Tuesday, 10 March 2020

انتخابی مہم کا اختتام - May 9, 2013

Thu, May 9, 2013 at 11:45 AM
انتخابی مہم کا اختتام
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی 
خوف اور غیر یقینی فضا میں انتخابی مہم بلآخر اپنے اختتام کوپہنچی۔ انتخابی مہم کے دوران جو دہشتگردی اور تشدد  واقعات ہوئے سو ہوئے مگر پولنگ کے دن بھی ایسے واقعات کوخارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔انتخابات کے اعلان سے لیکر کاغذات نامزدگی کی چھان بین اور انتخابی مہم کے دروان بھی غیریقینی چھائی رہے کہ انتخابات ہونگے یا نہیں؟۔گزشتہ ہفتے آرمی چیف جنرل کیانی کے بیان سے صورتحال بہتر ہوئی۔
 یہ انتخابات ایسے موقعے پر ہو رہے ہیں جس کے تقریبا ایک سال بعد افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی ہوگی۔مبصرین ان انتخابات کو اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ اور طالبان کی انتخابی عمل میں مداخلت کو بھی اسی پس منظر میں دیکھ رہے ہیں۔ 
ملک میں دہشتگردگی اور انتہاپسندی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔مذہبی اور فرقہ وارانہ تضاد روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ امن امان کی صورتحال خراب ہورہی ہے۔ ملک کے معاشی حب کراچی میں ٹارگیٹ کلنگز کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔ انتخابات ایک میلے کا سماں ہوتے ہیں لیکن یہاں سوگ  جیسی صورتحال چھائی رہی۔ انتخابات میں بعض نئے رجحانات سامنے آئے جو نہ صرف ان انتخابات پر بلکہ ملک کی آئندہ سیاست پر بھی اثرانداز ہونگے۔ 
پنجاب میں روایتی جوش خروش ہے۔ باقی تین صوبوں میں امن امان کی صورتحال ہے۔ کیا یہ انتخابات متنازع تو نہیں ہو جائیں گے؟  یہ سوال بار بار اٹھایاجارہا ہے۔

تین اہم جماعتوں اتفاق سے انکا تعلق سابق حکمران اتحاد سے ہے، انکو پہلے دھمکیاں دی گئیں کہ انتخابی عمل سے دور رہیں۔ بعد میں ان پر  دہشتگردوں کے حملے ہوئے۔ ان حملوں کی وجہ سے بدامنی کا مسئلہ بنا مگر اس کے ساتھ ساتھ شدت پسندوں کی ڈکٹیشن تھی کہ کس پارٹی کو آئندہ حکومت میں آنا چاہئے کس کو نہیں۔ 
بھٹو فیکٹر پاکستان کے انتخابات میں ہمیشہ اہم رہا ہے۔ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر 2008 تک اسٹبلشمنٹ اور پی پی مخالف  حلقے اس فیکٹر سے  تو کبھی اس کے شیڈو سے لڑتے رہے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ بھٹو فیکٹر کے بغیر انتخابات ہو رہے ہیں۔ ذائقے کے طور پر بلاول بھٹو کے ویڈیو تقاریر کو آخری ایام میں شامل کیا گیا۔ اگر پیپلز پارٹی انتخابات جیت جاتی ہے  تو یہ واقعی ثابت ہو جائے گا کہ اب یہ زرداری کی پارٹی ہے۔ 
 انتخابات میں ملکی سطح پر کوئی اتحاد نہیں بن سکا۔جو کہ پاکستان کی انتخابی تاریخ کا ایک خاصہ رہا ہے حالانکہ ایک جیسی پالیسی اور پروگرام رکھنے والی جماعتیں میدان میں موجود تھیں۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون دونوں کا جھکاؤ دائیں بازو کی طرف ہے اوربہت ساری باتوں میں ایک جیسی ہیں۔دونوں کا حلقہ انتخاب پنجاب ہے۔ مگر اتحاد نہ کر سکیں۔ ان کے اتحاد نہ کرنے کی وجہ سے پنجاب میں پہلے دو فریقی مقابلہ ہوتا تھا وہ اب سہ فریقی ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی مخالف ووٹ تقسیم ہوگیا ہے۔ پیپلز پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم نے بھی کوئی اتحاد نہیں بنایا۔یہ تینوں جماعتیں حکومت میں اتحادی رہی ہیں۔ دوران حکومت صدر زرداری بارہا یہ کہتے رہے کہ اتحادی الیکشن بھی ساتھ لڑیں گے۔ انتخابی عمل شروع ہونے کے بعد تینوں جماعتوں کو دہشتگردی مشترکہ  خطرے کا سامنا رہا۔ جس نے ان تینوں کو قریب تو کیا لیکن  یہ قربت انتخابی اتحاد میں تبدیل نہ ہوسکی۔نواز شریف نے بھی مختلف جماعتوں اور گروپوں کے ساتھ ورکنگ رلیشن شپ اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ بنائی گئی۔ یہی صورتحال دوسری پارٹیوں کی بھی رہی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ اس وجہ سے ہورہا ہے کہ انتخابی نتائج کے بارے میں کوئی بھی قابل اعتماد پیش گوئی نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا سیاسی گروہوں نے اپنے آپشن کھلے رکھے ہیں اور کوئی اتحاد نہیں بنایا۔

سندھ میں پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم پرستوں کو میدان میں لایا گیا۔ ان کی سربراہی پیرپاگار کے ہاتھ میں دے دی گئی۔ تاکہ صورتحال قابو میں ہی رہے۔ یہ اتحاد اور پاگارا کی فنکشنل لیگ انتخابات میں کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ 

یہ بھی تاریخ کا حصہ رہے گا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندوں کے کاررویوں کی وجہ سے تین صوبوں میں عوام کے وسیع تر حلقوں کو متحرک نہیں کیا جاسکا۔خیبر پختونخوا میں اے این پی  کے امیدوار اور قیادت خطرے میں تھی تو سندھ میں پیپلز پارٹی کی قیادت۔بلوچستان میں علحدگی پسندوں نے  بلوچ رہنما کی انتخابی سرگرمیاں کو بلاک کئے رکھا۔خیال کیا جاتا ہے کہ اب ان تینوں صوبوں کے سیاسی نہیں بلکہ انتظامی طور پر نمٹا جائے گا۔

پہلی مرتبہ ملک میں سیاسی ابلاغ  (پولیٹیکل کمیونیکشن) کا طریقہ کا ر تبدیل ہوا۔ اس کی ایک وجہ سیاسی مہم کو درپیش خطرات تھے تو دوسری طرف میڈیا اور کمیونیکیشن کی نئی ٹیکنالاجی کی دستیابی بھی تھا۔ ٹی وی پر ویڈیو ز، اخبارات میں اشتہارات، ویڈیو لنک سے خطاب عام رہا۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی نے اسکا بھرپور استعمال کیا۔ کیونکہ صدر زرداری کچھ خطرات کے پیش نظر تو کچھ عدلیہ کے دباؤ کے نتیجے میں انتخابی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے پارہے تھے۔ بلاول بھٹو جن کو  پروگرام کے مطابق ان انتخابات میں بھرپور کردار ادا کرنا تھا مگر سلامتی کے خطرات کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کرسکے۔انہوں نے مہم کے آخری ہفتے  میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنا شروع کیا۔ زخمی ہونے کے بعد عمران خان نے بھی ہسپتال سے ویڈیو  کے ذریعے خطاب کیا۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف انتخابی گیم پر اثر انداز ہونے کے لیے تشریف لائے۔ مگر انہیں  اثراناداز نہیں ہونے دیا گیا۔ اگرچہ وہ قید ہیں اور مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن کہنے والے کہتے ہیں کہ الیکشن کے بعد وہ رہا ہو جائیں گے۔ ان کو بند رکھنے کا مقصد انتخابت کی ایکوییشن پر اثرانداز ہونے سے روکنا تھا۔
عوام کی شرکت بہت ہی کم  رہی۔ بغیر ماس موبلائزیشن اور سیاسی کے نعرے کے یہ انتخابات غیر سیاسی لگ رہے تھے۔ ہر امیدوار اپنی اپنی مہم چلاتارہا۔ 

 تجزیہ نگاروں کی رائے کے برعکس عمران خان ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھرے۔ سندھ  اور بلوچستان میں عمران خان  انتخابات کے حوالے سے غیرحاضر رہے۔ ان کی موجودگی نہ صرف پنجاب میں بلکہ خیبر پختونخوا میں بھی محسوس کی گئی۔وہ واقعی کتنی نشستیں لیں گے اس بارے میں تجزیہ نگاروں کی آراء میں اتنا فرق ہے کہ آسانی سے اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔پاکستان میں انتخابی جیت کے لیے  ہمدردی کا ووٹ شاید لازمی ہوگیا ہے۔ عمران خان کو ان کے گرنے کے واقعے سے اب ان کو ہمدردی کا ووٹ مل سکتا ہے۔اگرچہ یہ ایک حادثہ یا اتفاقی واقعہ تھا۔اس سے مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن پر اثر پڑسکتا ہے۔ نواز شریف نے ان سے اظہار یکجہتی کے طور پر ایک روز کے لیے انتخابی مہم معطل کردی۔حالانکہ ملک کی تین بڑی پارٹیاں عملا انتخابی سرگرمیوں سے باہر رہی، لیکن نواز شریف نے ناہموار انتخابی مہم پر باقی پارٹیوں کے لیے ٹھیک سے مطالبہ بھی نہیں کیا۔  
روایتی ایلکٹ ایبل یعنی بااثر وڈیرے، چوہدری، سردار اور پیر جو عرف عام میں سیاسی خاندان کہلاتے ہیں وہی  امیدوار ہیں۔جو اس سے پہلے مختلف ادوار میں منتخب ہوتے رہے ہیں۔ 
عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ آسرا لگائے بیٹھے ہیں کہ انتخابات ان کی قسمت بدل دینگے۔ لیکن ایسا کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔سیاسی جماعتیں حکومت میں اپنی ایڈجسٹمنٹ چاہ رہی ہیں۔ بنیادی تبدیلی سے متعلق کوئی سیاسی نعرہ  فضاؤں میں نہیں گونجا۔ نظام کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی بحث نہیں چھڑی۔ انتخابی منشوراگرچہ بہت ہی مبہم تھے اپنی جگہ پر رہے ان  منشوروں پر جلسوں بہت کم بات ہوئی۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ دہشتگردی  کے خطرات  اور موجودہ صورتحال میں عوام کس حد تک پولنگ اسٹیشن تک پہنچتے ہیں۔ اور اندھوں میں کانا راجا  ہی سہی، پر اپنی مرضی سے منتخب کرنے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔ 

No comments:

Post a Comment