Sun, Jul 7, 2013 at 10:52 PM
دیوار سندھ: لاوارثی کی جیتی جاگتی تصویر
سہیل سانگی
یونیسکودیوار سندھ کے طور پر مشہور رنی کوٹ کو عالمی ورثہ قرار دینے کی تجویز رکھتا ہے مگردنیا کا سب سے بڑا قلعہ حکومت کی لاپروائی اور اہلکاروں کی کوتاہی کی وجہ سے لاوارثی کی جیتی جاگتی تصویر بنا ہواہے۔گزشتہ ہفتے اس عظیم ورثے کا دورہ کرنے کے موقعہ ملا تو چند چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے۔سیاحوں کے لیے نہ کوئی گائیڈ اور نہ پینے کے پانی کی سہولت نہ بیٹھنے کی جگہ موجود ہے۔
انڈس ہائی وے پر مشہور مقام سن سے جنوب مغرب میں کھیرتھر پہاڑی سلسلے کے کارو جبل میں یہ قلعہ ہے۔ آثارقدیمہ کے ماہرین کے مطابق رنی کوٹ سوا بیس کلومیٹرپر پھیلا ہوا ہے دنیا کے ان قلعوں میں سے ہے جن کو ابھی تکپراسرار بناہوا ہے۔قلعہ تک رسائی کے لیے سن سے تیس کلومیٹرپختہ سڑک موجود ہے۔
اسلام سے پہلے ساسانی دور میں یہ جگہ موجود تھی۔ محمد بن قا سم کے سندھ پر حملے کے وقت یہاں بدھ مت والوں کی اکثریت تھی۔ خاص طور پر نیرون کوٹ سیوستان۔ سیم کے قلعوں میں ان اثر تھا۔چونکہ وہ لوگ جنگ سے نفرت کرتے تھے۔ اور برہمنوں کے تسلط سے عاجز تھیاس لئے عربوں طرف ان کا رویہ مخالفانہ نہ تھا۔ یہاں تک کہ نیرون کوٹ کا ”شمنی“ محمد بن قاسم کی آمد سے پہلے ہی ابھرتی ہوئی نئی طاقت بغداد سے پروانہ حاصل کر چکا تھا اور محمد بن قاسم کی آمد کے وقت اس پر قلعے کے دروازے کھول دیئے تھے۔
دنیا کے اس عجیب قلعے کے متعلق تھوڑا سا ذکر انگریزوں کی آمد کے بعد ملتا ہے۔ بعض محققین کا اس کو ستھیوں یا پارتھیوں کا کام قرار دییتے ہیں۔ نئی تحقیق کے مطابق نیرون کوٹ جس کا ذکر تاریخ میں اکثر ملتا ہے وہ یہی قلعہ ہے۔
ساسانیوں کا یہ تعمیر کردہ یہ قلعہ فن تعمیر کا نمونہ ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخ اور تہذیب کے کئی ادوار اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہے۔ قبل مسیح کے دور کے بعد عرب فتح کا زمانہ، مغل دور اور تالپور دور میں بھی وقت کے حکمرانوں کے زیر استعمال رہاہے۔رنی کوٹ قلعے کے اندر میری کوٹ اور شیر گڑھ کے نام سے دو اورچھوٹے قلعے ہیں۔ ان دونوں چھوٹے قلعوں کے دروازے رنی کوٹ کے دروازوں جیسے ہیں۔۔ فوجی نقط نگاہ سے میری کوٹ محفوظ پناہ گاہ ہے۔ جہاں رہائشی حصہ زنان خانہ، کچھ فوج کے رکھنے کا بندوبست بھی ہے۔
اس تاریخی مقام سے کئی تاریخی واقعات منسوب ہیں جن میں سے بیشتر پر ابھی مستند تحقیق ہونا باقی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھاس قلعہ کے اندر مختلف مقامات سے کئی دیومالائی کہانیاں بھی منسوب ہیں۔ قلعے کے اندر مغربی حصے سے پھوٹنے والا چشمہ ہے جس کو پریوں کا چشمہ کہتے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پونم رات یعنی چاند کی 14 تاریخ کو یہاں پریاں نہانے آتی ہیں۔
صدیوں پرانے اس تاریخی مقام کے لیے محکمہ آثار قدیمہ خواہ سیاحت کی جانب سے کوئی بندوبست نہیں۔ بلکہ کوئی ایک ملازم بھی مقرر نہیں جو اس قلعہ کی حفاظت تو دور کی بات نظرداری کرے۔
قلعہ اب محکمہ ثقافت کے ماتحت ہے مگر یہ محکمہ بھی اس کی وارثی نہیں کر رہا۔اتنے بڑے ورثے کی رکھوالی کے لیے محکمے کے پاس ایک بھی ملازم نہیں ہے اور یہ لاوارث بنا ہوا ہے۔ جب محکمہ آثار قدیمہ وفاقی حکومت کے ماتحت تھاتب ایک چوکیدار مقرر تھا۔ اس کے ریٹائر ہونے کے بعد کسی کو بطور چوکیدار مقرر نہیں کیا گیا۔قلعہ کا دورہ کرنے کے دوران ایسا لگ رہا تھا کہ محکمہ ثقافت کی نہ اس تاریخی مقام سے دلچسپی ہے اور نہ کوئی افسریہاں آتا ہے۔
مختلف دیواریں جو پہلے ہی خستہ اور زبون حالت میں تھیں ان کو گزشتہ دو سال کی بارشوں نے مزید زبون کردیا ہے۔ میری کوٹ، شیر گڑھ اور خود اصل قلعہ کی جنوبی دیوار بہت کمزور ہو چکی ہے جو کہ پوری توجہ سے مسلسل مرمت کی طلبگار ہیں۔
وزیٹرس کے لیے کوئی سہولت نہیں۔ سیاحوں کے لیے کوئی گائیڈ موجود نہیں۔ کوئی شیڈ ہے نہ بیٹھنے کی جگہ اور نہ ہی واش روم وغیرہ کی سہولت ہے۔80 کے عشرے میں میری کوٹ میں ضلع کونسل نے ریسٹ ہاؤس تعمیر کیا تھا۔ جو اب زبون حال ہے، اس کی چھت گر چکی ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس کے باوجود درجنوں سیاح آتے ہیں۔
رنی کوٹ کے اندر حکومت نے میری کوٹ تک پختہ سڑک تعمیر کرائی تھی۔ یہ روڈ تو ٹوٹ چکا ہے مگر اس پر دو پلیں جو برساتی نالے کو کراس کرتی ہیں دس سال سے زیر تعمیر ہیں۔ اور باقی 80 یا 85 فٹ تعمیر باقی ہے جہاں پر یہ کام روک دیا گیا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار اور حکومت کے درمیان تنازع کے بعد معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ نہ عدالت سے فیصلہ آرہا ہے۔ نہ حکومت کوئی پیش رفت کر کے معاملے کو نمٹا رہی ہے۔
قلعہ کے اندرناجائز تجاوزات ہونے لگی ہیں۔مقامی آبادی ٹریکٹر گھما کر سائٹ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ میری کوٹ کے قریب زیر تعمیر پل کے پاس بدھ دور کی سائٹ پر دو کمرے تعمیر کئے جارہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں پر ایک مقامی باثر شخص ہوٹل تعمیر کرنا چاہ رہا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لیے محکمہ کسی کو 500 فٹ زمین بھی دینے کے لیے تیار نہیں مگر غیرقانونی طور پر لوگ کئی ایکڑ پر قبضہ کر رہے ہیں۔
میری کوٹ سے مغرب میں گبول قبیلے کا ایک گاؤں قلعے کے اندر واقعہ ہے۔ یہ لوگ یہاں پر چھوٹی موٹی کاشتکاری بھی کرتے ہیں۔
میں نے نئے سال کے سندھ بجٹ کے صفحے پلٹ کے دیکھا مگرسالانہ ترقیاتی پروگرام میں رنی کوٹ کا نام تک نہیں تھا۔حالانکہ صوبے میں تین محکمے ثقافت، قومی ورثہ اور سیاحت ایک جیسا ایجنڈا لیے کام کر رہے ہیں۔ لیکن ان محکموں کے ذمہ داران کو رنی کوٹ نظر نہیں آتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حیرت انگیز مقام کو نیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست شامل کرنے کے لیے مطلوبہ چیزیں مکمل کی جائیں اور اس ورثے کو محفوظ کرنے اور اسے مزید نقصان سے بچانے کے لیے اقدامات کئے جائیں
No comments:
Post a Comment