Thu, Mar 21, 2013 at 11:11 AM
کراچی کے قدیمی باشندوں کی سیاست
مریے دل میرے مسافر۔۔۔۔ سہیل سانگی
ڈھائی عشروں تک پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے والے نبیل گبول کی پارٹی کو الوداع کہہ کر متحدہ قومی موومنٹ میں شمولیت نے حساس اور لسانی تضاد کی زد میں آئے ہوئے بندرگاہ والے شہر کراچی کی سیاست سے متعلق کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔ اس کا ایک پس منظر پیپلزپارٹی کا ہے جبکہ دوسرا کراچی کی سیاست سے ہے۔ متحدہ میں شامل ہونا نہ نبیل گبول کے لیے اور نہ پیپلز پارٹی کے لیے کوئی اچھا شگون ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم میں کیوں شمولیت اختیار کی؟ کیا انہیں کوئی خوف تھا یا کوئی لالچ؟ نبیل گبول کے لیے بہتر ہو نہ ہو مگر ایم کیو ایم کی سیاسی کامیابی ہے۔
قریبی لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے شخصی رویوں سے ناراض ہوکر پارٹی چھوڑی۔تقریبا ایک سال سے وہ پیپلز پارٹی سے ناراض تھے۔ انہوں نے نواز لیگ سے بھی مذاکرات کئے اور پارٹی میں شامل ہونے والے تھے۔
قبائلی سردارخاندان سے تعلق رکھنے والے نبیل گبول سیاسی پس منظر رکھتے ہیں۔ ان کے دادا اللہ بخش گبول سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے اور ستار گبول بھٹو دور میں وفاقی وزیرہے۔وہ خود بھی سندھ اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہے ہیں۔شکار کے شوقین نبیل کبھی لیاری کے مقبول لیڈر تھے۔ آج لیاری کے لوگوں نے ان کا لیاری میں داخلا بند کر رکھا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ان کے قریبی ساتھی رحمان ڈکیت عرف رحمان بلوچ کا جعلی پولیس مقابلے میں قتل بتایا جاتا ہے۔ رحمان بلوچ جب تک جرائم کی دنیا کا بادشاہ رہا کسی نے چھوا تک نہیں کہا۔ انہیں گرفتاری کے بعد رہا کردیا گیا۔
جرائم پیشہ افراد کا گڑھ سمجھا جانے والا یہ علاقہ سیاست کا بھی گڑھ رہا ہے۔ اب وہاں سیاست اور جرائم ایک دوسرے سے گڈمڈ ہوگئے ہیں۔ یہ المیہ صرف پرانے باشندوں کی بستی لیاری کا ہی نہیں پورے کراچی شہر کا ہے۔ آخری بلدیاتی انتخابات میں لیاری ٹاؤن کی ناظم کے عہدے پر نبیل گبول کے حمایت یافتہ پینل کے مقابلے میں نئے پاور بروکرزپینل لے آئے۔ یہ پیپلز پارٹی کے اندر خفیہ بغاوت تھی۔یہ وہ گروپ تھا جو آگے چل کر پیپلز امن کمیٹی کی بنیاد بنا۔ ان کے امیدوار نے پیپلز پارٹی کے امیدوار سے الیکشن جیت لیا۔ مگر خود کو پیپلز پارٹی سے علحدہ نہیں کیا۔ اور پارٹی کے ساتھ ہی رہے۔
2007ع کے مجوزہ انتخابات کے لیے اسی پینل نے نبیل گبول اور رفیق انجنیئر کے مقابلے میں امیدوار کھڑے کئے۔ جن کو واجا کریم داد جیسے سینئر پارٹی کارکنوں کی حمایت تھی۔ مگر بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد اس پینل نے اپنے امیدوار دستبردار کر لیے تھے۔
بینظیر بھٹو کی واپسی سے پہلے رحمان ڈکیت رحمان بلوچ بنے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے لیے کام کیا۔ تو ان کی مخالفت شروع ہوگئی۔اور ان کا ارشد پپو کے گینگ سے تصادم ہوا۔ جب محترمہ وطن واپسی پر کراچی پہنچی تو ان کی حفاظت کی ذمہ داری ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی رہنمائی میں لیاری کے جیالوں کے حوالے تھی۔ رحمان ڈکیت ان کو کمانڈ کر رہا تھا۔
رحمان بلوچ امن کمیٹی کے حامی تھے۔ جب لیاری میں پیپلز امن کمیٹی بنائی تو انہوں نے کہا کہ اب لیاری میں امن قائم ہوگا۔ رحمان بلوچ نے 2008ع میں نبیل گبول کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔وہ جرائم کی دنیا کا بندہ تھا اس کے پاس مضبوط گروپ موجود تھا۔لہٰذا نبیل گبول کے لیے مجبوری تھی کہ ان کی حمایت پر انحصار کریں۔، نبیل انتخابات جیت گئے اور وزیر بھی بن گئے۔ پھر ایک دن اچانک رحمان بلوچ غائب ہوگئے۔ رات کی تاریکی میں سی آئی ڈی پولیس نے ملیر کے علاقے میں مبینہ جعلی مقابلہ دکھا کر رحمان بلوچ کو قتل کردیا۔ اس دن سے لیکر لیاری کے لوگ اپنے ایم این اے نبیل گبول اور ایس ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم کو ایک ہی صف میں کھڑا کرتے ہیں۔ لیاری دونوں کے لیے نو گو ایریا بن گیا۔ دنیا میں ایسی کئی مثالیں ہیں کہ جرائم کے کردار عوام میں مقبول رہے ہیں یہ منظر بالکل سندھ کے ڈاکو پرو چانڈیو کے جنازے جیسا تھا، جس پر لوگوں نے ہزاروں خراج عقیدت کے طور پر اجرکیں ڈالیں۔ رحمان بلوچ کے جنازہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔لیاری امن کمیٹی کا یہ الزام ہے کہ کسی طرح سے رحمان بلوچ کو قتل کرانے میں نبیل گبول کا ہاتھ ہے۔
جب وہ کچھ عرصہ کے لیے پورٹ اینڈ شپنگ کے وزیر بنے تب کچھ لوگوں کو ملازمتیں دلائیں اور لیاری کے علاقے میں کے پی ٹی کی مدد سے ایک پل بھی بنانے کی کوشش کی۔ مگر جوں ہی ایم کیو ایم کے بابر غوری واپس آئے تو فنڈنگ روک دی گئی اور جن کو ملازمتوں رکھا گیا تھا ان کو نکال دیا گیا۔ تب وہ مملکتی وزیر ہونے کے باوجود بحال نہ کراسکے۔
بعد میں لیاری میں رابن ہڈ کے کردار بھی ابھرے کیونکہ پی پی جب حکومت میں آئی تو اس نے اپنے ووٹرز کی طرف سرد رویہ رکھا جس کی وجہ سے ایک سیاسی خلاء پیدا ہوا۔ امن کمیٹی نے اس خلا کو پر کیا۔
نبیل گبول اور رفیق انجنیٗرلیاری سے غیر حاضررہے۔ امن کمیٹی نے علاقے میں فلاحی کاموں کی وجہ سے اپنی شناخت بنالی۔لیاری ک کے معاملات پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رہائشی جس کا پی پی پر منفی سیاسی اثر پڑنے لگا۔کبھی لیاری جمہوری جدوجہد کی جدوجہد میں آگے آگے تھا۔ مگر سیاسی طبقے کی طرف سے نظرانداز کرنے کی وجہ سے جرائم پیشہ لوگوں کو جگہ مل گئی۔آئندہ چند دنوں میں ان گروپوں کے درمیان جنگ شروع ہوگئی جو اب سیاسی اور سماجی بھی کام کر رہے تھے۔ اس دوران پارٹی کی مقامی خواہ مرکزی قیادت خاموش رہی۔
یوں یہ سیاسی جنگ نظر آنے لگی۔ جس میں پیپلز پارٹی کا نقصان ہو رہا تھا۔ گزشتہ سال سال لیاری میں بھتہ خوری کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کیا گیا۔ جس کی مقامی لوگوں نے سخت مزاحمت کی۔ یہ آپریشن امن کمیٹی اور اس کے حامیوں کے خلاف تھا۔ جس میں ارشد پپو گینگ کو چھوا تک نہیں گیا تھا۔
لیاری میں پیپلز پارٹی کے خلاف جوچنگاری لگی تھی اس کو بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا گیا ہے۔ ایک طرف پیپلز امن کمیٹی اور ایم کیو ایم آمنے سامنے ہیں تو دوسری طرف گبول امن کمیٹی کے لیے ناپسندیدہ ہے۔ جس کی وجہ سے پیپلز پارٹی نے انہیں قومی اسمبلی کی ٹکٹ دینے کے بجائے خاموش رہنے کو کہا۔
شروع میں گبول لیاری آپریشن کے خلاف بول رہے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ انہوں نے مخالفت چھوڑدی۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے ان کی قدر نہیں کی اورانہیں نظرانداز کیا گیا۔ اس لیے انہوں نے ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی۔خیال ہے کہ ایم کیو ایم ان کو ایسے حلقے سے الیکشن میں کھڑا کرے گی جہاں سے ان کی کامیابی یقینی ہو۔ وہ آئندہ انتخابات میں قومی اسمبلی کے رکن ضرور بنیں گے۔ مگر کراچی کے پرانے باشندے اور اس شہر کے وارث آج کہاں کھڑے ہیں؟ یم کیو ایم سخت ڈسپلن کی پارٹی ہے جہاں نہ پارٹی پالیسیوں کے خلاف بات کی جاسکتی ہے اور نہ ہی پارٹی قیادت کے بارے میں۔ اس صورت میں انہیں یا تو خاموش رہنا پڑے گا یا مس فٹ ہو جائیں گے۔ اس سے پہلے سندھ میں سید پرویز علی شاہ اور مخدوم خلیق الزماں نے ایسے تجربے کئے تھے۔ یہ لوگ کسی رول کی تلاش میں گئے تھے، مگر انہیں کوئی رول نہیں ملا تو مایوس ہوکر بیٹھ گئے۔
گبول کا پیپلز پارٹی چھوڑنا اور ایم کیو ایم میں شمولیت کے سیاسی محرکات کچھ بھی ہوں اس کے اثرات دوررس ہونگے۔ یہ کراچی کی سیاست میں تبدیلی کا عندیہ ہیں کہ کراچی کے پرانے باشندے پیپلز پارٹی سے ہٹ رہے ہیں۔ اس سے پہلے حاجی شفیع محمد جاموٹ، عبدا لحکیم بلوچ، عمر جت اب پیپلز پارٹی کے ساتھ نہیں ہیں۔پیپلز پارٹی ساجدجوکھیو اورجام بجار خان پر انحصار کر رہی ہے۔
ارشد پپو کے قتل، نبیل گبول کی متحدہ میں شمولیت کے بعد اب لیاری میں امن کمیٹی کا کنٹرول ہے۔بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امن کمیٹی میں لیاری خواہ کراچی کی دیگر پرانی بستیوں کے غریب اور رپرانے باشندوں لوگوں کی نمائندگی نہیں ہے۔
نبیل گبول لیاری میں رہتے بھی نہیں ہیں اور آتے بھی نہیں ہیں۔ لیاری کے لوگ ایسا امیدوار چاہ رہے ہیں جو ان کے ساتھ رہتا ہو اور ان کے ساتھ ہو۔ لوگ ان کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔ ان کی تصاویر بھی پھاڑی تھیں۔
وہ اپنی سیاسی حیثیت کھو بیٹھے تھے۔ مقامی لوگوں کو خدشات تھے۔ اور اب پیپلز پارٹی نے ان کو سائیڈ لائین کرکے ان کارکنوں کی ہمدردیاں جیت لی ہیں کہ پارٹی نبیل گبول کو امیدوار کے طور پر نہیں لا رہی ہے۔ کیا نبیل گبول ایم کیو ایم میں جا کر لیاری کو کچھ دے سکیں گے؟
کراچی میں رہنے والے ایک سندھ دانشور کا کہنا ہے کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کی پالیسی سے اگر پرانے سندھی اور بلوچ ناراض ہوئے تو کراچی کے مستقبل کا کیا ہوگا؟ کراچی میں پٹھانوں کی نمائندگی اے این پی کرتی ہے، اردو بولنے والوں کی نمائندگی ایم کیو ایم کرتی ہے۔ سندھی بولنے والوں کی نمائندگی پیپلز پارٹی نے چھوڑ دی ہے۔
No comments:
Post a Comment