Thu, Jul 4, 2013 at 7:40 AM
سندھ میں انتظامی افراتفری
میرے دل میرے مسافر
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا پہلا مہینہ سخت گزرا اس سے لگ رہا ہے کہ گزشتہ دور حکومت پارٹی کو گلے پڑا ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مئی کو عہدے کا حلف اٹھایا۔ اور اس کے بعد سات رکنی کابینہ تو تشکیل دی مگروزراء کو قلمدان نہیں حوالے کئے گئے۔ تین ہفتے تک ساتوں وزراء بے قلمدان رہے۔ اس بارے میں سندھ حکومت اور پارٹی دونوں کوئی قابل فہم توضیح نہیں دے سکے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کی حکومت میں شمولیت کا انتظار کر رہی تھی۔ بلکہ ابھی تک بھی کررہی ہے۔ جبکہ دوسری رائے یہ تھی کہ پارٹی اندرونی اختلافات کی وجہ سے نہ کابینہ مکمل کر سکی ہے اور نہ ہی کئی ہفتوں تک وزراء کو قلمدان دے سکی ہے۔ پارٹی نے کسی اندرونی اختلافات کی تردیدکی۔ اس عرصے کے دوران پچاس سے زائد محکمے وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر نگرانی رہے۔ جس کی وجہ سے انتظامی امور اور روز مرہ کی فیصلہ سازی تعطل کا شکار رہی۔صوبے میں انتظامی افراتفری قابل دید تھی۔ یہ صورتحال بڑی حد ابھی بھی جاری ہے۔ صرف سات محکموں کو وزراء مل سکے ہیں باقی تمام محکمے بغیر وزیر کے چل رہے ہیں۔
اگرچہ پیپلز پارٹی اکثریت میں تھی مگر اس کے باوجود پہلے روز ہی سے پارٹی نے ایم کیو ایم حکومت کو حکومت میں شمولیت دی۔ جس کا تاحال یہ جماعت کوئی مثبت جواب نہیں دے سکی ہے۔ سندھ حکومت میں شامل ہو یا نہ ہو؟ متحدہ قومی موومنٹ ابھی تک یہ فیصلہ نہ کر سکی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم حکومت میں شمولیت سے متعلق فیصلہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے نہیں کر سکی ہے۔ اس حکومت میں شامل ہو یا نہ ہو اس سوال پر ایم کیو ایم نے پارٹی میں ریفرینڈم بھی کرایا۔ جس کے نتائج کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ سابق اتحادی جماعت نے معاملہ التوا میں ڈال دیا اور اسکے بجائے مسلم لیگ (ن) سے کچھ حاصل کرنے کی کوشش کی۔خاص طور پر عمران فاروق قتل کیس کی تحقیقات جس رخ میں جارہی تھی کہ اس میں پارٹی کے سربراہ الطاف حسین کو ملوث کیا جا رہا ہے، اس میں وہ حکومت پاکستان کی مدد چاہتی تھی۔ ایم کیو ایم قیادت کا خیال تھا چونکہ نواز لیگ کو سنیٹ میں اکثریت حاصل نہیں اور سندھ میں وفاقی حکومت کو پیپلز پارٹی کی حکومت پر چیک رکھنے کے لیے کسی آلے کی ضرورت پڑے گی۔ لہٰذا وہ یہ کام آسانی سے کر سکتی ہے۔ مزید یہ بھی کہ آئندہ چند ماہ بعد ہونے والے صدارتی انتخاب میں بھی ایم کیو ایم نواز لیگ کے کام آسکتی ہے۔
پیپلز پارٹی ابھی تکحکومت میں شمولیت کے لیے اپنی سابق اتحادی کی راہ دیکھ رہی ہے۔ اور گاہے بگاہیاپنی پیشکش کو دہرا رہی ہے۔ بلدیاتی نظام ایم کیو ایم اپنے لیے زندگی اور موت کا معاملہ قرار دیتی رہی ہے۔دونوں اتحادی جماعتوں نے صوبے میں نیا بلدیاتی نظام دیاجس کی سندھ کے وسیع تر حلقوں نے شدید مخالفت کی۔ معاملہ سپریم کورٹ تک بھی گیا۔ اس اثناء میں پیپلز پارٹی کا دور حکومت بھی ختم ہونے کو آیا۔ بالکل آخری دنوں میں پیپلز پارٹی نے یہ نظام ختم کیا جس نے ایم کیو ایم کے لیے راہ بنائی کہ وہ اپوزیشن کی بینچوں پر بیٹھے۔ لہٰذا ایم کیو ایم نے آخری چند ہفتے اپوزیشن میں گزارے۔دوبارہ حکومت بنانے کے بعد پیپلز پارٹی نے مشرف کا بلدیاتی نظام ختم کرکے 1979ع کا بلدیاتی نظام رائج کرنے کی بات کی لیکن اس کے ساتھ ایم کیو ایم کے لیے دروازہ کھلا رکھا کہ اس قانون میں اتحادی جماعت کی ایماء پر ترامیم کی جا سکتی ہیں۔ اب گزشتہ ہفتے باقاعدہ 1979 کا بلدیاتی نظام رائج کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم اس کے باوجود صوبائی حکومت میں آنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی اس پیشکش کا سیاسی جواب دینے کے بجائے اس حکومتی فیصلے کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کیا ہے۔ سندھ کے معاملات سیاسی طور پر خواہ انتظامی طور پر تعطل کا شکار ہیں۔ نہ ایم کیو ایم حکومت میں آئی ہے اور نہ کابینہ مکمل ہو سکی ہے۔
بعض وفاقی وزراء کے بیانات سے یہ تاثر ملا کہ وفاقی حکومت امن و امان کی آڑ میں صوبے میں مداخلت کرنا چاہتی ہے۔ ان بیانات نے صوبائی حکومت کی سیاسی طور پر پوزیشن مضبوط کی۔اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ کے ایک بینچ کے ریمارکس نے بھی اس تاثر کو مضبوط کیا۔ اور پیپلز پارٹی یہ کہنے لگی کہ گورنرراج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ابھی پارٹی نے حکومت بنائی ہے تو ابھی سے اس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ وفاق کا یہ رویہ کسی طور پر بھی قابل تحسین نہیں تھا۔ جس کو سندھ کے مختلف حلقے تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبے میں پانی کی شدید قلت رہی۔ پنجاب اس قلت کے باوجود چشمہ جہلم لنک کینال سے پانی لیات رہا۔ جبکہ معاہدے کے مطابق یہ کینال صرف مون سون میں تب چلانا ہے جب سیلابی صورتحال ہوگی اور سندھ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ صوبائی حکومت اس معاملے کو موثر طور پر پانی کی تقسیم کے ذمہ دار ادارے ارسا اور وفاقی حکومت کے پاس نہیں اٹھا سکی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں حکومت کا ایجنڈا دیتے ہوئے کہا تھا کہکشمور سے لیکر کراچی تک امن قائم کیا جائے گا۔ بدامنی کا خاتمہ کیا جائیگا۔ جبکہ صحت اور تعلیم حکومت کی ترجیحات ہیں۔ امن وامان کی یہ صورتحال ہے کہ کراچی میں ٹارگیٹ کلنگز جاری ہیں،اندرون سندھ ڈاکے، اغوا کی وارداتیں عام ہیں۔ بلکہ بعض میڈیا رپورٹس کے مطابق ان وارداتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
صوبائی بجٹ بھی قابل ستائش نہیں۔ اس بجٹ میں غیر مساوی ترقیاتی منصوبے رکھنے کی وجہ سے پسماندہ علاقے نظرانداز کئے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اتنے بڑے ترقیاتی پروگرام کے لیے صوبے کے پاس نہ وسائل ہیں اور نہ ہی صوبائی مشنری میں صلاحیت۔ صوابئی مشنری کی صلاحیت کایہ عالم ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران سلانہ ترقیاتی منصوبوں کی نصف رقم بھی خرچ نہیں ہوپائی۔
ؓپیپلز پارٹی نے گزشتہ دور حکومت کے آخری ایام میں نئی بھرتیوں کی دیگ چڑھائی تھی۔ چالیس ہزار بھرتیاں قوائد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی تھیں۔ اب حکومت کے پاس ان ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے ہی نہیں۔گزشتہ مرتبہ صوبائی حکومت نے نہ صرف بڑے پیمانے پر اور غیر قانونی طریقے سے بھرتیاں کیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ آؤٹ آف ٹرن ترقیاں بھی دیں۔ نان کیڈر افسران کو کیڈر میں ضم کیا گیا۔ وزراء اور اسمبلی ممبران کے رشتہ داروں کو ضوابط توڑ کر اچھے محکموں میں ملازمتیں دی گئیں۔ اب یہ دونوں معاملات سپریم کورٹ کے پاس زیر سماعت ہیں۔ جہاں حکومت سندھ کچھ وقت کی مہلت مانگ رہی ہے۔
اعلیٰ عدلیہ کی جاب سے صوبے کے انتظامی امور یعنی گزشتہ دور کی بھرتیوں، ترقیوں اور تقرریوں پر احکامات اور ریمارکس پر سندھ حکومت پریشان ہے۔۔اس عدالتی کارروائی سے ایک تاثر یہ ملتا ہے کہ عدلیہ پہلے وفاق میں اور اب سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف فیصلے سنا رہی ہے۔ لیکن یہ بھی تو حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت کے فیصلے ایسے تھے جو میرٹ پر پورے نہیں اترتے تھے۔ اب حکومت سندھ اپنا پورا وقت ان غلط فیصلوں کا تحفظ کرنے میں صرف کر رہی ہے۔ اور صوبے کے عوام کو تاحال کچھ نہیں مل سکا ہے۔
No comments:
Post a Comment