Tue, Jul 2, 2013 at 11:11 AM
نئے حقائق اور نواز حکومت
میرے دل میرے مسافر
سہیل سانگی
انتخابات سے پہلے میاں نواز شریف ملک کی معیشت، معاشی و سیاسی صورتحال، خارجہ پالیسی وغیرہ کے بارے میں بلند بانگ دعوے ک کئے تھے۔ کچھ وعدے کئے تھے۔ کچھ کرنے کچھ نہ کرنے کی بات کی تھی۔ مگر جو بجٹ دیا وہ عوام کی توقعات سے بالکل برعکس تھا۔اس بجٹ میں نواز شریف نہیں،وزیر خزانہ ہی نظر آرہے تھے۔ یہی صورتحال سیکیورٹی پالیسی کے حوالے سے ہے۔ ان دو اہم معاملات کے مطالعے سے پت دو باتیں عیاں ہوتی ہیں۔ایک یہ کہ حکومتی پالیسیوں پر نواز شریف کی کمانڈ نہیں۔ کوئی اور ان معاملات کو دیکھ رہا ہے۔حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کے موجودہ بحران کا تعلق ملک کے معاشی حالات اور دہشتگردی یا سیکیورٹی کے معاملات جو خارجہ پالیسی سے ہے۔ جن پر ہے۔گورننس کا اشو اہم ہے لیکن اسکا نمبر ان دو کے بعد آتا ہے۔ اگر حکومت ان دو معاملات کو ٹھیک کر لیتی ہے تو عام لوگوں کو رلیف مل جاتا ہے۔صرف گورننس کے ذریعے بہت کم رلیف مل سکتا ہے۔
دوسری بات یہ نظر آئے کہ میاں صاحب کو ملک کی موجودہ صورتحال کا صحیح ادراک نہیں۔ وہ ملکی حالات کو12اکتوبر1999ع پر ہی دیکھ رہے ہیں۔ یعنی جہاں انہوں نے ملک کو چھوڑا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان 14 برسوں میں بہت کچھ بدل چکا ہے۔ علاقے کی صورتحال تبدیل ہوئی ہے۔میاں صاحب کے زمانے میں پاکستان امریکہ کے لیے غیر اہم بن چکا تھا۔ لیکن اس کے بعد نائین الیون کا واقعہ ہوا۔افغانستان اور عراق میں بہت کچھ تبدیل ہوا۔ پاکستان ایک بار پھر امریکہ کا ساتھی بنا اور اس نے امریکہ کی ایماء پر دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شریک ہوا۔اب صورتحال یہ ہے کہ امریکی فوجیں افغانستان سے واپس جانے کی تیاری کر رہی ہیں۔امریکی فوجوں کے انخلاء کے بعد اگرچہ افغانستان اور علاقے میں پاکستان کا اہم رول بنتا ہے مگر امریکہ پاکستان کو یہ رول دینا نہیں چاہ رہا۔اس کے بجائے بھارت کو اہمیت دینا چاہ رہا ہے۔ افغانستان کے اندر امریکی کارروایوں کے نتیجے میں شدت پسندپاکستان کی طرف آگئے۔جہاں پر ن کے نصف درج گروپ کام کررہے ہیں۔ انکا ٹارگٹ اب صرف امریکہ ہی نہیں پاکستان بھی بن چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان دہشتگردی کے واقعات میں پھنسا ہوا ہے۔ اور آئے دن کسی نہ کسی شہر میں واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ملک کی اندرونی سیکیورٹی کا معاملہ بھی شدت اختیار کر گیا ہے۔ 14 سال کا عرصہ بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے۔ اس عرصے میں ہمارے پڑوسی ممالک بھارت، چین، اور ایران کی پالسیوں اور ترجیحات میں بھی تبدیلی آئی ہے۔پاکستان دس گیارہ سال سے دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے۔ لیکن اب یہ جنگ دلدل بن چکی ہے جس میں ہم پھنس چکے ہیں۔ اس دلدل سے نکلنے کے لیے ایک ویزن، چاہئے اور اتنی جرئت بھی۔مزید یہ کہ فیصلے کی قوت بھی۔اس صورتحال میں سیاست بازی نہیں چلے گی۔ بلکہ اس طرح کے فیصلے کی قوت جو برطانوی رہنماچرچل اور فرینچ لیڈرڈیگال نیدکھائی تھی۔انہوں نے اپنا یا اپنی پارٹی کا سیاسی فائدہ دیکھے بغیر فیصلے کئے تھے۔
ملک کے اندر بھی سیاسی خواہمعاشی اور سماجی حوالے سے کئی نئے مظاہرسامنے آئے ہیں۔نئے حقائق نے جنم لیا ہے۔ اب نئے دور کے نئے چلینج ہیں۔ ملک کی اندرونی حالات کے حوالے یہ امر اہم ہے کہ صوبوں کی صورتحال وہ نہیں جو نواز حکومت کے پہلے دور میں تھی۔ بلوچستان بہت زیادہ گرم ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور اسکے علاوہ قوم پرستی کی تحریک نیا رخ اختیار کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں ان صوبوں کو اب مزید محرومیوں میں نہیں رکھا جاسکتا۔ان کو نہ صرف ان کے وسائل اور ذرائع کا حق دینا پڑے گا بلکہ ان کو ہر سطح پر اور ہر حوالے سے فیصلہ سازی میں شامل رکھنا پڑے گا۔اب صورتحال کو تیکنکی طور پر ہینڈل کرنے کا زمانہ نہیں رہا۔
مجموعی طور پرضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان کی ازسرنو تعریف بنائی جائے۔ یہ لگ بھگ اس طرح کی صورتحال ہے جومشرقی پاکستان کی علحدگی کے بعد پیدا ہوئی تھی۔اور ذوالفقارعلی بھٹو نے پاکستان کی از سرنو تعریف پیش کی اور اسکو دنیا میں منوایا بھی۔ بھٹو یہ سب کچھ اس وجہ سے بھی کر پائے کہ ان کے ساتھ پنجاب تھا۔ نواز شریف کو بھی یہ سنہری موقعہ حاصل ہے۔ پنجاب ان کے ساتھ ہے۔ اس لیے نواز حکومت ملکی سطح پر خواہ خارجہ پالیسی میں اہم فیصلے کر سکتی ہے۔
ملک میں دو ادارے بہت ہی زیادہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ صورتحال آج سے 14 سال پہلے نہیں تھی۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا طاقتور بن چکے ہیں۔نواز شریف کو پرنٹ میڈیا کنٹرول کرنے کا تو تجربہ ہے۔پرنٹ میڈیا لیکن الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کو کیسے ہینڈل کیا جائے یہ بہت بڑا سوال ہے۔ سوشل میڈیا نیپرویز مشرف اور الطاف حسین کے حوالے سے بہت اہم رول ادا کیا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ میڈیا وسیع اور کثیر جہتی ہوگیا ہے۔ جس کو سیاسی مقبولیت کے بغیر کنٹرول کرنا مشکل ہے۔ جب تک اس میڈیا میں کسی سیاسی جماعت کے اپنے کارکن موجود نہیں ہونگے تب تک اس کو نہیں سنبھالا جا سکتا۔ یہ کام کرایے کے لوگوں سے نہیں ہوسکتا۔ میڈیا کی طرح عدلیہ کا رول بھی بڑھ گیا ہے۔ س کی حیثیت مانیٹرنگ والی ہوگئی ہے۔ جو ہر حکومتی عمل پر نظر رکھے ہوئے ہے یہ عمل گورننس کا ہو یا پالیسی سازی ای قانون سازی کا ہو یا انتظامی وغیرہ۔ پہلے عدلیہ کی ایکٹوازم اس طرح سے نہیں تھی۔ نواز حکومت کا نوے والا دور تو ایسا تھا کہ عدلیہ پر حملہ کیا گیا تھا۔ اب عدلیہ ریاست کے ایک مضبوط ستون کے طور پر ہے۔ اب تو ہر چیز کے لیے عدلیہ کے سامنے جواب دینا پڑتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ میاں صاحب کے پاس ایسی ٹیم موجود ہے جو ان نئے حقائق سے آگاہ ہو ان کو سمجھ سکتی ہو اور اس کے ساتھ ساتھ ان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی بناسکتی ہو؟ فی الحال تو یہی لگ رہا ہے کہ ان کے پاس وہی پرانی ٹیم ہے جس کے ساتھ انہوں نے دو مرتبہ حکومت کی تھی۔
No comments:
Post a Comment