Thu, Jun 13, 2013 at 10:58 AM
پی پی بطور اپوزیشن اور سندھ
اور جب پی پی اپوزیشن میں ہے
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت میں عدم موجودگی نے سندھ کے لیے سہولت پیدا کردی ہے کہ پنجاب اور وفاق سے متعلق متنازع معاملات زیادہ شدومد سے اٹھائے۔یہ صورتحال پہلی مرتبہ بنی ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبے میں تو حکومت ہے مگر وفاق میں نہیں۔ اور نوز لیگ کو بھی اس طرح کی صورتحال کا پہلی مرتبہ سامنا ہے۔ ورنہ ماضی میں جب نواز لیگ نے وفاق میں حکومت بنائی تھی تو سندھ میں بھی توڑ پھوڑ کرکے اپنی پسند کی حکومت بنا لی تھی۔
وفاق میں اپنی حکومت کی وجہ سے پیپلز پارٹی سندھ کے معاملات پر خاصی مصلحت پسندی اور مفاہمت کا مظاہرہ کرتی رہی، کیونکہ اس کو بہرحال ملک بھر میں حکومتی معاملات چلانے تھے۔ اب تبدیل شدہ صورتحال میں پارٹی نے نئی حکمت عملی بنائی ہے۔ سندھ اسمبلی کا افتتاحی اجلاس نئی حکمت عملی کا ماحول بنانے کی گواہی دیتا ہے۔
سندھ اسمبلی کے افتتاحی اجلاس ہوا تو تین ماہ قبل والی حکومت اسی ایوان میں موجود تھی۔ اکثر ممبران اور وزراء بھی وہی تھے۔ اجلاس میں سندھ کے وسائل مثلا بجلی، گیس اور پانی سے متعلق بحث کی گئی۔اس حوالے سے سندھ کو ہمیشہ شکایت رہی ہے کہ اس کو جائز حصہ نہیں ملتا۔چشمہ جہلم اور تونسہ لنک کینال جب سے تعمیر ہوئے ہیں متنازع رہے ہیں۔ پنجاب کے یہ دونوں کینالوں میں صرف سیلاب کے دنوں میں پانی چھوڑنا ہے اور وہ بھی سندھ کی منظوری سے مشروط ہے۔ عملا اس کے برعکس ہوتا رہا ہے۔ چاہے پیپلز پارٹی کی حکومت ہو یا جنرل ضیا کی اور پرویز مشرف کی یا نواز شریف کی یہ دونوں کینال معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چلتے رہے ہیں۔ ان کینالوں کو سیلاب کے دس روز کے دوران پانی چھوڑنے کی بات کتابوں میں موجود ہے۔ مگر 1971ع میں چشمہ جہلم لنک کینال تعمیر ہونے کے بعد کبھی بھی ایسا نہیں ہواہے۔ 2010ع میں پنجاب نے یہ متنازع کینال کھولا تو اسوقت بھی وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ تھے جنہوں نے اس عمل کو افسوسناک قرار دیا تھا۔ پنجاب کے سینئر وزیر راجا ریاض نے فرمایاتھا کہ فی الوقت پنجاب کو پانی کی ضرورت ہے۔ سندھ کو بعد میں اتنا پانی دے کر حساب برابر کیا جائے گا۔ 40کلومیٹر لمبے اس کینال میں ایک سیکنڈ میں 21700کیوسک پانی اٹھانے کی گنجائش ہے۔
افتتاحی اجلاس میں ایوان نے قرارداد منظور کر کے چشمہ جہلم لنک کینال سمیت سیلابی کینالوں میں پانی چھوڑنے تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ایوان کو بتایا گیا کہ سندھ میں پانی موجود نہیں ہے۔ کاشتکاروں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ صوبائی حکومت نے ارسا کے پاس احتجاج ریکارڈ کرایا گیاہے۔
ایوان میں موجود مرکزی حکومت کے اتحادیوں سے اپیل کی گئی کہ سندھ میں پانی کی قلت ہے لہٰذاوہ لنک کینال بند کرانے میں مدد دیں۔
ایوان میں موجود فنکشنل لیگ کے ممبران کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور حکومت پیپلز پارٹی کا تھا۔ تب یہ کینال بند کیوں نہیں کرایا گیا؟جبکہ نواز لیگ کے اسمبلی ممبر حاجی شفیع محمد جاموٹ نے بھی ممبران کے اصرار پر قرارداد کی حمایت کی۔
سندھ میں پانی کی قلت ہے جس کے خلاف مختلف علاقوں میں کاشتکار مظاہرے اور احتجاج کر رہے ہیں۔ اس صورتحال پر قوم پرست کیوں خاموش ہیں۔وہ ابھی تک انتخابات کے زخم چاٹ رہے ہیں۔
ملک میں سب سے زیادہ سندھ میں موجود توانائی کے وسائل یعنی گیس، تیل اور کوئلہ استعمال ہورہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق
سندھ 70فیصد گیس فراہم کرتا ہے مگر اسکو 22 فیصد ملتا ہے۔ایوان میں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے یہ معاملہ بھی اٹھایا۔یہ پہلا موقعہ ہے کہ صوبے قدرتی وسائل کامعاملہ اسمبلی میں اٹھایاگیا ہے۔اس سے پہلے پانی سے متعلق بحث اور قراردادیں مظور کی جاتی رہی ہیں۔
اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعدگیس کی پیداوار، اس کا استعمال متعلقہ صوبے کے استعمال کے بعد دوسرے صوبوں کو دینے کی بات کی گئی ہے۔ بجلی جو اس سے پہلے کنکتنٹ لسٹ میں شامل تھی اس کو فیڈرل لسٹ نمبر 2میں رکھا گیا ہے۔ یعنی اس سے متعلق تمام فیصلے وفاقی کابینہ کے بجائے مشترکہ مفادات کی کونسل کرے گی۔
ایوان نے کراچی کو بجلی کی رسد چھ سو میگاواٹ کم رنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اور سنیٹ کی کمیٹی کے اس فیصلے کوقانون اور آئین کے منافی قرار دیا گیا۔
پانی کی منصفانہ تقسیم اور اور قدرتی وسائل پرحق ملکیت کا معاملہ سندھ میں مقبول مطالبات رہے ہیں۔سندھ کے قوم پرست اور دیگر سیاسی حلقے وقت بوقت یہ اشوز اٹھاتے رہے ہیں۔ خود وفاق کی سیاست کرنے والی جماعتیں بشمول نواز لیگ، جے یو آئی، جماعت اسلامی بھی ان مطالبات کی حمایت کرتی رہی ہیں۔ اب یہ سب جماعتیں خاموش ہیں۔اور پیپلز پارٹی یہ مطالبات اٹھارہی ہے۔ اس کا سیاسی فائدہ پیپلز پارٹی اٹھارہی ہے۔
وفاقی حکومت میں سندھ کی کم نمائندگی اور ترقیاتی منصوبوں میں سندھ کو نظرانداز کرنے کی بھی شکایات آنے لگی ہیں۔ وہ حلقے جو پیپلز پارٹی کی مخالفت کر رہے تھے، وہ یا تو مصلتحتا خاموش ہیں یا دبے لفظوں میں اپنی غلطی کو تسلیم کر رہے ہیں۔سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے سید جلال محمود شاہ جنہوں نے نواز لیگ سے باقاعدہ تحریری معاہدہ کیا تھا وہ اب نواز لیگ پر تنقید کر رہے ہیں۔
یہ صحیح ہے کہ پیپلز پارٹی کا یہ موقف اس کی سندھ میں ساکھ بہتر بنانے میں مدد دے گا، لیکن یہ سب سیاسی معاملہ ہے۔ اصل معاملہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور گورننس کو عوام کی خواہشات کے مطابق بنانا ہے۔ اس پر صوبائی حکومت کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جس طرح کا موقف سندھ اسمبلی کے ایوان میں کیا گیا ہے یہ ایک زمانے سے سندھ کا مطالبہ رہا ہے۔ قررداد منظور کرنے کے بعدلوگوں میں پیپلز پارٹی کے لیے جگہ پیدا ہورہی ہے۔یوں سندھ میں سیاسی ماحولتبدیل ہورہا ہے۔
اس موقعہ پر یہ بھی سوال اٹھایاجارہا ہے کہ سندھ کے نمانئدوں کا یہ موقف موسمی تو نہیں؟ نقادوں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت گزشتہ پانچ سال کے دوران یہ حقوق حاصل نہیں کرسکی تھی۔کیا اب وہ واقعی سنجیدہ ہے؟اس بات پر زور دیا جارہا ہے کہ سندھ کے ان مطالبات پر جامع منصوبہ بندی کی جائے۔ مشترکہ مفادات کی کونسل اور دیگر وفاقی فورموں میں پیش کئے جائیں۔
No comments:
Post a Comment