Tue, Jul 24, 2012,
ایک خواب اور قوم پرست
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ کالم سہیل سانگی
سندھ میں یہ رائے حاوی رہی ہے کی مختلف ٹکڑوں اور گروپوں میں بٹے ہوئے سندھ کے قوم پرست جماعتیں مشترکہ پلیٹ فارم سے انتخابات لڑیں تو خاصا فرق پڑ سکتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے درمیان حالیہ انتخابی اتحاد کے بعد سندھ کے قوم پرستوں کا ایک پلیٹ فارم سے انتخاب لڑنا خارج ازامکان لگتا ہے۔ سندھ میں قومپرستی کے مختلف رنگ اور لہجے ہیں۔ ایک ہبت بڑا حصۃ جس میں جیئے سندھ قومی محاز کے دو گروپ، جیئے سندھ محاذ اور جیئے سندھ تحریک پارلیمانی یا وفاقی سیساست پر یقین نہیں رکتھے۔ باقی جو قوم پرست جماعتیں پارلیمانی سیاست کرنا چاہتی ہیں ان میں سے تین جماعتوں جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارتی، ایاز لطیف پلیجو کی عوامی تحریک اور ڈاکٹر قادر مگسی کی سندھ ترقی پسند پارٹی نے 2010ع میں سندھ پروگریسو نیشنلسٹ الائینس ”سپنا‘‘بنایا تھا۔اور مشترکہ انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تھا تاکہ سندھی ووٹرز کو تیسرا آپشن پیش کر سکیں۔
نواز شریف گزشتہ کئی ماہ سے انتخاب لڑنے کی خوہشمند ان تینوں سندھ کے قوم پرست پارٹیوں سے مسلسل رابطے میں تھے۔ان میں سے دو جماعتیں سندھ ترقی پسند پارٹی اورعوامی تحریک ان کے ساتھ اے پی ڈیم میں بھی انکے ساتھ تھیں۔مگر انہوں نے ان دو جماعتوں یا سپنا کے اتحاد سے ناطہ جوڑنے کے بجائے سندھ یونائٹیڈپارٹی سے تحادکے لیے چنا۔
جلال محمود شاہ کی سندھ یونائٹیڈ پارٹی تنظیمی طور خواہ ووٹ کے حوالے سے کوئی بڑی پارٹی نہیں ہے۔مگر ان کا نام اور تعارف بڑا ہے۔وہ سندھ کی قوم پرست تحریک کے بانی جی ایم سید کے پوتے ہیں۔ اور طبیعتا بہت ہی شریف آدمی ہیں۔تمام قوم پرست کا احترام کرتے ہیں۔مزید یہ کہ جلال محمود شاہ نواز شریف کے اس معیار پر پورے اترتے ہیں کہ بندہ بڑے خاندان سے ہو اور اپنی نشست نکالنے کی اہلیت رکھتا ہو۔
سندھ کے لوگوں کی یہ پرانی خواہش تھی کہ تمام قوم پرست مل کر انتخابات لڑیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ سندھ کے لوگ قوم پرستوں کو ایک موقعہ دینا چاہتے ہیں۔”سپنا“ نے اس خواہش کو عملی شکل دینے کے لیے کوشش کی مگر بدقسمتی سے یہ اتحاد سربراہی اتحاد سے آگے نہیں بڑھ سکا۔ آگے چل کر ڈاکٹر قادر مگسی نے عمران خان سے رابطہ کیا اور عوامی تحریک نے دیگراتحادیوں کو اعتماد میں لیے بغیر لیاری کی پیپلز امن کمیٹی سے اتحاد کیا اور سندھ بھر میں محبت سندھ ریلی پر فائرنگ کے خلاف سندھ بھر میں احتجاجی مہم چلائی۔عوام کے اچھے ریسپانس کے باوجود”سپنا“ علامتی اتحاد تو رہا پر عملی شکل نہیں اختیار کر سکا۔متنازع میگا پروجیکٹ ذوالفقارآباد مشترکہ ایجنڈا ہونے کے باوجود تمام اتحادی جماعتیں الگ الگ احتجاج کرتی رہیں۔
سندھ یونائٹیڈ پارٹی اور نواز لیگ نے آٹھ نکاتی اعلان نامے پر دستخط کئے ہیں جس میں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے زیادہ زیادہ صوبائی خودمختاری کے لیے جدوجہد کرنا۔سندھ کی جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ، 1991ع کے پانی کے معاہدے پر مکمل طور پر عمل کرنا شامل ہے۔معاہدے میں این ایف سی ایوارڈ کو بہتر بنانا کا نقطہ بھی مبہم شکل میں شامل ہے۔ کیا یہ نکات سندھ کے ان مطالبات کا احاطہ کرتے ہیں جو وقتا فوقتا سندھ کے لوگ اور حکومت اٹھاتی رہی ہے؟ تجزیہ نگاروں کو شبہ ہے کہ نواز شریف اقتدار میں آنے کے بعد سندھ کے کچھ قوم پرستوں کو اقتدار میں تو حصہ پتی دے سکتا ہے مگر سندھ کے سیاسی اور معاشی حقوق نہیں دے گا۔اس کا تجربہ دو مرتبہ نواز شریف کے دور حکومت میں ہو چکا ہے۔ اور آج بھی پنجاب میں جب نواز لیگ کی حکومت ہے اور اس کا سندھ کے مختلف معاملات پر رویہ مخصوص پنجابی بالادستی والا ہے۔اور یہ بھی کہ جب پیپلز پارٹی جس کا ووٹ بینک سندھ میں ہے وہ بھی حکومت میں ہوتے ہوئے کئی چیزیں نہیں کر سکی تو نواز لیگ یہ سب کچھ کیسے کر لے گی۔
نواز شریف کے پاس دو الگ حکمت عملیاں ہیں۔ ایک اتخابات کے لیے اور دوسری انتخابات کے بعد کی صورتحال کے لیے۔ایم کیو ایم سے وہ ابھی بات نہیں کرنا چاہتا۔ مگر اس بات کو بھی یقینی بنایا ہوا ہے کہ ابھی اس جماعت کے خلاف کوئی زیادہ نہ بولے کہ یہ جماعت بدک جائے۔وہ اس لیے کہ انتخابات کے بعد اگر ضرورت پڑے تو ایم کیو ایم سے اتحاد کر لیا جائے۔
’سپنا‘ میں موجود اتحادیوں کو چھوڑ کر سندھ کی باقی سیاسی گروپ اس اتحاد سے ناخوش ہیں۔جیئے سندھ کے مختلف گروپوں کو خاص طور پر زیادہ ناراضگی ہے۔جیئے سندھ کے ایک دھڑے جیئے سندھ قومی محاذ کے سربراہ عبدالواحد آریسر کا کہنا ہے کہ سندھ کی قوم پرست تحریک نہ کسی سندھی جاگیردار کی جھولی میں ہے اور نہ ہی کسی پنجابی سرمایہ دار کی حامی بنے گی۔
عبدالخالق جونیجو جی ایم سید کی زندگی میں جیئے سندھ محاذ کے چیئرمن رہے ہیں۔اب جیئے سندھ محاذ کے ایک گروپ کے سربراہ ہیں۔انہیں اس اتحاد پر سخت تحفظات ہیں۔ وہ جلال محمود شاہ کو جی ایم سید کا سیاسی جانشین نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ جلال محمود شاہ نے کبھی بھی قوم پرست سیاست نہیں کی۔وہ نوے کے عشرے میں ڈپٹی اسپیکر بھی نواز شریف اور ایم کیو ایم کی وجہ سے بنے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ جی ایم سیدبارہا استفار پریہ کہتے رہے کہ سیاست میں انکا کوئی جانشین نہیں۔جلال محمود شاہ جی ایم سید کی جائداد اور زمینوں کے تو وارث ہو سکتے ہیں مگر سیاسی وارث نہیں۔وہ جلال محمود شاہ کو سرے سے قوم پرست ہی نہیں مانتے۔ ان کے خیال میں میڈیا نے انکو قومپرست بنایا ہے۔
خالق جونیجو کے مطابق سندھ یونائٹیڈ پارٹی اقتدار کی لالچ میں آکر پنجاب کو خوش کرنا چاہ رہی ہے۔سید 1973 کے آئین کو مکمل طور پر رد کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ آئین سندھیوں کو بطور قوم نہیں مانتا تو کس طرح سے سندھ کے حقوق کا تحفظ کر پائے گا۔ اس آئین کے حامی سید کا نام استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے سندھ یونائٹیڈ پارٹی کے رہنما کو مشورہ دیا کہ وہ بزرگ ہستی کا نام اقتدار کے لیے استعمال نہ کریں۔خالق جونیجو کا کہنا ہے کہ قوم پرست الائینس اس معاہدے کے بعد عملی طور پر ختم ہو چکا ہے۔اور مشترکہ انتخاب لڑنے کا خواب بھی۔جیئے سندھ کے ان پرانے رہنما کاکہنا ہے کہ سندھ یونائٹیڈ پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس معاہدے میں پانی کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی بات کی گئی ہے۔ یہ معاہدہ خود نواز شریف نے ہی کیا تھا۔ اب وہ اس معاہدے پر عمل کرانا چہاتا ہے۔ جس کی سندھ کے لوگ تب اور اب بھی مخالفت کر رہے ہیں۔ سندھ کی وحدت یا جغرافیائی حدود کے تحفظ کی بات نواز شریف اس معاہدے سے قبل کہتے رہے ہیں۔
سینئر صحافی اورتجزیہ نگار ناز سہتو کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے دیگر قوم پرستوں سے بھی رابطے کئے تھے مگر وہ کسی معاہدے میں جانے سے ڈر رہے تھے اور شرما رہے تھے کہ پنجاب کی بالادستی والی پارٹی سے کیسے معاہدہ کر لیں۔ جلال محمود شاہ نے ہوشیاری کی اور لاہور گیا اور وہاں مذاکرات میں اتحاد کو اآخری شکل دی اور اپنے قریبی ساتھی شاہ محمد شاہ کومعاہدے کا ڈرافٹ بنوانے کے لیے اسلام آباد بھیجا۔انکے مطابق جلال محمود شاہ کے پاس اپنے حلقہ انتخاب سے زیادہ اثر نہیں ہے۔
عوامی تحریک کے صدر ایاز لطیف پلیجو اس اتحاد کے خلاف نہیں اور تبصرہ کرنے میں محتاط ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا اگر ایس یو پی کچھ انتظار کرتی کہ ”سپنا“ ایک چارٹر بنا لیتی اور اس کی بنیاد پر نواز شریف سے بات کی جاتی اور معاہدہ کیا جاتا۔وہ اس بات پہ اتفاق کرتے ہیں کہ اب ”سپنا کو سرگرم کرنا ذرا مشکل کام ہے۔ تاہم وہ پرجوش ہیں کہ ان کی پارٹی اس اتحاد کو زندہ کرنے کی کوشش کرے گی۔پلیجو کے خیال میں بہتر ہوتا کہ تمام قوم پرست ملکر انتخابات لڑتے اور سندھ کے لوگوں کو تھرڈ آپشن پیش کرتے۔اگر قوم پرست اس طرح وڈیروں کے ساتھ کھڑے ہونگے تو ان کے دلیل میں وزن کم ہو جائیگا کہ وڈیرے سندھ صحیح نمائندگی نہیں کرتے۔
یہ اتحاد نواز لیگ میں شمولیت کرنے والوں کو ڈھال مہیا کرے گا سیاسی تجزیہ نگار جامی چانڈیو کا کہنا ہے کہ پاکستان اب ایک ایسے دور میں داخل ہو چکا ہے جب بڑے مینڈیٹ اور بڑی پارٹیوں والا دور ختم ہو گیا ہے۔اب پارٹنرشپ اور اتحادوں یا چھوٹے گروپوں کا دور ہے۔
نواز لیگ کو سندھ میں پاؤں ٹکالنے کے لیے جگہ چاہئے تھی۔ کیونکہ اس جماعت کی اس صوبے میں کوئی باضابطہ تنظیم کاری نہیں۔یہ اچھا ہوا کہ نواز شریف نے ایم کیو ایم یا دائیں بازو کی جماعتوں کے بجاسئے قوم پرستوں سے معاہدہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ نواز شریف بڑے خاندانوں سے رابطہ کیا ہے جو انہیں اتخابات میں حمایت دے سکتے ہیں۔ اور یہ قوم پرستوں سے اتحاد ان کو سیاسی یا اخلاقی لیجٹمیسی دے گا۔ اس بات سے ہٹ کر قوم پرستوں کے پاس نہ ووٹ ہیں اور نہ ہی کوئی سیٹ۔اگر یہ لوگ اتحاد کی شکل میں جاتے تو زیادہ اچھا تھا۔ انہیں شبہ ہے کہ اب ”سپنا“ کا کوئی روشن مستقبل نہیں ہے۔تاہم نواز شریف کے لیے جیت ہی جیت ہے۔
جلال محمود شاہ کو ویسے کوئی زیادہ حمایت حاصل نہیں ہے وہ نواز شریف کے ساتھ معاہدے کے ذریعے ملک گیر پارٹی کی وجہ سے ملنے ولای کچھ حمایت حاصل کر سکتا ہے۔اگر اسٹبلشمنٹ پیپلز پارٹی سے ہٹ کر کوئی سیٹ اپ بنائے گی تو جلال محمود شاہ کام ّئیں گے،ایسے میں وہ سندھ میں وزیر اعلیٰ کے مناسب ترین امیدوار ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ نگاراور قانونداں بیریسٹرضمیر گھمرو کے پاس مختلف دلیل ہیان کے خیال میں پیپلز پارٹی نئے آنے والوں کو جگہ نہیں دے رہی تھی یہ اسکا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دو پارٹیوں نے جو چارٹر دیا ہے اس میں کوئی واضح اور ٹھوس چیز نہیں ہے۔ جو کچھ بھی ہے وہ مبہم ہے۔
ڈاکٹر قادر مگسی قوم پرستوں کے مشترکہ پلیٹ فار سے انتخابات لڑنے کے حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا۔ اب سب لوگ ”سپنا“ کے بارے میں سوالات کر رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سندھ کا ایجنڈا ان آٹھ نکات سے وسیع تھا۔ یہ چارٹر ناکافی ہے۔لگتا ہے کہ قوم پرست پارٹیوں کو انتخابات جیتنے کی بہت جلدی ہے۔بہرحال ان کا خیال ہے کہ ”سپنا“ برقرار رہے گا۔
نواز لیگ سندھ میں پیپلز پارٹی کو انتخابا ت میں نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ نواز لیگ انتخابات جیتنے کے بعد سندھ کے ساتھ بہتر سلوک کرے گی۔
تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اس اتحاد سے نوز لیگ کو پنجاب میں بھی فائدہ ملے گا اور بلوچستان میں نرم گوشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
No comments:
Post a Comment