Thu, Aug 23, 2012, 12:56 PM
حکمرانوں میں ذہانت کا قحط: کالم میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
دیر آید درست آید۔ بالآخر حکومت سندھ کوتھر کا قحط نظر آہی گیا۔ اور صوبے کی کل ایراضی کا 15.61 فیصد کو قحط زدہ قرار دے دیا۔یہ سب میڈیا کا کمال ہے۔ ورنہ وزیر اعظم، پوری سندھ کابینہ،ضلع انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کو تو قحط نظر نہیں آرہا تھا۔جو کہ دو ہفتے قبل اس علاقے کا دورہ کر چکے تھے۔ ویزر اعظم پرویز اشرف نے 9 اگست کو مٹھی اور تھر کول ایریا کا دورہ کیا۔ سندھ کابینہ کا جولائی کے تیسرے ہفتے میں تھرپارکر کے ضلع ہیڈکوارٹر میں اجلاس ہوا تھا۔اسے بدنصیبی کہئے یا ستم ظرفیفی کہ ان دونوں مواقع پر انتظامیہ اور علاقے کے منتخب نمائندے قحط کے بڑھتے ہوئے قموں کو نہ بھانپ سکتے نہ آگاہ کرسکے۔ شاید ان سب کو دوسرے کاموں سے فرصت بھی نہیں۔ یہ ہے گڈ گورننس اور منتخب نمائندوں کی ذمہ داری اور عوام دوستی کا اظہار۔
یہ کوئی پہلا موقعہ نہیں کہ صوبے کی کل آبادی کے تقریبا تین فیصد لوگوں کو کو نظر انداز کیا گیا۔ سندھ کابینہ جو مختلف اضلاع میں اپنے اجلاس کر رہی تھی اور وہاں کے مسائل کا ادراک کرکے حل کر رہی تھی، ترقیاتی منصوبے دے رہی تھی۔اس نے اس پسماندہ علاقے کے ساتھ کیا سلوک کیا۔وہ دیکھنے کے قابل ہے۔ سندھ کابینہ نے مٹھی میں منعقدہ اپنے اجلاس میں دوکالج قائم کرنے اور ہسپتالوں میں مزید ڈاکٹر تعینات کرنے کا وعدہ کیا۔وضح رہے کہ اس وقت تھر میں کل تین کالج ہیں۔ ان میں سے دو ضلع ہیڈکوارٹر میں ہیں۔ ماضی کی حکومتوں کی طرح یہ خواب دوبارہ دکھایاکہ 2015 تک تھر کول پروجیکٹ شروع ہو جائے گا۔وزیراعلیٰ نے بریفنگ میں بتایا کہ صوبے بھر میں 106,000 نوجوانوں کو فنی تربیت دی گئی ہے۔ مگر تھر کے نوجوانوں کی تعداد کتنی ہے اس کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہا۔بہت دلچسپ بات ہے کہ تھر سے منتخب نمائندوں کو قحط کی صورتحال کی فکر نہیں تھی۔ ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ دو تحصیلوں میں تحصٰلداروں اور ڈی ایس پیزکے تقرر کا تھا جس کے لیے انہوں نے وزیراعلیٰ سے فرمائش کی۔
اٹھارہ لاکھ نفوس پر مشتمل تھر جہاں دو قومی کیاور چار صوبائی اسمبلی کی نشستیں ہیں۔ قحط کا مقابلہ کر رہے ہیں۔علاقے کا مکمل انحصار بارش پر ہے۔ بارش ہوتی ہے توکھیتی باڑی بھی ہوتی ہے۔اور مال مویشیوں کے لیے چارہ بھی جو کہ یہاں کے لوگوں کا دوسرے نمبر پر ذیعہ معاش ہے۔
اگر دوسرے اضلاع کو دیئے گئے ترقیاتی منصوبوں کو دیکھا جائے تو زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ہمارا قطعی یہ مطلب یہ نہیں کہ دوسرے اضلاع میں ترقی نہ ہو۔ موازنہ سے ہماری مراد حکومت کی ترجیحات، گڈ گورننس اور علاقے کے اسمبلی ممبران کی دلچسپی کو بیان کرنا ہے۔
کشمور میں کابینہ کے اجلاس میں بتایا گیا کہ ضلع کے ترقیاتی کاموں کے لیے 200 ملین روپے خرچ کئے جا چکے ہیں۔ اس موقع پر 300 ملین روپے کے خصوصی پیکیج کا اعلان کیا گیا۔ جیکب آباد ضلع کے لیے 5 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اور 50 ملین روپے سول ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے۔ 38 آ او پلانٹس، 78 میل روڈ کی تعمیر کے لیے رقومات دینے کا فیصلہ کیا گیا۔دادو میں پینے کے پانی کے لیے 77 کروڑ روپے، 72 کروڑ روپے کے خرچ سے ہیلتھ انسٹیٹیوٹ مکمل کیا جا رہا ہے۔400 ملین روپے دادو کے مختلف شہروں کو گرانٹ دی جائے گی۔ دادو ضلع میں رواں مالی سال کے دوران2.5 ملین روپے مختلف ترقیاتی کاموں پر خرچ کئے جار ہے ہیں۔
ٹنڈوالہیار کے لیے 2500 یعنی ڈھائی ارب روپے کا پیکیج منظور کیا گیا۔نوشہروفیروز کے لیے 300 ملین روپے کا پیکیج منظور کیا گیا۔15 ملین روپے ڈاٗلیسز سینٹر کے لیے منظور کئے گئے۔تعجب کی بات ہے کہ تھر جو کہ ایک پسماندہ ضلع ہے اور ایک اسٹڈی کے مطابق دس برس میں سے چار برس قحط پڑتا ہے۔تین سال درمیانہ اور تین سال معمول کے مطابق ہوتے ہیں۔مسلسل قحط سالی نے تھر میں غربت، غذائیت کی کمی اور صحت سے متعلق مسائل اور مجموعی طور پر سماجی ترقی کے مسائل پیدا کردیئے ہیں۔وہاں کے لیے کابینہ کے خصوصی اجلاس نے کچھ نہیں دیا۔اس اجلاس نے یہ بھی نوٹ نہیں کیا کہ بارش کا موسم ختم ہو رہا ہے اوراس کے لیے کچھ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ایک ذمہ دار سرکاری اہلکار سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ نہ ضلع انتظامیہ نے اور نہ ہی اسمبلی ممبران نے سندھ کابینہ اور وزیراعظم کے سامنے ایسی کوئی بات رکھی۔ اگر قحط کے حوالے سے کوئی بات سامنے آتی یقیننا کچھ فیصلہ کیا جاتا۔
اہلیت اور عوام دوستی کی بات صرف موجودہ حکمرانوں تک محدود نہیں۔ تھر سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے بھی اپنے دور حکومت میں ایسا کچھ نہیں کیا کہ تھر کے لوگ قحط کی صورت میں کچھمدد حاصل کر سکیں یا س مصیبت کو نسبتا بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں۔ابھی وہ دبئی میں ایئر کنڈیشنڈ میں مزے سے ٹھنڈی ہوا کھا رہے ہیں۔تھر میں ووٹربدترین قحط کا سامنا کررہے ہیں۔
عام طور پر بارشیں جون کے دوسرے ہفتے میں شروع ہو جاتی ہیں اور بیس جولائی تک بارشیں پڑنے کا مطلب بہتر سال ہوتا ہے۔ بارشوں کی آخری ڈیڈ لائین 14 اگست سمجھی جاتی ہے۔اس کے بعد بارش کا کوئی امکان نہیں ہوتا۔ اور قحط یقینی ہو جاتا ہے۔ اور برطانوی دور سے یہ پریکٹس رہی ہے کہ بارش نہ پڑنے کی صورت میں اگست کے دوسرے ہفتے میں میں قحط کا باضابطہ اعلان کرکے امدادی کارروائیاں شروع کردی جاتی ہیں۔لیکن ہر مرتبہ حکومت وقت پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تب حکومت کو اپنے فرائض یاد آتے ہیں۔اس مرتبہ بھی ایک ہفتے تک میڈیا نے شور کیا تب جا کر حکومت نیند سے جاگی اورعلاقے کو قحط زدہ قرار دیا۔
اب پورے ضلع کی آبادی کو قحط کا سامنا ہے۔ لوگ اپنے مال مویشی اونے پونے داموں بیچ کر نقل مکانی کر رہے ہیں۔ مخلتف شہروں کی مویشی منڈیوں میں جانوروں کے دام گر گئے ہیں۔حکومت نے نہ ابھی مدادی کام شروع کیا ہے اور نہ ہی ایسے اقدامات کہ قحطزدہ لوگوں کومویشیوں کے مناسب دام مل سکیں۔ڈزاسٹر کی صورتحال ہے جہاں لوگ قحط زدہ حالات مہٰن پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی حالت بھی ایسی ہی جیسے سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کی ہے۔ بڑے پیمانے پرنقل کی وجہ سے ٹرانسپورٹرز نے گاڑیوں کے کریے بڑھا دیئے ہیں۔حکومت نہ قحط سے جان بچا کر نکلنے والوں کوٹرانسپورٹ مہیا کر رہی ہے اور نہ ہی اضافی کرایوں پر کنٹرول کر رہی ہے۔
مون سون کا موسم ختم ہو رہا ہے۔ تھر میں ابھی ایک بھی بارش نہیں ہوئی۔ نتیجے میں پندرہ لاکھ سے زائد آبادی کو قحط کا سامنا ہے۔اور لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔
گزشتہ سال زوردار بارشوں کی وجہ سے فصلیں نہیں ہو سکیں۔1987 میں اور اس کے بعد 1997 سے 1999 تک مسلسل شدید قحط سالی کی وجہ سے ہزاروں افراد نے نقل مکانی کی تھی اور ہزاروں کی تعداد میں مویشی بھوک کی وجہ سے مر گئے۔1999 میں بھوک اور قحط کی وجہ سے کچھ انسانی جانیں بھی ضایع ہوئیں۔
حکومت کے اعلان کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے۔ ابھی تک امدادی سرگرمیاں شروع نہیں ہو سکی ہیں۔ دراصل حکومت کے پاس ہر دو تین سال کے بعد رونما ہونے والے قحط کے لیے کوئی کانٹیجنسی پلان نہیں ہے۔ایسے میں ایک اندازے کے مطابق چالیس فیصد آبادی نقل مکانی کر جائے گی۔ماضی میں امداد کی منظوری اور اس کی تقسیم میں جو دیر، بے قاعدگیاں سرزد ہوئیں، قوی امکان ہے کہ اس مرتبہ بھی اسی منظر کو دہرایا جائے گا۔ امدادی گندم سالہا سال تک اسکولوں کی عمارتوں میں سڑتی اور گلتی رہی، مگر تقسیم نہیں کی گئی۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ شفاف طریقے سے اور فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کی جائیں، تاکہ لوگ جو نقل مکانی کر رہے ہیں ان کو بھی آسرا ہو کہ حکومت کچھ مدد کرنے جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اولیت مویشیوں کے لئے چارے کی فراہمی ہے۔ کیونکہ مویشی تھر کے لوگوں کے لیے بیش بہا اثاثہ ہیں۔
دراصل تھر کے لوگ جس مصیبت کو بھگت رہے ہیں وہ قدرتی آفات یا بارش نہ پڑنے کا قحط نہیں بلکہ حکمرانوں اور منتخب نمائندوں کی ذہانت،خلوص، اور عوام میں دلچسپی کا قحط ہے کہ انہوں نے بروقت صورتحال کا ادراک نہیں کیا اور فیصلے نہیں کئے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت یہاں کے منتخب نمائندوں اور انتظامیہ سے پوچھے کہ وہ آخرکیونکر اس صورتحال سے آگاہ کرنے اور عوام کی نمائندگی کرنے میں ناکام رہے۔جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو بھوک، نقل مکانی وغیرہ کا شکار ہونا پڑا۔
No comments:
Post a Comment