Tuesday, 10 March 2020

نواز شریف سندھ میں اسٹیک ہولڈر نہیں ہوئے Feb 7, 2013

Thu, Feb 7, 2013 at 11:56 AM
 ۷ فروری ۳۱۰۲
 نواز شریف سندھ میں اسٹیک ہولڈر نہیں ہوئے   

 میرے دل میرے مسافر۔۔۔  سہیل سانگی 
 اسلام آبادمیں اقتدار حاصل کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی جماعت کی قومی جماعت کے طور پر پہچان ضروری ہے۔یعنی  چاروں صوبوں میں حمایت ہی نہیں بلکہ پارٹی کی موثر تنظیم  اورایون میں پارٹی ٹکٹ پر منتخب اراکین از حد ضروری ہیں۔ گذشتہ انتخابات میں میاں نواز شریف کو وفاق میں حکومت بنانے کا کوئی آسرا نہیں تھا تو انہوں نے سندھ سے کوئی ایک بھی امیدوار کھڑا نہیں کیا تھا۔اور اسی طرح انہوں بلوچستان میں بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔ اس مرتبہ وہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ بلوچستان میں سردار مینگل  سے غیررسمی اتحاد قائم کیا۔ جبکہ سندھ میں پارٹی کی تنظیم سازی  کے لیے کوشش ادھوری چھوڑ کر وہاں بھی اتحادی تلاش کر لیے ہیں۔ گزشتہ دو سال سے وہ گاہے بہ گاہے سندھ آتے رہے  اور اس کوشش میں رہے کہ کسی ہیوی ویٹ کو پارٹی میں شمولیت کے لئے قائل کر سکیں۔
ممتاز بھٹو اور مس ماروی میمن کے بعد اب تک سندھ میں پیپلز پارٹی سے ابھی تک تین شخصیات ظفر علی شاہ، نبیل گبول اور اسلم ابڑو نے نواز لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ قوم پرست جماعت سندھ ترقی پسند پارٹی جو اب پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی اور عوامی تحریک سے انکااتحاد ہوا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی وفاق میں پیپلز پارٹی کے متبادل ہونے کی پوزیشن کی وجہ سے قادر مگسی اور رسول بخش پلیجو سیاسی حکمت عملی کے طور پر نواز شریف کے اتحادی رہے ہیں۔ان دوجماعتوں سے نواز شریف کو کسی حد تک سندھ میں سیاسی طور پر تقویت مل سکتی ہے۔

 مشرف دور میں سیاسی منظر پر آنے والی ساحلی ضلع ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والی ماروی میمن  واحد سیاستدان تھی جنہوں نے سب سے پہلے نواز لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ ماروی نے مسلم لیگ (ق) کو الوداع کہنے کے بعد کچھ عرصہ عمران خان کی پیشکش پر غور کرتی رہی۔بالآخرانہوں نے رائیونڈ پہنچ کر نواز لیگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ماروی میمن کا اپنا کوئی بھی ووٹ بنک یا حلقہ انتخاب نہیں۔کیونکہان کا آبائی ضلع ٹھٹہ پیپلز پارٹی یا پھر شیرازیوں کے زیر اثر ہے۔ اس وقت تک انکا کنٹری بیوشن یہ ہے کہ وہ سندھ کے مختلف اشوز پر جلسے جلوس اور احتجاج رتی رہی ہیں۔ خصوصی نشست کی طلبگار ماروی سندھ میں نواز لیگ کی سیاسی مہم چلانے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔

 گھوٹکی اور شکارپور کے مہر برادران یعنی مشرف دور کے وزیر اعلیٰ سندھ علی محمد مہر اور موجودہ  وفاقی وزیر غوث بخش مہر کوبھی راضی کرکے پارٹی میں لانے کی کوششیں تاحال نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی ہیں۔ غوث بخش مہر مسلم لیگ (ق) کے کوٹے پر وفاقی وزیر تھے۔ جنہوں نے حال ہی میں مسلم لیگ فنکشنل میں شمولیت اختیار کر لی۔
جب کچھ اور صورتحال تبدیل ہوئی توسابق وزیر اعلیٰ سندھ لیاقت جتوئی نے مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا اعلان کیا۔لیاقت جتوئی ماضی میں نواز شریف کی پارٹی میں رہے ہیں اور وزیر اعلیٰ بھی رہے۔ بعد میں انہیں ہٹا گورنر راج نافذکردیا گیا اور غوث علی شاہ کو مشیر اعلیٰ بنایا گیا۔ لیاقت جتوئی مشرف دور میں وفاقی وزیر پانی و بجلی بھی رہے۔ایک عرصے تک قوم پرستی کے لبادے میں سیاست کرنے والے لیاقت جتوئی پیپلز پارٹی کے بغیر جو بھی سندھ میں سیٹ اپ بنا اسکا حصہ رہے ہیں۔

 نوز شریف نے سندھ نیشنل فرنٹ کے سربراہ ممتاز بھٹو کو پارٹی میں لے آئے۔ ممتاز بھٹونے ضیا دور میں پیپلز پارٹی سے علحدگی اختیار کی تھی۔اور اس کے بعدوہ پیپلز پارٹی کے کٹر مخالف رہے ہیں۔ نواز شریف کو ممتاز بھٹو سے بڑی توقعات وابستہ تھیں کہ پیپلز پارٹی شہید بھٹو سمیت سندھ کی بعض قوم پرست جماعتوں کو نواز لیگ کا اتحادی بنانے میں معاون ثابت ہونگے۔ مگر ممتاز بھٹویہ کام نہیں کر پائے۔ 
آگے چل کر  نواز شریف نے جیئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ کی پارٹی سندھ یونائٹیڈ پارٹی سے اتحاد کیا اور ایک اعلان نامے پر بھی دستخط کئے۔ 

نواز لیگ کے لیے سندھ میں سیاسی طور پروجود رکھنا محنت طلب کام ہے۔ سندھ کے لوگ اپنے مسائل اور مصائب کے لیے پنجاب کو ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ اور مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کی پارٹی سمجھتے ہیں۔ اور نوز شریف ان پر کوئی واضح موقف اختیار نہیں کر سکتے۔  

پیپلز پارٹی نے جب بلدیاتی نظام کا متنازع قانون لاگو کیا تو نواز شریف کو موقع ملا کہ وہ سندھ کے لوگوں کا ساتھ دیں۔ اور اس تاثر کو کم کرنے کی کوشش کریں کہ سندھیوں کا مخالف پنجاب نہیں بلکہ ایم کیو ایم ہے۔ 

نواز شریف کے لیے سندھ میں گنجائش موجود تھی کہ وہ سندھ میں اپنی پارٹی بناتے۔ اور سندھ اور پنجاب کے اس پرانے اتحاد کو زندہ کرتے۔اس مقصد کے لیے انہیں اپنی پالیسیوں اور حکمت عملی میں تبدیلی لانی پڑتی۔ اگر وہ اپنی پالیسی میں کوئی بڑی شفٹ لے آتے ہے توسندھ کے دروازے کھل سکتے تھے۔ان کے سمانے دو سوال تھے۔ پہلا یہ کہ وہ پارٹی کو مستقل بنیادوں پر خود کوسندھ کی سیاست میں رکھنا چاہتے ہیں یا سیاسی شارٹ کٹ کے ذریعے اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں؟اگر پہلا راستہ اختیار کرتے  توتنظیم سازی کرتے اورعام لوگوں سے رجوع کرتے۔ دوسرا یہ کہ بااثر وڈیرے جو منتخب ہو سکتے ہیں ان سے رجوع کریں۔اور چند کچھ نسشتیں حاصل کریں۔ نواز شریف نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ وہ پی پی مخالف وڈیروں کو جمع کر رہے ہیں۔اس سے نواز شریف اور ان وڈیرہ خاندانوں کو تو فائدہ مل سکتا ہے مگر سندھ کی سیاست میں کوئی نیاپن نہیں آئے گا۔مگر انہوں نے سندھ میں براہ راست اسٹیک ہولڈر بننے کے بجائے اتحادی اور حامی ڈھونڈنے کو ترجیح دی۔نواز لیگ سمجھتی ہے کہ اس کا گڑھ پنجاب ہے اور دوسرے صوبوں سے اسے صرف مدد چاہئے۔ان صوبوں کو برائے نام کچھ دینے سے کام چل جائے گا۔
سندھ میں مسلم لیگ (ن) کی تنظیمی صورتحال غیر اطمینان بخش رہی ہے۔میاں صاحب نے شروع سے ہی پارٹی کی تنظیم کاری کے بجائے ایسے لوگوں پر تکیہ کیا جو تھوڑا بہت ووٹ بنک رکھتے ہیں۔ اور انتخابات جیت اسمبلی  میں آکر ان کی حمایت کر سکتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اس صوبے میں نہ پارٹی بنائی اور نہ ہی اپنا کوئی ووٹ بنک۔ انہوں نے  ایسے بنے بنائے لوگوں پر تکیہ کیا جو اپنا حلقہ انتخاب رکھتے تھے۔یوں موقع پرست لوگ ہی ان کے گرد جمع ہوتے رہے۔ اور حکومت جانے کے بعد ان سے علحدہ ہوتے رہے۔

 یہ بھی المیہ رہا کہ جب شہباز شریف پارٹی کے سربراہ بنے تو انہوں نے پرانے لوگوں کے بجائے سردار رحیم جیسے لوگ آگے لے آئے۔ جس کی وجہ سے اختلافات بھی بڑھے اور پرانے لوگوں کی حوصلہ شکنی بھی ہوئی۔ یوں سندھ میں تنظیمی طور پر پارٹی ختم ہو کر رہ گئی۔ اضلاع تو دور کی بات ہیں ابھی تک پارٹی کی صوبائی سطح پر بھی تنظیم سازی مکمل نہیں ہے۔ممتاز بھٹو، ماروی میمن  اور لیاقت  جتوئی کی شمولیت کے بعدپارٹی کی تنظیم سازی کے لیے  ہاف ہرٹیڈلی کوشش کی  گئی مگر اس میں پہلی ترجیح الیکٹ ایبل کو پارٹی میں شمولیت کرانا تھا۔
پیر پاگارا کی فنکشنل مسلم لیگ کی حکمراں اتحاد سے علحدگی کے سندھ میں نواز شریف کے لیے سندھ میں اور گنجائش کم ہو گئی۔ پہلے مسلم لیگ ّق) ان کی راہ  میں رکاوٹ بن رہی تھی، کیونکہ الیکٹ ایبل جو پیپلز پارٹی میں کسی وجہ سے شمولیت اختیار نہیں کر پا رہے تھے وہ  قاف لیگ میں  پناہ لے رہے تھے۔ اب وہی لوگ فنکشنل میں شامل ہورہے ہیں۔دریں اثناء سندھ کے قوم پرست بھی پیر پاگارا کی چھتری میں اتحاد قائم کر چکے ہیں۔
 اب صورتحال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) تنظیمی حوالے سے جہاں پہلے تھی وہیں کھڑی ہے۔ قوم پرستوں سے اتحاد بھی  پیر پاگارا کی معرفت ہو گیا ہے۔ یعنی نواز شریف کا اتحاد پیر پاگارا سے اور پاگارا کا اتحاد قوم پرستوں سے ہے۔ تجزیہ نگار وں کا خیال ہے کہ اس طرح سندھ ایک بار پھر نواز شریف کی نچلی ترجیح میں چلا گیا ہے۔ اور سندھ  دو  معرفتوں کے بعد نواز شریف تک پہنچ پائے گا۔اس صورتحال کو سیاسی حلقے اچھا شگون  نہیں قرار دے رہے ہیں۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ نواز شریف کو براہ راست پیپلز پارٹی کے متبادل کے طور پر سندھ میں آنا چاہئے تھا،  یہ ٹاسخ مشکل ضرور تھا مگر ناممکن نہیں تھا۔اس سے سندھ میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوگا کہ نواز شریف  صرف اقتدار حاصؒ کرنے کے لیے سندھ آئے ہیں، ان کی ترجیح سندھ نہیں پنجاب ہی ہے۔

No comments:

Post a Comment