Mon, Aug 27, 2012, 10:20 AM
جمہوریت یا شاارٹ کٹ
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
جمہوریت اور جمہوری عمل دو ایسی چیزیں ہیں جس سے آمروں اور آمریت پسند قوتیں چونک اٹھتی ہیں، کیونکہ جمہوری عمل مزاحمت کا اظہار ہوتا ہے۔خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں آمریتیں یا بادشاہتیں رہی ہیں۔پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ بے نظیر بھٹو سیاست کا آغاز مزاحمتی عمل سے کیا تھا۔ اور یہ مزاحمتی عمل ہی جمہوری عمل ٹہرا۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے نام سے آمروں کو چڑ سی ہو گئی تھی اور وہ کانپنے لگتے تھے۔اس لیے محترمہ نے آگے چل کر جو نعرہ دیا کہ جمہویرت ہی بہترین انتقام ہے۔ اور واقعی ہمارے ملک میں آمروں نے جو حال کیا ہے اس کا بہترین انتقام جمہوریت ہی ہو سکتا ہے۔آخر آمریت کا توڑ اور کیا ہوسکتا؟
یہ درست ہے کہ جمہوریت آسمان سے تارے توڑ کے نہیں لادیتی۔مگر یہ ایک پراسس ہے۔ جس میں ابھی سیاستداں اور ادارے کرپٹ بھی ہیں اور نااہل بھی۔اگر یہ پروسس جاری رہے تو تو بتدریج صورتحال تبدیل بھی ہوتی رہے گی۔ پاکستان کا سب سے بڑا الیہ یہ ہے کہ چونکہ یہاں پر کوئی پراسس نہیں ہے اس لیے کوئی انتظامی یا معاشی خواہ سماجی سسٹم یا نظام بھی نہیں۔لہٰذا کس کو کیا کرنا یہ بھی طے نہیں۔ ملک میں میرٹ اور اہلیت کو نہ تسلیم کئے جانے کی بھی وجہ بھی سسٹم کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بھی تو حقیقت ہے کہ آج جس طرح سے عوام کے مختلف طبقے اور چھوٹے چھوٹے گروپ اپنی رائے کااظہار کر رہے ہیں، مطالبات کے لیے زور دے رہے ہیں۔ جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دراصل اس ملک کے عوام کیا چاہتے ہیں۔یوں بالواسطہ فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔ یہ سب جمہوریت کی دین ہے جو کہ کسی آمریت میں ممکن نہیں۔آمریت میں اگر سنا بھی جاتا ہے تو چند مستقل مفاد والے گروہوں کو موقع ملتا ہے۔سماج کے باقی حصے اور طبقے اس حق سے محروم ہوتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم جلد بازی اور شارٹ کٹ کے عادی ہوگئے ہیں اورہر معاملے میں تلاش کرتے ہیں جو کہ نہ کسی سسٹم کو جنم دیتا ہے اور نہ ہی طویل مدت میں فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان ابھی تک آمریت کی بدعتوں سے نکل نہیں سکا ہے۔ صرف آمر یا بعض جنرل ہی جمہوریت کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ بعض سیاسی جماعتوں اور حلقوں کو بھی جمہوریت راس نہیں آتی۔ اور یہ حلقے بھی جمہوری عمل کے خلاف مصروف عمل ہوتے ہیں۔وہ لوگ بھی جو انتخابی سیاست کو مسترد کرتے ہیں بعض میڈیا کے گروپ جن کو جلدی میں سب اچھا اور بہت سارا چاہئے۔ سیاست تو دراصل برداشت اور صبر و تحمل کا بھی نام ہے۔
جمہوریت احتساب بھی ہے۔آج پیپلز پارٹی کی خراب کارکردگی کا شکوہ سب کو ہے۔ ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں ایک بار پھر عوام کو کڑوی گولی کھانی پڑے اور انہیں جماعتوں اور امیدواروں کو ووٹ دینا پڑے۔ مگر یہ پارٹیاں کب تک عوام کو جھوٹے وعدوں پر چلائیں گے؟ اگر سیاسی اور منتخب حکومت کو صحیح طریقے سے بغیر رکاوٹ کے کام کرنے دیا جائے۔ پھر ان کی سچائی اور بہانے بازی دونوں سامنے آجائیں گی۔مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ہر مرتبہ وقت سے پہلے کوئی شارٹ کٹ تلاش کیا جاتا ہے۔ کسی بھی منتخب حکومت کو مقررہ میعاد پوری کرنے نہیں دی جاتی۔اور پراسس توڑ دیا جاتا ہے۔
ڈکٹیٹرشپ اوپر سے آتی ہے اور جمہوریت عوامی یا نچلی سطح سے۔آمریت پسند قوتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ نچلی سطح متحرک نہ ہو۔ اس کو عمل یا فیصلہ کرنے کا موقعہ نہ ملے اور اگر ملے بھی تو بہت کم اور محدود ہو۔ چیف الیکشن کمشنرفخرالدین ابراہیم نے کہا ہے کہ اس مرتبہ بیلٹ سے کام نہیں چلایا گیا تو بلٹ آئے گی۔آج ملک میں موجود جمہوری عمل کو جاری نہ رہنے دیا گیاتو اس کے نتائج آمریت کی شکل میں رونما ہونگے۔یعنی بیلٹ کو راستہ دینا ضروری ہے۔
انتخابی فہرستوں کے حوالے سے بعض گمبھیرسوالات اٹھائے جارہے ہیں۔یہ اعتراضات اٹھانے والوں میں خود پیپلز پارٹی بھی شامل ہے۔سندھ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں اور گھر شماری میں ہیراپھیری کی گئی ہے۔اگر یہ اطلاعات صحیح ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سندھ کے عوام سے نمائندگی کا حق چھینا جا رہا ہے۔پیپلز پارٹی کی قیادت نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا ہے ہ کہ ووٹر لسٹوں کے حوالے سے سندھ کی سب سے بڑی اختیاری وزیراعلیٰ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں موجود گڑبڑ کو درست نہیں کیا گیا تو شفاف انتخابات ہونا ممکن نہیں۔اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد حلقہ بندیوں میں خفیہ طور پر تبدیلیاں کی گئیں جس کا مقصدمرضی کے نتائج حاصؒ کرنا تھا۔
پیپلز پارٹی کے اس خط کے مطابق گھر شماری سیاسی بنیادوں پر کرائی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے جب گھر شماری کی تفصیلات طلب کی تو معاملات چھپائے گئے۔ اس وقت کے سنیس کمشنر زنے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گھر شماری کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔یہ تمام باتیں خاصی سنجیدہ اور خطرناک ہیں۔کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں میں ہیرا پھیری اور گھر شماری میں جعل سازی اور اوپر سے وزیراعلیٰ کو نظرانداز کرنا کی جرئت کونسی قوتیں کرسکتی ہیں۔سندھ میں اس معاملے پر تشویش پائی جاتی ہے کہ معاملہ صرف انتخابی فہرستوں میں ہیرا پھیری کا نہیں بلکہ گھر شماری میں جعل سازی اور اس ضمن میں کی گئی منظم منصوبہ بندی کا ہے۔ نیا مینڈیٹ چرانے کی بھی منصوبہ بندی لگتی ہے۔آکر وہ کونسے حلقے ہیں جو سندھ کا یہ مینڈیٹ چرانا چاہتے ہیں۔
پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن کو یہ بھی شکایت کی ہے کہ اس پارٹی کے ووٹ کراچی سے دیگر مقامات پر منتقل کئے گئے ہیں۔کیا صرف اتنا ہے کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کے ووٹ کس فریق کے لیے ناقابل برداشت ہو رہے ہیں یا کچھ اور عناصر بھی پیپلز پارٹی کے ووٹ کم کرنا چاہتے ہیں؟
اگرالیکشن کمیشن ان اعتراضات میں وزن سمجھتی ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ گھر شماری، انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں والے معاملات دوبارہ کھلیں۔ جس کے لیے وقت اور وسائل دونوں درکار ہونگے۔پھر تو یہ وقت اور وسائل کا زیاں کرنے والوں کے خلاف کارروئی بھی ہونی چاہئے۔
مسئلہ صرف پیپلز پارٹی کا نہیں سندھ کے لوگوں کا بھی ہے جن سے جمہوریت کا معمولی پھل بھی چھیننے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
جمہوریت یا شاارٹ کٹ
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
جمہوریت اور جمہوری عمل دو ایسی چیزیں ہیں جس سے آمروں اور آمریت پسند قوتیں چونک اٹھتی ہیں، کیونکہ جمہوری عمل مزاحمت کا اظہار ہوتا ہے۔خاص طور پر ایسے ممالک میں جہاں آمریتیں یا بادشاہتیں رہی ہیں۔پاکستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ بے نظیر بھٹو سیاست کا آغاز مزاحمتی عمل سے کیا تھا۔ اور یہ مزاحمتی عمل ہی جمہوری عمل ٹہرا۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت کے نام سے آمروں کو چڑ سی ہو گئی تھی اور وہ کانپنے لگتے تھے۔اس لیے محترمہ نے آگے چل کر جو نعرہ دیا کہ جمہویرت ہی بہترین انتقام ہے۔ اور واقعی ہمارے ملک میں آمروں نے جو حال کیا ہے اس کا بہترین انتقام جمہوریت ہی ہو سکتا ہے۔آخر آمریت کا توڑ اور کیا ہوسکتا؟
یہ درست ہے کہ جمہوریت آسمان سے تارے توڑ کے نہیں لادیتی۔مگر یہ ایک پراسس ہے۔ جس میں ابھی سیاستداں اور ادارے کرپٹ بھی ہیں اور نااہل بھی۔اگر یہ پروسس جاری رہے تو تو بتدریج صورتحال تبدیل بھی ہوتی رہے گی۔ پاکستان کا سب سے بڑا الیہ یہ ہے کہ چونکہ یہاں پر کوئی پراسس نہیں ہے اس لیے کوئی انتظامی یا معاشی خواہ سماجی سسٹم یا نظام بھی نہیں۔لہٰذا کس کو کیا کرنا یہ بھی طے نہیں۔ ملک میں میرٹ اور اہلیت کو نہ تسلیم کئے جانے کی بھی وجہ بھی سسٹم کی عدم موجودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ بھی تو حقیقت ہے کہ آج جس طرح سے عوام کے مختلف طبقے اور چھوٹے چھوٹے گروپ اپنی رائے کااظہار کر رہے ہیں، مطالبات کے لیے زور دے رہے ہیں۔ جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ دراصل اس ملک کے عوام کیا چاہتے ہیں۔یوں بالواسطہ فیصلہ سازی پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔ یہ سب جمہوریت کی دین ہے جو کہ کسی آمریت میں ممکن نہیں۔آمریت میں اگر سنا بھی جاتا ہے تو چند مستقل مفاد والے گروہوں کو موقع ملتا ہے۔سماج کے باقی حصے اور طبقے اس حق سے محروم ہوتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم جلد بازی اور شارٹ کٹ کے عادی ہوگئے ہیں اورہر معاملے میں تلاش کرتے ہیں جو کہ نہ کسی سسٹم کو جنم دیتا ہے اور نہ ہی طویل مدت میں فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
پاکستان ابھی تک آمریت کی بدعتوں سے نکل نہیں سکا ہے۔ صرف آمر یا بعض جنرل ہی جمہوریت کے خلاف نہیں ہوتے بلکہ بعض سیاسی جماعتوں اور حلقوں کو بھی جمہوریت راس نہیں آتی۔ اور یہ حلقے بھی جمہوری عمل کے خلاف مصروف عمل ہوتے ہیں۔وہ لوگ بھی جو انتخابی سیاست کو مسترد کرتے ہیں بعض میڈیا کے گروپ جن کو جلدی میں سب اچھا اور بہت سارا چاہئے۔ سیاست تو دراصل برداشت اور صبر و تحمل کا بھی نام ہے۔
جمہوریت احتساب بھی ہے۔آج پیپلز پارٹی کی خراب کارکردگی کا شکوہ سب کو ہے۔ ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں ایک بار پھر عوام کو کڑوی گولی کھانی پڑے اور انہیں جماعتوں اور امیدواروں کو ووٹ دینا پڑے۔ مگر یہ پارٹیاں کب تک عوام کو جھوٹے وعدوں پر چلائیں گے؟ اگر سیاسی اور منتخب حکومت کو صحیح طریقے سے بغیر رکاوٹ کے کام کرنے دیا جائے۔ پھر ان کی سچائی اور بہانے بازی دونوں سامنے آجائیں گی۔مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔ہر مرتبہ وقت سے پہلے کوئی شارٹ کٹ تلاش کیا جاتا ہے۔ کسی بھی منتخب حکومت کو مقررہ میعاد پوری کرنے نہیں دی جاتی۔اور پراسس توڑ دیا جاتا ہے۔
ڈکٹیٹرشپ اوپر سے آتی ہے اور جمہوریت عوامی یا نچلی سطح سے۔آمریت پسند قوتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ نچلی سطح متحرک نہ ہو۔ اس کو عمل یا فیصلہ کرنے کا موقعہ نہ ملے اور اگر ملے بھی تو بہت کم اور محدود ہو۔ چیف الیکشن کمشنرفخرالدین ابراہیم نے کہا ہے کہ اس مرتبہ بیلٹ سے کام نہیں چلایا گیا تو بلٹ آئے گی۔آج ملک میں موجود جمہوری عمل کو جاری نہ رہنے دیا گیاتو اس کے نتائج آمریت کی شکل میں رونما ہونگے۔یعنی بیلٹ کو راستہ دینا ضروری ہے۔
انتخابی فہرستوں کے حوالے سے بعض گمبھیرسوالات اٹھائے جارہے ہیں۔یہ اعتراضات اٹھانے والوں میں خود پیپلز پارٹی بھی شامل ہے۔سندھ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں اور گھر شماری میں ہیراپھیری کی گئی ہے۔اگر یہ اطلاعات صحیح ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سندھ کے عوام سے نمائندگی کا حق چھینا جا رہا ہے۔پیپلز پارٹی کی قیادت نے چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھا ہے ہ کہ ووٹر لسٹوں کے حوالے سے سندھ کی سب سے بڑی اختیاری وزیراعلیٰ کو بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں موجود گڑبڑ کو درست نہیں کیا گیا تو شفاف انتخابات ہونا ممکن نہیں۔اعتراضات میں یہ بھی کہا گیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد حلقہ بندیوں میں خفیہ طور پر تبدیلیاں کی گئیں جس کا مقصدمرضی کے نتائج حاصؒ کرنا تھا۔
پیپلز پارٹی کے اس خط کے مطابق گھر شماری سیاسی بنیادوں پر کرائی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے جب گھر شماری کی تفصیلات طلب کی تو معاملات چھپائے گئے۔ اس وقت کے سنیس کمشنر زنے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گھر شماری کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔یہ تمام باتیں خاصی سنجیدہ اور خطرناک ہیں۔کمپیوٹرائزڈ انتخابی فہرستوں میں ہیرا پھیری اور گھر شماری میں جعل سازی اور اوپر سے وزیراعلیٰ کو نظرانداز کرنا کی جرئت کونسی قوتیں کرسکتی ہیں۔سندھ میں اس معاملے پر تشویش پائی جاتی ہے کہ معاملہ صرف انتخابی فہرستوں میں ہیرا پھیری کا نہیں بلکہ گھر شماری میں جعل سازی اور اس ضمن میں کی گئی منظم منصوبہ بندی کا ہے۔ نیا مینڈیٹ چرانے کی بھی منصوبہ بندی لگتی ہے۔آکر وہ کونسے حلقے ہیں جو سندھ کا یہ مینڈیٹ چرانا چاہتے ہیں۔
پیپلزپارٹی نے الیکشن کمیشن کو یہ بھی شکایت کی ہے کہ اس پارٹی کے ووٹ کراچی سے دیگر مقامات پر منتقل کئے گئے ہیں۔کیا صرف اتنا ہے کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کے ووٹ کس فریق کے لیے ناقابل برداشت ہو رہے ہیں یا کچھ اور عناصر بھی پیپلز پارٹی کے ووٹ کم کرنا چاہتے ہیں؟
اگرالیکشن کمیشن ان اعتراضات میں وزن سمجھتی ہے تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ گھر شماری، انتخابی فہرستوں اور حلقہ بندیوں والے معاملات دوبارہ کھلیں۔ جس کے لیے وقت اور وسائل دونوں درکار ہونگے۔پھر تو یہ وقت اور وسائل کا زیاں کرنے والوں کے خلاف کارروئی بھی ہونی چاہئے۔
مسئلہ صرف پیپلز پارٹی کا نہیں سندھ کے لوگوں کا بھی ہے جن سے جمہوریت کا معمولی پھل بھی چھیننے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
No comments:
Post a Comment