Mon, Jun 17, 2013 at 12:40 PM
نواز لیگ اور نئے صوبے
میرے دل میرے مسافر
نواز شریف حکومت کو جو فوری طور پر چیلینجز توانائی کا بحران، دہشتگردی، طالبان سے مذاکرات وغیرہ ہیں۔ مگر اس پورے قصے میں جو بات غائب ہے وہ صوبوں کے آپس میں تعلقات اور وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات ہیں۔ یہ وہ سوال ہے جو پاکستان کی سیاست پر روز اول سے چھایا رہا ہے۔ اس سوال کو صحیح طریقے سے ایڈریس نہ کرنے کے نتیجے میں ہم ادھا ملک کھو چکے ہیں۔ بلوچستان کی کی آج جو صورتحال ہے وہ بھی اسی ک نتیجہ اور سندھ میں جو ناراضگی ہے اس کی بیناد بھی یہی ہے۔ کل تک خیبرپختونخوا بھی اس وجہ سے خفا تھا۔
پیپلز پارٹی کی حکومت اٹھارویں ترمیم لے تو آئی مگر اس پر عمل درآمد کے لیے اسکو کئی مشکلات کا سامنا تھا۔ سب سے بڑی مشکل پنجاب میں موجود نواز لیگ کی حکومت تھی۔ اور پیپلز پارٹی پنجاب اور نواز لیگ کے ڈر کے مارے اس پر عمل درآمد نہیں کراسکی۔ بعض صورتوں میں ایسا بھی ہوا کہ پنجاب حکومت نے پیپلز پارٹی حکومت کی بعض ایسی تجاویز کی مخالفت کی جو اٹھارویں ترمیم کی شقوں پر عمل درآمد سے متعلق تھیں۔
ابھی تک اٹھارویں ترمیم کے صرف الیکشن کمیشن یا نگران حکومت وغیرہ کی شقیں عمل میں لائی گئی ہیں۔ جبکہ اس کا بہت بڑاحصہ عمل میں لانا باقی ہے۔ اگرچہ بعض محکمے صوبوں کو منتقل کردیئے گئے ہیں لیکن ان محکموں کے بہت سارے معاملات ابھی تک بیچ میں پھنسے ہوئے ہیں۔
اس پس منظر میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد نواز شریف کی پہلی حکومت ہے جس کو اس ترمیم پر عمل کرنا ہے۔ دوسرے الفاظ میں اب آئینی فریم ورک موجود ہے کہ صوبوں کی شکایات، غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔ اب معاملہ یہاں پر جا کے پھنستا ہے کہ پنجاب صوبوں کو واقعاتا کیا دینا چاہ رہا ہے؟ صوبوں کے مطالبات اور ضروریات کو کس حد تک تسلیم کیا جاتا ہے؟ یہ ایک بڑا امتحان ہے۔
دراصل اٹھارویں ترمیم ماضی کے تلخ تجربات اور ملک میں صوبوں اور جمہوریت کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر منظور کی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس پر سیاسی طور پر اتفاق رائے تھا۔اٹھارویں ترمیم کی منظوری سے پہلے اور اس کے بعد حالیہ برسوں میں بنیادی سوچ میں ایک تبدیلی محسوس کی گئی۔ ایک تاثر یہ دیا جانے لگا کہ نواز لیگ کا صوبوں کے بارے میں سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔
اس ضمن میں اختر مینگل سے گزشتہ سال کے مذاکرات، سندھ کے قوم پرستوں سے رابطے اور سندھ کی ایک قوم پرست جماعت سندھ یونائٹیڈ پارٹی سے تحریری معاہدہ وغیرہ کا خاص طور پر حوالہ دیا جاتا ہے۔ دوسرا مظہر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ خود بلوچستان اور سندھ کے قوم پرستوں کا رویہ بھی پنجاب اور پنجاب کی نمائندہ پارٹی کے بارے میں تبدیل ہوا۔ قوم پرستوں کا خیال تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کے درمیان تعلقات یا ٹکراؤ کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہی۔ اب ان تعلقات کو از سرنو ڈیفائین کرنے اور دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر ایسا ہی لگتا ہے۔
اس صورتحال کے پس منظر میں بعض تجزیہ نگار حالیہ انتخابی نتائج کی تشریح بھی اسی طرح سے کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فیڈریشن ہار گئی مگر جمہوریت جیت گئی۔ ان کا اشارہ چاروں صوبوں میں مختلف قسم کے مینڈیٹ کا آنا ہے۔ اور کوئی بھی ایک یا ملک گیر پارٹی چاروں صوبوں میں نہیں جیت سکی۔ پناجب میں نواز لیگ جیتی جو پناجب کی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی جیتی جو سندھ کی پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں پاکستان تحریک انصاف بطورپشتون پارٹی کے سامنے آئی۔ یہ مار خاصا دلچسپ ہے کہ پناجب کو چوڑ کر باقی صوبوں میں روایتی قوم پرست ہار گئے۔ اور نئے قسم کے قوم پرست سامنے آئے۔سوائے بلوچستان کے، جہاں پرروایتی قوم پرستوں نے میڈیٹ تقسیم ہو جانے کے باوجود اپنا وجود کسی نہ کسی شکل میں برقرار رکھا۔اورڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے بطور وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق کر کے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔ ایسا کر کے انہوں نے تقسیم شدہ میڈیٹ کے نقصان کا ایک حد تک ازالہ کرنے کی کوشش کی۔
اب جب روایتی قوم پرست میدان میں نہیں ہیں، ایسے موقعہ پر پنجاب کے لیے یہ زیادہ آسان ہو گیا ہے کہ وہ صوبوں کے درمیان تعلقات اپنی مرضی سے ریڈیفائین redefine کرے۔
اٹھارویں ترمیم میں جہاں جمہوریت اور اس عمل کی از سرنو تعریف کی گئی ہے وہاں صوبوں کے تعلقات کو بھی از سرنو دیکھا گیا ہے۔ اس میں کئی چیزیں بطورآئینی شقوں کے موجود ہیں لیکن باقی چیزیں بطور اسپرٹ کے بھی موجود ہیں۔ مثلا ڈاکٹر عبدالماک بلوچ جنہوں نے اس ترمیم کو بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی ٹیم نے جو سید خورشید شاہ اور سید نوید قمر پر مشتمل تھی، گوادر پر صوبے کا حق تسلیم کیا تھا، مگر بعد میں مکر گئے۔ مطلب اس طرح کے بعض نکات تھے جن پر اصولی طور پر اتفاق رائے موجود تھا لیکن ان کو کسی وجہ سے اس ترمیم کا حصہ نہیں بنایا جا سکا۔
نواز شریف کی حکومت صوبوں کو کس حد تک حقیقی معنوں میں اختیارات منتقل کرتی ہے یہ اہم سوال ہے۔ اس پورے قصے میں بعض منفی اشارے بھی ملے ہیں۔ مثلا نواز شریف نے کراچی میں میٹرو بسیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔ حالانکہ ٹرانسپورٹ پہلے بھی اور اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی مکمل طور پر صوبائی محکمہ ہے۔ جس سے وفاق کا کسی طور پر بھی اختیار نہیں۔دوسری طرف حکومت سندھ نے کراچی میں سرکیولر ریلوے چلانے کا اعلان کیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کے اس منصوبے کی حمایت کرتی اور اس کی مالی اعانت کرتی۔ مگر ایسا کرنے کے بجائے اس کے مقابلے میں اپنا منصوبہ لے آئی جس کا نہ آئینی اور نہ ہی منطقی جواز ہے۔
جب اٹھارویں ترمیم پر عمل ہونے جارہا ہے اور صوبوں کے درمیان آپس میں اور وفاق کے ساتھ تعلقات کو از سرنو استوار کیا جا رہا ہے اس وقت ملک میں اداروں کی صورتحال پر بھی ایک نظر ڈالنا ضروری ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عملی طور پر آج فیصلہ سازی اور اس پر عمل درآمد کے اداروں پر پنجاب کی بالادستی hegemonyہے۔ پارلیامنٹ میں نواز لیگ اب ہیوی مینڈیٹ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ عسکری ادارے اور بیورکریسی میں میں پنجاب حاوی ہے۔ یہی صورتحال عدلیہ کی بھی ہے۔ یہ چاروں ادارے اختیارات کی منتقلی اور ازسرنو تعلقات بننے کے اس عمل پر براہ راست اثرانداز ہونگے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ جب پنجاب کے پاس ہر حوالے سے اختیار کل حاصل ہے ملک اور قوم کی مفاد میں پنجاب یا اس کی نمائندہ جماعت نواز لیگ صوبوں کو حقیقی معنوں میں کیا دیتی ہے۔
No comments:
Post a Comment