Mon, Sep 17, 2012, 12:27 AM
مزدور تحریک کو فعال کرنا وقت کی ضرورت
میرے دل میرے مسافر ۔۔ کالم۔۔۔سہیل سانگی
ہمارے ہانں جب کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہے تو ہم ان کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں۔ تب تک دوسرا واقعہ ہو جاتا ہے۔ اور یوں ایل لامتناہی سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اصل میں ہم پہلے سے کوئی اقدام نہیں کرتے کہ ہم اس قسم کے واقعات سے بچ سکیں۔ کراچی اور لاہور کی فیکٹریوں میں آتشزدگی کے اور جو بھی پہلو اور اسباب ہوں وہ اپنی جگہ پر، مگر سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے تو تان یہاں پر آکے ٹوٹے گی کہ ہمارے پاس کوئی سسٹم نہیں کہ ہم اس طرح کے واقعات کو رونما ہونے سے روک سکیں۔ ٰہ بلکل کسی نے سچ کہا کہ حادثے اچانک نہیں ہوتے ان کا ایک طویل پس منظر ہوتا ہے۔ کوتاہیاں، نااہلیاں، کرپشن، بدانتظامی وغیرہ بتدریج جمع ہوتی رہتی ہیں اور ایک دن ٹرننگ پوائنٹ آ جاتا ہے اور حادثہ یا سانحہ رونما ہوتا ہے۔
ملک میاں تمام کارخانوں اور اداروں میں بدترین حالات کار ایک عام سی بات ہے۔ غیرصحتمند ماحول ہے۔ نکلنے کے راستے نہیں ہوتے، آگ بجھانے کے آلات اور الارم نہیں ہوتے۔سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں نے فیکٹریوں اور کارخانوں کا معائنہ کرنے سے محکمہ محنت کو روکا ہواہے۔اول تو ملک میں عام آدمی یا مزدور کے حق میں کوئی مؤثر قانون موجود نہیں اور جو لولہ لنگڑا ہے اس پر عمل درآمد کرنے میں کئی باضابطۃ اور بے ضابطہ رکاوٹیں ہیں۔ قانون ہوتے ہوئے بھی اس پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ یوں ہر سطح پرقانون کی خلاف ورزی عام سی بات ہے۔اس طرح کے واقعات کے لیے ریاست اور اس کی مشینری ذمہ دار ہے کیونکہ وہ قانون کی خاموشی کے ساتھ خالف ورزی پر آنکھیں بند کر لیتی ہے اور یوں غیرقانونی چیزوں کی اجازت دیتی ہے۔1997ع تک صنعتی اداروں کا معائنہ لازمی تھا مگر بعد میں سندھ اور پنجاب کے بااثر صنعت کاروں کے کہنے پر اس معائنے پر پابندی لگادی گئی۔2008ع میں فیکٹری حاثات میں 419 انسانی جانیں ضایع ہوئیں۔
جن بدترین حالات میں اور کم اجرت اور سہولیات کی عدم موجودگی میں مزدور کام کرتے ہیں وہ حکومت کی بے رحمی کو ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت مزدوروں کی فلاح کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔ جس نے اور سرمایہ داروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ مزدوروں کا زیادہ سے زیادہ استحصال کریں۔ ملک میں موجود غربت، بھوک بیروزگاری اور معاشی و سماجی عدم مساوات کی بڑی وجہ یہی استحصال پر مبنی نظام اور حکومت کا رویہ ہے۔
یہ صحیح ہے کہ پاکستان میں آگ بجھانے یا آگ سے تحفظ کے لیے کے بار ے میں کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ان دو واقعات کے بعد حفاظتی اقدامات نہ کرنے اور حکومتی کرپشن کے بارے میں سوالات کئے جار رہے ہیں جس کی وجہ سے قانون پر عمل نہیں کیا گیا۔مگر اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں فیکٹریاں الگ سے بادشاہت ہیں۔یہ بندی خانے ہیں جہاں آئین اور قانون میں دیئے گئے حقوق مزدوروں کو نہیں دیئے جاتے۔ملازمین کے پاس باقائدہ کوئی تقرر نامے بھی نہیں ہوتے جس کی وجہ سے یہ ملازمین قانون کے تحت حاصل تمام سہولیات اور مراعات سے محروم ہیں۔ حادثے کی صورت میں انہیں کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔ یہاں ٹریڈ یونین ایک عیاشی ہے جس کے مالکان متحمل نہیں ہو سکتے۔یونین کی موجودگی کسی نہ کسی طرح سے اور ایک حد تک بہتر حالات کار میں مدد دے سکتی ہے۔ منظم اور سرگرم یونین مالکان کی دولت کی ہوس اور حکومت کی نااہلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ضیا ء کے مارشل سے لیکر آج تک کسی بھی سرکاری خواہ غیرسرکاری ادارے میں فعال یونین موجود نہیں۔حالانکہ ساٹھ اور ستر کے عشروں میں پاکستان میں مضبوط ٹریڈیونین تحریک موجود تھی۔ جس کو بتدریج ختم کردیا گیا۔ آج کروڑوں افراد پر مشتمل یہ محنت کش طبقہ نمائندگی اور اپنے حقوق کے تحفظ کے حق سے محروم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف کراچی میں 10,000 صنعتی یونٹ اور پانچ سے زیادہ صنعتی علاقے کام کر رہے ہیں۔ جہاں لاکھوں لوگ کام کرتے ہیں۔
کراچی کے سانحے کے بارے میں ابھی تک مختلف ادارے چار تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے چکے ہیں۔سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے از خود نوٹس بھی لیا ہے۔گورنر سندھ نے بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ ان ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے جو اس واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔بعض تحقیقات کرنے والے ادارے اس واقع میں دہشتگردی کے امکان کو بھی خارج از امکان نہیں سمجھتے۔کئی سوالات ہیں جن کا کوئی جواب نہیں حفاظتی اقدامات سے لے کر قانون کی خلاف ورزی تک، ریسکیو اداروں کی پیشورانہ صلاحیتوں تک۔ کئی ٹیمیں ایک جیسا کام کر رہی ہیں کئی لوگ ایک ہی کام کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے تو کوئی بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ایک الزام تراشی کا کھیل شروع ہے۔ کوئی بھی ذمہ د اری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اب ہوگا یہ کہ اس کے نتیجے میں ایک اور ادارہ وجود میں آجائے گا۔
حد تو یہ ہے کہ وہ لوگ بھی مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں جنہوں نے کبھی محنت کشوں کے لیے ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالا اور اب مزدور کز کے چیمپیئن بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر اس پر اب بھی قائم رہیں توبڑی بات ہے مگر چند روز کے بعد سب کچھ بھول جائیں گے۔ رات گئی اور بات گئی والا معاملہ ہو جائے گا۔
یہ بھی اہم سوال ہے کہ حکمراں جماعتوں میں سے کتنے فیکٹری مالکان ہیں؟ اور یہ بھی کہ کتنی سیاسی پرٹیاں ہیں جنہیں صنعتکار کنٹرول کرتے ہیں۔ جو کہ ں ہ صرف لیبر قوانین پر عمل نہیں کرتے بلکہ حفاظت اور حالات کار معیار کے مطابق نہیں رکھتے۔وہ اپنی فیکٹریوں میں آزاد یونین سازی کی بھی اجازت نہیں دیتے اور نہ ہی اپنے قانونی فرائض پورے کرتے ہیں۔
حکمرانوں کی امتیازی پالیسیاں، لوگوں کی فلاح سے بے نیازی، حکومتوں کی مارکٹ بیسڈ ترجیحات ہیں۔جس میں مزدور یا محنت کش کے لیے ذرا بھی جگہ موجود نہیں۔فیکٹری مالکان ملازمین کو سوشل سیکیورٹی کارڈ، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ ٰنستی ٹیوٹ کا فنڈ جاری نہیں کرتے۔انتظامیہ اور فیکٹری مالکان کے درمیاں گٹھ جوڑ ہے۔چھوٹے مطالبات پر ملازمتوں سے نکال دیا جاتا ہے، گرفتار کرایا جاتا ہے۔لاہور اور کراچی میں دو فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات اشرافیہ کو ہلا دینے کے لیے کافی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فیکٹریوں میں قانون پر عمل کرئے۔ حالات کار بہتر بنائے، ملازمین کو دی گئی قانونی سہولیات پر عمل درآمد کرائے۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے نظر نہیں آتا جب تک ملک میں صنعتکاروں کی حکومت ہے۔اصل میں اسی کے عشرے کے بعد جوں جوں عالمی مالیاتی اداروں کا ملک کی معیشت اور اقتدار و اختیار میں اثر نفوذ بڑھا تو اس کے ساتھ محنت کش وہ خواہ سرکاری شعبے میں ہو یا نجی شعبے میں اس کے حالات خراب ہونے شروع ہوئے۔یہاں تک سرکاری اداروں میں بھی کانٹریکٹ پر ملازم رکھے جانے لگے۔ کم سے کم تنخواہ کے قانون کے باوجود سرکاری اداروں میں بھی کم تنخواہ پر لوگ رکھے جانے لگے۔ ملازمت کا تحفظ، حالات کار اور سہولیات ایک خواب یا ماضی کا قصہ بن گئیں۔ قانون پر عمل درآمد معطل ہوگیا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ان واقعات نے چھپے ہوئے استحصالی اقتداری ڈھانچے، ناانصافیوں،کرپشن اور عدم مساوات کو ایکسپوز کیا ہے۔ ہم یں نہیں بھولنا چاہئے کہ کونسی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ سب کچھ ہوا۔یہ اصل انسانی المیہ ہے۔
ویسے تو ان ناگہانی آفات کا شکار غریب لوگ ہی ہوتے ہیں۔مگر اس طرح کے سانحے اقتدار کے رشتوں کو ننگا کر دیتے ہیں اوریہ امتحان ہے کہ سوشل آرڈر درست بھی ہے یا نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمرانوں نے سرمایہ داروں کو جو چالیس سال تک کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اور ملک میں موجود قوانین پر بھی عمل درآمد معطل کر رکھا تھا اس پالیسی پر نظرثانی کرے۔ملکی ترقی کے نام پر ان سرمایہ داروں نے بہت کمایا اور محنت کش طبقے کا استحصال کیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو ملک کو ترقی کرائی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں ٹریڈ یونین تحریک کو دوبارہ بحال، فعال اور سرگرم کیا جائے صرف وہی تحریک مزدوروں کے حالات کار بہتر بنا سکتی ہے اور ان کے ملازمت، بہتر اجرت اور دیگر سہولیات کو یقینی بنا سکتی ہے۔
مزدور تحریک کو فعال کرنا وقت کی ضرورت
میرے دل میرے مسافر ۔۔ کالم۔۔۔سہیل سانگی
ہمارے ہانں جب کوئی بڑا سانحہ ہوتا ہے تو ہم ان کے پیچھے دوڑنے لگتے ہیں۔ تب تک دوسرا واقعہ ہو جاتا ہے۔ اور یوں ایل لامتناہی سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اصل میں ہم پہلے سے کوئی اقدام نہیں کرتے کہ ہم اس قسم کے واقعات سے بچ سکیں۔ کراچی اور لاہور کی فیکٹریوں میں آتشزدگی کے اور جو بھی پہلو اور اسباب ہوں وہ اپنی جگہ پر، مگر سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے تو تان یہاں پر آکے ٹوٹے گی کہ ہمارے پاس کوئی سسٹم نہیں کہ ہم اس طرح کے واقعات کو رونما ہونے سے روک سکیں۔ ٰہ بلکل کسی نے سچ کہا کہ حادثے اچانک نہیں ہوتے ان کا ایک طویل پس منظر ہوتا ہے۔ کوتاہیاں، نااہلیاں، کرپشن، بدانتظامی وغیرہ بتدریج جمع ہوتی رہتی ہیں اور ایک دن ٹرننگ پوائنٹ آ جاتا ہے اور حادثہ یا سانحہ رونما ہوتا ہے۔
ملک میاں تمام کارخانوں اور اداروں میں بدترین حالات کار ایک عام سی بات ہے۔ غیرصحتمند ماحول ہے۔ نکلنے کے راستے نہیں ہوتے، آگ بجھانے کے آلات اور الارم نہیں ہوتے۔سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں نے فیکٹریوں اور کارخانوں کا معائنہ کرنے سے محکمہ محنت کو روکا ہواہے۔اول تو ملک میں عام آدمی یا مزدور کے حق میں کوئی مؤثر قانون موجود نہیں اور جو لولہ لنگڑا ہے اس پر عمل درآمد کرنے میں کئی باضابطۃ اور بے ضابطہ رکاوٹیں ہیں۔ قانون ہوتے ہوئے بھی اس پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ یوں ہر سطح پرقانون کی خلاف ورزی عام سی بات ہے۔اس طرح کے واقعات کے لیے ریاست اور اس کی مشینری ذمہ دار ہے کیونکہ وہ قانون کی خاموشی کے ساتھ خالف ورزی پر آنکھیں بند کر لیتی ہے اور یوں غیرقانونی چیزوں کی اجازت دیتی ہے۔1997ع تک صنعتی اداروں کا معائنہ لازمی تھا مگر بعد میں سندھ اور پنجاب کے بااثر صنعت کاروں کے کہنے پر اس معائنے پر پابندی لگادی گئی۔2008ع میں فیکٹری حاثات میں 419 انسانی جانیں ضایع ہوئیں۔
جن بدترین حالات میں اور کم اجرت اور سہولیات کی عدم موجودگی میں مزدور کام کرتے ہیں وہ حکومت کی بے رحمی کو ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت مزدوروں کی فلاح کے لیے کتنی سنجیدہ ہے۔ جس نے اور سرمایہ داروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ مزدوروں کا زیادہ سے زیادہ استحصال کریں۔ ملک میں موجود غربت، بھوک بیروزگاری اور معاشی و سماجی عدم مساوات کی بڑی وجہ یہی استحصال پر مبنی نظام اور حکومت کا رویہ ہے۔
یہ صحیح ہے کہ پاکستان میں آگ بجھانے یا آگ سے تحفظ کے لیے کے بار ے میں کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ان دو واقعات کے بعد حفاظتی اقدامات نہ کرنے اور حکومتی کرپشن کے بارے میں سوالات کئے جار رہے ہیں جس کی وجہ سے قانون پر عمل نہیں کیا گیا۔مگر اس سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں فیکٹریاں الگ سے بادشاہت ہیں۔یہ بندی خانے ہیں جہاں آئین اور قانون میں دیئے گئے حقوق مزدوروں کو نہیں دیئے جاتے۔ملازمین کے پاس باقائدہ کوئی تقرر نامے بھی نہیں ہوتے جس کی وجہ سے یہ ملازمین قانون کے تحت حاصل تمام سہولیات اور مراعات سے محروم ہیں۔ حادثے کی صورت میں انہیں کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔ یہاں ٹریڈ یونین ایک عیاشی ہے جس کے مالکان متحمل نہیں ہو سکتے۔یونین کی موجودگی کسی نہ کسی طرح سے اور ایک حد تک بہتر حالات کار میں مدد دے سکتی ہے۔ منظم اور سرگرم یونین مالکان کی دولت کی ہوس اور حکومت کی نااہلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ ضیا ء کے مارشل سے لیکر آج تک کسی بھی سرکاری خواہ غیرسرکاری ادارے میں فعال یونین موجود نہیں۔حالانکہ ساٹھ اور ستر کے عشروں میں پاکستان میں مضبوط ٹریڈیونین تحریک موجود تھی۔ جس کو بتدریج ختم کردیا گیا۔ آج کروڑوں افراد پر مشتمل یہ محنت کش طبقہ نمائندگی اور اپنے حقوق کے تحفظ کے حق سے محروم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف کراچی میں 10,000 صنعتی یونٹ اور پانچ سے زیادہ صنعتی علاقے کام کر رہے ہیں۔ جہاں لاکھوں لوگ کام کرتے ہیں۔
کراچی کے سانحے کے بارے میں ابھی تک مختلف ادارے چار تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے چکے ہیں۔سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے از خود نوٹس بھی لیا ہے۔گورنر سندھ نے بھی ہدایات جاری کی ہیں کہ ان ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے جو اس واقعہ کے ذمہ دار ہیں۔بعض تحقیقات کرنے والے ادارے اس واقع میں دہشتگردی کے امکان کو بھی خارج از امکان نہیں سمجھتے۔کئی سوالات ہیں جن کا کوئی جواب نہیں حفاظتی اقدامات سے لے کر قانون کی خلاف ورزی تک، ریسکیو اداروں کی پیشورانہ صلاحیتوں تک۔ کئی ٹیمیں ایک جیسا کام کر رہی ہیں کئی لوگ ایک ہی کام کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے تو کوئی بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ایک الزام تراشی کا کھیل شروع ہے۔ کوئی بھی ذمہ د اری قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اب ہوگا یہ کہ اس کے نتیجے میں ایک اور ادارہ وجود میں آجائے گا۔
حد تو یہ ہے کہ وہ لوگ بھی مگر مچھ کے آنسو بہا رہے ہیں جنہوں نے کبھی محنت کشوں کے لیے ایک لفظ بھی زبان سے نہیں نکالا اور اب مزدور کز کے چیمپیئن بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔اگر اس پر اب بھی قائم رہیں توبڑی بات ہے مگر چند روز کے بعد سب کچھ بھول جائیں گے۔ رات گئی اور بات گئی والا معاملہ ہو جائے گا۔
یہ بھی اہم سوال ہے کہ حکمراں جماعتوں میں سے کتنے فیکٹری مالکان ہیں؟ اور یہ بھی کہ کتنی سیاسی پرٹیاں ہیں جنہیں صنعتکار کنٹرول کرتے ہیں۔ جو کہ ں ہ صرف لیبر قوانین پر عمل نہیں کرتے بلکہ حفاظت اور حالات کار معیار کے مطابق نہیں رکھتے۔وہ اپنی فیکٹریوں میں آزاد یونین سازی کی بھی اجازت نہیں دیتے اور نہ ہی اپنے قانونی فرائض پورے کرتے ہیں۔
حکمرانوں کی امتیازی پالیسیاں، لوگوں کی فلاح سے بے نیازی، حکومتوں کی مارکٹ بیسڈ ترجیحات ہیں۔جس میں مزدور یا محنت کش کے لیے ذرا بھی جگہ موجود نہیں۔فیکٹری مالکان ملازمین کو سوشل سیکیورٹی کارڈ، ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ ٰنستی ٹیوٹ کا فنڈ جاری نہیں کرتے۔انتظامیہ اور فیکٹری مالکان کے درمیاں گٹھ جوڑ ہے۔چھوٹے مطالبات پر ملازمتوں سے نکال دیا جاتا ہے، گرفتار کرایا جاتا ہے۔لاہور اور کراچی میں دو فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات اشرافیہ کو ہلا دینے کے لیے کافی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فیکٹریوں میں قانون پر عمل کرئے۔ حالات کار بہتر بنائے، ملازمین کو دی گئی قانونی سہولیات پر عمل درآمد کرائے۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے نظر نہیں آتا جب تک ملک میں صنعتکاروں کی حکومت ہے۔اصل میں اسی کے عشرے کے بعد جوں جوں عالمی مالیاتی اداروں کا ملک کی معیشت اور اقتدار و اختیار میں اثر نفوذ بڑھا تو اس کے ساتھ محنت کش وہ خواہ سرکاری شعبے میں ہو یا نجی شعبے میں اس کے حالات خراب ہونے شروع ہوئے۔یہاں تک سرکاری اداروں میں بھی کانٹریکٹ پر ملازم رکھے جانے لگے۔ کم سے کم تنخواہ کے قانون کے باوجود سرکاری اداروں میں بھی کم تنخواہ پر لوگ رکھے جانے لگے۔ ملازمت کا تحفظ، حالات کار اور سہولیات ایک خواب یا ماضی کا قصہ بن گئیں۔ قانون پر عمل درآمد معطل ہوگیا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ان واقعات نے چھپے ہوئے استحصالی اقتداری ڈھانچے، ناانصافیوں،کرپشن اور عدم مساوات کو ایکسپوز کیا ہے۔ ہم یں نہیں بھولنا چاہئے کہ کونسی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ سب کچھ ہوا۔یہ اصل انسانی المیہ ہے۔
ویسے تو ان ناگہانی آفات کا شکار غریب لوگ ہی ہوتے ہیں۔مگر اس طرح کے سانحے اقتدار کے رشتوں کو ننگا کر دیتے ہیں اوریہ امتحان ہے کہ سوشل آرڈر درست بھی ہے یا نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمرانوں نے سرمایہ داروں کو جو چالیس سال تک کھلی چھوٹ دے رکھی تھی اور ملک میں موجود قوانین پر بھی عمل درآمد معطل کر رکھا تھا اس پالیسی پر نظرثانی کرے۔ملکی ترقی کے نام پر ان سرمایہ داروں نے بہت کمایا اور محنت کش طبقے کا استحصال کیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے جو ملک کو ترقی کرائی ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ ملک میں ٹریڈ یونین تحریک کو دوبارہ بحال، فعال اور سرگرم کیا جائے صرف وہی تحریک مزدوروں کے حالات کار بہتر بنا سکتی ہے اور ان کے ملازمت، بہتر اجرت اور دیگر سہولیات کو یقینی بنا سکتی ہے۔
No comments:
Post a Comment