Monday, 9 March 2020

عدلیہ اور میڈیا کی ایکٹوازم اور گیم پلان - Nov 26, 2012

Mon, Nov 26, 2012 at 11:11 AM
عدلیہ اور میڈیا کی ایکٹوازم اور گیم پلان
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
ویسے تو مقتدرہ حلقے ہی طے کرتے ہیں کہ کس کو حکومت میں آنا ہے اور کس کو اپوزیشن میں بیٹھنا ہے۔ مگر لگتا ہے کہ اس مرتبہ عدلیہ اور میڈیا دونوں کی ایکٹوازم کی وجہ سے گیم پلان میں کچھ تبدیلیاں کرنی لازمی ہیں۔ ملک میں عام مسائل اپنی جگہ پر  اقتدار کس کو ملے اس کا فیصلہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور اس سے متعلقہ چیزوں سے ہونے جا رہا ہے۔ پاک امریکہ، پاک افغان تعلاقت، پاکستان کی علاقائی اہمیت اور اس میں عالمی طاقتیں پاکستان کا کیا کردار رکھنا چاہتی ہیں؟ یہ وہ ایجنڈا ہوگا جس پر کسی سیاسی جماعت کی ہار اور جیت کا فیصلہ ہوگا۔
 ملک کا منظر نامہ یہ ہے کہ شمالی علاقہ جات میں  کارروایاں ہو رہی ہیں۔ خیبر پختونخوا  ایک بار پھر دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے۔ بلوچستان کی صورتحال کچھ عرصے تک میڈیا اور سیاسی حلقوں میں گرم بحث کا موضوع بنی رہی۔ اب بھی حالات وہی ہیں مگر  ان حلقوں میں اب اتنی گرما گرم بحث نہیں۔ کراچی میں ٹارگیٹ کلنگز اور دیگر کرائیم  پر کنٹرول ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔سندھ میں بھی تنظیم کاری  نہ سہی مگر قوم پرست تحریک  اب مختلف مرحلے میں  داخل ہو گئی ہے۔اس وقت پنجاب واحد صوبہ سمجھا جا رہا ہے جو نسبتا  بہتر حالات لگتے ہیں۔مطلب باقی تینوں صوبوں میں تشدد  کے واقعات ہیں۔
کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ  اسٹبلشمنٹ صرف پنجاب کے بنیاد پر فیصلہ کرنے جا رہی ہے؟  یہ صحیح ہے کہ فیصلے کی بنیاد پنجاب کو ہی بنایا جا رہا ہے۔ جس کا عرف عام میں یہ معنی بنتی ہیں کہ نواز شریف کا پلڑا بھاری ہے۔ لیکن اس منظرنامے کا یہ بھی مطلب نہیں کہ  باقی صوبوں اور خاص کر سندھ کو بالکل ہی نظرانداز کردیا جائے گا۔مگریہ صورتحال ملک کے لیے فائدہ مند نہیں۔ لہٰذا سندھ کو مطمئن کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے کسی صوبے کے مقابلے میں سندھ میں سیاسی سرگرمیاں زیادہ ہیں۔ سندھ ایک بار پھراس طرح کی  فیصلہسازی میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ مستقبل کے اقتدارسے متعلق سندھ کی بھی سنی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں سے حساب بھی سندھ میں لیا جارہا ہے۔اقتدار کے لیے سرگرم سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ اگر ان کی پوزیشن سندھ میں بہتر ہو گئی تو باقی علاقوں میں کام چل جائے گا۔
 سندھ کو اگر فیصلہ سازی سے دور رکھا گیا تو آئندہ حکومت مستحکم نہیں ہوگی۔ موجودہ حکمراں جماعت بھی سمجھتی ہے کہ اس کا پنجاب اور سندھ میں استحکام ضروری ہے۔
سندھ میں حکمراں جماعت  پیپلز پارٹی  اس مسئلے سے دو چار کہ گذشتہ چار سال کے دروان اس جماعت کی کچھ غلطیوں کی وجہ سے اس کی مقبولیت اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔المیہ یہ ہے کہ غلطیاں بار بار کی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پارٹی  کی قیادت کو احساس نہیں کہ وہ سندھ میں کتنی کمزور ہو گئی ہے۔ اس کے سیاسی مخالفین کچھ کر پائیں یا نہ کر پائیں یہ غلطیاں اس کو  نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہیں۔ اگر اس کے مخالفین ایک بار بھی یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ سندھ میں اب پیپلز پارٹی کا زورٹوٹ چکاہے تو آئندہ انتخابات میں اس کی اکثریت سے کامیابی کے امکانات کم ہو جائیں گے۔
 مخالفین چارج شیٹ جاری کریں گے۔ وزراء اپنی کارکردگی کی رپورٹ دیں گے۔
 پارٹی کی  مرکزی خواہ  صوبائی قیادتابھی تک اس خواب میں رہ رہی ہے کہ سندھی ووٹ ہاری ووٹ ہے اور وہ اس کی جیب میں پڑاہوا ہے۔  ”سندھی کہاں جائیں گے؟ شہید بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کا حساب ابھی نہیں ہوا ہے۔“ابھی بلاول بھٹو کا میدان میں اترنا باقی ہے۔ سندھ کے اکثر وزرا ء اور منتخب نمائدے اس خام خیالی میں ہیں کہ لوگ ایک مرتبہ پھر انہیں منتخب کر لیں گے۔ مگر عوام کا حافظہ اتنا بھی کمزور نہیں۔بہت سے سوالات ہیں۔ کیاعوام چار سال کی کرپشن،ملازمتیں بیچنے کو بھی بھول جائیں گے؟ ترقیاتی منصوبوں میں کی گئی خوردبردبھی یاد نہیں رہے گی؟ 
پیپلز پارٹی کی قیادت اور اراکین اسمبلی شاید یہ سمجھتے ہیں کہ سندھ میں دوہرے بلدیاتی نظام لاگو کرکے انہوں نے بڑا کارنامہ کیا ہے۔ مگر لیاری میں سی آئی ڈی آپریشن پارٹی میں ذوالفقار مرزا، بابر اعوان، فیصل رضا عابدی کے ساتھ پارٹی کا رویہ ایسے معاملات ہیں جس پر لوگوں کو مطمئن کرنا بہت مشکل ہے۔ لوگوں کے پاس یہ بھی سوال ہے کہ کیاسندھ کے اقتدار میں ایم کیو ایم کی شراکت سو فیصد درست فیصلہ تھا؟ گرفتار دہشتگردوں کی پیرول پر رہائی بھی ٹھیک تھی؟ کیاکراچی میں داخل دس لاکھ سے زائد سندھی ووٹروں کا اخراج کراچی میں آباد تیس لاکھ سے زائد بنگالیوں، بہاریوں، برمیوں اور افغانیوں کی موجودگی اور ان کو بتدریج شہریت دینے کا عمل بھی صحیح ہے؟
 اس پر بھی سندھ کے لوگ مطمئن نہیں کہ وہ پارٹیاں  جوبے نظیر بھٹو کے وقت اقتدار میں تھیں  آج پیپلز پارٹی کی اتحادی ہیں۔ 
 حالات سے لگتا ہے کہ مستقبل میں اقتدار کے حوالے سے  پیپلز پارٹی کاسب سے بڑا مقابلہ نواز شریف کے ساتھ ہونا ہے۔ مگریہ حقیقت نہیں بھولنی چاہئے کہ آج کے تمام اتحادی کل نواز شریف کے اتحادی بن سکتے ہیں۔بلکل اسی طرح سے جیسے یہ لوگ گزشتہ کل کو مشرف کے اتحادی تھے۔
 پیپلز پارٹی کی حکمت عملی کچھ اس طرح کی نظر آتی ہے کہ سب وڈیرے، میر پیر اور بااثرلوگ پیپلز پارٹی میں شامل کر لیے جائیں۔ نواز شریف کو کوئی  الیکٹ ایبل ہی نہیں ملے گا۔اگر ہوا کا رخ پیپلز پارٹی کے حق میں نہیں بنتا، تووہ لوگ  جو ہوا کا  رخ سمجھتے ہیں وہ کچھ بھی ہو جائے پیپلز پارٹی کے ساتھ کھڑے نہیں ہونگے۔ اور یہ بھی کہ  چکھ لوگ ابھی تک اپنا الگ تشخص برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ اگر فرض کرلای جائے کہ پیپلز پارٹی کی حکمت عملی کام کرتی ہے تو یہی وڈیرے وزیر ہونگے۔ اس صورتحال میں پیپلز پارٹی  کے ووٹر کا کیا بنے گا؟ وہ خود کو کہاں کھڑا ہوا پائے گا۔  پیپلز پارٹی آئندہ اقتدار کی جنگ میں سندھ کو بنیاد بنائے ہوئے ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صدر زرادری دسمبر کے پہلے ہفتے میں سندھ اسمبلی سے خطاب کرنے والے ہیں۔
 سند ھ میں بلدیاتی نظام کے خلاف جاری تحریک  کے بارے میں یہ تنقید کی جارہی ہے کہ سندھ بچایو کمیٹی کی بعض رکن جماعتیں اور فنکشنل لیگ احتجاج کو فیصلہ کن نہیں بنانا چاہتی ہیں اور وہ اس نقطے کو انتخابات کا اشو بنانا چاہتی ہیں۔ سندھ بچایو کمیٹی اور فنکشنل لیگ اگر بھرپور جلسہ کرنا چاہیں تو لاکھوں افراد کٹھے کر سکتی ہیں۔ یہ اجتماع ان جماعتوں کی سنجیدگی اور سیاسی طاقت کا مظہر ثابت ہو سکتا ہے۔ جو پیپلز پارٹی کے لیے خطرے کا سگنل ہو سکتا ہے۔
 نواز شریف کا کہنا ہے کہ وہ ملک بھر میں ایک وسیع تر اتحاد بنانا چاہتے ہیں اور یہ بھی کہاا کہ انہوں نے قوم پرستوں اور فنکشنل لیگ سے بھی رابطے کئے ہیں۔ اس بیان کے پس منظر میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ عام انتخابات سے پہلے ملک میں دو بڑے اتحاد بننے والے ہیں۔ ایک موجودہ حکمران اتحاد اور دوسرا  حکمران مخالف اتحاد۔ ایک کی قیادت صدر آصف علی زرداری کریں گے۔  اور دوسرے کی قیادت نواز شریف اور سندھ میں فنکشنل لیگ کریں گے۔ سندھ پیپلز پارٹی کی سیاسی قوت کا مظہر ہے۔لہٰذا نواز شریف سندھ میں سیاسی حیثیت چاہتا ہے۔
اقتدار کے آخری دنوں میں خورشید شاہ بھی کہتے ہیں کہ کراچی میں آپریشن کرنا پڑے گا۔یہ بات ذوالفقار مرزا نے دو سال پہلے کہی تھی اور قوم پرست مسلسل کر رہے ہیں۔ ان تمام باتوں کا حساب تو بہرحال دینا پڑے گا۔پیپلز پارٹی کو اپنی سیاسی غلطیوں کا ازالہ کرنا پڑے گا۔ جس کے لیے وقت تیزی کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے نکلا چلا جا رہا ہے۔ 

No comments:

Post a Comment