Mon, Sep 3, 2012, 12:24 AM
سرائیکی صوبے کے ساتھ سیاست
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
پنجاب اسمبلی کی سرائیکی صوبے حوالے سے نئی قرادد کے بعد ایک گھن چکر شروع ہوگیا ہے۔ہم یہاں قراداد پاس ہونے والے دن اسمبلی کے اندر کے مناظر پر تبصرہ نہیں کریں گے۔وہ ایک الگ بحث ہے۔ سوال یہ ہے کہ پنجاب کس کو دو صوبوں میں تقسہم کرنے کی تجویز ہی اس کی اسمبلی کی مخالفت کے بعد صورتحال کیا بنے گی۔ کیا اب پیپلز پارٹی فی الحال اس معاملے کو ملتوی کردے گی؟ یا ایک صوبے کی اکثریتی پارٹی کی مخالفت کے باجود اگر صوبہ بنالے گی تو اس کا کیا جواز ہوگا؟ کیا وہ ریفرینڈم پر چلی جائے گی؟ جو کہ نٗے صوبے کے قیام کے حوالے سے آئین سے ہٹ کر قدم ہوگا۔
نیا صوبہ آئندہ انتخابات سے پہلے بنتا ہوا نظر نہیں آتا۔ آئینی طور پر موجودہ سیاسی حالات میں کوئی نیا صوبہ بنانا مشکل ہی نہیں ناممکن لگتا ہے۔ کیونکہ نئے صوبے تجویز کرنے والی پارٹیوں کو خواہ پیپلز پارٹی ہو یا ایم کیو ایم، یا مسلم لیگ (ق)متعلقہ صوبائی اسیمبلیوں میں اکثریت حاصل نہیں۔ اے این پی اپنے دو اضلاع کیسے سرائیکی صوبے کو دے دیگی، جبکہ ہزارہ صوبے کے سوال پر 2010 میں تقریبا دو بندے قتل کئے جا چکے ہیں۔
گیلپ سروے کے مطابق ملک کے 60فیصد لو گ سمجھتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام کے بارے میں غیرسنجیدہ ہیں۔
سرائیکی قوم پرست ایک عرصے سے الگ صوبے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسرے صوبوں کی قوم پرست جماعتوں کو چھوڑ کر، کسی ملک گیر پارٹی نے اس مطالبے کی حمایت نہیں کی تھی۔ یہ پانچ چھ سال پہلے کی بات ہے کہ سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف نے سرائیکی صوبے کے حق میں بات کرنا شروع کی۔ مسلم لیگ قاف نے 2008ع کے انتخابات سے قبل انتظامی بنیادوں پر صوبے کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے اس اشو پر کام شروع کیا۔پہلے سرائیکی پٹی سے تعلق رکھنے والے ایم این ایز اور ایم پی ایز کا گروپ بنا۔ اس گروپ نے سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے اسمبلی ممبران سے رابطے کئے۔اور پارٹی کی مرکزی قیادت پر بھی زور دیا گیا کہ وہ اس معاملے کو دیکھے۔پھر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی تقریروں میں سرائیکی صوبے کی بات کرناے لگے اور یہاں تک کہا کہ سرائیکی صوبہ ضرور بنے گا اورکہ قومی اسیمبلی کے آئندہ اجلاس میں سرائیکی صوبے کے قیام کا بل پیش کیا جائیگا۔موجودہ حکومت نے پختونوں کو پختونخواہ کی شکل میں شناخت دی۔ گلگت۔ بلتستان کو بھی شناخت ملی۔اب سرائیکی عوام کو بھی یہ شناخت دینی پڑے گی۔ آگے چل کر صدر زرادری بھی الگ صوبے کے حق میں بات کرنے لگے۔
پیپلز پارٹی نے پنجاب اسمبلی میں یہ معاملہ اٹھایا تو مسلم لیگ قاف نے ان کی حمایت کی۔نواز لیگ نے پہلے تو معاملے کو ٹالنے کی کوشش کی اور اس کی مخالفت کی۔ یہ دھمکی دی کہ پنجاب کو توڑنے کا نتیجہ سندھ کو دو حصے کرنے کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔یہ پیغام پیپلز پارٹی کے لیے دھمکی تھی۔ مگر اس کے باوجود پیپلز پارٹی سرائیکی صوبے کے ایجنڈے کو آگے بڑھاتی رہی۔اس اثناء میں ایم کیو ایم بھی بیچ میں آ گئی اور آئینی ترمیم تجویز کی کہ نئے صوبے بنانے کے لیے متعلقہ اسمبلی کی قرارداد یا منشا کی ضرورت نہیں بلکہ ریفرینڈم کے ذریعے یہ معاملہ طے کیا جائے۔ اس تجویز کو سخت مخالفت کا سامنا ہے اور ابھی تک بحث کے لیے بھی منظور نہیں ہو سکی ہے۔
پیپلز پارٹی اور قاف لیگ نے پنجاب اسمبلی میں نئے صوبے کے قیام کے لیے قراردادیں پیش کیں نواز لیگ نے یہ کہہ کر مسترد کردیں کہ پہلے قومی اسمبلی سے قرارداد منظور کرانا ضروری ہے۔کچھ عرصے کے بعد پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ سے جنوبی صوبے کے قیام کی قرارداد منظور کرالی۔اس پر نواز شریف نے کراچی پہنچ کر یہ کہا کہ زرادری بھلے پنجاب کو ٹکڑے ٹکڑے کردے ہم سندھ کو دو حصوں میں تقسیم ہونے نہیں دینگے۔ نواز شریف کا یہ بیان پارٹی کے پہلے رد عمل کے برعکس تھا جس میں سندھ کو بھی تقسیم کرنے کی دھمکی دی گئی تھی۔
ہم چھ ماہ پہلے کالم میں لکھ چکے ہیں کہ پاکستان کی مرکز پسند اسٹیبلشمنٹ جو پہلے صوبے موجود ہیں ان کو خود مختیاری اور حقوق دینے کے لئے تیار نہیں وہ کیسے دوسرے صوبوں کو برداشت کر لے گی؟ اسکا مطلب یہ کھیل کچھ اور ہے۔لگتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں نئے صوبوں کی تشکیل کا معاملہ انتخابی مہم کا مقبول اور بھرپور نعرہ رے گا۔
قومی اسمبلی سے پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کی قراداد کی منظوری کے بعد راتورات کراچی میں چاکنگ کی گئی۔ وہ قوتیں کیونکر خاموش بیٹھیں گی جو اصل مقتدر قوتوں کی طاقت کم ہوتے دیکھنا نہیں چاہتیں
پنجاب میں نیا صوبہ بننے سے وقتی طور پر نواز لیگ کی طاقت کم ہو سکتی ہے۔کیا یہ اسٹبلشمنٹ پر وار نہیں ہوگا؟ اور کیا وہ اس کے بعد خاموش بیٹھی رہے گی اور جوابی کارروائی نہیں کرے گی؟ اآخر کراچی کارڈ کس دن کے لیے پالا ہوا ہے؟
پنجاب کی سیاسی اکثریت کس طرح سے جمہوریت کے آڑے آتی ہے؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے چار عام انتخابات کے نتائج کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ اگر 1985ع، 1990ع، 1997ع اور2002ع کے عام انتخابات کے نتائج کا جائزہ لیں توصورتحال سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے۔یعنی جمہویرت پسندوں یا بے نظیر بھٹو کو روکنے کے لیے اسٹبلشمنٹ کو صرف پنجاب کا ووٹ کافی تھا۔باقی تمام صوبے ایک طرف ہونے کے باوجود اس پارٹی کی حکومت بن گئی۔ جس کو اسٹبلشمنٹ نے جتوایا تھا۔ یعنی نواز لیگ ہو یا قاف لیگ۔ اگر پنجاب تقسیمیں دو صوبے بنتے ہیں تو اسٹبلشمنٹ کے لیے انتخابات کے ذریعے اپنی قوت برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
پیپلز پارٹی کو سمجھنا چاہئے کہ صوبہ بننے کے بعد انتخابی سیاست بھی تبدیل ہو جائے گی۔ اس علاقے سے سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی یہ جماعت 1997ع میں ایک بھی نشست حاصل نہیں کر پائی تھی۔اس لیے اسٹبلشمنٹ اس کو پنجاب کی تقسیم اور اپنے اختیارات کی تقسیم سمجھے گی۔ جسے ہرحال میں کو روکنا چاہے گی۔اور اگر ایسا نہیں کر پائی تو تمام وحدتوں کو تو توڑ کر سیاسی قوتوں کی طاقت کو توڑ کر اپنا اثر برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔آج جو لوگ موجودہ باقی وحدتوں میں بھی مزید صوبوں کی بات کر رہے ہیں وہ دراصل اسٹبلشمنٹ کی اس خواہش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سرائیکی صوبے بننے کی صورت میں اس کے اثرات دوسرے صوبوں خاص طور پر سندھ پر مننقل ضرور ہونگے۔ پیپلزپارٹی نے ابھی تک اس صوبے کے حوالے سے جو بھی سیاست کی وہ کامیاب رہی۔ مگر معاملہ آکر کمیشن میں پھنس گیا ہے۔ جو مسلم لیگ (ن) کے مطالبے پر بنایاگیا ہے۔
جب نواز لیگ کسی طور پر سرائیکی صوبے کی مخالفت نہیں کر پارہی تھی تو وہ بہاولپور صوبے کا معاملہ بیچ میں لے آئی۔اس کے پیچھے نواز لیگ کی حکمت عملی یہ تھی کہ بہاولپور صوبے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد سرائیکی آپس میں لڑ پڑیں گے۔ اور یوں نئے صوبے کے قیام کا معاملہ اکھٹائی میں پڑجائے گا۔اسی چال کے تحت نواز لیگ پیپلز پارٹی اور قاف لیگ کی اسمبلی میں پیش کی گئی قراردایں مسترد کرکے اپنی قرارداد لے آئی۔اور اس کے لیے اپوزیشن کو بھی راضی کرلیا۔اور چپکے سے اس میں بہاولپور صوبے کا معاملہ بھی شامل کر لایا گیا۔پیپلز پارٹی اور قاف لیگ کو پتہ ہی نہیں چلا کہ اس کے ساتھ ساتھ قرارداد میں ایک ایسی شق بھی شامل کی گئی جس نے اب لاکر معاملے کو الجھا دیا ہے۔یہ شق صوبوں کے قیام کے لیے قومی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ تھا۔اس شق میں واضح طور پر لکھا گیا کہ ایک ایسا قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو جناوبی صوبے کے قیام، بہاولپور صوبے کی بحالی، ان کے جغرافیائی حدود، وسائل کی تقسیم وغیرہ کا تعین کرے۔ اور کمیشن یہ بھی جائزہ لے کہ ملک میں کہاں کہاں نئے صوبے بنانے کی ضرورت ہے۔ یعنی کمیشن صرف پنجاب میں ہی نہیں دوسرے صوبوں کا بھی جائزہ لے کہ وہاں بھی نئے صوبے بنائے جا سکتے ہیں۔یعنی پنجاب اسمبلی دوسرے صوبوں کے بار میں بھی فیصلہ کرنے لگی۔۔۔۔
اگرچہ پنجاب اسمبلی کی قرارداد دوسرے صوبوں پر لاگو نہیں ہوسکتی مگر پھر بھی صدر زرادری نے کمیشن کے قیام کے لیے قومی اسمبلی کی اسپیکر کو ریفرنس بھیجا۔اس کمیشن میں تمام جماعتوں کو نمائندگی دی گئی۔ چونکہ معاملہ پنجاب کا تھا اس لیے اس میں نمائندگی پنجاب کو ہی دینی چاہیے تھی۔ مگر اس میں ایم کیو ایم، اے این پی۔ اور جے یو آئی کے بھی نمائندے لیے گئے۔ جن کی پنجاب میں کوئی نمائندگی نہیں۔ یوں نواز لیگ کو راہ فرار مل گئی۔ اس نے کمیشن نہ صرف کمیشن کا بائکاٹ کیا بلکہ پنجاب اسمبلی سے قرارداد منظور کرکے اس کمیشن کو مسترد کردیا۔یعنی نواز لیگ نے سرائیکی صوبے کے تیزی سے بڑھتے ہوئے عمل کو اسپیڈ بریکر لگا دیا۔اس معاملے پر مسلم لیگ (ن) سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ پیپلز پارٹی تو آئندہ انتخابات میں اس اشو کو کیش کراناچاہتی ہے۔
نواز لیگ نئے صوبوں کے بارے میں بڑی عجیب وغریب سیاست کرتی ہے۔ پہلے ایک حکمت عملی بناتی ہے اور عین وقت پر راہ فرار اختیار کر لیتی ہے۔ مثلا جب سرحد اسمبلی نے پختونخواہ نام کی قرارداد منظور کی تب وہاں نواز لیگ کی حکومت تھی اور وزیراعلیٰ سرادر مہتاب عباسی تھے۔مگر بعد میں یہی جماعت پختونخواہ کے خلاف کھڑی ہوگئی۔وہ ایسا کرکے راستہ بھی روک نہ سکی۔ پناجب اسمبلی نے جب اتفاق رائے سے نئے صوبے کے لیے قرارداد منظور کی تو مگر اس سے ہٹ گئی۔ اور اس کے ساتھ دوسرے صوبوں کی تقسیم کے معاملے کو بھی جوڑ دیا۔
اب اگر مسلم لیگ بھاگنا چاہے گی تو فی الحال تو سرائیکی صوبے کا قیام رک جائے گا مگر نوز لیگ کو اس بیلٹ سے ووٹ کم ملیں گے۔
اب انتخابات سے پہلے اس اشو پر کوئی فیصلہ ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ اور یہ انتخابی گیند بن کر سامنے آئے گی۔
LAHORE, May 9: In a rare show of unanimity, the treasury and the opposition in the Punjab Assembly jointly adopted on Wednesday two resolutions calling for restoring the Bahawalpur province and carving out a new Janoobi (south) Punjab province comprising the Seraiki belt, but excluding the three districts of the former princely state.
The National Assembly had already passed a resolution last week asking for creation of the Janoobi Punjab province.
Speaker Rana Muhammad Iqbal suspended all rules of business to allow Law Minister Rana Sanaullah to table the resolutions out of turn.
To the wonder of those sitting in galleries, Leader of Opposition Raja Riaz and parliamentary leaders of the PML-Q, PML-F and MMA, instead of delivering speeches, read out the same text of the resolutions one by one, although the rules of procedure do not allow it.
No comments:
Post a Comment