Sun, Nov 11, 2012 at 11:41 AM
انتخابات کے دہلیز پر محاذ آرائی
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
آرمی چیف جنرل کیانی کے بہت زیادہ سیاسی بیان اورعدلیہ کے چیف کے جوابی ریمارکس کہ سپریم کورٹ ہی سب سے سپریم ادارہ ہے پاکستان کے 65 سالہ طاقت کے مراکز کی ترتیب کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ جنرل کیانی کا اشارہ کس کی طرف ہے؟ ہر ادارہ اپنی طرف سمجھ رہا ہے۔ میڈیا اپنی طرف اور عدلیہ اپنی طرف سمجھ رہی ہے۔ جب کہ کچھ حلقے یہ اشارہ نواز لیگ کی طرف قراردے رہے ہیں کیونکہ نواز شریف سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت کی کھلے عام مخالف کرتے رہے ہیں۔ کیا واقعی پنڈی اور رائیونڈ کے راستے اتنے الگ الگ ہو چکے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پاکستان میں سیاسی محوروں میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی ہے۔ اصغر خان کیس کا فیصلہ اگرچہ ابھی تک شمہ دار قرار پائے جانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی تو نہیں کر پایا ہے مگر اتنا ضرور ہوا ہے کہ سیاسی فضا میں لہریں پیدا کر چکا ہے جس کے اثرات ملک کی سیاست پر دوررس ہونگے۔
عدلیہ سے عسکری حلقوں کی ناراضگی سمجھ میں آتی ہے۔ کیونکہ عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور ملک کے اہم خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اسد درانی کے لیے کہا ہے کہ وہ 90ع کے انتخابی عمل پراثرانداز ہوئے اور من پسند نتائج حاصل کرنے، اپنے آئینی اختیارات سے تجاوزکرنے پر ان کے خلاف کارروائی تجویز کی ہے۔سپریم کورٹ کے بلوچستان کی صورتحال اور وہاں دفاعی اداروں کی کارروایوں س سے متعلق رویے پر بھی ان اداروں کو تحفظات ہیں۔وزیراعظم نے سیاسی پریس رلیز جاری کردی ہے کہ اداروں میں ٹکراؤ نہیں۔ مگر شواہد، حالات اور واقعات اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔
کیا اس ٹکراؤ کا عوام کو بھی کوئی فائدہ پہنچے گا؟ یا ایک بار پھر وہ مزید گھاٹے میں جائیں گے؟ سوال تو بہت اہم ہے،مگر ایسا ہونے کی امید کم ہے۔طاقت کے اہم مراکز کی لابیاں کی موجود ہیں۔جو ان کے نقط نظر کوپیش کرتی اآگے بڑھاتی رہتی ہیں۔پاکستان میں منظم طریقے سے انتہاپسندی کو پروان چڑھایاگیا ہے او دقیانوسی سوچ کی جڑیں مضبوط کی گئیں۔ اس مکتبہ فکر کے لوگوں کی ہر حوالے سے مدد اور اعانت کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ انہی کی سوچ کوعام لوگوں کے ذہنوں میں بٹھایا گیا۔حال ہی میں ایک ’جید‘ قسم کے صحافی نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ فرمایا کہ روشن خیال پاکستان کا مطلب ہے کہ فوج نہ رہے اور اس کو ختم کردیا جائے۔ اس آئیڈیا کو بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کمال یہ ہے کہ ماضی میں کاشت کئے گئے اس طرح کے تصورات کی وجہ سے برانڈ کی مارکیٹ ابھی تک ہے۔
پاکستان کی اقتداری غلام گردش ااورپراسرار محل میں جنوں بھوتوں کی کئی کہانیاں ہیں۔جہاں ہر واقعہ حیرت انگیز ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں عدلیہ اور سول سوسائٹی کا نیا جنم ہوا۔ میڈیا بھی حیرت انگیز طور پر اس تحریک میں شامل ہوگئی۔یہ سب معجزہ ہی لگ رہا تھا۔کیونکہ عدلیہ ماضی میں ایسے بحرانوں کے موقعے پر عضوو معطل رہی ہے۔ویسے روایتی تعریف میں عدلیہ خود اسٹیٹسکو ہے۔ مگر چیف جسٹس کے اشو پریہ عدلیہ نئے جوہر کے ساتھ نمودار ہوئی ہے۔
آج تاریخ نے سب کے سامنے ایک نیا سوال پیش کردیا ہے کہ سیاسی قوتیں میڈیا اور سول سوسائٹی عدلیہ کی جانب ہے یا اس تقسیم میں دوسری جانب؟ اس معاملے میں پیپلز پارٹی کو زیادہ واضح ہونا پڑے گا کہ وہ موجودہ عدلیہ کے ساتھ اسکور سیٹل کرتی یا عسکری اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرتی ہے۔اسٹبلشمنٹ سے مزاحمت اور جمہوریت پسندی کی دعویدار اس پارٹی کو عدلیہ کی طرف کھڑا ہونا پڑے گا۔یہ درست ہے کہ یہ کوئی اتنا آسان فیصلہ نہیں۔اگر پی پی اپوزیشن میں ہوتی تو چوائس میں کوئی مشکل نہیں تھی۔مگر اقتدار میں ہونا اور اور عام انتخابات کا دہلیز پرہونامعاملے کو پیچیدہ بنادیتی ہے۔ ایسے میں مصلحت پسندی سے بالاتر ہو کر چوائس کرنا کٹھن آزمائش ہے۔ مگر طویل مدت کی سیاست کرنے کی خواہشمند پی پی کو سمجھنا چاہئے کہ ایسا موقعہ بار بار نہیں آئے گا۔ لہٰذا اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔اداروں کے درمیاں جب بھی ٹکراؤ ہوا ہے اس کا نشنہ حکومت ہی بنی ہے۔عدلیہ اس سے قبل فوج کے کہنے میں رہی ہے۔ بعض مبصرین ابھی بھی اندشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کیا پتہ کسی بھی وقت عدلیہ پھر فوج کا ساتھ دے۔
عدلیہ کی طرف پیپلز پارٹی کا رویہ اس وجہ سے بھی اچھا نہیں کہ اس پارٹی کو عدلیہ سے کبھی انصاف نہیں ملا۔ حال ہی میں اصغرخان کیس کے تفصیلی فیصلے میں عدلیہ نے ملٹری انٹیلیجنس سندھ کے سابق سربراہ ریٹائرڈ برگیڈیئر حامد سعید کا بیان شامل کیا ہے جس میں بے نظیر بھٹو کے خلاف زہر بھرا ہوا ہے۔اس موقعہ پر عدلیہ کی جانب سے موجودہ پارلیمنٹ کو خراج تحسین پیش کرنے کے ریمارکس امید کی کرن بن سکتے ہیں۔
نوازلیگ کے لیے عدلیہ کے موقف کے ساتھ کھڑا ہونا آسان ہے۔بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کی راہ میں میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی رکاوٹ ہیں۔میاں شہباز شریف نوجوانوں اور تبدیلی پسندوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا سہارا لینا چاہ رہے ہیں۔ اس لیے تبدیلی کی علامت حبیب جالب کے شعر پڑھ رہے ہیں۔ جبکہ چوہدری نثار کا خیال ہے کہ پاکستان میں اقتدار تک رسائی اسٹبلشمنٹ کے سہارے بغیرممکن نہیں۔لہٰذا نواز لیگ درحقیقت گومگو کا شکار ہے۔ عمران خان عدلیہ کے بہت حامی رہے ہیں انکا اس پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
اب ہم سب کو اس حقیقت کااعتراف کرنا چاہئے کہ 65 سال کا آدھا وقت فوج براہ راست اقتدار میں رہی جب کہ باقی عرصہ بھی سیاست سمیت تمام اہم معاملات میں حاوی رہی۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے دور اقتدار میں ٹرائیکا کی اصطلاح اسی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اور یہ بھی کہ جب بھی منتخب حکومت اقتدار میں آئی اس کے دوسرے دن ہی اس کو ہٹانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔
موجودہ حکومت جو اپنی آئین مدت پوری کر نے جا رہی ہے اس میں موجودہ آرمی چیف کی اچھائی کے ساتھ ساتھ بعض اور اندرونی و بیرونی حلقوں کا ہاتھ ہے۔ مگر اس کے باوجود کیری لوگر بل، میمو گیٹ، ججز کی بحالی کی تحریک، ایبٹ آباد آپریشن، سوئس حکام کو خط لکھنا کچھ ایسے اشوز تھے کہ وقتا فوقتا اٹھتے رہے۔
اگرچند سابق جنرلوں سے سوالات ہی کئے گئے ہیں۔اس کو ملک اور قوم کے مفاد میں برداشت کران چاہئے۔چیزیں اس حد تک خراب ہوچکی ہیں کہ واپسی کا راستہ ہی گم ہے۔ یہ بھی ادارک نہیں کہ ہم کہاں جا کر پہنچے ہیں اور چاہتے کیا ہیں؟ جب انتخابات کی بساط بچھائی جا رہی ہے ایسے موقعے پر طاقت کے محوروں کی پرانی ترتیب میں ٹکراؤ ناخوشگوار تاثر چھوڑ رہا ہے۔ ایسا تو نہیں کہ یہ تضاد نئے انتخابات کے عمل کو بہا کر لے نہ جائے؟ بڑی آسانی سے یہ کہا جا رہا ہے کہ کہیں بھی عسکری اداروں کے خلاف یوں کھل کر نہیں لکھا جاتا۔ ممکن ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوتا ہوگگا۔ مگر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ یہ عسکری ادارے دوسرے ممالک میں ایسا بھی نہیں کرتے ہونگے جیسا مسلسل ہمارے ملک میں ہوتا رہا ہے۔
ملک کے منتخب وزیر اعظم کو دو سال تک کال کوٹھری میں بند رکھ کر پھانسی چڑھایا گیا۔ دوسرے وزیراعظم کو نظربند کیا گیا جلاوطن کیا گیا کردار کشی کی گئی۔ تیسرے وزیراعظم کو عدالتی فیصلے کے ذریعے گھر روانہ کیا گیا۔ چوتھے وزیر اعظم کو ہتھکڑیاں ڈال کر جدہ بھیج دیا گیا۔ اور ان چاروں مواقع پر عوام کی منتخب پارلیمنٹ توڑی گئی، آئین کو لتاڑا گیا۔کیا یہ سب ملکی مفاد میں کیا گیا؟ اب جب سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تو ان کو برداشت بھی کرنا پڑے گا اور اہم سوالات کے جوابات بھی دینے پڑیں گے۔۔
طاقتور اداروں کو جرئت سے کام لے کر کہنا چاہئے کہ”بہت ہوچکا“ اور رویے میں تبدیلی لانی چاہئے۔انہیں ثابت کرنا چاہئے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس میں واقعی بعض افراد یا گروہ شامل تھے ادارے نہیں۔پاکستان کو نیا رخ دینے کے لیے ملک کی سیاسی اور ملٹری قیادت یہ فیصلہ کریں کہ آنے والی نسلوں کو وہ کیا سونپ رہی ہیں۔اب یہ احساس پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اور لوگوں کے پاس تبدیلی کے ذرائع بھی بہت ہیں اور لوگ باہر کی دنیا سے رابطے میں بھی زیادہ ہیں۔
انتخابات کے دہلیز پر محاذ آرائی
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
آرمی چیف جنرل کیانی کے بہت زیادہ سیاسی بیان اورعدلیہ کے چیف کے جوابی ریمارکس کہ سپریم کورٹ ہی سب سے سپریم ادارہ ہے پاکستان کے 65 سالہ طاقت کے مراکز کی ترتیب کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ جنرل کیانی کا اشارہ کس کی طرف ہے؟ ہر ادارہ اپنی طرف سمجھ رہا ہے۔ میڈیا اپنی طرف اور عدلیہ اپنی طرف سمجھ رہی ہے۔ جب کہ کچھ حلقے یہ اشارہ نواز لیگ کی طرف قراردے رہے ہیں کیونکہ نواز شریف سیاسی معاملات میں فوج کی مداخلت کی کھلے عام مخالف کرتے رہے ہیں۔ کیا واقعی پنڈی اور رائیونڈ کے راستے اتنے الگ الگ ہو چکے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پاکستان میں سیاسی محوروں میں تبدیلی آنا شروع ہوگئی ہے۔ اصغر خان کیس کا فیصلہ اگرچہ ابھی تک شمہ دار قرار پائے جانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی تو نہیں کر پایا ہے مگر اتنا ضرور ہوا ہے کہ سیاسی فضا میں لہریں پیدا کر چکا ہے جس کے اثرات ملک کی سیاست پر دوررس ہونگے۔
عدلیہ سے عسکری حلقوں کی ناراضگی سمجھ میں آتی ہے۔ کیونکہ عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ اور ملک کے اہم خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل اسد درانی کے لیے کہا ہے کہ وہ 90ع کے انتخابی عمل پراثرانداز ہوئے اور من پسند نتائج حاصل کرنے، اپنے آئینی اختیارات سے تجاوزکرنے پر ان کے خلاف کارروائی تجویز کی ہے۔سپریم کورٹ کے بلوچستان کی صورتحال اور وہاں دفاعی اداروں کی کارروایوں س سے متعلق رویے پر بھی ان اداروں کو تحفظات ہیں۔وزیراعظم نے سیاسی پریس رلیز جاری کردی ہے کہ اداروں میں ٹکراؤ نہیں۔ مگر شواہد، حالات اور واقعات اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔
کیا اس ٹکراؤ کا عوام کو بھی کوئی فائدہ پہنچے گا؟ یا ایک بار پھر وہ مزید گھاٹے میں جائیں گے؟ سوال تو بہت اہم ہے،مگر ایسا ہونے کی امید کم ہے۔طاقت کے اہم مراکز کی لابیاں کی موجود ہیں۔جو ان کے نقط نظر کوپیش کرتی اآگے بڑھاتی رہتی ہیں۔پاکستان میں منظم طریقے سے انتہاپسندی کو پروان چڑھایاگیا ہے او دقیانوسی سوچ کی جڑیں مضبوط کی گئیں۔ اس مکتبہ فکر کے لوگوں کی ہر حوالے سے مدد اور اعانت کی گئی ہے۔ یہاں تک کہ انہی کی سوچ کوعام لوگوں کے ذہنوں میں بٹھایا گیا۔حال ہی میں ایک ’جید‘ قسم کے صحافی نے ایک ٹی وی پروگرام میں یہ فرمایا کہ روشن خیال پاکستان کا مطلب ہے کہ فوج نہ رہے اور اس کو ختم کردیا جائے۔ اس آئیڈیا کو بیچنے کی کوشش کی جارہی ہے۔کمال یہ ہے کہ ماضی میں کاشت کئے گئے اس طرح کے تصورات کی وجہ سے برانڈ کی مارکیٹ ابھی تک ہے۔
پاکستان کی اقتداری غلام گردش ااورپراسرار محل میں جنوں بھوتوں کی کئی کہانیاں ہیں۔جہاں ہر واقعہ حیرت انگیز ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں عدلیہ اور سول سوسائٹی کا نیا جنم ہوا۔ میڈیا بھی حیرت انگیز طور پر اس تحریک میں شامل ہوگئی۔یہ سب معجزہ ہی لگ رہا تھا۔کیونکہ عدلیہ ماضی میں ایسے بحرانوں کے موقعے پر عضوو معطل رہی ہے۔ویسے روایتی تعریف میں عدلیہ خود اسٹیٹسکو ہے۔ مگر چیف جسٹس کے اشو پریہ عدلیہ نئے جوہر کے ساتھ نمودار ہوئی ہے۔
آج تاریخ نے سب کے سامنے ایک نیا سوال پیش کردیا ہے کہ سیاسی قوتیں میڈیا اور سول سوسائٹی عدلیہ کی جانب ہے یا اس تقسیم میں دوسری جانب؟ اس معاملے میں پیپلز پارٹی کو زیادہ واضح ہونا پڑے گا کہ وہ موجودہ عدلیہ کے ساتھ اسکور سیٹل کرتی یا عسکری اسٹبلشمنٹ کی خوشنودی حاصل کرتی ہے۔اسٹبلشمنٹ سے مزاحمت اور جمہوریت پسندی کی دعویدار اس پارٹی کو عدلیہ کی طرف کھڑا ہونا پڑے گا۔یہ درست ہے کہ یہ کوئی اتنا آسان فیصلہ نہیں۔اگر پی پی اپوزیشن میں ہوتی تو چوائس میں کوئی مشکل نہیں تھی۔مگر اقتدار میں ہونا اور اور عام انتخابات کا دہلیز پرہونامعاملے کو پیچیدہ بنادیتی ہے۔ ایسے میں مصلحت پسندی سے بالاتر ہو کر چوائس کرنا کٹھن آزمائش ہے۔ مگر طویل مدت کی سیاست کرنے کی خواہشمند پی پی کو سمجھنا چاہئے کہ ایسا موقعہ بار بار نہیں آئے گا۔ لہٰذا اس کے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔اداروں کے درمیاں جب بھی ٹکراؤ ہوا ہے اس کا نشنہ حکومت ہی بنی ہے۔عدلیہ اس سے قبل فوج کے کہنے میں رہی ہے۔ بعض مبصرین ابھی بھی اندشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ کیا پتہ کسی بھی وقت عدلیہ پھر فوج کا ساتھ دے۔
عدلیہ کی طرف پیپلز پارٹی کا رویہ اس وجہ سے بھی اچھا نہیں کہ اس پارٹی کو عدلیہ سے کبھی انصاف نہیں ملا۔ حال ہی میں اصغرخان کیس کے تفصیلی فیصلے میں عدلیہ نے ملٹری انٹیلیجنس سندھ کے سابق سربراہ ریٹائرڈ برگیڈیئر حامد سعید کا بیان شامل کیا ہے جس میں بے نظیر بھٹو کے خلاف زہر بھرا ہوا ہے۔اس موقعہ پر عدلیہ کی جانب سے موجودہ پارلیمنٹ کو خراج تحسین پیش کرنے کے ریمارکس امید کی کرن بن سکتے ہیں۔
نوازلیگ کے لیے عدلیہ کے موقف کے ساتھ کھڑا ہونا آسان ہے۔بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے کی راہ میں میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی رکاوٹ ہیں۔میاں شہباز شریف نوجوانوں اور تبدیلی پسندوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا سہارا لینا چاہ رہے ہیں۔ اس لیے تبدیلی کی علامت حبیب جالب کے شعر پڑھ رہے ہیں۔ جبکہ چوہدری نثار کا خیال ہے کہ پاکستان میں اقتدار تک رسائی اسٹبلشمنٹ کے سہارے بغیرممکن نہیں۔لہٰذا نواز لیگ درحقیقت گومگو کا شکار ہے۔ عمران خان عدلیہ کے بہت حامی رہے ہیں انکا اس پر کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
اب ہم سب کو اس حقیقت کااعتراف کرنا چاہئے کہ 65 سال کا آدھا وقت فوج براہ راست اقتدار میں رہی جب کہ باقی عرصہ بھی سیاست سمیت تمام اہم معاملات میں حاوی رہی۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے دور اقتدار میں ٹرائیکا کی اصطلاح اسی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اور یہ بھی کہ جب بھی منتخب حکومت اقتدار میں آئی اس کے دوسرے دن ہی اس کو ہٹانے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔
موجودہ حکومت جو اپنی آئین مدت پوری کر نے جا رہی ہے اس میں موجودہ آرمی چیف کی اچھائی کے ساتھ ساتھ بعض اور اندرونی و بیرونی حلقوں کا ہاتھ ہے۔ مگر اس کے باوجود کیری لوگر بل، میمو گیٹ، ججز کی بحالی کی تحریک، ایبٹ آباد آپریشن، سوئس حکام کو خط لکھنا کچھ ایسے اشوز تھے کہ وقتا فوقتا اٹھتے رہے۔
اگرچند سابق جنرلوں سے سوالات ہی کئے گئے ہیں۔اس کو ملک اور قوم کے مفاد میں برداشت کران چاہئے۔چیزیں اس حد تک خراب ہوچکی ہیں کہ واپسی کا راستہ ہی گم ہے۔ یہ بھی ادارک نہیں کہ ہم کہاں جا کر پہنچے ہیں اور چاہتے کیا ہیں؟ جب انتخابات کی بساط بچھائی جا رہی ہے ایسے موقعے پر طاقت کے محوروں کی پرانی ترتیب میں ٹکراؤ ناخوشگوار تاثر چھوڑ رہا ہے۔ ایسا تو نہیں کہ یہ تضاد نئے انتخابات کے عمل کو بہا کر لے نہ جائے؟ بڑی آسانی سے یہ کہا جا رہا ہے کہ کہیں بھی عسکری اداروں کے خلاف یوں کھل کر نہیں لکھا جاتا۔ ممکن ہے کہ کہیں ایسا نہ ہوتا ہوگگا۔ مگر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ یہ عسکری ادارے دوسرے ممالک میں ایسا بھی نہیں کرتے ہونگے جیسا مسلسل ہمارے ملک میں ہوتا رہا ہے۔
ملک کے منتخب وزیر اعظم کو دو سال تک کال کوٹھری میں بند رکھ کر پھانسی چڑھایا گیا۔ دوسرے وزیراعظم کو نظربند کیا گیا جلاوطن کیا گیا کردار کشی کی گئی۔ تیسرے وزیراعظم کو عدالتی فیصلے کے ذریعے گھر روانہ کیا گیا۔ چوتھے وزیر اعظم کو ہتھکڑیاں ڈال کر جدہ بھیج دیا گیا۔ اور ان چاروں مواقع پر عوام کی منتخب پارلیمنٹ توڑی گئی، آئین کو لتاڑا گیا۔کیا یہ سب ملکی مفاد میں کیا گیا؟ اب جب سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تو ان کو برداشت بھی کرنا پڑے گا اور اہم سوالات کے جوابات بھی دینے پڑیں گے۔۔
طاقتور اداروں کو جرئت سے کام لے کر کہنا چاہئے کہ”بہت ہوچکا“ اور رویے میں تبدیلی لانی چاہئے۔انہیں ثابت کرنا چاہئے کہ ماضی میں جو کچھ ہوا اس میں واقعی بعض افراد یا گروہ شامل تھے ادارے نہیں۔پاکستان کو نیا رخ دینے کے لیے ملک کی سیاسی اور ملٹری قیادت یہ فیصلہ کریں کہ آنے والی نسلوں کو وہ کیا سونپ رہی ہیں۔اب یہ احساس پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اور لوگوں کے پاس تبدیلی کے ذرائع بھی بہت ہیں اور لوگ باہر کی دنیا سے رابطے میں بھی زیادہ ہیں۔
No comments:
Post a Comment