Tuesday, 10 March 2020

قوم پرست سیاست اور انتخابات -May 2, 2013

Thu, May 2, 2013 at 10:33 AM
قوم پرست سیاست اور انتخابات 
سہیل سانگی
دنیا بھر میں قوم پرستی طاقتور ایک طاقتور نعرہ  رہا ہے۔متحدہ پاکستان کے زمانے  سے پاکستان کی سیاست میں قوم پرستوں کا رول ہمیشہ اہم رہا ہے۔ اسی قوم پرستی کے نعرے پر عوامی لیگ دو مرتبہ مشرقی پاکستان میں الیکشن جیتی تھی۔ اس کے بعد نئے پاکستان میں تین چھوٹے صوبوں میں قوم پرست تحریک خاصی سرگرم رہی۔ جس کا عکس ملکی سیاست اور انتخابات میں نظر آتا رہا  ہے۔
حالیہ صورتحال کچھ اس طرح سے ہے کہ خیبر پختونخوا کے قوم پرست پانچ سال حکومت کرنے کے بعد ایک بار پھر تمام رکاوٹوں کے باوجودمؤثرانداز میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔ مگر سندھ اور بلوچستان کی صورتحال مختلف ہے۔ جامع اور واضح حکمت عملی  کی غیر موجودگی میں الیکشن ان کے لیے ضایع موقعہ بن گئی ہے۔ 
ماضی کے الیکشن  کے اعداد وشمار پر نظر ڈالنے  سے پتہ چلتا ہے کہ 1970سے لیکر 2008تک ملک کا ووٹ چار حصوں میں بٹا ہوا رہا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، مذہبی جماعتیں اور قوم پرست جماعتیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے درمیان 75فیصد ووٹ تقسیم ہوتا ہے۔ باقی 25 فیصد ووٹ قوم پرست اور مذہبی جماعتوں یا آزاد امیدواروں میں تقسیم ہوتا ہے۔ 
قوم پرست سیاست بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مضبوط  پارلیمانی طاقت کے طور پر رہی ہے۔  بلوچستان کی قوم پرستی مسلح جدوجہد تک چلی گئی ہے۔ جبکہ سندھ کی قوم پرستی غیرپارلیمانی مگر احتجاجی تحریک کے طور پر موجود ہے۔ سندھ کی قوم پرست تحریک پارلیمانی سیاست میں اس وجہ سے بھی نہیں ہے کہ اس تحریک کے بانی جی ایم سید  نے 70 کے انتخابات کے بعد پارلیمانی سیاست کو خیرباد کہا تھا۔
پختون قوم پرست تحریک قیام پاکستان سے پہلے باچا خان کی سرخ پوش حامیوں کی وجہ سے پہچانی جاتی تھی۔ وہ اس خطے میں طاقت تھی۔عوامی نیشنل پارٹی جو پہلے نیشنل عوامی پارٹی کی شکل میں تھی اب بھی وہ خیبر پختونخوا میں حکمراں پارٹی ہے۔ آج پانچ سال کی حکمرانی کی وجہ سے آج لوگوں کو غم و غصہ اس پارٹی کے حصے میں آیاہے۔ 20008  میں وادی پشاور کی قومی اسمبلی کی 13نشستوں کے بلاک، مالاکنڈ ایجنسی کے 8نشستوں کے بلاک میں سے پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کرجیتی تھی۔اس کے ساتھ ساتھ جنوبی پختونخوا میں ہنگو، کرک، اور کوہاٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ ملک کی اہم پارٹی نواز لیگ کا اثر خیبر پختونخوا کے ہزارہ ڈویزن میں ہے۔ 
خیبر پختونخوا میں 2002کے انتخابات  میں متحدہ مجلس عمل پوری سیاست کو تہہ بالا کردیا۔لیکن آج یہ مذہبی جماعتوں کا اتحاد منتشر ہے۔ اس کے حصے جمیعت علمائے اسلام، دفاع پاکستان، یا جماعت اسلامی ایک دوسرے کے خلاف انتخاب لڑ رہے ہیں۔ 
مبصرین کا خیال ہے کہ مذہبی ووٹ کا کچھ حصہ مذہبی جماعتوں کے بجائے مسلم لیگ کو بھی پڑتا رہا ہے۔ لیکن مشرف دور میں مسلم لیگ کی عدم موجودگی اور مجلس عمل کے بے عمل ہونے نے تحریک انصاف فیکٹرکو ابھرنے کا موقعہ دیا۔ اس پچ پر کبھی متحدہ مجلس عمل سیاست کرکے کامیابی حاصل کرتی تھی۔
طالبان کی پوری کوشش ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی انتخابات سے اور آگے چل کر حکومت سے دور رہیں۔لیکن یہ دونوں جماعتیں انتخابات سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔
بلوچستان قوم پرست سیاست کا مضبوط گڑھ ہے۔ جہاں قوم پرست تحریک پارلیمانی خواہ غیرپارلیمانی طریقوں چلتی رہی ہے۔ یہاں کے بلوچ اور پختون ایوانوں میں آکرموثر کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ میر غوث بخش بزنجو اور محمود خان اچکزئی بڑے پارلیمانی ستون رہے ہیں بلوچستان کی روایتی قیادت کے گزشتہ انتخابات اور اس کے بعد عوام سے دور رہنے کی وجہ سے نئے کھلاڑی میدان میں آگئے ہیں۔ جس کا فائدہ پیپلز پارٹی اور جے یوآئی کو ہوا ہے۔ اختر مینگل کی انتخابات میں واپسی کو اسلام آباد اور لاہور دونوں نے خوش آئندہ قرار دیاہے۔ لیکن مسلح جدوجہد میں مصروف بلوچ قیادت اختر مینگل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔  بلکہ پر پہاڑوں میں موجود یہ لوگ انتخابات میں شرکت کو بلوچ مفادات کے خلاف قرار دے چکے ہیں۔بلوچستان کی سیاست کے بعض اور بھی دلچسپ منظر ہیں اختر مینگل انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کے بھائی جاوید مینگل ان  لوگوں کے ساتھ ہیں جو انتخاب لڑنے کو بلوچوں سے غداری کے مترادف سمجھتے ہیں۔ نواب خیربخش مری کے بیٹے حربیار مری بلوچ لبریشن آرمی کے لیڈر ہیں۔ ان کے بھائی چنگیز مری نواز لیگ کی ٹکٹ پر کوہلو سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ برہمداغ بگٹی بلوچ ریپبلکن پارٹی کے قائد ہیں۔ جبکہ ان کے خاندان کے باقی لوگ انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
 بلوچ سیاست کا ایک اور اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اختر مینگل خضدار سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔ جہاں  ان کے خلاف انتخابی اتحاد میں مولوی اور نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو ہیں۔ اختر اور حاصل کے والد صاحبان ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھی اور بلوچ  سیاست کے ستون رہے ہیں۔
یہ انتخابات ثابت کریں گے کہ بلوچ مزاحمتی تحریک جو ایک بڑی شناخت رکھتی ہے وہ وسیع بلوچ سیاست کے طور پر ابھر کر روایتی قبائلی مفاد سے کتنی باہر آسکی ہے۔ 14نشستوں والے صوبہ میں صرف پانچ  حلقے بغاوت کی لپیٹ میں ہیں۔ لہٰذا دیکھنا یہ ہے کہ اس بغاوت کا اثر باقی سیٹوں پر کتنا  پڑتا ہے۔ یہ پاکستان حکومت اور انتخابات میں حصہ لینے والی بلوچ قیادت دونوں کے لیے امتحان ہے۔

 پیپلز پارٹی کا آبائی صوبہ ہونے اور مالی و معدنی وسائل سے مالامال سندھ کی قوم پرست تحریک بڑی اہمیت کی حامل ہے۔سندھ کی قوم پرست قیادت نے 70 کے بعد انتخابات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ عجیب صورتحال رہی ہے کہ  قوم پرست ووٹ  اپنی شناخت بنانے کے بجائے پی پی مخالفوں کی مدد کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ ملک میں جب بھی فیصلہ کن موڑ آیا یا فیصلہ کن انتخابات ہونے لگے تو قوم پرستوں نے اسٹبلشمنٹ کی حامی قوتوں کا ساتھ دیا۔ یہی اسٹبلشمنٹ جس سے ان کو شکایت رہی ہے انہی کے حامیوں کے ساتھ اتحاد کرتی رہی ہیں یا ان کی سیاست کرتی رہی ہیں۔یہ صورتحال  اکثر اوقات ملک بھر کے قوم پرستوں کی رہی۔بھٹو دور میں  جب یونائٹیڈ ڈیموکریٹک  فرنٹ بنا  تو نیشنل عوامی پارٹی  جو پاکستان کے قوم پرستوں کی پارٹی تھی اس میں بلوچ اور پختون قوم پرست شامل ہوگئے۔یہاں تک کہ پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں بھی یہ جماعتیں شامل رہیں۔جب 88 ع میں انتخابات ہونے جارہے تھے تو سندھ قومی اتحاد بنا۔ یہ بھی پیپلزپارٹی کے خلاف تھا۔

پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ کارکردگی نے ایک بار پھر سندھ میں متبادل قیادت کا سوال اٹھایا ہے۔ متنازع بلدیاتی نظام متعارف کرانے کے بعد یہ سوال شدت سے سامنے آیا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس سوال کو سندھ کی مجموعی محرومی کے ساتھ جوڑ کر اس کو  پنجاب کی روایتی بالادستی کے خلاف متحرک کیا  جاتا۔ لیکن یہ المیہ ہے کہ اس قومی بیداری کی لہر کو صرف پی پی مخالفت تک محدود رکھا گیا۔ ان قوتوں کو پلیٹ میں رکھ کر دیا گیا جن کو پیپلز پارٹی کے خلاف انتخابات میں اشو مطلوب تھا۔پیپلز پارٹی نے صورتحال کو سمجھا اور اس مصیبت سے جان چھڑائی تو یہ تحریک بیٹھ گئی۔بقول ہمارے دوست جامی چانڈیو کے قوم پرست سیاست کا تھرڈ آپشن پی پی مخالف اتحاد میں گم ہوگیا۔جاکا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ کوئی بہتر متبادل نہ ہونے کی وجہ سے واپس پی پی کی طرف چلے گئے۔
ہاں یہ ضرور ہوا اس صورتحال کا تمام تر فائدہ  پیرپاگارہ اور نواز شریف کو پہنچا۔اور مسلسل جدوجہد کرنے والے مین اسٹریم سیاست کی رنگ سے باہر کھڑے ہیں۔ سندھ کے بعض قوم پرست گروپ پہلے ہی پارلیمانی سیاست سے باہر تھے اور انتخابات میں حصہ لینے کے مخالف تھے۔ جو تین گروپ پارلیمانی سیاست کرنا چاہ رہے تھے ان کی اسلام آباد اور لاہور سے حوصلہ افزائی نہ ہونے  کی وجہ سے سندھ  کی قوم پرست تحریک میں پارلیمانی سیاست نہ کرنے کا رجحان اور بڑھے گا۔
 انتخابات کے بعد اس بات کا احساس ہوگا کہ الیکشن اپنے نعرے اور سیاست پر لڑی جاتی ہے۔جیسے خیبر پختونخو اور بلوچستان کے قوم پرست لڑتے رہے ہیں۔ اور یہ کہ زرداری  کے خلاف توانائی ضایع کرنا کتنی دانشمندی تھی۔
 ریاستی اور غیر ریاستی عناصر انتخابی عمل اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پر قوم پرستوں کا کوئی موقف نہیں۔ رجعتی  پرستوں کے ساتھ اتحاد کر کے نہ کراچی،حیدرآباد، سکھر، شکارپور اور لاڑکانہ میں بھی اسپیس دیا گیا ہے۔ جس کے آنے والے وقتوں میں گھرے اثرات مرتب ہونگے۔

No comments:

Post a Comment