Thu, Jul 11, 2013 at 11:29 AM
سیکیورٹی پالیسی
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
ابھی قومی سلامتی پالیسی مرتب کرنے کے لیے حکومت مشاورت کر رہی تھی کہ میڈیا نے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ”لیک“ ہوگئی۔اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد نئی قومی سلامتی پالیسی بنانے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ نئی قومی سلامتی پالیسی بنانا کوئی آج کی بات نہیں۔18 دسمبر 2008ع کو پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں قومی اسمبلی میں وزیر اعظم کے مشیر برائے امور داخلہ رحمان ملک نے ایوان کو بتایا تھا کہ حکومت نئی نیشنل سیکیورٹی پالیسی مرتب کرنے جارہی ہے۔ جو نئے چیلینجز کا مقابلہ کر سکے۔تب مسلم لیگ (ن) کے لیڈر احسن اقبال نے رائے دی کہ سعودی ماڈل پر سیکیورٹی پالیسی بنائی جائے۔رحمان ملک کا کہنا تھا کہ حکومت سری لنکا کی پالیسی کا بھی مطالعہ کر رہی ہے۔ اس بات کو پانچ سال ہو گئے۔ مگر کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی۔
مسلم لیگ (ن) حکومت نئی قومی سلامتی پالیسی مرتب کرنے جا رہی ہے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایک مسودہ تیار کر لیا گیا ہے جس پر سیاسی اور عسکری قوتوں سے مشاورت کی جارہی ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے کہا ہے کہ پارلیمان میں نیشنل سیکیورٹی پالیسی پر بحث کی جائے گی اور اس اجلاس میں آرمی چیف اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہوں اور چاروں وزراء اعلیٰ کو شرکت کی دعوت دی جائے گی ہے۔تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے یہ کہہ کر اس اجلاس میں شرکت سے معذوری ظاہر کی کہ وہ ان دنوں بیرون ملک ہونگے۔ تاہم ان کی غیر موجودگی میں پارٹی کے وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی اور خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ ان کی نمائندگی کریں گے۔ اب حکومت نے قومی سلامتی پالیسی پر مجوزہ کل جماعتی کانفرنس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ ایک عرصے سے جاری شدت پسندوں کی کارروایوں نے ملک کومعاشی خواہ سیاسی حوالے سے تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ہے، ہماری سیکیورٹی کو درپیش ان سنگین چیلینجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمارے پاس کوئی مربوط پالیسی نہیں۔
یہ اچھی بات ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نئی حکومت جاگ اٹھی ہے اور وہ نئی نیشنل سیکیورٹی کی پالیسی مرتب کرنا چاہ رہی ہے۔کیا یہ حکومت ایسی مربوط اور موثرپالیسی بنا پائے گی جو ملک کی سلامتی کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات کو اب گڈمڈ ہوگئے ہیں ان کا سدباب کرسکے؟ اس پالیسی میں سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز سیاسی، فوجی قوت کے علاوہ بعض خارجی یا بیرونی اثرات بھی رہے ہیں۔ان سب کی رائے کو کس طرح سے سمویا جائے گا یہ بہت بڑا چیلینج ہے۔
قیام پاکستان سے لیکر قومی سلامتی کا معاملہ فوجی اسٹبلشمنٹ کا دائرہ کار رہا ہے۔ اب تک جو پالیسی یا حکمت عملی رائج رہی ہے اسکا بنیادی نقطہ بیرونی خطرات رہے ہیں۔اب بھی روایتی پالیسی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ جاری ہے۔ مخلف حلقوں میں یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ نئی پالیسی کا فوکس بھی اسی طرح سے رہے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو کیا تبدیل شدہ حالات میں ضروریات کو پورا نہیں کر سکتی۔کیونکہ اس کی وجہ سے بعض موقعوں پر سیکیورٹی سسٹم کی ناکامی سامنے آئی ہے۔
ملک کو سیکیورٹی کے سے مختلف النوع مسائل درپیش ہیں جودراصل ناقص حکمت عملی کا نتیجہ ہیں۔ دہشتگردی اور شدت پسندی کو امن امان کا مسئلہ قرار دے کر اس سے محدود طریقے سے نمٹنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ایک جامع حکمت عملی بنانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی جس میں دفاع، خارجہ پالیسی اور معاشی پالیسیوں کا امتزاج ہو۔یہ تینوں اجزاء نیشنل سیکیورٹی پالیسی کے انتہائی اہم ہیں۔ ملک کو دہشتگردی، بغاوت اور انتہاپسندی کے خطرات سامنا ہے۔ فاٹا، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور کراچی میں کیا ہو رہا ہے؟اس کے اسباب، محرکات اور طریقہ کار کو نظر میں رکھنا ہوگا۔
اب ضروری ہوگیاہے کہ ایک موثر اور مربوط سیکیورٹی پالیسی بنائی جائے۔بیرونی خطرات اپنی جگہ پر پر معاشی بحران اور سیکیورٹی کے کمزور ہونے کے معاملات بھی اتنے ہی اہم ہیں۔یہ حقائق بھیزیر نظر ہونے چاہئیں کہ متواتر عدم استحکام نے معاشی ترقی کو توڑ کے رکھ دیا ہے۔ داخلی طور پر ہنگاموں کی وجہ سے قانون کی حکمرانی تیزی سے سکڑ رہی ہے۔کئی علاقوں پر حکومت کا کنٹرول کم ہوتا نظر آرہا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر کراچی لاقانونیت کا شہر بنا ہوا ہے۔روز ایک درجن افراد کا قتل معمول ہے۔یہاں مسلح گروہ ا پنی بالادستی کے لیے لڑ رہے ہیں۔اور انہیں مختلف پارٹیوں کی سرپرستی حاصل ہے۔دوسری طرف ملک کی پہچان جہادیوں کی نرسری کے طور پرہوگئی ہے جس سے نہ صرف خود ملک کو بلکہ علاقے کی استحکام کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ ہمارا ملک عرب ممالک اور ایران کے بیچ میں پراکسی جنگ کا ایک عرصے تک مرکز رہا۔ جس سے فرقہ واریت کو ہوا ملی۔ خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق بعض بنیاد پرست گروپ جہادی بھرتی کر رہے ہیں جو شامی باغیوں کے ساتھ ملکر لڑیں گے۔ یہ وہ علامات ہیں جو ظاہر کرتی ہیں کہ ریاست اپنا کنٹرول کھو رہی ہے۔
پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے تین نکاتی غیر حقیقی فارمولا ترقی، کچلنا اور مذاکرات متعارف کرایا۔ یعنی الجھے ہوئے تضادات یا بحرانوں کو سمجھے بغیر کچلنا۔ یہ مشرف کی پالیسی کا تسلسل تھا۔ ہم اپنے ہاتھوں سے پیدا کئے ہوئے بحرانوں کو تسلیم کرنے کے عادی نہیں ہیں لہٰذا ہم غیرملکی علاج ڈھونڈتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی نئی حکومت چینی اور ملائشیا کے ماڈل پر پانچ نکاتی پالیسی بنانے جارہی ہے۔
زمینی حقائق یہ ہیں کہ معاشی طور پر کمزور سیاسی طور پر غیرمستحکم، لسانی طور پر بٹاہوا ملک جہاں فرقہ واریت بھی ہے۔حکمرانوں یہ ماڈلز کاپی کرنے سے پہلے ان عوامل کو سوچنا چاہئے تھا۔پاکستان چین کی طرح معاشی طور پرطاقت نہیں۔ اور نہ ہی معاشی طور پر ملائشیا کی طرح خود کفیل۔ ان دونوں ممالک میں نہ لسانی جھگڑا ہے اور نہ سیاسی بحران اور نہ ہی انکو انتہا پسندانہ تشدد کا تجربہ ہے۔
بعض معاملات ملک میں بے چینی اور تضادات کا باعث بنے رہے ہیں، اگرآج کے اندرونی تضادات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بنیادی نکات بنیں گے۔ انتہا درجے کی مرکزیت، صوبوں کے درمیان تضادات اور عدم مساوات، صوبوں کے وسائل پر انکا حق ملکیت تسلیم نہ کرنا، فیصلہ سازی میں صوبوں کو دور رکھنا، مذہب کو سیاست اور حکومت کا دائرہ عمل میں رکھنا۔
خیبر پختونخوا اور فاٹا کے بحران اور بلوچستان کی بے چینی کومختلف پالیسی کی ضرورت ہے۔ جبکہ فرقہ واریت کو نمٹنے کے لیے ملکی اور عالمی سطح پر کوشش لینے کی ضرورت ہے۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ہزاروں لوگوں کے قتل، املاک کے نقصان ہماری قیادت تسلیم نہیں کرتی کہ یہ موجودہ معاشی اور سیاسی تضاد ہے۔
بلوچستان کے معاملے میں سیاسی و عسکری قوتوں کو سب سے پہلے اس تصادم اور تضاد کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور اس کو حل کرنے کے لیے بلوغت کا مظاہرہ تے ہوئے کھلے ذہن سے دیکھنا پڑے گا کہ کون کون سے آپشنز ہیں۔ اور مضبوط ارادہ کا مظاہرہ کرنا پڑے گا کہ اس کو حل کرنا ہے۔
سندھ کا معاملہ کہیں مختلف ہے۔ کراچی میں مختلف مافیاسرگرم ہیں، جن کے پاس اب صرف اسلح کی ہی طاقت نہیں ہے بلکہ سیاسی طاقت بھی ہے۔یہاں شدت پسندی اور سیاست آپس میں یوں گڈ مڈ ہوگئی ہیں کہ ان کو الگ کرنا اور سمجھنامسئلہ ہوگیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ سندھ کے صوبائی حقوق کا بھی معاملہ ہے۔
تصادم کے حل یا بحران کو حل کرنے کی دو شرائط ہیں۔ اس کومانا تسلیم کیا جائے اور کھلے ذہن کے ساتھ آپشنزپر غور کیا جائے۔ پالیسی اور اپروچ میں جب اس کو سمجھنے اور اس کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کیا جائیگا تواس طویل بحران کو حل کرنے کی کوششیں رائگاں ثابت ہوگی۔گورننس اورترقی کے معاملات کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کی پالیسی میں یہ نقطہ بھی اہم ہے کہ اس دائرے میں منتخب نمائندوں یعنی پارلیمان کی حیثیت اور بالادستی کو تسلیم کیا جانا چاہئے۔
پاکستان کے پالیسی سازوں کو اس حقیقت سے نہیں کترانا چاہئے کہ انتہا پسندی اور تشدد ہماری سیاسی وعسکری حکمت عملی کی غلطیوں کا شاخسانہ ہیں۔ تعمیری پالیسی یہ ہے کہ ماضی کی غلطیوں اور موجودہ بحران ساتھ ساتھ مختلف اسٹیک ہولڈرز کو بھی تسلیم کیا جائے۔
No comments:
Post a Comment