Tuesday, 10 March 2020

آئندہ انتخابات کا ایجنڈا کیا ہے؟۔ - Mar 7, 2013

Thu, Mar 7, 2013 at 11:48 AM

آئندہ انتخابات کا ایجنڈا کیا ہے؟۔۔
 میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
انتخابات خواہ غیر جماعتی ہوں یا  جماعتی، دھاندلی والے ہوں یا کسی اور نمونے بازی والے ان کے اثرات سیاست اور عوام پر پڑنا  ناگزیر ہوتا ہے۔انتخابات کبھی کسی آمر اور اس کے غیرآئینی اقدامات کوتحفظ دینے یا اقتدارکو طول دینے کے لیے ہوتے رہے۔ تو کبھی یہ اقتدار میں شراکت کے فارمولے میں ردوبدل کے لیے۔انتخابات کے اثرات اس وجہ سے بھی  لازما  ہوتے ہیں کہ پاکستان میں انتخابات کوئی معمول نہیں،  کیونکہ صرف غیر معمولی حالات  ہی انتخابات کا باعث بنتے ہیں۔ نوے سے ستانوے تک کے انتخابات کو چھوڑ کر باقی تمام انتخابات زیادہ اہم رہے ہیں۔کیونکہ یہ انتخابات یا ماضی کو برقرار کھنے یا اس سے دور جانے کی کوشش تھے۔
طویل مدت تک آمریت کی تاریخ رکھنے والے ملک میں وقفے وقفے سے انتخابات ہوتے رہے ہیں۔ اکثر اوقات  پہلے سے طے شدہ فیصلوں پر عوام سے مہر لگوائی جاتی رہی۔ کونسے انتخابات کس پس منظر میں ہوئے؟ اس کے اثرات اور محرکات کیا تھے؟ انتخابات کیوں کرائے گئے اور اس سے کیا حاصل کیا گیا؟ مختلف انتخابات صرف انہی سوالات کی رشنی میں سمجھے جاسکتے ہیں۔آئندہ انتخابات سیاسی عمل اور جمہوری پریکٹس میں کوئی تبدیلی لے آئیں گے؟  ہم ان سوالات کے جوابات 70ع کے  بعد ہونے والے انتخابات میں تلاش کرتے ہیں۔
70ع کے انتخابات:
 ایوب خان کی دس سالہ آمریت عوام کو سڑکوں پر لے آئی۔ ایوب کے خلاف تحریک کے بنیادی طور رپر تین اسباب تھے۔ (۱) مغربی اور مشرقی پاکستان کی مساوات والی اسکیم، اور بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کی عدم موجودگی (۲) چھوٹے صوبوں کا ون یونٹ پر احتجاج (۳) ایوب دور میں ہونے والی زرعی اور صنعتی ترقی  کے باوجود مزدور، کسان اور عوام آدمی  ترقی کے ان ثمرات  سے محرومی۔ ان میں سے پہلے دو کا تعلق پنجاب کی بالادستی سے تھا۔تیسری وجہ ملک میں معاشی نظام میں تبدیلی سے متعلق تھی۔ان تینوں وجوہات کا نتیجہ یہ نکلا کہ بنگال کے عوام کی تحریک عروج پرچلی گئی۔مغربی پاکستان کے تین صوبے ون یونت توڑنے سے کم پر راضی ہونے کو تیار نہیں تھے۔جبکہ صنعتی اور زرعی پیداوار اور پیداوار کے وسائل کی از سرنو تقسیم کے لیے ملک میں سوشلسٹ تحریکیں مضبوط ہورہی تھیں۔اور سوشلزم کا نعرہ مقبول ہو چکا تھا۔مظلوم طبقات کی تنظیم کاری موجود تھی۔اور مظلوم قوموں اور طبقات کا آپس میں اتحاد مضبوط ہو رہا تھا۔ ملک تبدیلی کے دہانے کھڑا تھا۔
 اقتداری حلقوں نے اس بات کو بھانپ لیا۔بجائے اس کے کہ ایوب خان عوام کے سامنے گھٹنے ٹیکتے اور مطالبات مان لیے جاتے مگرایسا نہیں کیا گیااور عوام کا یہ واراسٹبلشمنٹ پی گئی۔کیونکہ اس صورت میں ہار صرف ایوب خان کی نہیں، بلکہ یہ ہار اسٹبلشمنٹ کی بھی تھی۔ لہٰذا جنرل یحیٰ خان نے ایوب خان کو برطرف کردیا اور خود معتبر بن کر بیٹھے۔پھر جب ایوب خان ہی نہیں رہا  تو عوام کے غصہ میں کچھ کمی آئی۔بعد میں عوام کے اس غصے، ابھار اور مطالبات کو دو طریقوں سے وینٹی لیٹ ventilateکیا گیا۔پہلا یہ کہ ون یونٹ توڑنے کا اعلان کیا گیا۔ دوسرا یہ کہ بالغ رائے دہی کی بنیاد پر انتخابات کرائے گئے۔ یہ انتخابات دراصل مہا نظریاتی جنگ  تھے۔ بھٹو سوشلزم کا نعرہ لگا رہے تھے۔سوشلزم کا نعرہ لگانے والی نیشنل عوامی پار ٹی بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مضبوط تھی۔ اور سندھ میں خاصی فعال تھی۔اس کے ساتھ ساتھ صوبوں کے حقوق کی بھی بات کر رہی تھی۔بنگال میں عوامی لیگ سیکولر سیاست کے ساتھ چھ نکات کی صورت میں بنگال کے لیے اختیارات مانگ رہی تھی۔یعنی سوشلسٹ اور قومی حقوق کا ایجنڈا رکھنے والی پارٹیاں ایک طرف تھیں تو اسٹبلشمنٹ اور اس کی اتحادی جماعتیں جماعت اسلامی سے لیکر مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں تک دوسری طرف تھیں۔نعپ کو شبہ تھا کہ بھٹوپنجاب کی بالادستی کی وکالت کر رہے ہیں اور کسی نئی شکل میں اسکو دوبارہ مسلط کرنا چاہتے ہیں۔بھٹو کو شک تھا کہ نعپ اور عوامی لیگ کا ایجنڈا(اصوبوں کو زیادہ حقوق دلانا)  ایک ہی ہے۔لہٰذا  نعپ اور پی پی ایک دوسر کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں تھیں۔
 ان انتخابات کے نتائج خلاف توقع نکلے۔عوامی لیگ بنگال میں سویپ کر کے ملکی کی اکثریتی جماعت بن گئی۔بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں نعپ نے اکثریت حاصل کر لی۔پنجاب میں پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہو گئی۔سندھ میں پیپلز پارٹی کو اکثریت تو حاصل نہیں تھی تاہم  اکیلی بڑی پارٹی کے طور پر ابھری۔ اس مرحلے پر اسٹبلشمنٹ نے اکثریت سے جیت کر آنے والی پارٹی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کرنے سے انکار دیا۔یوں ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ ون  یونٹ ختم ہونے کے باوجود پنجاب اپنی بالادستی ہر حال میں برقرار رکھنا چاہ رہا ہے۔اس پر بنگالیوں نے بغاوت کا اعلان کیا اور جنگ لڑی۔اور آزادی حاصل کرلی۔
دراصل 70ع کے انتخابات بڑے نظریاتی جنگ کے طور پر لڑے گئے۔ ایک طرف”اسلام خطرے میں ہے“  تو دوسری طرف سوشلزم اور قومی حقوق کا نعرہ لگایا گیا۔ اس مرتبہ بائیں بازو کے نظریات کی جیت ہوئی۔ان انتخابات کے بعد ملک کا سیاسی نظام پورے طور پر تو تبدیل نہیں ہوا۔البتہ اس کی شکل تبدیل ہوئی۔ یہ اور بات ہے کہ اس کوشش میں ملک کی بھی شکل تبدیل ہوگئی۔بھٹو نے معاشی نظام کو تبدیل کرنے کی بات زیادہ اور عمل یا سنجیدہ کوشش کم کی۔یوں ملک میں سرخ سویرا آنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ بھٹو کے نام نہاد سوشلزم کی وجہ سے سوشلزم ناکام ہو گیا۔بھٹو کے اس رویے کے دو بڑے نقصانات ہوئے۔پہلا یہ کہ سوشلسٹ تحریک کا دھچکا لگا۔ اور کئی سرخیل سوشلسٹ جو پیپلز پارٹی کو اصلی سوشلسٹ پارٹی سمجھ بیٹھے تھے ان کو مایوسی ہوئی۔ وہ یا تو خود مایوس ہو کر پارٹی سے نکل آئے یا انہیں نکال دیا گیا۔دوسرا نقصان یہ ہو ا کہ سوشلسٹ مخالف لابی ہوشیار ہو گئی۔یہ لابی بھٹو حکومت کو سوشلزم لانے کے لیے عبوری دور سمجھ رہی تھی۔ انہیں ڈر تھا کہ اب کسی بھی وقت سوشلسٹ ریاستی مشنری پر قبضہ کر لیں گے۔اس خوف کی وجہ سے صنعتکار، بڑے تاجر، مذہبی حلقے، نوکرشاہی اور اسٹبلشمنٹ کٹھے ہوگئے۔یوں تو ستاروں والا پاکستان قومی اتحاد وجود میں آیا۔نظام مصطفےٰ کا نعرہ لگایا۔ایک بار پھر ملک میں نظریاتی کشمکش تیز ہوگئی۔
1977ع کے انتخابات: نظریاتی کشمکش: 
بھٹو نے 77ع میں دائیں بازو اور اسٹبلشمنٹ کو یہ دکھانے کے لیے  انتخابات کرائے کہ پیپلز پارٹی  ابھی تک مقبول پارٹی ہے، کئی انتخابی حلقوں میں دھاندلی کرائی گئی۔ گویا  پی این اے کو احتجاج کی دعوت مل گئی۔انہوں نے نظام مصطفےٰٰ کا نعرہ بلند کرکے بھٹو کی حکومت پرسوشلسٹ اور سیکولرہونے کا الزام لگایا۔ اس مرتبہ بھٹو اکیلے تھے۔ کیونکہ وہ کمیونسٹوں، ترقی پسندوں اور  نعپ کے خلاف اقدامات کر چکے تھے۔اور انہیں پی پی دور بھگا چکے تھے۔نعپ پی این اے کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ اس نظریاتی کشمکش کا نتیجہ دائیں بازو یعنی مذہبی جماعتوں کے حق میں آیا۔ضیاء الحق ملک میں مارشل لاء نافذ کرکے اقتدار پر قبضہ کرکے بیٹھ گئے۔انہوں نے اپنے برانڈ کا اسلامائزیشن شروع کردیا۔یہ تھا 77ع کے انتخابات کا اثر۔ حالانکہ یہ انتخابات دھاندلی والے قرار دیئے جاتے ہیں۔
1985ع کے انتخابات: 
ضیاء مارشل لا ء  نے ملک کے فکری، سیاسی، معاشی اور سماجی فیبرکس کو تہس نہس کردیا،۔ مخالفین کو پھانسی، کوڑوں اور قید کی سزائیں آئیں۔پاکستان نے افغانستان میں امریکہ کی پراکسی جنگ لڑی۔مارشل لاء کے خلاف لاوا پکنے لگا۔ضیا پی این اے کی تحریک سے حاصل شدہ عوام کی حمایت کنزیوم کر چکا تھا۔ 83ع میں ایم آرڈی کی تحریک چلی جس نے ضیا کو سیاسی طور پر اور کھوکھلا کردیا۔اب انہیں ضرورت پیش آئی کہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے وہ عوام سے مینڈیٹ لیں۔لہٰذا پہلے انہوں نے اپنے حق میں ریفرنڈم کرایا  ور اس کے بعد غیر جماعتی انتخابات۔ اس کے ذریعے انہوں نے آٹھویں آئینی ترمیم کی صورت میں اپنے غیرآئینی اقدامات کو تحفظ حاصل کرلیا۔
وزیراعظم جونیجو کے دور میں ملٹری اور سویلین مکسڈ حکومت کے دوران سویلین سائیڈ دن بدن مضبوط ہوتی جارہی تھی۔ ملک کی سیاسی جماعتیں سویلین پلڑے میں اپناوزن ڈال رہی تھیں۔بالآخر ضیا سے بیزارحلقوں کو بڑی قربانی دینی پڑی۔جس میں جنرل اسلم بیگ مرزا کو چھوڑ کرجنرل ضیا سمیت باقی تمام اہم عہدوں پر فائز جنرل اور امریکی سفیر بہاولپور کے قریب ہوائی حاثے میں مارے گئے۔
1988ع کے انتخابات: 
 ان انتخابات کے ذریعے ملک کے عوام  ضیا کی باقیات سے دور ہونا چاہتے تھے۔1988ع کے انتخابات عوام میں مقبول سیاسی قوتوں کی واپسی تھی۔ جنہیں 77ع میں زبردستی ہٹادیا گیاتھا۔ لیکن نواز شریف کی قیادت میں بنائی گئی آئی جے آئی (جس کی پشت پر اسٹبلشمنٹ تھی)نے اتنی نشستیں حاصل کرلیں کہ منتخب حکومت کو غیر مستحکم کر سکے۔مزید یہ کہ اسٹبلشمنٹ پنجاب اپنے پاس رکھنے میں کامیاب ہوگئی۔جہاں آئی جے آئی نے حکومت بنالی۔ گیارہ سال کی آمریت کے بعد وجود میں آنے والی جمہوری حکومت عوام کی زیادہ امیدوں اور اسٹبلشمنٹ کی سیاست کا بوجہ نہ اٹھاسکی۔ اور دو سال کے اندر صدر غلام اسحاق خان نے بینظیر بھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔
ضیاء کے جانے کے بعد سیاسی یا جمہوری قوتوں اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان اختیارات کی تقسیم اور اور بالادستی پر کشمکش شروع ہوئی جو کسی نہ کسی شکل میں آج بھی جاری ہے۔ 90 سے لیکر97ع تک یہ کشمکش میوزیکل چیئر کی صورت میں رہی۔ جس میں دو بڑی جماعتیں باری باری حکومت میں آئیں اور اسٹبلشمنٹ کے ہاتھوں ایکدوسرے کے خلاف استعمال ہوتی رہیں۔ 
90ع سے لیکر 2002 تک منعقدہ انتخابات کسی پروگرام یا منشور اور عوامی نعرے کی بنیاد پر نہیں ہوئے۔ سیاسی پارٹیوں نے منشور پیش بھی کئے تو وہ صرف خانہ پری کے لیے تھے۔ اصل ایجنڈا وہ نہیں تھا جو منشوروں میں لکھا گیا تھا۔ اصل ایجنڈا یہ رہا کہ فلاں پارٹی اقتدار میں آئے یا فلاں پارٹی نہ آئے۔ اس سے پہلے والے انتخابات کسی نعرے یا پروگرام کے تحت تھے۔ 70ع کے انتخابات معاشی نظام میں تبدیلی اور قومی حقوق کے لیے تھے۔ 88ع کے انتخابات ضیا کی باقیات کے خاتمے کے لیے تھے۔ مشرف کے منعقد کردہ  2002 کے انتخابات ضیاء کے 85ع والے انتخابات کی طرح تھے۔ جس میں کوئی سیاسی تبدیلی ایک نعرہ نہیں تھا۔ بلکہ صرف ا ن آمروں کے غیرآئینی اقدامات کو تحفظ دینے یا انہیں قانونی لباس پہنانے کے لیے تھے۔ 
2013 کے انتخابات کا ایجنڈا کیاہے؟  اس کے اثرات کیا ہونگے؟ یہ ایجنڈا کہ پیپلز پارٹی اقتدار میں نہ آئے یا زرداری حکومت میں نہ ہوں؟ اگر یہی مختصر ایجنڈا ہے تو یہ صرف اقتداری حلقوں کا ہوسکتا ہے۔ جو شاید ریس میں شریک گھوڑا تبدیل کرنا چاہ رہے ہوں گے۔ 
ملک کا اصل ایجنڈا دہشتگردی، لاقانونیت، مہنگائی کا خاتمہ، اچھی حکمرانی وغیرہ ہیں۔ یہ سب ایجنڈے یا نعرے کی شکل میں سامنے نہیں آرہے ہیں۔ کیا یہ صرف اقتداری حلقوں کا کھیل ہوگا جس میں عوام غائب ہوگا۔

No comments:

Post a Comment