Mon, Jun 24, 2013 at 12:10 PM
نامعلوم افراد
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
ملک کے مختلف شہروں میں بشمول کراچی دہشتگردی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ تین ہفتوں میں کراچی میں چالیس سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جن میں مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں۔پولیس، خفیہ ایجنسیاں برسہا برس سے کراچی میں جاری اس قتل و غارت کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہیں۔دہشتگردی کے سبب کراچی میں بڑے پیمانے پر رینجرز بھی تعینات ہے۔ جس پر حکومت ایک بڑی رقم خرچ کرتی ہے۔ اس کے علاوہ گزشتہ سال نو ارب روپے سے زائد رقم امن و امان پر خرچ کی گئی۔ مگر ٹاگیٹ کلنگز اور دہشتگردی ہے کہ رکنے کا نام نہیں لیتی۔ کوئٹہ میں یونیورسٹی پر حملہ کر کے طالبات کو قتل کردیا گیا۔پشاور میں مسجد پر حملہ کرکیپندرہ افراد کو قتل کردیا گیا۔ نانگا پربت میں دس غیرملکی سیاح دہشتگردوں کے حملے میں مارے گئے۔
روز میڈیا پر دیکھتے ہیں اور پڑھتے ہیں کہ نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے کراچی یا حیدرآباد میں دکانیں اور کاروبار بند کرا دیا۔ نامعلوم افراد نے روڈ بلاک کردیا۔ گاڑیوں کو نزرآتش کردیا۔نامعلوم افراد منٹوں میں شہر بند کرادیتے ہیں۔قتل کردیتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والوں پر حملہ کر دیتے ہیں۔ مطلب کچھ بھی کر لیتے ہیں وہ بھی آرام سے۔ ان کو نہ ریاستی اداروں کا اور نہ ہی عام لوگوں کا ڈر ہے۔ نہ گرفتاری کا خطرہ۔ ہنگامی حالات میں فائر برگیڈ یا ایمبولنس بھی اتنی جلدی نہیں پہنچتی ہوگی۔ وہ ان سے بھی زیادہ سبک رفتاری سے نمودار ہوتے ہیں اور کاروائی کر کے غائب ہو جاتے ہیں۔ حکومت، پولیس اور میڈیا پھر بھی ان نامعلوم افراد کو ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں۔اور پتہ نہیں چل سکا ہے کہ یہ لوگ کون ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ نامعوملوم مقام سے نامعلوم طاقتیں نامعلوم افراد کے گروہ کارروائی کے لیے بھیجتے ہیں۔
حکومت، پولیس اور ایجنسیاں یہ کہہ کر اپنی جان چھڑالیتی ہیں کہ یہ سب کچھ نامعلوم افراد کر رہے ہیں۔ ٹارگیٹ کلنگز ہوں یا دہشتگردگی کے واقعات، فائرنگ ہو یا کوئی اور جرم سب کچھ نامعلوم افراد کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ شکر ہے کہ بعض واقعات کی ذمہ داری شدت پسند تنظیمیں قبول کر لیتی ہیں۔ تو قانون نافذ کرنے والے بھی اس دعوے کے پیچھے چلتے ہیں۔ نہیں معلوم کہ واقعی بعض واقعات یہ شدت پسند کرتے بھی ہیں یا نہیں، مگر ذمہ داری قبول کرکے اپنا رعب جمالیتے ہیں۔ اس سے پولیس بھی خوش اور یہ شدت پسند بھی خوش۔ اگر یہ تنظیمیں ذمہ داری نہ قبول کریں تویہ واقعات بھی نامعلوم افراد کے کھاتے میں چلے جاتے۔
قاتل صوبے کو تباہ و برباد کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ میڈیا بھی صرف مرنے والوں کی تعداد یا جاے وقوعہ وغیرہ کو فوکس کرتی ہے۔ میڈیا یہ نہیں بتا پارہی کہ قاتل کون تھے؟ تحقیقاتی صحافت ختم ہو چکی ہےَ روز مرہ کے واقعات اور روز کا نیا ایجنڈا کل کے واقعات پر حاوی ہو جاتا ہے۔ کراچی عجیب شہر ہے۔ یہاں چاہے کتنا ہی بڑا واقعہ ہو ایک ہفتے کے بعد سب کچھ معمول پر آجاتا ہے۔
نامعلوم کے خلاف مقدمہ بھی درج ہوتا ہے۔
فائرنگ کی لائیو کوریج ہوتی ہے۔
انتخابات کے موقعہ پرنیم سنجیدہ بحث سوشل میڈیا پر بھی چلی۔ وہ یہ تھی کہ ”ہم کو چاہئے کہ ہم نامعلوم افراد کو ووٹ دیں۔ کیونکہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کردی۔ نامعلوم افراد خود کش حملے کرتے ہیں۔نامعلوم افراد نے گاڑی کو آگ لگا دی۔ نامعلوم افراد نے موبائل چھین لیا۔ جب نامعلوم افراد اتنا کچھ کر سکتے ہیں تو ملک کو کیوں نہیں بچا سکتے؟“ بعض مقامات سے یہ اطلاعات بھی آئیں کہ نامعلوم افراد نے حالیہ انتخابات میں ٹھپے لگائے اور اپنی مرضی کے امیدواروں کو کامیاب کرایا۔
نامعلوم افراد کی اصطلاح پولیس کی ایجاد کی ہوئی ہے۔جو اپنی نااہلی چھپانے یا پھر کسی کو بچانے کے لیے جرائم میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ در ج کرتی تھی۔آگے چل کر حکومت اور خفیہ اداروں نے بھی اس اصطلاح کو اپنا لیا۔اور ایک بڑا سا کھاتہ کھول دیا یوں خود کو مزید کارروائی اور تفتیش سے بچا لیا۔
لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ نامعلوم افراد کون ہیں جو سب کچھ کر جاتے ہیں؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان حملہ آوروں کے خلاف عوام میں آگہی کی مہم چلائی جائے۔ لوگوں کو بتایا جائے کہ یہ کون ہیں کیا چاہتے ہیں۔ لوگ ابھی تک ان دہشتگردوں کے چہرے پہچان نہیں پارہے ہیں جو اتنی بڑی تباہی پھیلائے ہوئے ہیں۔ آخر کون کون سے گروپ ہیں؟ ابھی تو کبھی کس گروپ پر عوام غصے کا اظہار کر رہے ہیں تو کبھی کس پر۔ اگر حکومت ”نامعلوم افراد“ کی اصطلاح سے باہرنکلے اور ان کی نشاندہی کرے تو ان دہشتگردوں اور ملزمان کو ایکسپوز کرنے میں آسانی ہو۔
ان نامعلوم افراد کو نہ میڈیا، نہ حکومتی ادارے اور نہ ہی عینی گواہ بیان کر پاتے ہیں۔
میڈیا اور حکومت اس طرح سے معاملات بیان کرتی ہے جیسے ہمیں پتہ ہو کہ قاتل اور حملہ آور کون ہیں۔حکومت اور میڈیا ان نامعلوم افراد کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کر رہے ہیں َ عوام تک آگہی نہیں پہنچاپارہے ہیں۔ اس کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں خوف، لاعلمی یا فیصلہ نہ کرسکنے کی صلاحیت؟ خوف کی بات تو سمجھ میں آتی ہے۔اس کے لیے حکومتی ادارے اور سماج میں موجود مزاحمت کا ہونا ضروری ہے۔ مگر لاعلمی اور فیصلہ نہ کرسکنے کی بات ناقابل فہم اور ناقابل برداشت بھی ہے۔
اگر یہ لاعلمی ہے اسکا مطلب یہ کہ حکومت اور میڈیا دوں اپنے فرائض نبھانیسے قاصر ہیں۔ وہ یا تو عوام کو آگہی دینے کی اہمیت سے ناواقف ہیں یا وہ ان گروپوں کے بارے میں خود لاعلم ہیں۔ اور ان گروپوں کو سمجھنے اور پہچاننے میں مطلوبہ کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ فیصلہ نہ کرسکنے کی بات اور خطرناک ہے۔یہ دونوں جھجک کا شکار ہیں کہ کرین کہ نا کریں؟
ہمارا تفتیشی نظام اور پھر عدلیہ اپنا اپنا کام کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ شاید باتیں کرنا آسان ہوتا ہے کچھ کرنے کے مقابلے میں۔ سیاسی پارٹیوں کا معاملہ کچھ عجیب ہے۔ اگرچہ وہ ان نامعلوم افراد کی مذمت کرتی ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کا الزام مخالف پارٹیوں پر عائد کرتی ہیں۔ اس پر مکالمے کی ضرورت ہے۔
اگرچہ ملک میں وفاقی اور صوبائی سطح پر خفیہ ادارے موجود ہیں جن کی یہ ذمہ داری بھی ہے اور ان کا دعوا بھی ہے کہ وہ ان واقعات کی تحقیقات کرتے ہیں۔حکومت شاید ان نامعلوم افراد کے معاملے کی تفتیش اور تحقیقات نہیں کرتی۔ لہٰذا ہم نامعلوم افراد کے حوالے ہیں۔
No comments:
Post a Comment