Monday, 9 March 2020

صدر زرداری کا دورہ سندھ 2012-7-31

Tue, Jul 31, 2012, 2:26 PM
صدر زرداری کا دورہ سندھ  
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
 اسے کیا کہا جائے؟  انتخابی مہم کا آغاز یا اکچھ اور۔ صدر آصف علی زرداری نے قوم سے وعدہ  کیا ہے کہ کہ آئندہ انتخابات وقت پر ہونگے، صاف شفاف ہونگے، کسی کو نہ دھاندلی کرنے دیں گے نہ کریں گے۔ اور یہ کہ آئندہ چاروں صوبوں میں وزراء اعلیٰ ان کی پارٹی کے ہونگے۔انہوں نے ٹی وی اسکرین کی سیاست کی بھی بات کی۔اور کہا کہ خواہ ٹی وی کے سیاستداں پیدا ہوں۔آبائی صوبے سندھ میں ضلع خیرپور کے گاؤں نواب وسان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ عام انتخابات کے بارے میں بعض اہم باتیں کی ہیں۔وہ لاڑکانہ اور نوابشاہ میں آکرلوگوں سے خطاب کرتے رہے ہیں۔لیکن ان دو مقامات کو چھوڑ کر ہونے والا یہ پہلا جلسہ ہے جس کو سیاسی حلقے اتنخابی مہم کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ 
 صدار زرداری اگرچہ خیرپور میں  وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اور پیپلز پارٹی کے ایک رہنما منظور وسان کومنانے گئے تھے۔ منظور وسان  جو اپنے تئیں وزیراعلیٰ کے بھی امیدوار تھے۔ان کے پاس ڈاکٹرذولفقار مرزا کے استعیفے کے بعد وزارت داخلہ کا قلمدان تھا۔ مگر بعد میں  وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی مداخلت اور ایم کیو ایم کی مخالفت کی وجہ سے کوئی چار ماہ قبل انہیں کابینہ سے الگ کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کے پاس کوئیسرکاری ذمہ داری نہیں تھا اور وہ زیادہ تر وقت اپنے گاؤں میں گزار رہے تھے۔ منظور وسان کا تعلق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے آبائی ضلع ٰپرور سے ہی ہے۔ وہ جب سند کابینہ میں شامل  تھے تب بھی ان کی وزیراعلیٰ سندھ سے نہیں بنتی تھی۔ اور وزیراعلیٰ کی طرف سے بھی انہیں بڑا کولڈ ریسپانس ملتا تھا۔ یہاں تک کہ خیرپور میں ہونے والے پروگراموں میں نہ وسان خود شریک ہوتے تھے اور نہ ہیان کے لوگ شریک ہوتے تھے۔ بلکل اسی طرح وزیراعلٰ کے حامی وسان کے پروگراموں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ دونوں کی کوشش ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی ہوتی تھی۔سیاسی ماحول میں حالیہ تبدیلیوں اور فنکشنل لیگ کے سرگرم  ہونے کے بعد یہ ضروری ہو گیا تھا کہ منظور وسان کی ناراضگی ختم کی جائے۔اس میں یہ پیغام بھی چھپا ہوا ہے کہ صدر زرداری انتخابی مہم کس طرح سے چلائیں گے۔
ایسے میں رسم بھی تھی اورموقعہ بھی۔ صدر زرادری  صرف انتخابات کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ ان کے نتائج کے بارے میں بھی کچھ کہہ دیا۔ ٓن کے بعض نقادوں کا کہنا ہے کہ صدرچونکہ ایک پارٹی کا نہیں ہوتابلکہ ملک کا سربراہ ہوتا ہے، انکے منہ سینتائج کے بارے میں پیشگی باتیں اچھی نہیں لگتیں۔انہیں پہلے سے نتائج کے بارے میں بات کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے تھاانتخابی مہم اور انتخابی سیاست میں ایسے بیانات فائدہ مند ہوتے ہیں اور مخالفین پر بھی رعب ڈالتے ہیں۔ لہٰذا سیاسی پارٹیاں ایسے مواقع کو استعمال کرتی ہیں۔ پیپلز پارٹی ملک کی بڑی پارٹی ہے۔ اسے 70ع کے بعد مسلسل انتخابات کا تجربہ ہے۔ لہٰذا اس کو پتہ ہے کہ انتخابات کے موسم میں کیسے کھیلا جاتا ہت۔ صدر نے محض اس کلچر کے تحت دعوا کی ہے۔انتخابات کے بعد کیا ہوگا اور کونسی پارٹی کس پوزیشن میں ہوگی؟ یہ پیش گوئی آج نہیں کی جاسکتی۔
 انتخابات کے بارے میں صدر کے اس وعدے کے بعد ملک میں جاری  ان افواہوں  نے دم توڑ دیا کہ صدر موجودہ اسمبلی کے ذریعے خود کو دوبارہ منتخب کرانا چاہتے ہیں اور ایم کیو ایم  کی تجویز کردہ گول میز کانفرنس  اس سلسلے کی کڑی سمجھی جارہی تھی۔اس افواہ پر نوزا لیگ نے اتنباہ بھی جاری کردیا تھا کہ انتخابات کو ٹالنے یا موجودہ سیٹ  اپ کو دوام دینے کیشدید مخالفت کی جائے گی۔
 حالیہ سیاسی بحران  کے دوران جب نتخابات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے صدر کی جانبب سے یہ بیان خاصی اہمیت کا حامل ہے۔اور ان کا یہ بیان اور دورہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں انتخابات کی تیاری شروع کردیں۔صدر نے یہ بات ایک ایسے ماحول میں کہی ہے جب وقت سے پہلے انتخابات کرانے اور نگران حکومت کیسی ہو کے معاملات سیاسی ماحول میں زیادہ پاپولر ہیں۔ صدر کی اس بات نے  واضح اشارہ دیا ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات کی بات نہیں ہورہی۔اور نگراں سیٹ اپ والا معاملا بھی اتنا کوئی پیچیدہ نہیں۔انہوں نے یہ کہہ کر واضح کردیا ہے کہ پیپلز پارٹی انتخابات کے لیے تیار ہے۔
پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے عدلیہ کے پارلیمنٹ سے متعلق ریمارکس نے ایک بار پھر پارلیمنٹ کوrelevant بنا دیا ہے۔ اور اسکے ساتھ یہ بھی کہ سیاسی قوتیں  اگر کسی نقطے پر متفق ہو جاتی ہیں تو اس کے نتائج بہرحال سیاست پر مثبت ہی پڑتے ہیں۔ اس پس منظر میں سپریم کورٹ کیپیر کے روز کے ریمارکس خاصی اہمیت کے حامل ہیں جس مین عدلیہ کا رویہپارلیمنٹ اور اراکین کی جانب مثبت اور نرم تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ  پورے ملک میں ایک سیاسی ماحول بننے جا رہا ہے جس میں ماضی کی تمام حکمت عملیاں غیر ضروری ہو جائیں گی۔سیاسی پارٹیوں کو نئے سرے سے منصوبہ بندی کرنی پڑے گی۔
 اس اعلان کے بعدایم کیو ایم کی گول میزسے متعلق تجویز میں بھی لمبا چوڑادم باقی نہیں رہتا۔ کیونکہاب الیکشن کا ماحول ہوگا۔ اور یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ ملک کو درپیش مسائل انتخابات کے ذریعے حل کئے جاسکتے ہیں۔
صدر کے اس بیان  کے دوسرے دن الیکشن کمیشن نے بھی سرگرمی دکھائی۔ اور اعلان کیا کہ ابتدائی انتخابی فہرستیں جاری کی جا رہی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ یہ انتخابات پرانی حلقہ بندیوں پر ہونگے۔کیونکہ نئی مردم شماری نہیں ہو سکی ہے۔اس وقت ملک میں 1998 کی ہی مردم شماری پر حلقہ بندیاں  بنی ہوئی ہیں۔ اگرچہ اس پر کئی سیاسی پارٹیوں کو اعتراضات بھی ہیں۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ  ملک میں آبادی کی  ایک علاقے سے دوسرے میں منتقلی ہوئی ہے اس کو تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔ اس کو لحاظ میں لائے بغیر حلقہ بندیاں اور انتخابات  ماضی کے انتخابات سے مخلتف نتائج نہیں دیں گے۔ تاہم یہ الگ بحث ہے۔ الیکشن کمیشن کے ان دو اعلانات نے صدر کی بات کو مستند بنا دیا ہے۔
اگرچہ ابھی تک نگراں سیٹ اپ اور دیکگر کچھ امور سے متعلق کچھ چیزیں ضرور ہیں جو آڑے آسکتی ہیں۔
 خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ  اب ملک میں انتخابی ماحول اور سیاست چلنے لگے گی۔اگر واقعی ایسا ہو جاتا ہے تو تمام پارٹیاں اپنی تمامتر توانائیاں حکومت کو کسی اور طریقے سے ہٹانے یا تحریک چلانے پر صرف کرنے کے بجائیانتخابات پر ہی صرف کرنے لگیں گی۔ جو کہ کسی بھی حکومت کو ہتابنے کا آئینی اور قانونی طریقہ ہے۔اس پر اگر حکومت نے مزید کچھ پیشرفت کی توموجودہ بحران سے نکنے میں یہ بات اسے خاصی مدد
 دے گی۔

No comments:

Post a Comment