Tuesday, 10 March 2020

بھیج پگارا اورسندھ - Dec 17, 2012

Mon, Dec 17, 2012, 11:03 AM
بھیج پگارا  اورسندھ 
سہیل سانگی
پیر پاگارا کی سربراہی میں مسلم لیگ فنکشنل نے سندھ  میں جس نئی سیاست کا آغاز کیا ہے اس کے اظہار کے طور پر صوبے کے دوسرے نمبر پر بڑے شہر حیدرآباد میں بڑا منعقد کیا گیا۔ جلسے اور فنکشنل لیگ کی سیاست سے بعض حلقے بڑی توقعات باندھ رہے ہیں۔ سندھ تین خصوصیات کے باعث  پاکستان کے ریاستی ڈھانچے اور سیاست میں بڑی اہمیت کا حامل ہے،  یہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی کا  ہوم گراؤنڈ ہے۔  یہاں پر قوم پرست  سیاست  کے اثرات گہرے ہیں۔ شہری اور دیہی آبادی لسانی بنیادوں پر بٹی ہوئی ہے۔ جس کے اثرات نہ صرف صوبے  اور ملک کی سیاست  پر بلکہ معیشت پر بھی  پڑتے ہیں۔ 

گزشتہ برسوں سے حکمرانوں کی موقع پرستی،سیاسی سودے بازی،  خراب حکمرانی، کرپشن، صحت، تعلیم کی بدترین صورتحال، روزگار کے سکڑتے ہوئے مواقع، مہنگائی وغیرہ جیسے اہم معاملات  کے بیچ میں سندھ راہ تلاش کر رہا ہے۔کیا  فنکشنل لیگ کی تازہ سرگرمی سندھ کے سیاسی منظر کو تبدیل کر دے گا؟ سندھ کئی ایک مسائل میں گھرا ہوا۔کیا کوئی ایسی راہ بن رہی ہے کہ عام  لوگوں کوچھٹکارہ ملے؟

فنکشنل لیگ نے نئی سیاست کا آغاز  متنازع بلدیاتی نظام کی مخالفت سے شروع کیا۔پرویز مشرف  اور جنرل ضیا ء الحق کے بلدیاتی انتخابات سے مستفید ہونے والی مسلم لیگ کے اس دھڑے نے قوم پرستوں کے ساتھ ملکر نئے بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک چلائی۔ فنکشنل لیگ متنازع بلدیاتی قانون کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔

 خیال ہے کہ حیدرآبادجلسے کے شرکاء سیاسی مقصد سے زیادہ اپنے مذہبی عقیدے کے طور پر شریک ہوئے تھے۔جلسے میں اکثریت پیر پاگاراکے مریدوں کی تھی۔ جس میں سے کئی نے سفید ٹوپیاں پہن رکھی تھی۔ جب کہ پیر پاگارا نے انہیں سندھی ٹوپی پہننے کی اجازت دی تھی۔اس سے پہلے پیر پاگارا کے مرید یہ ٹوپی نہیں پہنتے تھے۔

پیر پاگارا کے خطاب  کے بعض نکات سندھ کے مقبول گفتگو اور سمجھ کے انداز سے متصادم تھا۔ جس سے بعض کنفیوزن پیدا ہو رہے ہیں۔ جلسے میں غلام مصطفےٰ کھر کی موجودگی  سندھ کے لوگوں کے لیے باعث حیرت رہی۔وہ بینظیر بھٹو دور حکومت کے  وزیر پانی و بجلی کالاباغ ڈیم کے زبردست حامی رہے ہیں۔  پیر پاگار نے اپنی تقریر میں کہا کہ انہیں کالاباغ ڈیم کا علاوہ باقی ڈیم منظور ہیں۔

اس وقت اسٹیج پر  پیر پاگارا کے نئے اتحادی  اورقوم پرست رہنما  جلال محمود شاہ۔ قادر مگسی۔ ایاز لطیف پلیجو بھی موجود تھے جن کا یہ موقف رہا ہے کہ دریائے سندھ پر کوئی بھی ڈیم قابل قبول نہیں۔مزید یہ کہ پیر پاگارا نے کالا باغ ڈیم کا اشو کا پس منظر جس طرح سے بیان کرکے پی پی کے گلے میں ڈال دیا ہے۔ جس پر وہ خاصا وقت وضاحتوں میں صرف کرے گی۔ اس سے نیا پینڈورا باکس کھل گیا ہے۔

 پیر پاگارا سید صبغت اللہ شاہ راشدی نے”متحد سندھ“ اور”متحد پاکستان“ کا نعرہ بھی لگایا، مگر ان کے جلسے میں جیئے سندھ کے کارکن اور ہمدرد بھی موجود تھے جوکہ علحدگی کے خواہشمند رہے ہیں۔ سابق پیر پاگارا  پیر علی مراداں شاہ خود کو فخریہ طور پر پاکستانی فوج کا بندہ کہتے تھے۔ان کے انتقال کے بعد موجودہ پیر پاگارا  بھی خود کو  فوج کا بندہ کہتے ہیں۔

 ماضی میں سندھ میں پیروں، وڈیروں اور سرداروں کے سیاسی غلبے کے خلاف سرگرم جماعتوں کے نمائندے اور  ادیب بھی موجود تھے۔ یہ ان لوگوں کی جدوجہد کا نتیجہ تھا کہ 1988ع کے انتخابات میں پیر پاگارا کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔اس کے بعد پیر پاگارا کبھی بھی بطور امیدوار سامنے نہیں آئے۔

 پیر گوٹھ میں سال میں دو مرتبہ مریدوں کو دیدار کراتے ہیں مگر گزشتہ چار ہائیوں کے بعد یہ پہلا اجتماع تھا جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم بعد سندھ میں وہ تیسری بڑی قوت ہیں۔

 بھٹو اور پیر پاگارا سندھ میں ایک دوسرے کے پرانے حریف رہے ہیں۔ بھٹو تبدیلی کے مقبول نعرے کے ساتھ میدان میں آئے تو انہوں نے گفتگو اور سمجھنے کا انداز اور سیاسی بحث کا موضوع ہی بدل دیا تھا۔ اور عوام میں موجود تبدیلی کی خواہش کی عکاسی کرتے ہوئے مقبول رہنما بن گئے۔ کئی روایتی سیاستدان الجھاوے کا شکار ہو گئے۔ اور انہوں نے مشترکہ طور پر بھٹومخالف کیمپ بنا لیا۔مگر پیروں کے زیر اثر علاقوں سے یہ نعرہ بھی سننے میں آیا کہ”سر  مرشد کا ووٹ بھٹو کا۔“ 
بھٹو کے بعد بے نظیر بھٹو کی بھی کبھی  پیر پاگارا سے صلح نہ ہو سکی۔

پیپلز پارٹی کی عدم موجودگی کے ہر سیٹ اپ میں پیر پاگارا بادشاہ گر رہے۔ وہ جس پر بھی ہاتھ رکھتے تھے  وہ پارس بن جاتا تھا۔جنرل ضیا دور میں محمد خان جونیجو وزیر اعظم بن گئے۔ غوث علی شاہ  اور جام صادق وزیراعلیٰ بن گئے۔ 1988ع کے انتخابات میں ایک بار پھر پیر پاگارا اور بھٹو آمنے سامنے آگئے۔مگر پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر سیاسی طور پربچے پرویز علی شاہ نے پیر پاگارا کو شکست دی۔ 

 پیر پاگارا ماضی میں سندھ  میں چلنے والی  مقبول اور بڑی تحریکوں کا حصہ نہیں تھے، ون یونٹ کے خلاف بھر پور تحریک چلی،کالاباغ ڈیم  وغیرہ کے خلاف تحریک قابل نظر ہیں۔ بلکہ وہ ایم آرڈی تحریک کے خلاف تھے۔پیر پاگارا نواز شریف کی دو حکومتوں اور بعد میں مشرف کے بھی اتحادی رہے۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو کے داماد آصف علی زرداری نے پتہ نہیں کیا گیدڑ سنگھی دکھائی کہ پیر پاگارا کو مفاہمت کے دھاگے میں جوڑ دیا۔ 

کہا جا رہا ہے کہ موجودہ پیر پاگارا نے فنکشنل لیگ کی سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر میدان میں لے آئے۔پر اس کی توضیح یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ بہرحال عوام کی کامیابی ہے کہ آنکھ کے اشارے سے ووٹ  لینے والوں کو بھی عوام سے رجوع کرنا پڑا ہے۔

فنکشنل لیگ کی نئی سیاست پر سندھ  میں دو آراء پائی جاتی ہیں۔ پہلا گروپ فنکشنل لیگ کوکسی بنیادی تبدیلی کی علامت نہیں سمجھتا  تاہم اس کے مطابق  یہ پیپلز پارٹی کے لیے چیلینج ہے۔ 
سیاسی دانشورجامی چانڈیو  جو اس جلسے میں بھی شریک ہوئے تھے، ان کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں عوامی پارلیمانی قیادت کے ابھرنے کا کوئی امکان نہیں۔ فنکشنل لیگ بھی پارلیمانی سیاست کی کھلاڑی ہے، جو پیپلز پارٹی کو سندھ میں واک اوور سے روک سکتی ہے۔ سندھ میں پی پی کی پارلیمانی سیاست پر اجارہ داری نے سندھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

 اس کے برعکس تجزیہ نگار شہاب استوسمجھتے ہیں کہ سندھ کے لوگ پیپلز پارٹی کی نالائقی کی وجہ سے تنگ ہیں لہٰذا  اسٹبلشمنٹ وہ اس صورتحال کواپنے حق میں استعمال کرنا چاہتی  ہے۔ سندھ کی دیہی آبادی کو  واپس فرسودہ  ڈھانچے میں دھکیلنا چاہتی ہے۔انہوں نے سوال کیا فنکشنل لیگ، نیشنل پیپلز پارٹی وغیرہ کس طرح سے راتو رات الٹرا قوم پرست ہو گئے؟ کیا یہ اسی طرح سے پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس کو استعمال نہیں کر رہے ہیں جس طرح سے پیپلز پارٹی کالاباغ ڈیم جیسے اشوز کو استعمال کرتی رہی ہے؟

 ایک حلقے کا کہنا ہے کہ اگرچہ پیپلز پارٹی اور فنکشنل لیگ کی سیاست میں کوئی فرق نہیں ہے۔مگر یک طرفہ توازن کو تبدیل کرنا ضروری ہو گیا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی کے لیڈروں کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کے لیے ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی کو چلینج  توکیا گیا ہے، کیا اس سے گفتگو کے موضوع اور سمجھنے کا انداز بھی تبدیل ہو گیا ہے یا یہ سب انتخابی مہم کا حصہ ہے جس کا عام آدمی سے کوئی تعلق نہیں؟ 

 یہ سوچ بھی موجود ہے کہ الیکشن سے تین ماہ قبل یہ جلسہ ہوا ہے جس سے مسلم 
لیگ (ن) اور قوم پرستوں کو دھچکا لگا ہے۔ نواز شریف سندھ میں اپنا سیاسی گراؤنڈ بنانے کی کوشش کررہے تھے۔ مگر فنکشنل لیگ نے یہ خلا پر کردیا ہے۔ 
 تجزیہ نگار دستگیر بھٹی کے مطابق  پیر پاگارا کی نئی سیاست نے  قوم پرستوں کو بھی ایک ساتھ جوڑ دیا ہے۔ سندھ کے قوم پرستوں سے یہ شکوہ تھا کہ وہ آپس میں اتحاد نہیں کرتے، ایک چھتری کے نیچے جمع ہونے کے بجائے الگ الگ کیمپ لگاتے ہیں۔ 

 مقتدرہ حلقے جو سندھ کا اسٹیک ہولڈر صرف حکمران جماعت یا اس کی اتحادی جماعت کو سمجھ رہے تھے، یقیننا ان کواپنی رائے پر نظر ثانی کرینگی۔ بڑے پیر پاگارا کے انتقال کے بعد کیاگر کوئی غلط فہمی ہوئی تھی تو وہ بھی دور ہو گئی ہوگی۔
 اگرچہ فنکشنل لیگ ماضی میں ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد میں رہی ہے۔تاہم  ایم کیوایم کو پیر کا مشورہ بھی معنی خیز ہے کہ وہ پی پی کے ہاتھوں کھلونا نہ بنے۔ ایم کیو ایم اسلح کی زبان بولتی ہے۔ پاگارا کے پاس جیالے حر موجود ہیں۔ 

بہرحال پیر پاگارا کا یہ جلسہ آئندہ انتخابات کی تیاری کے ساتھ ساتھ آئندہ سیٹ اپ میں فنکشنل لیگ کے رول، اور پاور شیئرنگ کے معاملات بھی طے کرے گا۔

No comments:

Post a Comment