Fri, Dec 28, 2012, 12:50 AM
اقلیتیں اور سیاست
میرے دل میرے مسافر
سہیل سانگی
پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ انتخابات میں میاں مٹھو کو پارٹی ٹکٹ نہیں دی جائے گی۔گھوٹکی ضلع میں واقع بھرچونڈی کے گدی نشین پیر عبدالحق عرف میاں مٹھو پر الزام ہے کہ وہ نوجوان ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرنے اور ان کی مسلمان نوجوانوں سے شادی کرانے میں ملوث ہیں۔ میاں مٹھو کا نام رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں میڈیا اور سیاسی حلقوں میں زیادہ زیربحث رہا۔
جب تین ہندو لڑکیوں رینکل کماری، ڈاکٹر لتا اور آشا کے اغوا پر بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے اور سپریم کورٹ نے بھی ان مقدمات کی سماعت کی۔ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی زبردست تنقید کے بعد ملک کی بڑی اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی پردباؤ بڑھ گیا۔ سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ پارٹی اقلیتوں کے حوالے سے اپنی پالیسی واضح کرے۔بصورت دیگرے اس کی مقبولیت اور پالیسی پرمنفی اثرات پڑیں گے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اورباشعور حلقے مظاہروں اور اجتماعا ت میں پیپلز پارٹی سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ میاں عبدالحق مٹھو سے قومی اسمبلی کی سیٹ خالی کرائی جائے۔اور انہیں پارٹی سے خارج کیا جائے۔پیپلز پارٹی کچھ عرصے تک میاں مٹھو کا دفاع کرتی رہی۔لیکن ایک مرحلہ ایسا بھی آیا کہ وہ خوددفاع کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ جب پانی سر سے چڑھ گیا تو خاموشی اختیار کرلی اور اس عمل کو میاں مٹھو کا ذاتی فعل قرار دیا۔
اقلیتی برادری اور سندھ کے اہل دانش کے مطالبات کے باوجود پیپلز پارٹی کو جرئت نہیں ہوئی کہ وہ میاں مٹھو کے خلاف کارروائی کرے یا ان کی پارٹی رکنیت یا اسمبلی کی رکنیت ختم کرے۔ حال ہی میں میاں مٹھونے تصدیق کی ہے کہ پیپلز پارٹی ان کو ٹکٹ نہیں دے رہی ہے۔ کا کہنا ہے کہ رینکل کے معاملے پر پارٹی ناراض ہے اور انہیں ٹکٹ نہیں دی جارہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ غیرمسلم کا مسلمان کرنا ان کا مذہبی فرض ہے۔ ٹکٹ کے لیے ایمان کا سودا نہیں کرسکتے۔
میاں مٹھو کا کہنا ہے کہ پیرپاگارا کی مسلم لیگ فنکشنل، نواز لیگ اور تحریک انصاف نے ان سے رابطے کئے ہیں۔
فنکشنل لیگ حال ہی میں صوبے میں زیادہ سرگرم ہوئی ہے اور زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا چاہتی ہے۔ میاں مٹھو آسانی سے اس پارٹی میں جگہ حاصل کرسکتے ہیں۔ اگرچہ پیر پاگارا چند ماہ پہلے یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی پارٹی اور ان کے مریدوں کی حر جماعت اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اقدات کرے گی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پیر صاحب نے مریدوں کو ایسی ہدایات بھی جاری کردی تھیں۔
سندھ میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے رائے عامہ تو موجودہ ہے اور تمام سیاسی پارٹیاں بیانات اور باتوں میں ان کے حقوق اور تحفظ کا اعادہ کرتی رہی ہیں۔مگر ان پارٹیوں میں سیاسی ارادے کی مضبوطی خال خال نظر آتی ہے۔ اور وہ سیاسی مصلحتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔سیاسی جماعتیں بااثر لوگوں کے زیر اثر ہیں اور انہیں اتخابات میں نہ صرف مضبوط امیدواروں کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ ووٹوں کی بھی۔ جو صرف یہ وڈیرے اور بااثر لوگ ہی دلا سکتے ہیں۔ ویسے بھی ان کا کلاس ایک ہی ہے۔ لہٰذا وہ ایک دوسرے کے خلاف نہیں جاسکتے۔
عمرکوٹ ضلع کے شہر غلام نبی شاہ میں پانچ سالہ معصوم بچی وجینتی کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا تھا۔بچی کے ساتھ زیادتی کے ملزمان بااثر تھے اور پولیس انہیں گرفتار نہ کر سکی۔ تین ہفتے تک وجنتی کے ورثاء اور انسانی حقوق کی تنظیمیں عمرکوٹ سے لیکر کراچی تک ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتی رہیں۔
وجنتی کے کے ساتھ زیادتی کی پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مذمت کی ہے اورکراچی کے لیاری ہسپتال میں زیر علاج وجنتی کو گلدستہ بھیجا۔ بلاول بھٹونے وجنتی کا درد تومحسوس کیا،ان کے اس اقدام سے مظلوم وجنتی کو انصاف نہیں ملا۔
گزشتہ ہفتے پیر پاگارا کی تشکیل کردہ کمیٹی کے سامنے وجینتی کے لواحقین اور زیرالزام مگریا برادری کے لوگ پیش ہوئے۔ مگریا برادی پیر پاگارا کی مرید ہے۔ زیر الزام شخص رفیق مگریہ کے قریبی عزیز سچو مگریہ نے ساکھ دی کہ رفیق مگریہ واقعے میں ملوث نہیں۔ یہ ساکھ (معززین کے سامنے حلفیہ بیان) متاثرہ فریق نے قبول کرلی۔ لہٰذا ملزم کو الزامات سے بری کردیاگیا۔وجنتی پر ظلم کے پہاڑ گرانے وا لے آسانی سے انصاف سے بچ نکلے۔
وجینتی کے والدین آخر اس ساکھ کو کیوں نہیں قبول کرتے۔ آخر ان کو بھی ادھر رہنا ہے۔
وجینتی کے ساتھ زیادتی کے خلاف مختلف تنظیمیں احتجاج کرتی رہیں ہیں۔ واقعے کے خلاف کا سندھ کے انسانی حقوق ایم کیو ایم سے وابستہ مشیر نادیہ گبول نے بھی نوٹس لیا تھا۔ اور ملزمان کو تین روز کے اندر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔مگر دو ہی دن بعد جرگہ ہوا۔
یاد رہے کہ سردار علی محمد مہر کے وزارت اعلیٰ کے دور میں شائستہ عالمانی کے کیس میں ایم کیو ایم نے حکومت سے علحدہ ہونے کی دھمکی دی تھی۔ شائستہ عالمانی کیس ایک جوڑے کی مرضی کی شادی کا معاملہ تھا۔اور ایم کیو ایم کو وزیراعلیٰ علی محمد مہر سے ناراضگی تھی۔لیکن اس مرتبہ شاید حکومت سے ایم کیو ایم کی کوئی سیاسی ناراضگی نہیں تھی یا وہ اس کا اظہار اس طرح سے کرنا نہیں چاہ رہی تھی۔
وجینتی کے،معاملے میں ایک بار پھر سیاستداں اور بااثر لوگ حاوی ہوگئے اور وجینتی انصاف سے محروم ہی رہی۔ سوال یہ ہے کہ جب مقدمہ درج ہوا تھا، میڈیکل رپورٹ بھی جنسی زیادتی کی تصدیق کر رہی تھیں۔ ملزم کی بھی شناخت ہو گئی تھی۔ تو یہ فیصلہ کیسے ہوگیا؟ کیا ایسا کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں تھا؟
گزشتہ ہفتے تھرپارکر میں مبارک رند گاؤں میں چودہ سالہ بھیل خاندان کی ایک اقلیتی عورت لڑکی نتھوبائی کو دو افراد نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے پیپلز پارٹی تحصیل چھاچھرو کے جنرل سیکریٹری کے ایک قریبی رشتہ دار ملوث بتائے جاتے ہیں۔ لہٰذا پیپلز پارٹی کے مقامی عہدیداران ملزمان کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی اتنے دباؤ کے باوجود میاں مٹھو کے خلاف کارروائی نہ کر سکی۔ اب جب بعد از خرابیء بسیار ان کو آئندہ انتخابات میں ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے تو دوسری جماعتیں تیار ہیں کہ وہ پیر آف بھرچونڈی کو ٹکٹ دیں۔ وجینتی کے کیس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی مذمت بظاہر ایک خوش آئند بات نظر آتی ہے، مگر انہوں نے ایسا قدم رینکل، ڈکٹر لتا اور آشا کے کیس میں نہیں کیا۔ وجینتی کے کیس میں اس وجہ سے کیا کہ ملزم کا تعلق پیر پاگارا کی پارٹی فنکشنل لیگ سے تھا۔ ایم کیو ایم کی ناراضگی پارٹی سے وابستہ مشیرکے بیان جاری کرنے کی حد تک تھی۔ تھر سے تعلق رکھنے والی مبارک رند گاؤں کی رہائشی نتھوبائی کا معاملہ اس وجہ سے دب جائے گا کہ واقعے میں مبینہ طور پیپلزپارٹی کے عہدیدار ملوث ہیں۔
سیاست عوام کی خدمت کرنے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنے کا نام ہے۔یہ ضرور سنا ہے کہ سیاست میں حرف آخر نہیں ہوتا۔ مگر کیاس سیاست اتنی بیدرد بنا دی گئی ہے کہ انسانی حقوق اور لڑکی کے ساتھ زیادتی کے معاملے پر بھی سیاست کی جاتی ہے۔
No comments:
Post a Comment