Thu, Apr 4, 2013 at 10:35 AM
میرے دل میرے مسافر۔۔۔۔ سہیل سانگی
الیکشن کمیشن کی چھنی
آئندہ انتخابات میں عدلیہ کا رول بڑھ گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال بے رحمانہ طریقے سے کی جائے۔معاملہ شفاف انتخابات کے ساتھ ساتھ شفاف امیداروں کا انتخاب بھی ہے۔پورے انتخابی عمل کی وہ خود مانیٹرنگ کر رہی ہے۔ اس بڑھے ہوئے رول پر کئی حلقوں کو اعتراض ہے۔ تاہم ابھی تک صرف عاصمہ جہانگیر نے کھل کر بات کی ہے اور کہا ہے کہ عدلیہ اگر اتنی ہی مداخلت کر رہی ہے تو الیکشن کمیشن کو گھر بھیج دے۔ ریٹائرڈ جنرل مشرف نے آئین توڑا تھا مگر وہ سر عام گھوم رہے ہیں۔ مگر آئین کیآرٹیکل 62اور 63 پر الیکشن کمیشن اور عدلیہ دونوں پورے الفاظ کے ساتھ عمل کرانے پر کمر بستہ ہیں۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ جنرل کو سزا دینا عدلیہ کا کام نہیں۔
الیکشن کمیشن نے چھنی لگائی ہے جس میں سے جو بھی چھن کر صاف ہوکر آئے گا، صرف وہی انتخابات میں حصہ لے سکے گا۔ ابھی تک 54 اراکین اسمبلی کی ڈگریاں جعلی پائی گئی ہیں۔ ان میں سے بعض کو سزائیں بھی سنائی گئی ہیں جبکہ 189 کی ڈگریاں ہائر ایجوکیشن کو تصدیق کے لیے بھیج دی گئی ہیں۔اور بعض اراکین کو رٹرنگ افسران اور الیکشن کمیشن نے وضاحت کے لیے طلب کیا ہے۔
بعض سابق اراکین اسمبلی جو کہ اب بھی امیدوار ہیں انکو قرضوں، اور دیگر سرکاری واجبات کی باقیداری کی وجہ سے نااہل قراردیا جائے گا۔ دو درجن سے زائد دہری شہریت کی زد میں آرہے ہیں۔ کچھ پر کرپشن کے الزامات ہیں اور ان پر مقدمات چل رہے ہیں۔لگتا ہے کہایک سو سے زیادہ سیاستداں جو اس سے پہلے منتخب ہوتے رہے ہیں میدان سے ہٹ جائیں گے۔اس صورتحال پر بعض حلقے سوال کر رہے ہیں کہ کیا یہ سیاسی جماعتوں کو مضبوط کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یا انہیں کمزور رکنے کے لیے۔الیکشن کمیشن کی طرف سے کسی کو ووٹ نہ دینے کا خانہ شامل کرنا بھی سیاسی جماعتوں پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے اور یہ تاثر دیتا ہے کہ الیکشن کمیشن پہلے سے یہ طے کر کے بیٹھا ہے کہ لوگ کی بڑی اکثریت سیاسی پارٹیوں سے بیزار ہے۔ شیاد ایسا کیا جاسکتا ہے مگر اس کے لیے غیرجانبدارانہ ریسرچ اور پارلیمان سے قانون منظور کرانے کی ضرورت ہے۔ یہ کام الیکشن کمیشن کا نہیں بلکہ اسمبلی کا ہے۔ یہ تو انیس بیس وہی فارمولا ہے جو علامہ قادری نے پیش کیا تھا۔
انتخابات تو امتحان ہوتے ہی ہیں مگر انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اہلیت ثابت کرنا بھی ایک امتحان کے طور پر سامنے آیا ہے۔حکمران پارٹی کے کئی لوگوں کے نام مختلف مقدمات میں ہیں۔ الیکشن کمیشن کے پاس تمام تفصیلات موجود ہیں کہ کس کے خلاف کیا کیس ہے اور کون کس انکوائری میں ہے۔بعض مقدمات ایسے ہیں جن کی سماعت خود سپریم کورٹ کر رہی ہے۔الیکشن کمیشن ان امیدواروں کے لیے سپریم کورٹ کی طرف دیکھے گی۔
امین فہیم، پرویز اشرف، ڈاکٹر عاصم اور مخدوم شہاب پر تلوار لٹک رہی ہے۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نااہل قرار دیئے جا چکے ہیں۔ ان کے دو بیٹوں کے خلاف بھی مقدمات ہیں۔ سینکڑون امیدوراوں کی ڈگریاں جعلی یا مشکوک ہیں۔جن کی ڈگریاں جعلی ہیں وہ نااہل قرار پائیں گے۔اگر وہ مقررہ مدت میں ڈگریوں کی تصدیق نہیں کراپاتے تو نااہل ہو جائیں گے۔ اس طرح سے سینکڑوں امیدوار نااہل ٹہریں گے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 62 اور 63 کی شق کو یہ شکل جنرل ضیا ء الحق نے دی تھی۔ جو پیپلز پارٹی اور دیگر مخالفین کو دور رکھنا چاہتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ ملکی سیاست کو مکمل طور پر مذہبی رنگ میں رنگنا چاہ رہے تھے۔گریجوئشن کی شرط جنرل مشرف نے لگائی تھی۔لہٰذا ان دو آمروں کا بھوت اب ملکی سیاست پر آسیب کی طرح منڈلا رہا ہے۔ اور ہمارے ادارے اس پر سختی سے عمل کرنا چاہ رہے ہیں۔اگرچہ گزشتہ پارلیمنٹ نے یہ شرط ختم کردی تھی۔ گزشتہ انتخابات میں ڈگری کی شرط نہ ہونے کے باوجود جس جس نے بھی ڈگری کے معاملے میں غلط بیانی کی ہے وہ آئندۃ انتخابات میں نااہل ٹہرے گا۔
یہ بڑا پیچیدہ سوال بن گیا ہے اورباشعور لوگوں کے لیے بھی امتحان ہے کہ یہ اقدامات جو کہ اپنے جوہر میں جمہوری نہیں ہیں ان کی مخالفت کرتے ہیں تو یہ کرپٹ اور نااہل ممبران دوبارہ عوام کے نمائندے بن جاتے ہیں۔ اور حمایت کرتے ہیں تو دو سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلا یہ کہ الیکشن قوانین کیسے ہوں وغیرہ یہ پارلیمان کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن کا رول اس معاملے میں محدود ہوتا ہے۔ دوسرا یہ پورا عمل مخصوص لوگ منتخب کرانا چاہتا ہے اور نئے پاور بروکرز پیدا کرنا چاہ رہا ہے۔ پرانے سیاتدانوں سے جان چھڑانا چاہتا ہے۔ جیسے ضیا اور مشرف نے بھی کیا تھا۔دونوں صورتوں میں اصل فیصلہ یا مرضی عوام کی نہیں بلکہ اوپر کے اداروں کی ہو جاتی ہے۔
پاکستان کے معاشی اور سماجی سیٹ اپ میں ایسا ممکن نہیں جس سے کوئی بڑی تبدیلی کی توقع کی جا سکے۔قبائلی اورخاندانی سیاست، برادری سسٹم ابھی تک مضبوط ہے۔ فرض کرو کہ الیکشن کمیشن کی چھانی یہ صفائی کر بھی دیتی ہے تو ان کی جگہ پر کون آئے گا؟موجودہ ان کے بھائی، بیٹے، بھانجے بھتیجے اور دوسرے رشتہ دار۔ ایک ہی خاندان سے آنے والے بڑی حد تک اپنے بڑوں پر ہی انحصار رکریں گے۔
دوسروں کو بھی موقعہ ملے، نئے لوگ آئیں یہ اچھی خواہش ہے۔ اگر واقعی ایسا ہو جائے کہ کسی کے مسلط کئے ہوئے نمائندوں کے بجائے لوگوں کی مرضی کے نمائندے آجائیں تو اس سے لوگوں کی آواز مضبوط ہو سکتی ہے۔ اور جو سیاسی خاندان مورچہ بند ہو کر بیٹھے ہیں ان کو نکالنے میں مدد ملے گی۔ مگر ہمارا معاشرتی ڈھانچہ کچھ ایسا ہے کہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔ ہماری خوش فہمیاں کو دلی خواہشات کچھ بھی ہو سکتی ہیں۔ زمینی حقائق مختلف ہیں۔
متوسط طبقے کی شدید خواہش ہے کہ اشو کی بنیاد پر ووٹ دیئے جائیں۔ مگر متوسط طبقہ نہ خود کو ٹھیک سے define کرسکا ہے اور نہ ہی اپنا رول موثر طورپر ادا کرسکا ہے۔
امیدواروں سے اسلام سے متعلق بھی سوالات کئے جا رہے ہیں کسی امیدوار کی پرہیزگاری کو ناپنے کا عجیب طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔لگتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کچھ غیر ضروری ذمہ داریاں اپنے سر پر لے لی ہیں۔ خاص طور پر تب جب کسی امیدوار کا مخالف اس کی اہلیت کو چیلینج کرتا ہے۔ یہ طے کرنا خاصا مشکل ہے کہ کون بہتر مسلمان ہے اور کون نہیں ہے۔یہ ایک ایسی بحث ہے جو بہت ساری چیزوں کو متنازع بنا دے گی۔ اور نای پپیڈورہ باکس کھلے گا جس میں انتخابات کے نعرے، بحث کے موضوع اور مقاصد ہی تبدیل ہوجائیں گے۔
اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ عوام کے سامنے مخصوص امیدوار ہی پیش کئے جارہے ہیں اور عوام سے پوچھا جائے گا کہ وہ ان
میں سے ہی کسی کو اپنا نمائندہ منتخب کریں۔
No comments:
Post a Comment