Mon, Feb 11, 2013 at 10:19 AM
زرداری اور فخرالدین جی ابراہیم
میرے دل میرے مسافر سہیل سانگی
پاکستان میں آج دو شخصیات زیادہ موضوع بحث ہیں۔ ایک صدر آصف علی زرادری اور دوسرے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین ابراہیم۔ صدر زرداری اس لیے کہ وہ سیاست کرتے ہیں۔ اور چیف الیکشن کمشنر اس لیے کہ کمیشن کے باقی ممبران پربعض سیاسی جماعتوں کو اعتراض ہے اور یہ بھی شکوہ ہے کہ الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کی ہدایت اور وعدے کے مطابق کراچی میں ووٹرز کی تصدیق اور نئی حلقہ بندیاں اطمینان بخش طور پر نہیں کراسکی۔ اتوار کے روز کراچی میں دس جماعتی اتحاد کے زیر اہتمام الیکشن کمیشن کے خلاف ریلی بھی نکالی گئی۔ اس سے پہلے اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) نے اگرچہ الیکشن کمیشن کو اختیارات دینے کے لیے دھرنا دیا تھا۔ مگراس سے بھی کمیشن کی پوزیشن متنازع بنی۔
موجودہ الیکشن کمیشن کی تشکیل کا تمام سیاسی حلقوں نے خیرمقدم کیا تھا۔اچھی ساکھ رکھنے والے شخص الیکشن کمیشن کے سربراہ ہیں۔مگر آج اس کمیشن کا ذکر عام ہے۔ کمیشن کی تشکیل پر اعتراض کرنے والوں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ انہیں الیکشن کمیشن کے سربراہ پر کوئی اعتراض نہیں، باقی ممبران پر اعتراض ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو یہ بیان دینا پڑا کہ بعض لوگ سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کو متنازع بنا رہے ہیں۔ کمیشن کی تشکیل باقاعدہ آئینی حیثیت ہے۔اس کے ممبران ریٹائرڈ جج ہیں۔ جن کی کوئی سیاسی ترجیح یا وابستگی نہیں ہے۔
علامہ قادری کی سیاسی آکھاڑے میں اترنے کے بعد اچانک ہر ایک کو اس ادارے کے اراکین اور تشکیل پر اعتراضات سامنے آگئے ہیں۔
جن سیاسی جماعتوں کو الیکشن کمیشن پر اعتراض ہے اس میں تحریک انصاف، قاف لیگ اور اب ایم کیو ایم بھی شامل ہو چکی ہے۔ گزشتہ روز تحریک انصاف اورمسلم لیگ (ق) نے بھی علامہ قادری کے الیکشن کمیشن کو تحلیل کرنے اور اس کی از سرنو تشکیل کے مطالبے سے اتفاق کیا ہے۔ ادھر علامہ قادری نے 15فروری سے 10 مارچ تک گجرانوالہ سے چھ شہروں تک لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ قاف لیگ کل تک حکومت کے ہر فیصلے میں شامل تھی اور الیکشن کمیشن کے تشکیل کے فیصلے میں بھی شامل رہی۔ لیکن اچانک قلابازی کھائی ہے۔ عمران خان نے علامہ کے لانگ مارچ اور دھرنے سے خود کو دور رکھا لیکن اب الیکشن کمیشن کی تحلیل کے غیر آئینی مطالبے پر ان کی حمایت کر رہے ہیں۔ غیرآئینی اس لیے ہے کہ اس میں ترمیم صرف پارلیمنٹ کر سکتی ہے۔ یا یہ کہ کمیشن کے ممبران کو ہٹانے کے لیے بلکل اسی طرح ریفرنس داخل کیا جائے جس طرح اعلیٰ عدالتوں کے ججز کو ہٹانے کے لیے ریفرنس داخل کیا جاتا ہے۔
اب توعلامہ طاہرالقادری نے سپریم کورٹ میں کمیشن کی تشکیل کو چیلینج کیا ہے۔ انہوں نے درخواست میں یہ موقف اختیارکیا ہے کہ کمیشن کی تشکیل میں آئینی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا ہے۔ اور آئین کے آرٹیکل 213کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس درخواست پرسپریم کورٹ کا فیصلہ کیا آتا ہے یہ بعد کی بات ہے۔ اس مرحلے پر بھی یہ سمجھا جارہا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن ہی متنازع بن گیا ہے۔ اگر وقاعی ایسا ہے توانتخابات کیسے ہونگے؟ اور ہونگے تو ایسے انتخابات متنازع نہیں کہلائیں گے؟ الیکشن کمیشن آج اچانک وجود میں نہیں آیا ہے۔ اس کو خاصا وقت گزر چکا ہے۔ جب اس کی تشکیل ہوئی تھی توسب نے تعریف کی تھی اوربجا طور پر شفاف انتخابات کی امید کی تھی۔ بعد میں اچانک علامہ قادری کے نمودار ہونے کے بعد یہ سب اعتراض کر رہے ہیں۔
اس وقت اگر الیکشن کمیشن کی ازسرنو تشکیل کی گئی تویقیننا انتخابی عمل متاثرہوگا جو کہ انتخابات میں تاخیر کا باعث بن سکتا ہے۔ جس سے ایک اور آئینی بحران جنم لے گا۔
آصف علی زرداری کا صدر بننا بعض سیاسی جماعتوں سے ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ وہ روز اول سے ان کے خلاف رہی ہیں اور مہم چلاتی رہی ہیں۔ کبھی میمو گیٹ، تو کبھی ایبٹ آباد واقعہ جس میں اسامہ بن لادن ہلاک ہوگئے، سوئس حکام کو خط لکھنا جیسے چھوٹے بڑے ایک درجن کے واقعات اس فہرست میں شامل کئے جاسکتے ہیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ صدر سے کہا جا رہا ہے کہ وہ سیاسی سرگرمیاں نہ کریں۔ حکومتی معاملات پر نظر نہ رکھیں، قوم اور ملک کے بھلے کے لیے حکومت یا پارلیمنٹ کو مشورہ نہ دیں وغیرہ وغیرہ۔اگر صدر یہ سب نہ کریں تو کیا وہ اس لیے ہیں کہ وہ ایوان صدر میں بیٹھ کر تاش یا شطرنج کھیلتے رہے؟ صدر کو غیرسیاسی بناتے وقت یہ بھول جاتے ہیں کہ صدر کا عہدہ اور اس کا انتخاب مکمل طور پر سیاسی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اہلیت کے لیے بھی عوامی نمائندگان کا قانون لاگو ہوتا ہے۔
آصف علی زرداری کی رستہ روک کی مہم آخری مرحلے میں ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کا حکم ہے کہ اب بہت ہو چکا انہیں صدارت یا سیاسی عہدے میں سے کوئی ایک عہدہ رکھنے کا اختیار ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے حکم میں کہا گیا ہے کہ بتایا جائے کہ وہ سیاسی عہدہ کب چھوڑیں گے؟
زرداری ملک کی اقتداری سیاست کے اہم کھلاڑی ہیں۔ جن کے مخالفین بھی کہتے ہیں کہ ان کی سیاست پرپی ایچ ڈی کرنی پڑے گی۔ پاکستان کی پاور پالیٹکس میں زرداری کے انتہائی اہم ہونے کو مخالفین غیر اہم قراردینے کے لیے سب جتن کررہے ہیں۔
سوئس حکام کو خط لکھنے پر بہت شور تھا۔ یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ خط لکھنے کے بعد پاکستان میں ہر چیز بدل جائے گی۔ خط لکھا گیا، کچھ بھی نہیں بدلا۔ اور خط کا جواب بھی آ گیا۔ جس سے صدر زرداری کی پوزیشن اور مضبوط ہو گئی۔ سوئس حکام نے لکھا ہے کہ سابق اٹارنی ریٹائرڈ جسٹس قیوم لک کی درخواست پر بند کئے گئے مقدمات دوبارہ کھولنا سوئس قانون کے خلاف ہے۔ سوئس حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ مقدمہ اب ٹائم بار ہو چکا ہے اس لیے بھی نہیں کھولا جاسکتا۔ اسکو کہتے ہیں ”کھودا پہاڑ نکلا چوہا وہ بھی مرا ہو۔“ جب خط لکھنے نہ لکھنے کی تکرار سیاست اور عدلیہ میں عام تھے اس وقت میں نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ ایک مقررہ مدت گزرنے کے بعد سوئس قانون کے مطابق مقدمہ دوبارہ نہیں کھولا جاسکتا۔ حکومت یہ مدت گزارنے سے پہلے خط لکھنے پر راضی نہیں ہوگی۔ حیرت کی بات ہے کہ ہمارے قانوندان اور عدلیہ دونوں اس بات سے بے خبر رہے۔ تقریبا دوسال تک ریاست کے دو اہم دارے آمنے سامنے رہے۔ نتیجے میں حکومت کود کو بچانے اور عدلیہ اپنے فیصلے پر عمل درآمد کرانے کے علاوہ شاید ہی کچھ کر پائی ہو۔ کئی اہم انتظامی اور عوام کے بھلے کے کام اور فیصلہ نہ ہو سکی۔ اسی طرح عدلیہ بھی عام آدمی کو رلیف یا انصاف نہ دے سکی۔دو سال بہت بڑا عرصہ ہوتا ہے۔
اب صدر زراری پر لٹکتی ہوئی تلوار ہٹ گئی ہے اور نگراں حکومت یا آئندہ انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی کسی بھی حکومت میں ان کو اس حوالے سے کوئی خوف نہیں۔ ایک پیپلز پارٹی کے مطابق یہ صدر زرادی کی اخلاقی فتح ہے۔ میرے نزدیک یہ اخلاقی ہی نہیں بلکہ قانونی اور سیاسی فتح ہے۔اس کے بعد صدر پر اٹھنے والے اعتراضات اور الزامات کو بہ آسانی سیاسی مخالفت یا سیاسی مفادات کے نام پرعوام کے سامنے مسترد جاسکتا ہے۔
No comments:
Post a Comment