Monday, 9 March 2020

سندھ میں گورننس کا سوال 2012-7-16

Jul 16- 2012 Question of governance in Sindh
سندھ میں گورننس کا سوال
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
پیپلز پارٹی کے گڑھ سندھ میں حکومت صرف پیپلز پارٹی کی ہی نہیں، ایم کیو ایم، مسلم لیگ فنکشنل، اے این پی اور این پی پی کی بھی ہے۔ یہ مخلوط حکومت ساڑھے چار سال مکمل کر چکی ہے اور آئینی مدت پوری ہونے میں باقی چھ ماہ ہیں۔ساڑھے چار سال کی مدت میں جو ہوا، اب وہ  چھ ماہ میں ٹھیک کرنا چاہتی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے ہدایت جاری کی ہیں کہ ہمارے پاس وقت کم ہے (شاید مقابلہ سخت بھی) لہٰذا سرکاری افسران قانون کی رٹ بحال کرائیں۔
 سندھ میں بھتہ خوری، اغوا، ڈاکے،  ٹارگیٹ کلنگز، ہندوؤں کے خلاف کاروائیاں عام ہیں۔دوسری طرف بیروزگاری اور بدحالی ہے ان مسائل کا دور دور تک حل نظر نہیں آتا۔گورننس نظر ہی نہیں آتی۔سندھ میں اقتدار اور اختیار کس کے پاس ہے؟پیپلز پارٹی اور اس کے وزیراعلیٰ کے پاس؟ اس کے اتحادیوں کے پاس؟ گورنر کے پاس؟ سمجھ میں نہیں آتا کہ اقتدار و اختیار کا مرکز کونسا ہے۔
 سیاسی مفاہمت یا حکومت میں شراکت داری کا عجب عالم ہے۔ سندھ جہاں سب حکومت میں ہیں کوئی بھی اپوزیشن میں نہیں ہے، کیونکہ یہاں اپوزیشن بطور ذائقے یا علامت کے بھی موجود نہیں۔ مسائل ہیں کہ حل ہو کے نہیں دیتے۔اگر اس شراکت داری کو حکمرانی نہیں کاروبار کے طور پر بھی لیا جائے تو بھی اس کے شراکت دار اپنے اپنے حصہ کا کام کرتے۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ لگتا ہے کہ سب کے سب  واقعتاکاروبار کر رہے ہیں۔یہ سب فنڈز، ملازمتوں، ترقیاتی اسکیموں اور دیگر مراعات کے لیے پہنچ جاتے ہیں۔اس کو بطور حق لے رہے ہیں۔ حکمرانی کے معاملات میں سب کی سب جماعتیں اپنا کوئی کردار ادا نہیں کر رہی ہیں۔ حکومت مجبور ہو کر ان کے تمام نخرے اٹھا رہی ہے۔
 وزیر اعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ اب ملازمتیں ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں تشکیل کردہ کمیٹیوں کے ذریعے دی جائیں گی۔ فوری طور پر سینئر اور وزیر تعلیم پیر مظہرالحق نے اس کی بھرپور مخالفت کی۔ان کا کہنا تھا کہ بطور سینئر وزیر ان سے نہیں پوچھا گیا اور نہ ہی کابینہ کو اعتماد میں لیا گیا۔ اس کے بعد کابینہ کے دو اجلاس ہو چکے ہیں۔ مگر حکومت کی طرف سے کوئی وضاحت نہیں آئی ہے۔
 وزیر اعلی سید قائم علی شاہ نے اعلان کیا کہ اب ہر ہفتے مختلف ضلع ہیڈکوارٹرز میں کابینہ کے اجلاس ہونگے، پہلا اجلاس جیکب آباد میں ہوا، جس میں 8 وزراء اور16 افسران نے شرکت کی۔حکومتی ذرائع کہتے یہ کیسا کابینہ کا اجلاس تھا  اتحادیوں کے تحفظات ظاہر کرنے پر وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ اس اجلاس میں صرف سکھر اور لاڑکانہ اضلاع کے وزراے شرکت کریں،  باقی بھلے نہ کریں۔اب دوسرا اجلاس تھرپارکر کے شہر مٹھی میں ہوا۔ان اجلاسوں کے اثرات اور نتائج  نکلنا باقی ہیں۔ ان اجلاسوں سے ہر ضلع کے ایم پی ایز اور ایم این ایز کو ایک بڑا فائدہ ہوگا۔ کیونکہ اس سے ان کی کارکردگی پر پردہ آ جائے گا۔ ویسے لوگوں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ وہ عوام سے نہیں ملتے، حلقے میں نہیں جاتے، کام نہیں کراتے وغیرہ وغیرہ۔ مگر اب وہ لوگوں کو کہہ سکیں گے اور دکھا سکیں گے کہ مسائل حل کرنا ان کے بس میں نہیں۔ وہ تو وزیراعلیٰ اور پوری کابینہ کو  لے آئے تھے۔ اصل میں وزیر اعلیٰ سندھ چاچا قائم علی شاہ جو بہت ہی شریف آدمی کے طور پر پہچانے جاتے ہیں، پوری ذمہ داری ان کے سر پر آجائے گی۔ 
صوبے میں کچھ اختیارات جو کہ وزیراعلیٰ کے ہیں وہ ابھی تک گورنر کے پاس ہیں جس میں صوبے کی سرکاری شعبے میں چلنے والی یونیورسٹیاں اور تعلیمی بورڈ شامل ہیں سندھ کی مختلف یونرورسٹیوں میں خاص طور پر بڑی یونیورسٹی سندھ  میں گزشتہ کئی ماہ سے بحران چل رہا ہے جہاں اساتذہ  وائیس چانسلر کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، اس بناء پر دو ماہ تک یونورسٹی بند بھی رہی اور تدریسی عمل بھی بند رہا۔ مگر گورنر نے نہ احتاج کو تسلیم کیا اور نہ ہی احتجاج کرنے والے اساتذہ سے ملاقات یا مذاکرات کئے۔ بعد میں نوابشاہ میں حال ہی میں قائم ہونے والی یونیورسٹی میں بھی بحران پیدا ہوگیا جہاں وائیس چانسلر نے پوری فیکلٹی کو ملازمتوں سے فارغ کردیا اور یہ یونیورسٹی بغیر اساتذہ کے چل رہی ہے۔ اس بارے میں جب اساتذۃ کے  وفد نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم الی شاہ سے ملاقات کی تو  انہوں نے کہا کہ انہیں ان چیزوں کے بارے میں  کچھ بھی علم نہیں ہے۔شاہ صاحب ایسے بھی نہیں ہیں کہ جھوٹ بولتے، اور یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ صوبے کے چیف ایگزیکیٹو ہیں انہیں صوبے میں ہونے والے اتنے بڑے احتجاج کا بھی پتہ نہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ چونکہ یہ سب کچھ گورنر کا دائرہ اختیار ہے لہٰذا وزیراعلیٰ نے اس بارے میں کچھ پتہ رکھنا اپنے لیے درد سر سمجھا۔ لیکن یہ بھی سمجھ میں نہیں آتا کہ وزیراعلیٰ کا اور اس کی کابینہ اور پارٹی کا حلقہ انتخاب تو سندھ ہے۔ وہیں کے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ وہیں کے اساتذہ احتجاج کر رہے ہیں۔
سندھ کے تین سینئر وزیر تھے۔ ذوالفقار مرزا چند ہفتوں تک گرجنے کے بعد بغیر برسے لاپتہ ہیں۔ پیر مظہرالحق وزیراعلیٰ سے اختلاف رکھ رہے ہیں۔منظور وسان وزیر داخلہ تھے آج کل اپنے آبائی گاؤں میں گوشہ نشین ہیں۔کبھی کوئی بھولے بھٹکے کوئی بیان آتا ہے تووہ بھی ان کا ذاتی موقف ہوتا ہے۔ حال ہی میں انہوں نے رواں سال ہی انتخابات ہونے کا خواب دیکھا ہے۔ان کا یہ موقف پارٹی کی لائین سے ہٹ کرہے۔
فنکشنل لیگ، اور ایم کیو ایم کبھی خوش کبھی ناراض کے مرحلوں سے گزر رہی ہیں۔ 
 سندھ میں بیوروکریسی کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔سیکریٹری اور اعلیٰ افسران کی ایک خاصی تعداد وزراء  کے عزیز رشتہ داروں کی ہے۔مثلا وزیراعلیٰ کی بیٹی سیکریٹری ہیں۔ دو ایس ایس پیز ایم پی ایز کے بیٹے یا بھتیجے ہیں۔ مخدوم خاندان کے ایک افسر سیکریٹری گریڈ میں ہیں۔ فی الحال ڈپٹی کمشنر ہیں مگر کسی بھی وقت سیکریٹری لگ سکتے ہیں۔ کچھ سیکریٹریوں کی آپس میں رشتہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ کے ایک سیکریٹری کی بیگم  ایک محکمہ کی سیکریٹری ہیں ایسے میں، صوبے کا نظام چل رہا ہے۔
کچھ معاملات صوبے میں بلدیاتی نظام کا فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے بھی پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ معاملہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیاں اختلافات کی وہ سے اٹکا ہوا ہے اور صوبے میں نہ پرویز مشرف والا  ناظمی سسٹم ہے اور نہ ہی پرانا بلدیاتی نظام۔ بلکہ دونوں ہیں بھی اور نہیں بھی۔ معاملات عبوری حکمنامے پر چل رہے ہیں۔
صوبے میں محکمہ آبپاشی کی کارکردگی پرحکومت  اور  خود کابینہ کے اراکین اور اسمبلی ممبران بھی خوش نہیں ہیں۔ دو سال قبل سیلاب کی وجہ سے نۃروں میں جو شگاف پڑے تھے انکی اطمینان بخش مرمت نہیں کرا سکا ہے یا پھر گذشتہ سال کی بارشوں کا پانی جو پانچ اضلاع میں کھڑا ہو گیا تھا۔ اس کی نکاسی نہیں کر پایا ہے۔ اس دونوں معاملات پر متعلقہ محکموں اور حکومت کے موقف الگ الگ ہیں۔ ابھی دوبارہ بارش کا موسم شروع ہو چکا ہے جس میں زبردست بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں کہ گزشتہ دو برسوں کی طرح امسال بھی کہیں تباہی نہ آئے۔اطلاعات ہیں کہ حکومت بیانات کچھ بھی دے مگر حفاظتی اقدامات سے مطمئن نہیں ہے۔یہ ہے سندھ میں مجموعی طور پر گورننس کی صورتحال۔جس میں خاصی افراتفری اور اتحادی جماعتوں، خود حکمراں جماعت کے اندر رابطے اور تعاون کا فقدان ہے۔ حکومت میں شامل جماعتیں اپنے ذاتی یا گروہی مفادات کو ہی دیکھ رہی ہیں۔ عام آدمی  کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔حکومت کو اس بات کا نوکب نوٹس لے گی اور کچھ اقدامات کرے گی؟ یہ بھی کسی کو نہ سمجھ میں آرہا ہے نہ یقین ہو رہا ہے۔

No comments:

Post a Comment