Mon, Jan 28, 2013 at 5:58 PM
لوٹا گردی
میرے دل میرے مسافر ۔۔سہیل سانگی
عام انتخابات کا اعلان کسی بھی وقت متوقع ہے۔ اس بات کا اندازہ الیکشن کمیشن کی تیاریوں سے نہیں بلکہ سیاستدانوں کی سرگرمیوں اور خاص طور پر وفاداریاں تبدیل کرنے سے ہو رہاہے۔ انتخابات کے موقع پر پاکستان میں اور کچھ تبدیل ہو نہ ہو کئی سیاستدانوں کی وفاداریاں تبدیل ہو نے لگتی ہیں۔ یہ وفاداریاں تبدیل کرتے وقت نظریہ، فلسفہ، پالیسی، حکمت عملی ، اجتماعی مفاد وغیرہ کچھ بھی نہیں دیکھا جاتا صرف ایک ہی چیز دیکھی جاتی ہے کہ کون سی سیاسی جماعت اقتدار میں آرہی ہے۔ دنیا میں سیاست نظریات اور اصولوں پر چلتی ہوگی، پر پاکستان میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ جس طرح سے زندگی کسی نظریے یا اصول کے تحت گزاری جاتی ہے اسی طرح سے ریاست بھی کسیاصول اور نظریے کے تحت چلائی جاتی ہے۔
خاص طور پر سرد جنگ کے خاتمے کے بعد اصول، نظریات اور پالیسیاں مر چکی ہیں اب تو رسما بھی سیاسی جماعتیں اپنا منشور اور پروگرام تک نہیں پیش کرتیں۔ عوام اور عوام کے مسائل سے انتخابات کا تعلق نہیں ہوتا۔ بنگلے، گاڑیاں، عیاشی، آگے پیچھے پولیس اور نجی گارڈ شو ازی یہ سب سیاست اور انتخابات کا مقصد جا ٹہرے ہیں۔ انتخابات صرف اقتدار حاصل کرنے کا انام ہے تاکہ ذاتی مفادت کا تحفظ کیا جا سکے اور حکومتی عہدے کے سہارے مزید دولت کمائی جا سکے۔ جب یہ مقاصد ہوں تو ایسے لوگوں کو صرف اور صرف اقتداری جماعت چاہئے۔ پچاس کی دہائی میں ایک سیاستدں کے دوست نے پوچھا کہ بھئی تم روز روز پارٹی بدل دیتے ہو مسئلہ کیا ہے؟ اس سیاستداں نے دوست کو کہا کہ کہاں پارٹی تبدیل کی ہے۔ جن ان کے دوست نے تفصیل سے پارٹیوں کے نام گنوائے تو سیاستدان کہنے لگے کہ ہماری پارٹی تو ایک ہی پارٹی ہے اور وہ ہے حکومتی پارٹی۔ اگر یہ پارٹی ہی اپنا نام دبل دے تو ہم کیا کریں؟ یعنی ان نمائندوں کی پارٹی اقتداری پارٹی ہے۔ آج ایک ہے تو اس کے ساتھ ہیں کل دوسری ہے تو اس کے ساتھ ہیں۔
اگر ملک کی تمام بڑی یا اہم پارٹیوں کا جائزہ لیا جائے تو ہر پارٹی میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کو سیایس زبان میں لوٹا کہا جاتا ہے۔ اس لوٹاگردی کی وجہ سے سیاست آگے نہیں بڑھ پائی ہے اور ذاتی طورپر معاشی اور مالی مفادات کی وجہ سے مورثی سیاست عام سی بات ہے۔ یہ موروثی سیاست ایک یونین کونسل سے لے کر ملک کے اعلیٰ عہدے تک نظرآئے گی۔ یہ مورثی سیاست ہی ہے جس کی وجہ سے سیاست میں نیا کیڈر اور نئی بات نئی حکمت عملی یا کوئی اور نیا پن نہیں آرہا ہے۔
حال ہی میں سندھ میں سابق وفاقی وزیر غوث بخش مہر نے اپنے دو بیٹوں اور دو درجن سے زائد بااثر افراد سمیت مسلم لیگ فنکشنل میں شمولیت اختیارکی ہے۔مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے مہر نے چند ماہ قبل وفاقی وزارت سے الگ کردیا گیا تھا، جبکہ ان کے بیٹے صوبائی وزیرشہریار مہر نے استعیفا دے دیا تھا۔
شکارپور سے تعلق رکھنے والے مہر پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، مسلم لیگ (ق) کی حکومتوں میں وزیر رہ چکے ہیں۔ اور اب انہوں نے مسلم لیگ فنکشنل میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ ان کے حلقے میں مہر برادری بڑی تعداد مین آباد ہے اور وہی ان کی کامیابی کا باعث بنتی ہے۔
کبھی سندھ کا پیرس کہلوانے والا شکارپور جوکبھی تجارت، علم و ادب کا گہوارا تھا گزشتہ چند دہائیوں سے قبائلی جھگڑوں، جرگوں کے لیے مشہور یہ ضلع ڈاکوؤں کی بھی آماجگاہ رہا ہے۔حلقے میں ان کے مخالف نیشنل پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر ابرہیم جتوئی ہوتے ہیں۔جن کا تعلق جتوئی برادری سے ہے۔ شکارپور میں جتوئی اور مہر برادری دو بڑے قبیلے ہیں جن کے درمیان ماضی میں تصادم بھی ہوتے رہے ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دونوں قبیلے صرف سیاسی ہی نہیں بلہ سماجی طور پر بھی ایک دوسرے کے حریف ہیں۔اب نیشنل پیپلز پارٹی فنکشنل لیگ کی اتحادی ہے۔
غوث بخش مہر پارٹی وفاداریاں تبدیل کرتے رہے ہیں۔ ان کی پارٹی وابستگی کا جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ وہ ہر پانچ سال بعد یا حکومت کی ایک میعاد تک ایک پارٹی میں رہتے ہیں اور دوسری میعاد دوسری پارٹی کے ساتھ۔ 1977 کے بعد جتنی مرتبہ انتخابات ہوئے انہوں نے اتنی ہی مرتبہ پارٹی بدلی۔ 1977ع میں وہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ مگر جلد ہی ملک میں مارشل لا لگ گیا۔ اس کے بعد جب 1985 میں جب ضیا ء الحق نے غیر جماعتی انتخابات کرائے تو مہر سندھ اسمبلی کے رکن بنے اور ان کے ساتھ تھے اور وزیرخوراک و زراعت بنے۔1988 میں جب انتخابات ہوئے تو وہ پیپلز پارٹی میں تھے اور اسی پارٹی کے ٹکٹ پر سندھ اسمبلی کے ممبر بنے۔1990 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے لیکن ڈاکٹر ابرہیم کے ہاتھوں شکست کھائی۔ 1993میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اور انہیں سندھ اسمبلی کا اسپیکر منتخب کیا گیا۔
1997 میں انہوں نے پیپلز پارٹی کے سردار واحد بخش بھیو کو شکست دی اور منتخب ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی۔2002ع میں جب انتخابات ہوئے تو وہ مسلم لیگ (ق) میں تھے۔انہیں ریلوے اور بعد میں انسداد منشیات کے قلمدان دیئے گئے۔2008 کے انتخابات میں انہوں نے قاف لیگ سے وابستگی جاری رکھی۔اور قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے جبکہ ان کے بیٹے شہریار مہر صوابئی اسمبلی کے ممبر بنے جو کہ فوج میں کیپٹن رہ چکے ہیں۔ان کے دوسرے بیٹے عارف مہر ضلع شکارپور کے ناظم رہے۔
غوث بخش وہ سیاستداں ہیں جنہوں نے کبھی سندھ کے حقوق کی جدوجہد میں حصہ نہیں لیا اورنہ ہی کبھی جیل گئے۔ مہر کے لیے کہا جاتا ہے کہ وہ سیاست کی ہوا کا رخ اچھی طرح سے جانتے ہیں انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کونسی جماعت اگلی مرتبہ حکومت میں آئے گی اور وہ اسی کے مطابق اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرتے ہیں۔ وہ جرگوں کی خود قیادت کرتے رہے ہیں یا علاقے میں ہونے والے جرگوں کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں۔ مسلم لیگ (ق) سندھ میں شکارپور کے مہروں اور ٹھٹہ کے شیرازیوں کی وجہ سے تھی۔ مہر کے فنکشنل لیگ میں شمولیت سے اب صوبے میں ایک ہی ستون بچاہے۔
جہلم سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے دو ایم این ایز اپے والد سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔ لیاری سے پیپلز پارٹی سیتعلق رکھنے والے ایم این اے نبیل گبول نواز لیگ میں شامل ہوگئے ہیں سندھ کے ضلع نوشہروفیروز سے تعلق رکھنے والے ظفرعلی شاہ نے بھی نواز لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے،۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جیسے ہی انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد سیاسی جوڑ توڑ بڑھ جائیگا اور خاصے لوگ پارٹیاں تبدیل کریں گے،۔
کمال صرف ان ایم این ایز یا ایم پی ایز کا نہیں۔ اس سے بڑاکمال تو سیاسی جماعتوں کا ہے جو ان لوٹوں کو ہر مرتبہ قبول کر لیتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی حکومت حاصل کرنے کے لیے ممبران کی مطلوبہ تعداد چاہئے۔ اور اس مقصد کے لیے چاہے کوئی بھی اس کو ا[نی [ارٹی میں شامل کر لیتی ہیں، صرف اتنا ہی نہیں اس کو پسند کی وزارت بھی دے دیتی ہیں۔دراصل سیاسی جماعتوں کی بے اصولی ان لوٹوں کے مقابلے میں قوم اور ملک کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے۔
No comments:
Post a Comment