شہر تو قیام پاکستان کے بعد بنا ہیں نا۔۔۔“
ہم تاریخ سے بانجھ نسل پیدا کر رہے ہیں جس کو ماضی دور کے واقعات اور حلات تو دور کی بات ماضی قریب کے واقعات بھی یاد نہیں۔ ظاہر ہے جن کو اپنے ماضی کا پتہ نہیں ان کو اپنے حال کا بھی پتہ نہیں ہے۔دنیا میں بہت ہی پرانے واقعات پر تحقیق ہو رہی ہے اور محقق ان واقعات کے رونما ہونے کے اسبا ب کی کھوج لگا رہے ہیں اور نئے پہلو اور نئے زاویے نکال رہے ہیں اور ان واقعات کے ریکارڈ سے تاریخ کے جھول اور سلوٹیں سیدھی کر رہے ہیں۔ اور قوموں کے سیاسی اور معاشی جنگوں کو صحیح پس منظر میں رکھ کے دیکھ رہے ہیں۔
کسی مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ وہ جو اپنا ماضی یاد نہیں رکھتے وہ اس کا خمیازہ یوں بھگتے ہیں کہ وہ اپنے ماضی کو اور غلطیوں کو دہراتے ہیں۔
تاریخ تحقیق کا وہ شعبہ ہے جو واقعات کی ترتیب کا جائزہ کیا ہے اور بسا اوقات اس طریقہ کار کی بھی تحقیق کرتا ہے جو واقعات کے رونما ہنے کا سسب بنتے ہیں اور گھرا اثر چھوڑتے ہیں۔تاریخ ماضی کے واقعات کا ریکارڈ ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ متعلقہ دور میں انان ے ساتھ کیا ہوا۔ واقعات کا مستند ریاکرڈ ہے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتا ہے۔
بقول ڈاکٹر مبارک علی کے تاریخ واقعات کو ریکارڈ کرتی ہے مگر ان کے بارے میں سچ نہیں بتاتی۔ یہ تحقیق ہی ہے جو اس سچ سے پردہ اٹھاتی ہے۔ یہ ستم ظریفی ہے کہ ہمارے تاریخی واقعات نہ تو جمع کئے ہوئے اور قلمبند کئے ہوئے ہیں، تو ان کے پیچھے چھپا ہوا سچ تلاش کرنا تو دور کی بات ہے۔مطلب ان واقعات کو ہی چھپا دیا جائیسچ کی تلاش کے راستے ہی بند ہوجاتے ہیں۔ کیا ہماری تاریخ اتنی بھیانک ہے کہ ہمارے حکمران اور پالیسی ساز تاریخی واقعات بیان کرنے اور بچوں کو پڑھانے سے خوزدہ ہیں؟ کیا ہماری تاریخ 1857ع سے شروع ہوکر 1947ع تک ہے اور صرف90 سال کے عرصے پر محیط ہے؟
تاریخ لکھنا اور صحیح تاریخ لکھنا کتنا ضروری ہے؟ یہاں یہ موضوع زیر بحث نہیں۔ میرا موضوع یہ ہے کہ تاریخ اور تاریخی واقعات کی عدم موجودگی میں ہم ہوا میں محلق اور لاوارث بچوں کی طرح ہیں جس کو جو آئے تھپڑ مار کے چلا جائے۔ جس کی نہ کوئی شناخت ہے اور نہ ہی کوئی بنیاد۔ جیسے کوئی جپسی ہوں جس کی کوئی تہذیب یا ثقافت نہ ہو، کوئی عزت نفس نہ ہو، حیثیت نہ ہو۔ جیسے ہر شخص کی ذاتی انا اور عزت نفس ہوتی ہے بالکل اسی طرح سے ہر قوم کی بھی عزت نفس، انا اور حیثیت ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کی انا یا عزت نفس کو ضرب لگتی ہے تو اس کی شخصیت اور ذات ٹوٹ جاتی ہے۔ وہ خود کو دوسروں سے کم تر سمجھنے لگتا ہے۔یہ عمل مسلسل جاری رھنے کی صورت میں اس کی مخصوص نفسیاتی ساخت اور ذہنیت بن جاتی ہے۔ وہ خود کو غلام تصور کرنے لگتا ہے اور اپنے حالات تبدیل کرنے کی کوشش چھوڑ دیتا ہے۔اسی طرح سے قوم کی بھی اجتماعی عزت نفس ہوتی ہے۔ وہ اگر مسلسل مجروح ہو تو یہ قوم خود کو قوموں کی برادری میں بیگانہ، اکیلا اور نیچ سمجھنے لگتا ہے۔ انڈیا کے ژیڈیولڈ کاسٹ اور امریکہ کے پرانے باشندے اس کی واضح مثالیں ہیں۔
کسی قوم یا گروہ کو کم تر رکھنا ہوتا ہے تو تین طرح سے تاریخ کو مسخ کیا جاتا ہے۔ پہلا یہ کہ تاریخی واقعات اور کردار قلمبند اور بیان ہی نہ کئے جائیں۔جیسے یہ واقعات اور کردار روئے زمین پر پیدا ہی نہیں ہوئے تھے یا وجود ہی نہیں رکھتے تھے۔یہ وہ سلوک ہے جو امریکہ اور آسٹریلیا کے پرانے باشندوں کے ساتھ یورپی قوموں نے کیا۔آج ان کی تاریخ، ثقافت اور شناخت سب گم ہیں۔ان کی زبانیں بھی ختم ہو گئیں۔دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ”اپنوں‘‘ کو یا کسی مخصوص گروہ کے کارناموں کو س اجگر کیا جائے اور ان کے کرداروں کو مجاہد، بہادر اور عقلمند کے طور پر پیش کیا جائے۔تیسرا طریقہ ہے کہ تاریخی واقعات، حقائق اور کرداروں کو مسخ کیا جائے۔لگتا ہے کہ ہمارے پاس تیسرا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔اسی وجہ سے تاریخی واقعات، حقائق اور کردار ہی گم ہیں۔یہ سب نہ ہمارے نصاب کا حصہ ہیں اور نہ ہی کسی علمی بحث کا حصہ ہیں۔پرانی تاریخ تو دور کی بات ہے، ماضی قریب کی تاریخ جس کے کئی کردار ابھی تک زندہ ہیں وہ بھی قلبند نہیں کی گئی ہے۔نتیجے میں یہ سب واقعات اور کردار وقت کی دھول میں گم ہو جائیں گے۔اکل ان کا کوئی ذخر فکر ہی نہیں ملے گا۔تاریک کی زنجیر کی کئی اہم کڑیاں ختم اور گم ہو جائیں گی۔
قیام پاکستان کے بعد ملک میں کون سی تحریکیں اٹھیں، کیوں اٹھیں، انکا پس منظر، واقعات مختلف گروہوں اور افراد کا کردار خواہ منفی ہو یا مثبت، ہم ان سے محروم رہ جائیں گے۔اس تمام اثاثے سے ہم اگر آج محروم ہیں تو کل تو بالکل ہی محروم ہوں گے اور ان کا کوئی نام و نشان بھی نہیں ہوگا۔یونانی علم و دنش کے باوا آدم سمجھے جاتے ہیں۔ان کی اس کاریگری نے جہاں بہت سے اچھے اثرات ڈالے وہاں بعض منفی اثرات بھی۔یونانیوں کے پاس اپنے تاریخ داں بھی تھے۔لہٰذا یونانیوں کے حوالے سے جنگوں، معاہدوں وغیرہ کی تاریخ ہے وہ وہی ہے جو یونانیوں نے لکھی ہے۔ان تمام واقعات میں یونانیوں کو ہی بہادر، شاندار، عقلمند، بااصول دکھایا گیا ہے۔یونانیوں کی اصؒ دانش مندی یہ تھی کہ انہوں ے اپنی تاریخ اپنے ہاتھوں سے لکھی۔ اور کیس کے ہاتھ میں نہیں دی۔لہٰذا پوری تاریخ ان کے حق اور حمایت میں ہے۔ قبل مسیح کے دور میں یونانیوں اور ایرانیوں کے درمیان جو جگیں ہوئیں ان میں بعض جنگوں میں یونانیوں کو شکست بھی ہوئی تھی اور ایرانیوں کو فتح۔مگر یونانی تاریخدانوں نے یونان کی شکست کو بھی شاندار، باوقار، پیشہ ورانہ وغیرہ وغیرہ کر کے پیش کیا۔اس کے برعکس ایرانیوں کی فتح کو کم درجے کا شمار کیا۔
یورپی قومیں خاص طور پر انگریز جب کسی ملک پر قبضہ یا تسلط کرنے کی ٹھانتے ہیں تو اس ملک کے تاریخ جغرافیہ کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرتے ہیں۔وہاں کے لوگوں کے تہذیب، ثقافت، مختلف رجحانات، معاشی و سیاسی درجہ بندی اور تضادات وغیرہ کے بارے میں تحقیق اور سروے کرتے ہیں۔یورپی سیاحوں اور مورخین کے سفرنامے اور تاریخ وغیرہ اسی پس منظر میں ہے۔
ہم پاکستانیوں نے آج تک پاسکتان کی سیاسی dynamics پر ڈھنگ سے کام نہیں کیا کہ یہ سمجھ میں آسکے کہ کون سے طبقے، گروہ یا سیاسی پارٹی یہاں تک کہ فرد کا کونسا رول کیوں ہے؟ اس کا یہ رول اس سے ہٹ کے کیوں نہ ہوسکا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ سندھ کے لوگ پنجاب کی تاریخ سے بھی واقف ہوتے انہیں پنجاب سے جو شکایات ہیں جو تضادات ہیں ان کا صحیح طور پر اندازہ ہوتا۔ مگر وہ تو اپنی ہی تاریخ سے بے بہرہ ہے۔ آج اگر پنجاب کی بڑی پارٹی نواز لیگ سندھ اور بلوچستان کے قوم پرستوں کی حمایت کر رہی ہے، اس کے پیچھے کیا محرکات ہیں؟ پنجاب بھی سندھ کو نہیں سمجھ رہا کہ اس کی شکایات کا کیا پس منظر اور تاریخ ہے۔یہ سب کچھ نہ سمجھنے کی وجہ سے پنجاب کو سندھ کا رویہ صوبائیت یا عصبیت والا نظر آتا ہے۔بینگال کی تحریک، ون یونٹ کے خلاف چھوٹے صوبوں کی تحریک، ضیاء الحق اور اس کے خلاف ایم آرڈی کی تحریک ان سب کو پس منظر، تحریک کے دوران واقعات، رجحانات اور اثرات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے سے ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کرنے کی بھی صالحیت بڑھ سکتی ہے۔
آج سندھ میں جو نئے بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک چل رہی ہے وہ تحریک کوئی ایک قانون کے خلاف نہیں ہے۔ بلکہ ایک نظام کے خلاف ہے۔ سندھ کے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ نظام ان کی دھرتی کو دولخت کردے گا۔خود اس تحریک شامل مختلف گروہوں کی موئثر یا غیر مؤثر شمولیت کے بھی معاشی، سیاسی، اور ذاتی اسباب اور پس منظر ہے۔
پنجاب میں سرائکی صوبے کی تحریک، نواز شریف کے دو مرتبہ کے دور حکومت میں نئے معاشی و سیاسی طبقے کو پیدا ہونا، شہری آبادی کا بڑھنا وغیرہ کئے ایسے مظاہر ہیں جن کا نوتس لینا اور ان کا جائزہ لینا آج کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ اگر صحیح سے تاریخ اور تاریخی حقائق موجود ہوں تو ہمارا خاصا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔
No comments:
Post a Comment