Monday, 9 March 2020

گول میز کانفرنس کا معمہ ۔۔ 2012-7-29

Jul 29, 2012
گول میز کانفرنس کا معمہ  ۔۔ میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی 
وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے عہدہ سنبھالنے کے چند روز بعد ملکی معاملات مشاورت اور افہام وتفہیم سے حل کرنے کے لیے کل جماعتی کانفرنس کی تجویز دی تھی۔ مگر اب کل جماعتی کانفرنس متحدہ قومی موومنٹ بلا رہی ہے جس نے مختلف پارٹیوں سے رابطے کئے ہیں اور کچھ اہم پارٹیوں سے  سے ملاقاتیں بھی کی ہیں۔چوبیس جولائی کو صدر زرداری نے وزیراعظم کو ہدایت کی کہ وہ ملک کو مسائل سے نکالنے کے لیے جلد کل جماعتی کانفرنس بلائیں اور مشاورت کر کے مستقبل کے لیے ایک مربوط لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
سیاسی مشاورت سے معاملات چلانا اچھی بات ہے مگرحکومت نے چار سال کا عرصہ گزار دیا، اب اس کے اقتدار کی مدت چند ماہ رہ گئی ہے تو کانفرنس بلا رہی ہے۔ ایسی کانفرنس کی کیا افادیت ہو سکتی ہے۔چار سال کے دوران اتحادی پارٹیاں نہ صرف مخالفین سے بلکہ آپس میں بھی لڑتی رہیں۔ تب کسی کو نہیں سوجھا کہ ایسی کانفرنس بلائی جائے۔
 ایوب خان کی مشہور گول میز کانفرنس ہے جس میں انہوں ے اپوزیشن کے بالغ رائے دہی پر انتخابات، اور ون یونٹ توڑنے کے مطالبات تسلیم کر لیے تھے مگر اسٹبلشمنٹ کو یہ بات پسند نہیں آئی اوراس نے مداخلت کی۔ بہرحال بعد میں یحیٰ خان کو انہی مطالبات پر عمل کرنا پڑا۔موجودہ حکومت بھی کئی کل جماعتی کانفرنسیں کرا چکی ہے۔
 بلوچستان کے حالات اور توانائی کے بحران، اور سلالہ پوسٹ پر امریکی حملے کے بعد کی صورتحال پر بلائی گئی کانفرنسیں موجودہ حکومت کے ریکارڈ پر ہیں۔ لیکن بلوچستان ابھی بھی جل رہا ہے اور توانائی کا بحران جوں کا توں ہے۔توانائی کانفرنس میں ملک کے بڑے صوبے  کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی شرکت کی۔کانفرنس میں انہوں نے مختلف سفارشات پر اتفاق کیا مگر واپس جب لاہور پہنچے تو یہ سفارشات ماننے سے انکار کردیا۔اس طرح کی کئی ایک کانفرنسیں بلائی جا چکی ہیں۔مگر بات نیک خواہشات سے بڑھ کر عمل کے حدود میں داخل نہ ہو سکی۔
نواز شریف نے ماہ رواں کے دوراں بلوچستان کے اشو پر کانفرنس بلانے کا ارادہ ظاہرکیا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ بعد میں بعض طاقتور اداروں کی ناراضگی کی وجہ سے انہوں نے یہ ارادہ ترک کردیا۔ حال ہی میں انہوں نے نگراں سیٹ اپ کے لیے بھی کانفرنس بلانے کا عندیہ دیا ہے۔ مگر وہ اس ضمن میں معاملات پیپلز پارٹی سے اپنے طور پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے بھی کراچی کے مسئلے پر اگست میں کل جماعتی کانفرنس بلانے کا ااعلان کیا ہے۔
اسلام آباد کے بعض دانشور یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ کانفرنس صرف ایک نکاتی ہونی چاہئے وہ نکتہ ہے ملک کو درپیش بیرونی خطرات۔
 کسی بھی اشو پر کانفرنس بلانا اس اشو کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔مگر ہر مرتبہ یہ مشق رائیگاں جاتی ہے جب کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا، اگر تمام اسٹیک ہولڈرز اس پر متفق ہوں کہ ہمیں اس بحران سے نکلنا ہے اور اس بارے میں مخلص بھی ہوں۔
 ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی تجویز پرکل جماعتی گول میز کانفرنس کے لیے پارٹی کے رہنما مختلف پارٹیوں کے لیڈروں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما ؤں نے صدر زرداری سے کراچی میں ملاقات کے بعد بتایا کہ صدر آصف زردای نے گول میز کانفرنس کی تجویز دی تھی جس کو انہوں نے آگے بڑھایا ہے۔
ایم کیو ایم کانفرنس کیوں بلا رہی ہے؟ اس کے پیچھے کونسے محرکات اور مقاصد ہیں؟ اس پر ہر ایک سوالات کر رہا ہے۔بعض مخالف حلقے کہتے ہیں کہ کیا اچانک ایم کیو ایم کو احساس ہو ا کہ قومی معاملات صرف صدر زرداری اور حکمراں جماعت پر نہیں چھوڑے جا سکتے؟عمران خان اور جماعت اسلامی کو چھوڑ کے باقی  تمام اہم جماعتیں پارلیمنٹ میں بھی موجود ہیں۔وہاں پر بھی تو بات ہوسکتی ہے۔ تو پھر کانفرنس کیوں بلائی جا رہی ہے؟  ایم کیو ایم نے کیا سوچ کہ کانفرنس بلائی کہ وہ دیگر جماعتوں مسلم لیگ (ن) عمران خان  اور جماعت اسلامی کی بھی مدد لے؟  
 ایم کیو ایم کئی بار یہ کوشش کر چکی ہے کہ وہ ایک قومی سیاسی پارٹی کا دکھاوا دے۔ مگر ان کوششوں میں تب ناکام رہی۔اس کانفرنس کے ذریعے اپنا یہ مقصد آگے بڑھا سکتی ہے۔مبصرین کا خیال ہے کہ ایم کیو ایم بلکل کونے میں چلی گئی تھی۔ کانفرنس کی تجویزنے ایم کیو ایم کوسیاسی فائدہ پہنچایا ہے۔ اس کے اے این پی، مسلم لیگ (ن)، تحریک انصاف،  جماعت اسلامی سمیت ملک کی دیگر پارٹیوں سے ایک عرصے سے ناخوشگوار تعلقات تھے۔ اب ایم کیو ایم کے لیے موقعہ ہے کہ وہ ان پارٹیوں سے اپنے تعلقات بہتر بنائے۔اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ صدر نے اپنی اتحادی جماعت ایم کیو ایم کو میدان میں اتارا ہے۔ جو اپنے دو حلیف جماعتوں اے این پی اور جماعت اسلامی سے ہاتھ ملانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ ماضی کا ریکارڈ یہ ہے کہ یہ دنوں جماعتیں نہ ایک کیو ایم کو ایک آنکھ بھاتی ہیں اور نہ ہی ایم کیو ایم ان کو چاہتی ہے۔ بہرحال ایم کیو ایم  اپنے کراچی میں موجود دو حلیف جماعتوں اے این پی اور جماعت اسلامی  کے لیڈروں سے ملاقاتیں کرنے اور انہیں کانفرنس میں شرکت کے لیے راضی کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ 
اگرچہ نواز لیگ کی مشرف دور میں طلب کردہ کانفرنس کا اعلامیہ آڑے آسکتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اب ایم کیو ایم سے کوئی بات نہیں ہوگی۔ لیکن وہ تو دس سال پہلے کا قصہ۔وہ اس آڑ کو یہ کہہ کر ہٹا سکتی ہے کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی۔
مسلم لیگ (ن) اس کانفرنس پر ابھی تک سرکاری طور پر خاموش ہے تاہم ذاتی محفلوں میں اس بات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پیپلز پارٹی ایم کیو ایم کو استعمال کر رہی ہے تاکہ موجودہ خلفشار کی صورتحال میں اپنے لیے نرم گوشہ پیدا کر پائے۔ جس سے ان دونوں پارٹیوں کو فائدہ ہے۔ان کا خیال ہے کہ پی پی پی سپریم کورٹ سے شدید محاذآارئی میں ہے اب وہ سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ کھڑا کرنے کے لیے یہ تاثر دے رہی ہے کہ وہ سیاسی مفاہمت  اور اقتدار شیئر کرنے کے لیے تیار ہے۔لہٰذا یہ تحرک  پی پی پی پر دباؤ کو کم رنے کی ایک کوشش ہے۔نواز لیگ اور جماعت اسلامی کو یہ بھی ڈر ہے کہ اس کانفرنس کی آڑ میں انتخابات اس سال کے لیے ملتوی نہ ہو جائیں۔
کانفرنس میں مسلم لیگ (ن)، جے یوآئی (ف)، تحریک انصاف وغیرہ ممکن ہے کہ بعض تحفظات  کے باوجودشرکت کر بھی لیں۔مگرسندھ اور بلوچستان کے قوم پرستوں کی شرکت کو کیسے یقینی بنایا جائے گا؟ بلوچستان کا اشو ملک کے اندرونی خواہ بیرونی خطرات جن کا با ر بار ذکر کیا جا رہا ہے اس میں سر فہرست ہے۔ کیا یہ اشو کانفرنس کی ایجنڈا میں شامل ہے؟اگر شامل ہے بھی، کیا بلوچستان کی اصل قیادت جو بلوچستان کی صورتحال پر بلائی گئی کانفرنس میں بھی شریک نہیں ہوئی تھی وہ اس کانفرنس میں کیسے شرکت کر لے گی؟ یہی صورتحال سندھ میں بن سکتی ہے۔ سندھ کے قوم پرست جن کا جتنا تضاد پنجاب سے ہے اس سے بڑا یا اتنا  ہی ایم کیو ایم سے بھی ہے۔ اگر یہ لوگ بھی شرکت نہیں کرینگے تو یہ کانفرنس کیسے قومی کانفرنس کہلائے گی؟
 اس کانفرنس سے ایم کیوایم کا یہ بھلا ہوسکتا ہے کہ وہ ابھی تک علاقائی یا دو شہروں تک محدود پارٹی ہے۔ وہ اپنا قومی پارٹی ہونے کا تشخص بنا سکتی ہے۔ جس کے لیے دو تین مرتبہ کوشش بھی کر چکی ہے۔اگر ایم کیو ایم یہ کانفرنس اپنے ہیڈکوارٹر نائین زیرو کراچی میں منعقد کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ تاریخ کا بہت بڑا واقعہ ہوگا۔ عوامی نیشنل پارٹی نے ایم کیو ایم کی کانفرنس میں شرکت کی حامی تو بھر لی ہے مگر جس دن اے این پی کے لیڈروں سے ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی ملاقت ہوئی اسی دن پارٹی کے ایک ترجمان نے پشاور سے یہ موقف جاری کیا کہ وہ ایم کیو ایم کے ہیڈکوارٹر جانے پر غور کرے گی۔
  کانفرنس کے مقصد یا پس منظر میں دو باتیں نمایاں ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ ملک کو اندرونی و بیرونی خطرات ہیں جن کے پیش نظر یہ کانفرنس بلائی جا رہی ہے۔ جہاں تک بیرانی خطرات کا تعلق ہے ہمارے حکمراں روز اول سے کہہ رہے ہیں کہ ملک کی سالمیت کو خطرہ ہے، ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔
 سوال یہ ہے کہ ان خطرات کا ذمہ دار کون ہے؟ دیکھا جائے تو ہماری غلط خارجہ پالیسی نے ہمیں یہاں لا کھڑا کیا کہ ہم نے سرد جنگ میں بھی امریکہ کا ساتھ دیا، سیٹو، سینٹو اور دو طرفہ دفاعی معاہدوں میں امریکہ کے ساتھ جڑے رہے۔ان معاہدوں کی وجہ سے اپنا سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظام ایسا بنایا کہ ہم جمہوریت، عوام کے حقوق اور امن کو ترس گئے ہیں۔ افغانستان میں پراکسی جنگ بھی امریکہ کے لیے لڑی، اب دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی ہم آگے آگے ہیں مگر پھر بھی ہمارے اتحادیوں کو ہم پر یقین نہیں ہے۔ 
اگر اندرونی پالیسی کو لیا جائے تو اس کے لیے بھی ہماری سیاسی پارٹیاں یا سیاستداں ذمہ دار ہیں۔ اس ذمہ داری کا ایک حصہ اسٹبلشمنٹ کے کھاتے میں تو کچھ حصہ امریکہ کے کھاتے میں بھی جاتا ہے۔
یہ کانفرنس کوئی نتیجہ دے گی؟
اگر ملک کو درپیش مسائل کی بات کی جائے توبلوچستان کا معاملہ، عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان محاذ آرائی اور انتخابات اور نگراں حکومت کے معاملات فوکس میں ہیں۔ 
یہ کانفرنس چونکہ ایم کیو ایم بلا رہی ہے تو اور کچھ ہو نہ ہو۔ کم سے کم کراچی میں منظم جرائم اور دہشتگردی کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔کیونکہ تمام سیاسی پارٹیاں قومی سطح پر جمع ہونگی جہاں کھلے بحث اور سیاسی مشاورت کی توقع کی جا سکتی ہے۔ 
 یہ نواز شریف اور تحریک انصاف کے لیے بھی بہترین موقعہ ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر بیٹھیں۔ اور ایک دوسرے کے لیے گنجائش پیدا کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر سیاستدانوں کے بس میں ہے تو سندھ اور بلوچستان کے قومپرستوں کی شرکت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سیاسی پارٹیوں کی محاذ آارائی  ہمیشہ فوجی مداخلت کو جنم دیتی رہی ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اب حالات تبدیل ہوچکے ہیں اب ملک میں مارشل لا ء نہیں لگے گا تو یہ نہایت غلط فہمی ہے۔ یہ صرف تب ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں اپنے اختلافات ایک حد میں رکھیں۔ ورنہ رخصت ہونے والے امریکی سفیر بھی جاتے جاتے یہ کہہ گئے ہیں کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت مارشل لا ء چاہتی ہے۔


No comments:

Post a Comment