Mon, May 20, 2013 at 8:25 AM
سیاسی خواہشات اور دھاندلیوں کی آڑ میں احتجاج
سہیل سانگی
سندھ سراپا احتجاج ہے۔شہری علاقوں میں برسہا برس سے جاری دہشتگرد کارروایوں، لاقانونیت، اغوا برائے تاوان اور دیگر جرائم میں پھنسے اس صوبے میں اب سڑکوں پر دھرنے اور مظاہرے ہیں،اور کاروباربند ہیں اور شہروں میں ہڑتال ہے۔اس کے برعکس پنجاب، خیبر پختونخوا اور وفاق میں حکومت سازی کی تیاری ہے اور مستقبل کی پالیسیوں پر بحث ہورہی ہے۔
انتخابات کے بعد قوم پرستوں اور فنکشنل لیگ نے ایک ایک دن ہڑتال کرائی۔اب 22 فروری کو فنکشنل لیگ اور دس جماعتی اتحاد نے دوبارہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔نوز لیگ نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ کراچی میں کلفٹن والی قومی اسمبلی کی نشست کا معاملہ تحریک انصاف اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیاں شدید تنازع کا باعث بناہوا ہے۔ یہاں پر 43 پولنگ اسٹیشنوں پردوبارہ پولنگ کے خلاف ایم کیوایم آخری پتہ بھی کھیل چکی۔
فنکشنل لیگ کی پہلی ہڑتال میں خیرپور میں تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس سے پہلے کے واقعات میں نوابشاہ اور جیکب آباد میں ایک مرحلے پر فوج اور رینجرز کی مدد لینے پڑی۔ بعض نشستوں پر پیپلز پارٹی بھی دوبارہ گنتی کرا رہی ہے۔ یہ احتجاج انتخابات میں دھاندلیوں کے نام پر کیا جارہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ نہ دھاندلیاں کرنے والے اور نہ کرنے والے سب برابر ہوگئے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ جس گروپ کا جہاں پر بس چلا اس نے اتنی دھاندلی کی۔
پاکستان میں کوئی بھی الیکشن اور کوئی بھی حلقہ دھاندلی سے مبرا نہیں رہا۔لیکن گیارہ مئی کے انتخابات پر کچھ زیادہ ہی شور ہے۔ اور وہ بھی سندھ میں۔ اس صوبے میں نتائج پیپلز پارٹی کی مخالف جماعتوں کی خواہشات سے میل نہیں کھاتے۔لہٰذا احتجاج اور انتشارہے۔
سندھ میں مخالفین چاہ رہے ہیں کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی طرح اس صوبے میں بھی پیپلز پارٹی کو شکست ہونی چاہئے۔ ان کی خواہش ہے کہ دو صوبوں میں دوسری پارٹیوں کو حکومت کرنے کا موقعہ ملا ہے تو یہاں پر انہیں موقعہ ملناچاہئے۔ مطلب یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو”بھگانے“ کے بعد اقتدار میں اپنا حصہ تلاش کر رہی ہیں۔اور مطالبہ کر رہی ہیں کہ”لاؤ ہمارا حصہ کہاں ہے؟“ یہ جماعتیں صرف پیپلز پارٹی کی جیت کو ہی نہیں انتخابات کو ماننے کو تیار نہیں۔ اندرون سند ھ سے میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ گروپ زیادہ بڑھ چڑھ کر احتجاج کر رہے ہیں جو خود بری طرح سے دھاندلی میں ملوث تھے۔انہوں نے بھی دھاندلیوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔اگر پیپلز پارٹی منصوبہ بندی کے تحت دھاندلی کرتی تو تھر میں ارباب اور ٹھٹہ میں شیرازی گروپ نے جو کچھ کیا وہ یہ نہیں کرپاتے۔
دو منٹ کے لیے دھاندلی کے الزامات کو ایک طرف رکھ کر ٹھنڈے دل سے صورتحال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔کہیں ایسا تو نہیں کہ اپنی شکست کو چھپانے اور اپنا سیاسی قد برقرار رکھنے کے چکر میں تمام زور دھاندلیوں پردیا جارہا ہے؟
صورتحال کو سمجھنے کے لیے چند بنیادی حقائق کوذہن میں رکھنا ضروری ہے:
۱۔ قوم پرستوں کی جدوجہد کا رخ متنازع بلدیاتی نظام اور بعض دیگر معاملات کی وجہ سے ایم کیو ایم کے خلاف تھا۔انہوں نے عملی طور پر کہیں بھی ایم کیو ایم کا مقابلہ نہیں کیا۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی تک نے ایم کیو ایم کے گڑھ کراچی اور حیدرآبادمیں امیدوار کھڑے کئے۔ لیکن نہ قوم پرستوں نے اور نہ ہی اتحاد کی قیادت کرنے والی جماعت فنکشنل لیگ نے اپنے امیدوار کھڑے کئے۔
۲۔ متبادل کے دعویدار قوم پرستوں اور دس جماعتی اتحاد سندھ بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی کل 190نشستوں کے بجائے صرف 98 نشتستوں پر امیدوار کھڑے پائے۔ یعنی نصف سے زائد نشستیں خالی چھوڑیں۔ یوں متبادل ہونے کا خاکہ بھی بن نہ سکا۔
۳۔ قوم پرستوں اور دس جماعتی اتحاد نے نہ مشترکہ انتخابی نشان لیا نہ منشور دیا اور نہ ہی مشترکہ انتخابی مہم نہیں چلائی۔ جس پارٹی کا جہاں امیدوار تھا اس پارٹی نے وہاں مہم چلائی۔
۴۔ انتخابی مہم کے آخری تین ہفتے کے دوران یہ اتحاد عملی طور پر منتشر ہو چکا تھا۔ اور صرف نام کے لیے تھا۔
۵۔ پیپلز پارٹی کی قیادت دہشتگردی کے خطرے یا دیگر معاملات کی وجہ سے انتخابی مہم چلا نہ سکی۔ اس صورت میں قوم پرستوں اور دس جماعتی اتحاد کو میدان ملا تھا۔وہ اس جنگل میں اکیلے شیر تھے۔ مگر اس اتحاد کی قیادت نے کوئی مہم نہیں چلائی۔پیر پاگارا جو اس اتحاد کے”بڑے“ تھے انہوں نے کوئی انتخابی جلسہ نہیں کیا۔
۶۔ان وجوہات کی بناء پر سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف جو جذبات اور احساسات تھے ان کو متحرک کر کے ووٹ میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔یہاں تک کہ پیپلز پارٹی کے جن وزراء کو بلدیاتی نظام کے خلاف تحریک کے دوران شدیدتنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کے حلقوں میں جا کر کسی بھی پارٹی نے نہ چیلینج کیا اور نہ ہی کوئی جلسہ کیا۔
۷۔جب امیدوار سامنے آئے تو یہ بات واضح ہوگئی کہ جو امیدوارمتبادل کے طور پر پیش کئے جا رہے ہیں وہ بھی روایتی وڈیرے ہی ہیں۔ جو پیپلز پارٹی مشرف اور نوازشریف کے دور میں بھی حکومت یا اسمبلیوں میں موجود تھے۔ تب انہوں نے کیا کردار ادا کیا اس سے ان کی سندھ دوستی واضح تھی۔
۸۔ممکن ہے کہ بعض قوم پرست گروپ واقعتا تبدیلی کے خوہان ہوں۔ مگر ان کی حکمت عملی کسی بھی موقعے پر اس بات کی غمازی نہیں کرتی۔ ان کے لیے ضروری تھا کہ وہ نئے ووٹر اور نئے طبقے کو اپیل کرتے۔ مگر ان گروپوں نے پرانے ووٹر اور پرانے طبقے تک ہی خود کو محدود رکھا۔
پیپلز پارٹی کی انتخابی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ ہر بااثر بندے پر اثرانداز ہو۔ اس نے چھوٹے خواہ بڑے وڈیروں کو اپروچ کیا اور پارٹی کے فولڈ میں لانے کی کوشش کی۔ یہ وہ پالیسی تھی جس پر مختلف تجزیہ نگار اور کارکن نے تنقید کر رہے تھے۔ اس حکمت عملی کے نتیجے میں ہر پولنگ پر کوئی نہ کوئی بااثر شخص مل گیا جس نے ووٹ ڈلوائے۔ پیپلزپارٹی اور اس کے مخالفین کی حکمت عملی کا موازنہ کرنے کے بعد صورتحال واضح ہو جاتی ہے۔
حکمت عملی سے متعلق ان نکات کے علاوہ سیاسی طور پر بھی پیپلزپارٹی کو سندھ میں اکھاڑ کر پھینکا نہیں جاسکا۔ سندھ کے لوگ پیپلز پارٹی کے مقابلے میں نواز شریف کو ووٹ دینے کے لیے تیار نہیں تھا۔ پیپلز پارٹی کی مخالفت سیاسی طور پر متحرک حلقوں میں یقیننا تھی، لیکن عام آدمی اور علاقے کے بااثر لوگ ابھی تک پیپلز پارٹی کے ساتھ تھے،لہٰذا ان انتخابات کا نتیجہ یہی نکلنا تھا۔
ماسوائے بلوچستان کے ملک بھر میں ووٹ خواہ بگڑی ہوئی شکل میں مگر قوم پرستی یا لسانی بنیاد پر پڑا ہے۔ پنجاب میں نواز لیگ کی شناخت پنجاب کی پارٹی کے طور پر ہے۔، خیبر پختونخوا میں عوامی نیشنل پارٹی کی پختون قوم پرستی کے حوالے سے طویل
جدوجہد ہے۔اس کی جگہ پر تحریک انصاف کو اسی لسانی بنیاد پر ووٹ ملا۔ سندھ میں قوم پرست متبادل کے طور پریا الگ شناخت کے ساتھ موجود نہیں تھے۔شاید پاگارا نے ایسا تاثر دینے کی ادھوری کوشش کی تھی۔مگر بیل مونڈے نہیں چڑھی۔اب پیپلز پارٹی ہی میدان میں تھی اور لوگوں نے اس کو بطور سندھ پارٹی کے ووٹ دیا۔ ایکٹوازم میں مصروف دوست کی یہ خواہش تو ہوسکتی ہے کہ پیپلز پارٹی کامیاب نہ ہوتی یا سندھ میں حکومت نہیں بنا سکے۔ مگرسیاست دنیا خواہشات پر نہیں چلتی۔
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ حالیہ انتخابات افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی، صوبوں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان نئی مساوات اور تعلقات بنانے اور شہری علقوں کو بالادستی دینے کے پس منظر میں ہورہے ہیں۔
اس وقت سندھ کو احتجاجوں کی لپیٹ میں لینے کا مطلب یہ ہوگا کہ الیکشنی دشمنیاں ذاتی دشمنیوں میں تبدیل ہوں جو سندھ کے بنیادی مسائل ہیں ان بدلتے ہوئے منظرنامے میں آگے بڑھانے کے بجائے سیاست بازی میں وقت گنوادیں۔ جو فیصلہ عوام نے دیا ہے اس کااحترام کرنا چاہئے۔ اپنی کمزوریوں کوتاہیوں اور غلطیوں کا جائزہ لے کر نئے سرے سے تیاری کرنا چاہئے۔
No comments:
Post a Comment