Monday, 9 March 2020

اپوزیشن کا رول - 2012-8-2

Thu, Aug 2, 2012 at 9:20 AM
Published on Aug 3-2012 
اپوزیشن کا رول ۔۔ میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم سہیل سانگی 

ملک میں سیاسی بحران ہے۔لوگ سیاسی پارٹیوں اور پارلیمنٹ کی طرف دیکھنے کے بجائے  عدلیہ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ غیر سیاسی اورمنتخب نمائندوں کی موجودگی میں ایسا ہونا درست نہیں۔آہستہ آہستہ معاملات حکومت، پارلیمنٹ اور سیاسی نظام سے باہر نکل  گئے ہیں۔ صورتحال یہ ہے پارلیمنٹ غیر متعلق ہوگئی۔ یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا۔غیر محسوس طریقے سے ہوتا رہا۔ہم جب پارلیمنٹ اور سیاسی نظام کی بات کر رہے ہیں تو وہ تمام عناصر جو پارلیمنٹ اور سیاسی نظام کا حصہ ہیں  اس صورتحال کے لیے سب کے سب ذمہ دار ہیں۔تجزیہ نگار اس بات کے لیے  صرف حکومت کو ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی ذمہ دار ٹہرا رہے ہیں، کیونکہ یا تو وہ سافٹ اپوزیشن بنی بیٹھی رہی یاپھر پارلیمنٹ  کے اندرجدوجہد کرنے کے بجائے ایوان سے باہر کی راہ اختیار کی۔پارلیمنٹ سے باہراحتجاج کرنا کئی حوالوں سے آسان بھی ہے۔ کیونکہ اس وقت لوگوں کے سامنے صرف ایک ہی موقف ہوتا ہے۔اور آپ کی بات کا موقعے پر ہی جواب دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔

 یورپی پارلیمانی اسمبلی کی کونسل نے 2008 میں  اپوزیشن کو جمہوریت کا لازمی جز قراردیا۔ کونسل کے مطابق  اگر اپوزیشن مؤثر طریقے سے کام نہیں کرتی تو جمہوری نظام کمزور ہر جاتا ہے یا تباہ ہو جاتا ہے۔اور اسکا جمہوری اور قانونی جواز بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ پاکستان کی تاریخاٹھا کے دیکھیں، یہ بات  سو فیصد صحیح ثابت ہوتی ہے۔

جمہوری نظام عوام کے ذریعے ہوتا ہے اور وہ اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے حکومت کرتا ہے۔ اسی طرح سے حکومت پر چیک رکھنے کا کام بھی عوام براہ راست نہیں اپنے ان نمائندوں کے ذریعے کرتا ہے جو اپوزیشن میں ہوتے ہیں۔ جمہوریت اور پارلیمانی نظام میں حکومت پر چیک رکھنے کی ذمہ داری  اپوزیشن پر ہوتی ہے کیونکہ جمہوریت میں اپوزیشن پارلیمنٹ اور پورے سیٹ اپ کا حصہ ہوتی ہے۔وہ بھی حکومتی اراکین کی طرح اور اسی طریقہ کار کے تحت منتخب ہو کر آتی ہے۔انہوں ے اپنے اپنے حلقے میں تو اکثریت حاصل کی ہوئی ہوتی ہے مگر مجموعی طور پر ان کی پارٹی اکثریت میں نشستیں نہیں لے پاتی ہے تو وہ حکومت کے بجائے اپوزیشن میں ہوتے ہیں۔انہوں نے جب ووٹ لیے تھے تو حکومت کرنے کے لیے نہیں بلکہ نمائندگی کے لیے لیے ہیں۔لہٰذا اپوزیشن اور حکومت ایک گاڑی کے دو پہیوں کی طرح ہیں۔ ان دونوں کے ایک ساتھ چلنا ہوتا ہے تب جا کر جمہوریت کا نظام چلتا ہے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اپوزیشن کی سیاسی اور قانونی پوزیشن بھی اس وجہ سے مسلمہ ہوتی ہے کہ وہ انتخابات میں دوسرے نمبر پر ووٹ لے کر آئی ہوئی ہوتی ہے۔ اگر ان کی یہ پوزیشن نہ ہو تو  اس کی حیثیت ایک پریشر گروپ کی سی ہو جاتی ہے۔ جسکا کام سڑکوں پر احتجاج کرنا ہوتا ہے۔ ایسے پریشر گروپوں کی اس جہ سے بھی اہمیت ہوتی ہے اور اہمیت دی جاتی ہے کہ  چونکہ ان کو پارلیمنٹ میں نمائندگی نہیں ہوتی، اور جمہوری نظام میں حکومت، رائے عامہ کے اداروں اور سماج تک اپنی بات پہنچانے کے لیے وہ آواز اٹھانے کا یہ طریقہ اپنائے ہوئے ہوتے ہیں۔جب اپوزیشن کو قانونی حق  اور جمہوری طریقہ حاصل ہے تو غیر جمہوری طریقے کیوں اختیار کئے جاتے ہیں؟ کیا یہ کسی سیاسی نظام کی بلوغت کی نشانی ہے؟
اس رو سے ہماری اپوزیشن کا رول منفی ہی نہیں خاصا مختلف نظر آتا ہے۔وہ وقت سے پہلے منتخب حکومت کو گرانا چاہتی ہے۔ بجائے اس کے کہ وہ وقت کا انتظار کرے اور جب انتخابات ہوں تو ووٹوں کے ذریعے عوام کی مدد سے موجودہ حکومت کی جگہ لے لے۔اس کے بجائے وہ ایسے طریقے استعمال کرنا چاہتی ہے  جو نہ جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور  نہ ہی اس کی آئین اور قانون میں گنجائش ہے۔اس طرح سے پورا پارلیمنٹ کا ادارہ اور سیاسی نظام ہی کمزور ہونے لگتا ہے۔
علم سیاسیات کے مطابق اور دنیا میں رائج جمہوری نظاموں  میں اپوزیشن کا  فرض متعین ہے۔ اس کی رو سے  اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ حکومت وقت سے سوال کرے اور عوام کی جانب اسے جوابدہ بنائے۔نیوزیلینڈ کے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر ڈان براس کے مطابق پوزیشن متبادل حکومت کی نمائندگی کرتی ہیاور حکومت کی پالیسیوں کو چیلینج کرنے اور جہاں ضروری ہو اس سے ہٹ کے پالیسیاں بنانے کے لیے ذمہ دار ہے۔لوگوں کو بھی اپوزیشن کا محاسبہ کرنا چاہئے کہوہ کیا کر رہی ہے اور کل حکومت میں آکر کیا کرسکتی ہے۔ہر حکومت کو ہمیشہ عوام کے سامنے جوابدہ ہونا چاہئے۔ایک اچھی اپوزیشن ایسے اشوز اٹھاتی ہے جو جلدی حل ہوتے ہیں اور عوام کو اس سے رلیف ملتا ہے۔
 ڈاکٹر ڈان براس کے مطابق اپوزیشن کا کام صرف حکومت کی مخالفت کرنا نہیں ہوتا۔کئی ایسے بھی مراحل آتے ہیں جب حکومت سے متفق بھی ہو جاتی ہے۔لیکن ہمارے ملک میں ایسی کوئی صورتحال نظر نہیں آتی۔
یہ صحیح ہے کہ اپوزیشن کے پاس اتنے وسائل نہیں ہوتے جتنے حکومت کے پاس ہوتے ہیں لہٰذا اسے حکومت کے مقابلے میں دگنا کام کرنا پڑتا ہے۔لہٰذا لیڈر اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں اور دیکھیں اور سنیں کہ عوام کیا کہتی ہے اور کیا چاہتی ہے۔ عام طور پر مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب حکومت کچھ ڈلیور نہیں کرتی۔لیکن ہمارے ہاں اپوزیشن نے جو طریقہ اختیار کیا ہوا ہے وہ زیادہ محنت سے بچنے والا ہے۔ اگر معاملات پر ٹھیک سے ریسرچ کرکے اٹھائے جائیں تو حکومت خاصی مشکل  میں پڑ جاتی ہے۔  اگر ایسا نہیں تو وقت اور پیسے کاضیاع ہے۔ یہ بات صرف اپوزیشن کے لیے ہی نہیں بلکہ جمہوریت کے لیے بھی نقصاندہ ہے۔ 
بعض اوقات حکومت کی کوتاہی ایک ایسا اشو بن جاتا ہے جو اپوزیشن کو پلیٹ فارم مہیا کرتا ہے۔ جمہوری معاشروں میں یہ مروجہ اصول ہے کہ پاوزیشن کا کام صرف مخالفت ہی نہیں بلکہ حکومت سے مسلسل یہ پوچھتے رہنا ہے کہ حکومت کیا کر رہی ہے اور ایسا کیوں کر رہی ہے۔اس کام کے لیے  منتخب ایوانوں میں وقفہ سوالات، پوائنٹ آف آرڈر،  ور دیگر کئی طریقے موجود ہیں۔جس کے ذریعے حکومت کو یہ بتانا ہے کہ وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہے۔ اس طرح اپوزیشن حکومت کو اکاؤنٹ ایبل کرنے سے زیادہ مثبت رول ادا کر سکتی ہے۔
دنیا بھر میں پارلیمانی نظاموں میں کمیٹی سسٹم اب زیادہ مقبول ہو رہا ہے۔ جس میں تمام بل، مختلف تجاویز، مختلف وزارتوں کے معاملات کمیٹیوں کی نگرانی میں چلتے ہیں۔یہاں تک کہ کسی کمیٹی کے چیئرمن کے پاس وزیر کے برابر ہی اختیارات ہوتے ہیں۔شرط یہ ہے وہ ان اختیارات کو استعمال کرنا جانتا ہو۔پاکستان میں بھی کمیٹی سسٹم موجود ہے۔ہمارے ہاں حکومتی معاملات پر نظر رکھنے کے حوالے سے اور بھی اچھی صورتحال ہے۔ کیونکہ یہاں پر کم از کم چار جماعتوں پر مشتمل مخلوط حکومت ہے۔ ایک مخلوط حکومت میں کمیٹیاں زیادہ طاقتور ہوتی ہیں کیونکہ حکومت کے پاس اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے اس کا کنٹرول نہیں رہتا۔ 
اگرچہ پارلیمانی حکو مت مختلف ممالک میں مختلف نوعیت کی ہوتی ہے، مگر تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ان کا طریقہ کار ایک جیسا ہوتا ہے۔
اپوزیشن کا کردار کچھ اس طرح کا ہونا چاہئے کہ لوگ سمجھیں کہ وہ حکومت کو سدھار سکتی ہے کوئی تبدیلی لاسکتی ہے۔یہ مانا ہوا اصول ہے کہ حکومت تب اچھی چلتی ہے جب اس پر چیک اور تنقید ہو۔مگر جب معاملہ حکومت کو اچھی طرح سے چلانے یا  پارلیمانی نظام کو چلانے  کا نہ ہو تو سب چیزیں فضول ہو جاتی ہیں۔
 جمہوریت اس بنیاد پر کام کرتی ہے کہ اس میں پسند یا سلیکشن کا معاملہ ہو۔اس کا مطلب یہ ہے کہ مقننہ جو ملک کے لیے قانون بناتی ہے اس کے سامنے بھی مختلف آراء موجود ہو، اور ان آراء کو سنا بھی جائے۔یعنی تمام منتخب نمائندے پالیسی پر مختلف آپشن پیش کریں اور حکومت کا حصۃ نہیں ہیں تو متبادل پالیسیاں بھی دیں۔عوام یہ چاہتے ہیں کہ نمائندے چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں وہ مؤثر رال ادا کریں۔اپوزیشن کا مؤثر طور پر کام کرنا خود جمہویرت کی جان ہے۔
اپوزیشن چاہے چھوٹی کتنی ہی نہ ہو وہ بڑے پیمانے پر لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ اور حکومت  کے نقطہ نظر کے برعکس بات کرتی ہے لہٰذا اس کی بات سنی بھی زیادہ جاتی ہے اور اس میں پبلک اپیل بھی زیادہ ہوتی ہے۔لہٰذا اپوزیشن کا رول  یوں بھی حکومت سے بڑھ جاتا ہے۔اس ابات کو آج کی صورتحال پر لاگو کر کے دیکھا جائے تو بات سچ معلوم ہوتی ہے۔
جب ہمارے اراکین اسمبلی ایوان میں بیٹھتے ہیں یا منتخب ہوکر آتے ہیں تو اپنے حلقے اور ووٹرز کو بھول جاتے ہیں۔پارلیمنٹ کا ایک رکن قانون سازی،  اپنے حلقہ انتخاب کی نمائندگی، حکومت کے کاموں پر نظر رکھنے اور مختلف تجاویز کی حمایت یا ان پر تنقید کرنا شامل ہے۔
 سیاسی  نظام کی مضبوطی کے لیے جمہوری استحکام، بالغ نظری، برداشت، سیاسی اور معاشی وسائل کی تقسیم، مختلف روایات اور اداروں کی تشکیل اور قومی سیاسی کلچر ووٹ دے کر حکومت کے فیصلہ سازی میں شریک ہونا،  نمائندگی کا حق، اور ایک منظم اپوزیشن کا حق،از حد ضروری ہیں۔ آج بشمول پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے اگر ہمارے سیاسی ادارے کمزور ہیں تو اس میں حکومتوں کی گربڑ اپنی جگہ پر مگر اپوزیشن نے بھی  اپنا روک مؤثر طور پر اور ان اداروں  کی مضبوطی اور فروغ کے لیے نہیں کیا۔  یہ بات صرف آج کی  اپوزیشن نہیں، ماضی کی اپوزیشن پر بھی  لاگو ہوتی ہے۔
 پارلیمنٹ کوئی monolithic and homogeneous   ادارہ نہیں ہے  بلکہ ایک نمائندہ اسمبلی ہے۔ جہاں تصور یہ ہے کہ مختلف مفادات اور خیالات کی نمائندگی ہونی چاہئے۔جہاں اکثریت اور اقلیت میں فرق ٹھیک سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔جدید پارلیمنٹ میں منظم پارٹیوں اور منظم اپوزیشن  ہیں۔ ان سب کی نمائندگی ہوتی ہے۔اپوزیشن چونکہ اقلیت میں ہے تو اس کا کام حکومت کرنا نہیں۔بلکہ حکومت پر نظر رکھنا ہے۔

No comments:

Post a Comment