Thu, Dec 20, 2012 at 4:36 PM
افغانستان سے امریکی واپسی کا سوال
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی اور اس کے بعد کی صورتحال پاکستان کے لیے نہایت ہی اہم ہے۔ نہ صرف اس وجہ سے ہی نہیں کہ ملک کی خارجہ پالیسی اس کی تابع رہی ہے بلکہ ملک کی تین سالہ تاریخ میں ندرونی پالیسی بھی اس کی تابع ہی رہی ہے۔ ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لا بھی افغانستان کی وجہ سے کیا تھا کہ وہاں امریکہ پاکستان کے ذریعے روس کے خلاف لڑنا چاہتا تھا۔
امریکہ افغانستان کے لیے جنیوا معاہدہ کرنا چاہتا تھا، ضیا ء الحق ایسا نہیں چاہتے
تھے۔ اور جب معاہدہ ہو گیا تو اس سے جنرل ضیاء بھاگنا چاہتے تھے۔ تو جہاز کا حادثہ پیش آیا۔ اور اس حادثے کے بعدملک میں عام اتنخابات ہوئے اور جمہوریت اور سویلین حکومت شروع ہوئی۔ لہٰذا افغان صورتحال کل پاکستان کی اندرونی سیاست کے لیے اہم تھی۔ آج بھی اتنی ہی اہم ہے۔
افغانستان کی وجہ سے ہی ہیروئن اور کلاشنکوف کلچر۔ تیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزین موجود ہیں۔ ملک دہشت گردی، سنگین جرائم میں بھی اس صورتحال کا ہاتھ ہے۔ ہماری سیاست میں موجود انتہا پسندی اور سیاست میں اسلحے کا استعمال بھی ہمیں اسی صورتحال سے ملا ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکہ نے روس سے جنگ جیتنے کے لیے نہ صرف پاکستان میں بلکہ پورے علاقے میں مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دی اور اس کو مسلح بھی کیا۔ آج جس انتہاپسندی سے امریکہ لڑرہا ہے اور پاکستان کو بھی اس آگ میں جھونک رہا ہے وہ دراصل اس کی اپنی ہی بنائی ہوئی ہے۔
پاکستان میں بظاہر عام انتخابات ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اور مختلف جماعتیں اور ادارے اس کی تیاری بھی کر رہے ہیں۔ تاہم بعض واقعات اور اور بعض حلقوں کے اشارے انتخابات کے انعقاد کو مشکوک قرار دے رہے ہیں۔
فرض کریں کہ آج اگر افغان مسئلہ نہ ہو، مذہبی سدت پسند نہ ہوں تو کیا ملک کی سیاسی صورتحال ایسی ہوگی جس سے ہم دو چار ہیں؟ کیا سیاسی صف بندی بھی یہ ہوگی؟ اس کا جوب ہر ایک کے پاس نفی میں ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو بہت کچھ تبدیل ہوتا۔
لہٰذا پاکستان میں اتخابات ہوں گے یا نہ ہونگے؟ کس طرح کا سیٹ اپ بنے گا؟ کس طرح کا سیاسی و معاشی نظام ہوگا؟ اس کامحور ابھی تک افغان اشو ہی ہے۔اس لیے یہ اشو کس شکل میں ہے اور کس طرح سے حل ہو رہا ہے؟ وہ صرف پاکستان حکومت کا ہی نہیں بلکہ ہر جمہوریت پسند، باشعور شخص کا بھی درد سر ہے۔
2014 ع میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد افغانستان کی اور پورے خطے کی صورتحال کیا بنتی اس صورتحال کے لیے امریکہ نے کیا پلان بنایا ہے؟ کہا جاتا ہے کہ تیس ہزار فوجی افغان حکومت کی مدد کے لیے موجود ہونگے۔ مگر خود ان فوجیوں کے تحفظ کے لیے بھی امریکہ بندوبست کر رہا ہے۔ ٰہ خیال غالب ہے کہ امرکی فوجوں کے انخلاء کے بعد طالبان ضرور حملے کرینگے۔ کوینکہ طالبان اپنی اپنی طاقت کی آزمائش کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو یہ باور رکانے کی کوشش کریں گے کہ جدید ٹیکنالاجی سے لیس امریکی فوج کا مقابلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ اب اس فوج کے نکل جانے کے بعد کرزئی حکومت کھڑی نہیں ہو سکتی۔
پیپلز پارٹی کی حکومت ماضی میں خارجہ پالیسی میں کوئی مداخلت نہیں کی۔ اگر کسی کو ایسا لگا تو یہ ٹوپی ڈرامہ تھا۔ ادھر امریکہ پاکستان پر بھی دباؤ ڈال رہا ہے کہ کابل میں امریکی فوجیوں کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری پاکستان پر ہوگی۔اس ضمن میں پاکستان نے روس کی طرف جانے کی کوشش کی تو امریکہ کی ایک ہی وراننگ نے اس کے قدم روک دیئے۔
ملک میں حالیہ واقعات مزید صورتحال کی خرابی کی نشاندہی کرتے ہیں۔کراچی اور پختونخواہ میں پولیو کارکنوں کا قتل اس پر عاملی برادری کا رد عمل،پشاور ایئر پورٹ پر حملہ، کراچی میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف احتجاج، اور طاہر القادری کی وطن واپسی سازشی تھیوری منسلک کی جا رہی ہے۔ پاکستان کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ 2014 کے بعد کی صورتحال سے وہ کیسے نمٹے گا۔
امریکہ کے لیے یہ بات ساز گار ہوسکتی ہے کہ فوجوں کے انخلاء کے بعد علاقے میں استحکام ہو۔ علاقائی استحکام کے لیے پاکستان میں استحکام انتہائی اہم ہے۔امریکہ کسی طور پر نہیں چاہتا کہ اس نے گزشتہ برسوں میں جو حاصلات کی ہیں وہ کسی طور پر بھی ضایع ہوں۔ اس کے لیے وہ افغانستان کی سطح پر طالبان کے مخلتف گروپوں سے مذاکرات کی راہ ڈھونڈ رہا ہے۔ او ر شمالی افغانستان کے گروپوں سے بھی رابطے میں ہے۔مگر اس کو پاکستان پر شبہ ہے کہ پاکستان کی سرزمین، اس کے ریاستی ادارے کسی نہ کسی طور پر اس کے لیے مسئلہ پیدا کریں گے۔ یہ وہ شبہ ہے جس کی بنیاد پر وہ مشرف دور سے لیکر آج تک زوردیتا رہا ہے۔
پاکستان ان شبہات کو دور کرنے کے لیے کیا کر سکتا ہے؟ وہ خود بدترین معاشی، سیاسی، سماجی عدم استحکام کی صورتحال سے گزر رہاہے۔دہشت گردی کے واقعات قابو میں نہیں آرہے ہیں۔گورننس کا اشو کی بات ہی کیا؟ ملک میں جس طرح کی دہشتگردی کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ یہ سب کچھ ایسا ہے جو موجودہ حکومت تو کیا کوئی سویلین حکومت کنٹرول نہیں کرسکتی۔
مسلح شدت پسندی کو صرف دو طریقوں سے نمٹا جاسکتا ہے۔ ایک یہ کہ عسکری ذرائع اور دوسرا سیاسی طریقہ۔ اگر عسکری طریقے کا مطلب لازمی طور پر مارشل لاء نہیں ہے۔ بلکہ عسکری ذرائع کا استعمال ہے۔
خالص سیاسی طریقہ اس لیے استعامل نہیں ہو سکتا کہ ملک کی سیاسی قوتیں بٹی ہوئی ہیں۔ حال ہی میں ایک مثبت اشارہ ملا ہے کی دو بڑیسیاسی جماعتیں نگراں سیٹ اپ کے لیے متفقہ نام تجویز کریں گی۔ لیکن شدت پسندی کے خلاف متفقہ طور پر کھڑا ہونا سیاسی جماعتوں کے بس کی بات نہیں لگتی۔ ان جماعتوں کے اپنے اپنے سیاسی مفادات ہیں اور اس کے لیے چھوٹی چھوٹی صف بندیاں ہیں۔ جس سے باہر نکلنے سے ڈرتی ہیں۔ وہ سمجھتی ہیں کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کی سیاسی موت واقع ہو جائے گی۔
ایک اور بات بھ اہم ہے کہ مشرف دور کے بعد ملک میں سیاست کا جھکاؤدائیں بازو کی طرف بڑھا ہے۔یہ مشرف کی پالیسیوں کا بھی نتیجہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دائیں بازو کی قوتیں جنہیں ضہاء دور میں بالادستی حاصل تھی وہ سمجھتی ہیں کہ اگر وہ کوشش کریں تو ایک بار پھر یہ مقام حاصل کر سکتی ہیں۔
ان قوتوں کا یہ بھی خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ کے بعض علاقوں میں مذہبی جماعتوں کے ابھار کے بعد ان کے لیے راہ ہموار ہوئی ہے۔ مگر یہ خام خیالی ہے۔ کیونکہ یہ قوتیں مسلسل سیاسی عمل کا حصہ رہی ہیں۔ ان کی سیاست، حکمت عملیوں، پالیسیوں اور تنظیم کاری سے عوام واقف ہیں۔ اور ہمارے ملک کی ان مذہبی جماعتوں کے پاس کچھ نیا نہیں ہے جو وہ عوام کو پیش کرسکیں۔ اس کے برعکس یہ بھی ہے کہ یہ قوتیں دس سال تک اس پوزیشن میں رہیں کہ اگر کچھ کرنا چاہتیں تو بہت کچھ کر سکتی تھیں۔
لہٰذا یہ وقت ہے کہ ملک کی سیاسی جماعتیں امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد کی صورتحال کے حوالے سے سوچیں اور مشترکہ حکمت عملی بنائیں کہ کس طرح سے ملک کی سیاست، معیشت کو خارجہ پالیسی کے اثر سے نکالا جا سکتا ہے اور کس طرح سے آزاد کارجہ پالیسی بنائی جا سکتی ہے جس سے ملک کا تشخص اور پہچان الگ سے بنے۔یہ وہ سوال ہے بتائے گا کہ ہمارے سیاسی رہنما اسٹیٹسمین ہیں یا صرف سیاستداں۔
No comments:
Post a Comment