Tuesday, 10 March 2020

منتظر بحران - Feb 4, 2013

Mon, Feb 4, 2013 at 4:03 PM
منتظر بحران
میرے دل میرے مسافر  سہیل سانگی
 ملک کی سیاست میں کچھ نئے عوامل داخل ہو گئے ہیں۔ بہت سارے معاملات اس طرح سے نہیں ہیں جیسے نظر آتے ہیں۔تحریک طالبان کی نئی پیشکش نے  سیاست کے نئے زاویے ظاہر کردیئے ہیں۔  تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے حکومت سے امن مذاکرات کرنے کے لیے نواز شریف،  مولانا فضل الرحمان اور منور حسن ضمانت مانگی ہے۔ جماعت اسلامی اور  جے یو آئی ماضی میں اپنے موقف میں جہادی سوچ کے ساتھ رہے ہیں۔ ابھی بھی ان کی سیاست  لگ بھگ اسی طرح کی ہے۔ البتہ میاں نواز شریف  کا اس زمرے میں آنا تعجب خیز لگتا ہے۔ یہ صحیح  ہے کہ ماضی میں نواز شریف کا اتحاد اور ان کی شناخت دائیں بازو سے ہری ہے۔ انہوں نے ضیا ء الحق کی باقیات والی سیاست کو آگے بڑھایا تھا۔ لیکن 1999ع میں جب جنرل مشرف نے حکومت کا تختۃ الٹا اس کے بعد انہوں نے خود کا خاصا لبرل سوچ کے ساتھ پیش کیا۔ وہ اپنے موقف اور سیاست میں بڑی حد تک یہ تاثر دینے کامیاب ہوئے کہ  وہ جمہوریت پسند ہیں اور لبرل سوچ کے حامی ہیں۔
 انہوں نے اپنے روابط  اور تعلق مذہبی جماعتوں سے توڑ کر  اپنی پارٹی کی نئی تعریف اور پروفائیل دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے حال ہی میں علامہ قادری  کے دھرنے کے موقع پر ملک کی سیاسی قوتوں کو جمع کیا۔ اور جمہوریت کو ڈی ریل ہونے سے بچایا۔
اب آئندہ انتخابات کے نتیجے میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ انہی کی حکومت قائم ہوگی۔ ایک امریکی ادارے کے سروے میں بھی ان کی بڑھی ہوئی مقبولیت کو دکھایا گیا ہے۔  عام تاثر یہ ہے کہ نوز شریف  کا اسٹبلشمنٹ سے جھگڑا ختم ہو گیا ہے۔ اور آئندہ انتخابات کے بعد ان کو حکومت دی جارہی ہے۔ مگر اس مفروضے سے بعض چیزیں میچ نہیں کر رہی ہیں۔ کیونکہ جب علامہ قادر کو اسٹبمشمنٹ کی آشیرواد کے ساتھ جورا جا رہا ہے تو نواز شریف کو  بھی اس کے ساتھ کیسے جوڑا جا سکتا ہے؟  کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ اقتداری اشرافیہ کے کلب میں دو لابیاں الگ الگ یا متوازی پوزیشن میں کام کر رہی ہیں؟ 
مبصرین بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں کہ گزشتہ کچھ عرصے میں نواز شریف کا جھکاؤ ایک بار پھر اپنے پرانے ”رشتیداروں‘‘کی طرف ہو گیا۔اب جماعت اسلامی، جے یو آئی، جے یو پی ایک بار پھر ان کے ساتھ ہیں۔مبصرین ان کے اس  ازسرنو تعلق کو بعض دیگر واقعتا سے بھی جوڑ رہے ہیں۔ان کے مطابق پنجاب کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ پر یہ الزامات عائد ہوتے رہے ہیں کہ ان کے  بعض شدت پسند تنظیموں سے روابط ہیں اور یہ بات بھی ریکارڈ پر ہے کہ کچھ عرصہ پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب نے شہباز شریف نے  شدت پسند تنظیموں سے اپیل کی تھی کہ ان کے زیر حکومت صوبے پنجاب میں دہشت گرد کارروایاں نہ کریں۔ اس پس منظر میں  تحریک طالبان کی  جانب سے نواز شریف سے ضمانت کی اپیل سمجھ میں آسکتی ہے۔ اور اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ 
آج کے دور میں جمہوریت پسندی بہت ہی مقبول نعرہ ہے۔ انتخابات کرانا بھی  اچھا نعرہ ہے۔ مگر پالیسی کیا ہو، عوام کو کیا لے گا، ملک کی  داخلہ خواہ خارجہ پالیسی کیا ہوگی، بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان کہاں اور کس حالت میں کھڑا ہوگا یہ بنیادی نوعیت کے سوال ہیں۔ یہ وہی سوال ہیں جن کی بنیاد پر کسی بھی سیاسی پارٹی کی نظریاتی  اساس پرکھی جا سکتی ہے اور نظریاتی سرحدیں سمجھی جاسکتی ہیں۔یہ صورتحال عیاں کرتی ہے کہ نواز شریف  واپس اپنی نظریاتی کیمپ میں آگیا ہے۔  سیاسی مبصر  ڈرون حملوں اور  پاکستانی چیک پوسٹ پر حملے بعد  بلائی گئی اؒ پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف کے موقف کو بھی اس تسلسل میں دیکھ رہے ہیں۔کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ ملک میں ایک بار پھر مذہبی نعرہ یا دائیں بازو کی سوچ  پروان چڑھ گیا ہے؟ کیا  اب مطالبات اور بحث کے موضوع  سیاسی یا نظریاتی نہیں بلکہ مذہبی اور غیر مذہبی ہو اجئیں گے؟ 
ہو سکتا ہے کہ نواز لیگ یہ بیان جاری کرے کہ طالبان کے ترجمان نے ضمانت کے لیے نام دیا ہے اس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ پر رہے گا کہ  عمران خان یا کسی اور سیاستداں کا نام کیوں نہیں لیا گیا؟  اس پس منظر میں اگر کل نوز لیگ حکومت بناتی ہے تو اس کا شدت پسندوں کی طرف رویہ کیا ہوگا۔ اس کے برعکس یہ دلیل بھی دی جاسکتی ہے کہ ممکن ہے کہ  اس پورے قصے سے نواز شریف کا کوئی تعلق ہی نہ ہو اور کسی طور پر وہ اس حکمت عملی میں نہ حصیدار ہوں اور نہ ہی انہیں پتہ ہو، اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ  نواز لیگ کی ملک میں  لبرل تشخص کے ساتھ جو ساکھ بنی ہے اس کو نقصان پہنچے گا۔ 
 اس اس سیاست کو  پاکستان آرمی کے نئے ڈاکٹرائن کی روشنی میں دیکھا جائے تو  صورتحال کچھ مختلف نظر آتی ہے۔ نئے ڈاکٹرائن میں یہ کہا گیا ہے کہ  ملک  بیرونی نہیں بلکہ اندرونی خطرات سے دوچار ہے۔ اس ڈاکٹرائن میں انڈیا کے ساتھ نرم گوشہ ہے۔ اسی گوشے کی وجہ سے  انڈیا کے ساتھ پسندیدہ ملک قرار دینے کا معاہدہ ہوا۔ ابھی یہ معاہدہ ہوا ہی تھا کہ کنٹرول لائن پر مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایک جہادی رہنما نے لاہور یہ پریس کانفرنس کی کہ جو بھارتی فوجی کا سر لے کر آئے گا اسے پانچ لاکھ روپے انعام دیا جائے گا۔ اسی موقع پر قومی اسمبلی میں لیڈر آف اپوزیشن چوہدری نثار علی کا بیا آ جاتا ہے کہ ان کی پارٹی ہندوستان کے ساتھ جنگ کی حمایت کر سکتی ہے۔ یعنی  نیا ڈکٹرائن ایک طرف رہ گیا۔ شاید  اہم اداروں کے لوگوں کی اس ڈکٹرائن پر ایک سے زائد رائے ہو۔ اس کا منطقی مطلب یہ نکلتا ہے کہ  آئندہ انتخابات میں اگر نواز لیگ کی سربراہی میں  وسیع تر دائیں بازو کا اتحاد بنتا ہے تو اس ڈکٹرائن  پر عمل درآمد کیسے ہوگا؟ کیا پیپلز پارٹی پر انحصار کیا جائے؟ مگر اس پارٹی کی کارکردگی گورننس کے حوالے سے قابل تعریف نہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اداروں کو پیپلز پارٹی سے شکایات بھی ہیں اور یہ پارٹی ملک کے سیاسی منظرنامے میں مختلف سیاسی قوتوں یا رائے عامہ بنانے والے وسیع تر حلقوں کو اپنے ساتھ جوڑ بھی نہیں پائی ہے۔ عمران خان کا نسخہ بھی کام نہیں کر پایا۔ 
 مبصرین کا خیال ہے کہ اس خلاء کے درمیان کہیں ذرا لمبے عرصے کی نگراں حکومت کا خیال نکلتا ہے۔ جو صفائی بھی کرے اور ملک کی سیاست میں نئے عناصر کو داخل کرے اور ازسرنو  نظام کو ترتیب دے۔  لیکن یہاں یہ بھی مسئلہ ہے کہ  بہت ساری  چیزیں آئین  سے بالاتر ہیں۔ لہٰذا یا تو آئین میں بڑے پیمانے پر ترامیم کی جائیں یا آئین کو بالائے طاق رکھ کر اقدامات کئے جائیں، دونوں صورتوں میں  بہت بڑا پینڈورا باکس کھلنے کا اندیشہ ہے۔ اگر واقعی معاملات اس طرح سے ہیں تو ایک بہت بڑا بحران پاکستان کے انتظار میں کھڑا ہے۔

No comments:

Post a Comment