Tuesday, 10 March 2020

دائیں بازو کا دباؤ اور انتخابات - Apr 29, 2013

 Mon, Apr 29, 2013 at 12:34 PM
دائیں بازو کا دباؤ اور انتخابات
سہیل سانگی  
مؤقر برطانوی جریدے نے پاکستان میں مختلف پارٹیوں کی مقبولیت اور امکانی طور پر انتخابات میں جیت کے حوالے سے پیشگوئی کی ہے۔ 
 سروے اور پیشگوئیاں  بے مقصد نہیں ہوتیں۔ ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے اس پیشگوئی کی وجوہات بھی سمجھ میں آتی ہیں کہ ایسا کیوں ہوگا۔
آج پاکستان شدید مالی بحران میں مبتلا ہے۔ عالمی بینک مزید قرضہ  دینے کے لیے تیار نہیں۔کیونکہ ایران سے گیس پائپ لائن منصوبے اور گوادر چین کے حوالے کرنے پر امریکہ ناخوش ہے۔برسلز جنرل کیانی اور افغان صدر کرزئی کے درمیان جان کیری کی میزبانی ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے۔کیونکہ افغان حکومت کا الزام ہے کہ طالبان اور دیگر انتہا پسند گروپوں کے ہیڈکوارٹر پاکستان میں ہیں۔  

عالمی مالیاتی ادروں کا دباؤ پاکستان پر بڑھ رہا ہے۔ایسے میں سعودی عرب ہی زیادہ سوٹ کرتا ہے۔ سعودی عرب پاکستان کے معا ملات میں دلچسپی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بھٹو دور سے شروع ہونے والی یہ دلچسپی ضیا دور میں اپنے عروج پر پہنچی۔اس دلچسپی کی یہ سطح تاحال جاری ہے۔مشرف حکومت نے جب نواز شریف کو سزا سنائی تو سعودی حکومت نے ہی ان کی ضمانت کرائی اور رہائی دلانے کے بعداپنا مہمان بنا کے رکھا۔ مشرف دور میں نواز شریف وطن لوٹے اور ایک بار پھر گرفتار ہوئے تو ایک سعودی شہزادہ ان کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ سعودی شہزادہ  نے برملا کہا تھا کہ سعودیہ پاکستان میں شراکت دار ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت وقتا فوقتا سعودی عرب کے دورے کرتی رہی ہے۔گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل کیانی بھی سعودیہ ہوکر آئے ہیں۔ان خبروں کی ابھی سیاہی خشک نہیں ہوئی ہے کہ مشرف نے وطن واپسی سے پہلے سعودی عرب سے یقین دہانی کرانے کی فرمائش کی تھی کہ ان کے ساتھ ملک میں خراب سلوک نہیں کیا جائے گا۔

مشرف کے معاملے میں نواز شریف کا نرم گوشہ بھی اس سلسلے کی کڑی سمجھا جارہا ہے۔مشرف کی وطن واپسی سے پہلے ہر تقریر میں وہ مشرف کو ہی ٹارگٹ بناتے تھے اور ان کو سزا دلانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ لیکن ان کی واپسی کے بعد چند دنوں تک بالکل خاموش رہے۔ اب ان کے خلاف عدالتوں میں مقدمات چل رہے ہیں تووہ کہہ رہے ہیں کہ مشرف کے ساتھ ان کی ذاتی دشمنی نہیں، وہ قومی مجرم ہیں۔اس کا مطلب یہی لیا جارہا ہے کہ ان کی حکومت کا تختہ الٹا گیا وہ انہوں نے معاف کردیا، باقی بینظیر بھٹو، بگٹی قتل کیس وغیر ہیں ان میں بھلے سزا دی جائے۔

نواز شریف کی مقبولیت جس کا تذکرہ برطانوی جریدے نے کیا ہے یہ مقبولی دراصل پنجاب تک ہی محدود ہے۔ انہوں نے سندھ کے معاملات پیر پاگارہ پر چھوڑدیئے ہیں۔ انہوں نے سندھ میں اپنی پارٹی کو منظم نہیں کیا لیکن حاضری رکھنے کے لیے گزشتہ دنوں ٹنڈوالہیار میں جلسہ کیا۔اس کے علاوہ نوازشریف نے مختلف جماعتوں سے بنا کر رکھی ہوئی ہے جمیعت علمائے اسلام (ف)، جماعت اسلامی، سندھ اور بلوچستان کے قوم پرستوں سے بھی بنائے رکھی ہے۔ 
ملک کا انتخابی  سرگرمیوں کا منظربھی بہت کچھ وضح کر رہا ہے۔جے یو آئی خیبر پخوتنخوا میں بھرپور طریقے سے مہم چلا رہی ہے۔مولانا فضل الرحمان کے طالبان سے دیرنہ تعلقات ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے طالبان کے سامنے اپنی وضاحت بھی پیش کی۔ کہ کس طرح سے وہ ان کی پالیسی میں فٹ ہوتے ہیں۔ انہوں نے طالبان  اے این پی پر مسلسل حملوں کی وجہ سے مہم نہیں چلا رہی تاہم انتخابات سے دستبردار بھی نہیں ہو رہی۔

بلوچستان میں پختون آبادی میں جے یو آئی، محمود اچکزئی اور ہزارہ کمیونٹی کا اثر ہے۔ نواز شریف کی ان تینوں کے ساتھ سیاسی قربت نظر آتی ہے۔ 

کراچی کی صورتحال اگرچہ خاصی پیچیدہ ہے۔ مگر ماضی کے واقعات باتاتے ہیں کہ یہاں جب ایم کیو ایم  سیاسی میدان میں نہیں ہوتی تو جماعت اسلامی انتخابات جیتے گی۔ ماضی میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ جبکہ  پختوں آبادی کی نشستیں کبھی اے این پی تو کبھی مسلم لیگ کے کسی دھڑے کے حصے میں آتی رہی ہیں۔ اس مرتبہ یہ نشستیں جے یو آئی کے حصے میں آجائیں گی۔ 
کراچی میں کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں مقابلہ یا تضاد ہے۔ مبصرین اور محققین کے مطابق کراچی کی بیس نشستوں میں سے دس ایم کیوایم کے زیر اثر ہیں۔ 
ایم کیوا ایم پرانتخابی سرگرمیوں کے حوالے سے جس طرح سے دباؤ پر رہا ہے ممکن ہے وہ الیکشن  کا بائکاٹ کرے۔بائکاٹ کا خیال پارٹی کی مقامی قیادت میں موجود ہے۔بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم اقتدار کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔لیکن ایم کیو ایم کے اندر ایک سوچ یہ بھی ہے کہ مسلسل حکومت میں رہنے سے مقبولیت میں کمی آئی ہے۔ لہٰذا اب اپوزیشن میں رہ کر یہ گراف بہتر کیا جا سکتا ہے۔ ایم کیو ایم  کا خیال کہ آئندہ انتخابات میں جس طرح کا سیٹ اپ وجود میں آئے گا  وہ زیادہ دن تک نہیں چلے گا۔ لہٰذا  ڈیرہ دو سال تک اپوزیشن میں بیٹھنا برداشت کیا جاسکتا ہے۔ بعد میں اپوزیشن میں بیٹھنے کی قیمت کے طور پر کچھ بڑی فرمائشیں منوائی جاسکتی ہیں۔ 

 تحریک انصاف  کے لیے  یہ تاظردیا جارہا ہے کہ اس پارٹی نے خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ مسئلہ زیادہ امیدوار کھڑے کرنے کا نہیں۔ کہنے کو تو ایم کیو ایم نے بھی دیرہ بگٹی سے امیدوار کھڑے کئے ہیں۔سندھ اور  بلوچستان میں تحریک انصاف نہ ہونے کے برابر ہے۔ البتہ پنجاب میں بعض حلقوں میں بااثر اور روایتی شخصیات  جو کہ تحریک انصاف سے زیادہ اقتدار میں دلچسپی رکھتی ہیں،کی وجہ مقابلے کی پوزیشن میں ہے۔ جبکہباقی حلقوں میں تحریک انصاف کے پروگرام سے متاثر ہو کر آنے والے اس میدان میں نئے کھلاڑی ہیں۔ یہ کوئی انقلاب نہیں۔ لہٰذا روایتی سیاست میں امیداور اہمیت رکھتا ہے۔ 

 خیبر پختونخوا میں مذہبی یا دائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان کا ووٹ جماعت اسلامی، جے یو آئی، تحریک انصاف اور مسلم لیگ نون کے درمیان تقسیم ہو جائیگا۔جبکہ پیپلز پارٹی اور اے این پی کا  ووٹ ایک طرف ہوگا۔

یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ایم کیو ایم بائکاٹ کردے گی۔ لیکن تمام تر دباؤ کے باوجود اے این پی اور پی پی الیکشن سے دستبردار نہیں ہورہی ہیں۔ 

 جنرل کیانی کی گزشتہ دنوں کاکول میں تقریر معمول سے ہٹ کر تھی۔ جس میں انہوں پاکستان کو  اسلام کا قلعہ قرار دیا تھا۔ ان کی اس تقریر کو ملک میں موجود  دائیں بازو کے اثرات کا عکس اور سعودی عرب سے قربت سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ 

 طالبان نے مارچ میں پیپلز پارٹی، اے این پی اور ایم کیو ایم کو جو دھمکی دی تھی  اس پر عمل شروع کردیا ہے۔حالیہ دھماکوں میں انہی تینوں جماعتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جو عناصر ان جماعتوں کو انتخابی مہم نہیں چلانے دے رہی ہیں وہ یہ چاہ رہے ہیں کہ یہ جماعتیں حکومت میں آئیں۔ چیف الیکشن کمشنر  اور عدلیہ کا یہ کہنا کہ انتخابات  ہونگے،  یقیننا انتخابات ہونگے۔ مگرصورتحال  سے لگتا ہے کہ مخصوصمکتبہ فکر کے امیدواروں کو جتواے کے جتن کئے جارہے ہیں۔ 

حالات اور واقعات سے پتہ چلتا ہے کہ معاشی حالات کی وجہ سے  ملک کا جھکاؤ سعودی کی طرف ہونے جارہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں سیاست میں دائیں بازو کا جھکاؤ خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک میں دائیں بازو کے حاوی ہونے کا امکان ہے اور اس کی پہلی کڑی کے طور پر نواز شریف کی لاٹری نکل آئے گی۔ ان کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بھی ہیں۔دائیں بازو کی انتہا پسند تنظیموں کے لیے بھی قابل قبول ہیں۔تحریک انصاف بھی  اس صورتحال میں چل سکتی ہے، مگر اس کے پاس اتنی نشستیں بھی نہیں ہیں اور مزید یہ کہ اس کے ملک کے باقی صوبوں  فعال نہیں اور باقی سیاسی جماعتوں سے قربت بھی خال خال ہے۔ ایسے میں برطانوی جریدے کو  نواز شریف کی مقبولیت بڑھتی ہوئی ہی نظر آئے گی۔ 

No comments:

Post a Comment