Monday, 9 March 2020

ساڑھے چار سال کے اتحادی۔۔ Nov 15, 2012

Thu, Nov 15, 2012, 12:41 AM
ساڑھے چار سال  کے اتحادی۔۔۔
 میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
ایک بار پھر کراچی میں جاری قتل ملک کے سیاسی  خواہ غیر سیاسی حلقوں  میں موضو ع بحث ہے۔  قومی اسمبلی اور سنیٹ میں اس مرتبہ متحدہ نے زیادہ تشویش کا اظہار کیا۔ انکا کہنا ہے کہ فوج اور رینجرز ملک کے معاشی مرکز میں امن وامان قائم کرنے میں ناکام رہے ہیں لہٰذا فوج طلب کر لی جائے۔ متحدہ حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی اتحادی ہے۔ کراچی کے حالات پر ایک اور اتحادی جماعت اے این پی کو بھی تشویش ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف نے بھی اس بڑے شہر کی صورتحال تنقید کی ہے۔ لوگ خیرخواہ بدامنی کے باعث صنعتی زوال پر فکرمند ہیں۔ جہاں باقی جرائم اور غیر یقینی صورتحال کے ساتھساتھ روزانہ  دس بارہ لاشیں گرائی جاتی ہیں۔ تاجر تنظیموں کا کہنا ہے کہ ہر دکاندار ماہانہ ایک ہزار روپے تک بھتہ دیتا ہے۔ تاجروں کی مال سے بھرے ٹرک کئی مرتبہ لٹ چکے ہیں۔سندھ کے دارلخلافہ میں مارا ماری، اسٹریٹ کرائیم، مافیا سرگرمیاں،  ہڑتالیں، مذہبی اور سیاسی دہشتگردی نے شہر کی معاشی، سیاسی، سماجی اور ثقافتی سرگرمیوں کے آگے پل باندھ دیا ہے۔عدلیہ تک نے یہ کہہ دیا کہ طالبان کی صورت میں مذہبی شدت پسندوں کی سرگرمیاں بھی بڑھ گئی ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ کبھی کہتے ہیں کہ کراچی  میں امن قائم کرنا کوئی آسان اور اکیلے فریق کے بس کی بات نہیں۔ گزشتہ روز انہوں نے کہا کہ کراچی کے حالات اتنے خراب نہیں جتنا میڈیا اس کو دکھا رہا ہے۔اور اسی روز شہر میں  مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے کارکنوں سمیت23 افراد قتل ہوئے تھے۔
 سپریم کورٹ نے بھی کراچی کی بدامنی کا نوٹس لیا اور مانٹرنگ کرنے کی کوشش کی۔ قانون نافذ کرنے والوں کو ایک سے زائد مرتبہ ڈانٹ ڈپٹ بھی کی۔گذشتہ ایک سال کے دوران عدالت میں کراچی کیس کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا موقف تبدیل ہوتا رہا۔ایک وقت یہ رپورٹ پیش کی گئی کہ معاملہ بھتہ خوری کا ہے، جس میں مختلف سیاسی پارٹیوں کے لوگ ملوث ہیں۔ رپورٹ میں سیاسی جماعتوں کے نام اور کارکنوں کی تعداد بھی بتائی گئی تھی۔ دو ہفتے قبل  عدلیہ کے سامنے یہ رپورٹ پیش کی گئی کہ کراچی آٹھ ہزار طالبان موجود ہیں۔ واقعات ان کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ ان دو متضاد اور مختلف رپورٹوں کو صحیح تسلیم کیا گیا۔ آٹھ ہزار طالبان کی موجودگی بہت بڑی بات ہے۔اگر یہ اطلاع صحیح ہے تو بڑے حیرت کی بات ہے کہ صوبائی خواہ وفاقی حکومت نے اس سے پہلے نہ کوئی ایسا اظہارکیا اور نہ ہی کوئی قدم اٹھایا۔ عدالتی ریمارکس کے بعد  ایم کیو ایم نے ریفرینڈم کا اعلان کیا جو بعد میں ملتوی کردیا گیا۔
یہ بھی تعجب کی بات ہے کہ ایم کیو ایم نواز شریف، جنرل مشرف اور پیپلزپارٹی کے حالیہ دور میں بھی حکومت میں رہی ہے۔نواز شریف کے دور میں کم لیکن باقی تمام عرصہ جو بارہ سال کا بنتا ہے ایم کیو ایم کو صوبے کے معاملات اور خاص کر کراچی کے معاملات میں مکمل اختیار بعض صورتوں میں بلاشرکت غیرے اختیار رہا ہے۔کراچی  کا امن و امان کا معاملہ ہو تو رحمان ملک اور گورنر سندھ اس کو رکھتے رہے ہیں اور اگر ترقیاتی کام ہوں تو گورنر سندھ اکیلے دیکھتے ہیں۔ باقی فرقی اس معاملے میں آؤٹ آف باؤنڈ ہیں۔ مشرف دور میں تو محکمہ داخلا بھی ایم کیو ایم کے پاس رہا۔ایم کیا ایم کی فرمائش پر پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت نے اپنے دو وزیر جن کے پاس محکمہ داخلا کے امور تھے تبدیل یا قربان کئے۔یہاں تک کہ آج کے دور میں اہم سمجھا جانے والا یہ محکمہ گزشتہ ایک سال سے بغیر وزیر کے چل رہا ہے اور اس کی چارج وزیر اعلیٰ کے پاس ہے۔
 اس بار ایم کیو ایم نے فوج کو طلب کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اس بارے میں اگر کوئی خصوصی انتظامات نہیں کئے گئے تو پارلیمنٹ میں بیٹھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ایم کیو ایم نے یہ معاملہ اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ پارٹی کی سطح پر اٹھانے کے بجائے  پارلیمنٹ میں لے آنا ضروری سمجھا اور  براہ راست وزیراعظم راجا اشرف پرویز سے  کہا کہ وہ کراچی کا دورہ کرتے رہے اور حکومت کی  رٹ بحال کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کرتے رہیں۔ ایم کیو ایم نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اگر فوری طور پر ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے تو مستقل طور دونوں ایوانوں کا بائکاٹ کرے گی۔
وزیر اطلاعات سندھ کا کہنا ہے کہ بعض بیرونی قوتیں اور طالبان کراچی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایک سازش ہو رہی ہے کہ انتخابات سے پہلے سندھ کی صوبائی حکومت  کے خلاف کوئی اقدام کیا جائے۔آئینی میعاد مکمل کرنا صرف پیپلز پارٹی کا نہیں سائیں قائم علی شاہ کے لیے بھی بڑی بات ہوگی۔ کیونکہ اس سے پہلے بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت میں انہیں وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا تو  ایک سال بعد ہی پارٹی نے انہیں ہٹا دیا تھا۔
ایم کیو ایم کی حالیہ تحرک کا ایک پہلو یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے طریقے سے آئندہ انتخابات کی تیاریاں کر رہی ہیں۔اس مقصد کے لیے مختلف حکمت عملیاں بنا رہی ہیں۔ اس تیاری کا ایک مرحلہ نگران سیٹ کا تقرر ہے۔ جس کی نگرانی میں انتخابات منعقد ہونے ہیں۔ قانون کے مطابق اپوزیشن اور حکمراں جماعت مل کر نگراں سیٹ اپ کا فیصلہ کریں گے۔ اس مقصد کے لیے اگر اپوزیشن کا رول انتخابی عمل میں بھی بڑھ گیا ہے۔ نگراں حکومت کی مقرری وغیرہ اسمبلیوں کی میعاد پوری ہونے سے پہلے کرنا ہوگا۔
 ایم کیو ایم ساڑھے چار سال سے حکومت میں ہے۔  حکومت میں سب سے بڑی پارٹی  پیپلز پارٹی ہے۔ نگراں سیٹ اپ کے لیے اسی سے بات کی جائے گی اور اس ی کی بات کو اہمیت دی جائے گی۔لہٰذااقتدار میں رہتے ہوئے اس کے لیے نگراں سیٹ اپ میں کوئی زیادہ جگہ نہیں ہے۔ ایم کیو ایم کے موجودہ رویے کی وجہ سے اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ وہ کم از کم سندھ کی سطح پر نگراں سیٹ میں اپنی مضبوط پوزیشن بنا سکتی ہے۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ وہ ایوان میں اپوزیشن کی جماعت بن جائے۔ بحث اور قیاس آرائیاں چاہے کچھ بھی چلتی رہیں مگر اس کے بعد سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کا لیڈر مسلم لیگ فنکشنل یا ہم خیال کا نہیں بلکہ ایم کیو ایم کا ہوگا۔ایم کیو ایم سندھ میں اپوزیشن کی سیٹ حاصل کرنے کے بعد  ابتدائی دنوں میں ہی بعض  چھوٹے گروپوں سے  تعلقات بنا سکتی ہے۔
 حکمران جماعت اور اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد یہ بات طے ہوئی ہے کہ دونوں جماعتیں نگراں سیٹ اپ کے لیے غیر جانبدار حکومت بنانے  میں ایک دوسرے کی مدد کریں گی۔نتخابات آئین کی روء سے نگراں حکومت کی نگرانی میں منعقد ہونے ہیں۔حکمران جماعت کے اہم رہنماؤن اور وزراء کے بیانات سامنے آرہے ہیں کہ موجودہ حکومت کی مدت 18 مارچ20013 میں مکمل ہونی ہے یعنی نگراں سیٹ کو اقتدار کی منتقلی بھی اسی تاریخ کو ہونی ہے۔ اس حساب سے انتخابات مئی یا جون میں منعقد ہونے جا رہے ہیں۔بعض حلقے  جنوری میں نگراں سیٹ اپ کی بات کر رہے ہیں۔ انتخابات کے لیے 4  اپریل جو کہ ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے کی تاریخ ہے۔ چند ہفتے قبل چوہدری شجاعت حسین نے بھی دسمبر 2012 میں نگراں سیٹ اپ بننے کی بات کی تھی۔
ایم کیو ایم کے حالیہ دھمکی کا ایک اور بھی پہلو ہے کہ حکومت سے باہر نکل کر اپنے ووٹرز کو بھی اعتناد میں لیا جائے۔ کراچی میں گزشتہ 12 سال کی  بدامنی کی لہر  کے دوران اور جو نقصانات ہوئے ہیں وہ اپنی جگہ پر، مگر اس کی وجہ سے سیاسی جماعتیں غیر متعلق سی ہو کر رہ گئی ہیں۔ ایم کیو ایم کی پارلیمنٹ میں بائکاٹ حکمت عملی طور پر اہم کوشش ہو سکتی ہے۔مگر یہ تب مؤثر ہوگی اگر ان کے کہنے پر شہر میں امن قائم ہو جائے۔اسکا یہ دعوا  حکومتی اداروں اور عوام دونوں میں درست ہو جائے کہ کراچی میں اسی کی رٹ ہے۔
 ایم کیو ایم ملک کی واحد جماعت سمجھی جاتی ہے جو انتخابات میں تمام اتحادوں سے خود کو دو رکھتی ہے۔ تاکہ جو بھی پارٹی جیت کر آئے اس سے اتحاد کرنے اور حکومت میں شامل ہونے میں سہولت ہو سکے۔ اور بعد میں  حکومت کی میعاد مکمل ہونے سے پہلے علحدہ ہو جائے۔  لہٰذا ایم کیو ایم ساڑھے چار کی اتحادی ہے اور حکومت میں رہنے کے بعد اس سے علحدہ ہو جاتی ہے۔

No comments:

Post a Comment