Monday, 9 March 2020

مذہبی احتجاج - Sep 24, 2012

Mon, Sep 24, 2012, 6:44 PM
مذہبی احتجاج
مبین رشید صاحب یہ کالم عطا صاحب سے ڈسکس کر لیجئے گا۔ذیادہ  متنازع تو نہیں؟
میرے دل میرے مسافر۔۔۔ سہیل سانگی
جمع کے روز احتجاج  ہو چکا۔  اب مختلف حلقے  اس روز  جو کچھ بھی ہوا  اور جس طرح بھی ہوااس کا  جائزہ لے رہے ہیں۔ اور یہ بھی کہ اس کے فوری، مستقبل قریب اور دور رس کیا کیا اثرات مرتب ہونگے۔ کیلفورنیا کے کسی آدھے پاگل اور سزا یافتہ  بندے نے ایک تھرڈ کلاس فلم بنائی جو کسی بھی طور پر دیکھنے کے قابل نہیں۔جس میں حضور پاک کے شان میں گستاخی کی گئی تھی۔اس کے خلاف احتجاج سمجھ میں آتا ہے۔ ہمیں یہ حق ہے کہ اس بات کو روکیں کہ کوئی بھی ہمارے مذہبی عقائد کو ٹھیس نہ پہنچائے۔ہماری روایات کا احترام کیا جائے۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ کوئی محقق  اس فلم کے اصل محرکات اور جس طرح سے اس کو استعمال کیا گیا اس کی تحقیق اور تحقیقات کرتا۔اور اصل حقائق سامنے لے آتا۔اب  پاکستان خواہ دینا بھر کے مسلمان  اس گستاخانہ فلم پراپنا احتجاج ریکارڈ کرا چکے ہیں۔ تو شاید اس پورے قصے کے دوسرے پہلوؤں پر بھی ٹھنڈے دل سے غور کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا پہلوہے جو دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے فائندیمند بھی رہے گا۔   یہ فلم دو ماہ سے یو ٹیوب پر پڑی رہی، اس کا کوئی ذکر فکر ہی نہیں تھا۔امریکی ٹوئن ٹاور پرحملے کی سالگرہ کے موقع پر یعنی گیارہ ستمبر کواچانک یہ  معاملہ سامنے آیا۔احتجاج دنیا بھر کے مسلمانوں نے کیا۔اپنی ناراضگی کا بھرپور اظہار کیا۔مگر ہمارے ہاں جو کچھ ہوا وہ دوسرے ممالک سے مختلف تھا۔مذہبی غلبہ تو ہم سے زیادہ ایران اور مصر وغیرہ میں ہے۔ وہاں پر یہ جمع خیر عافیت سے گزر گیا۔ احتجاج یقیننا وہاں بھی ہوا مگر اس طرح کا نہیں تھا۔ ہمارے ہاں احتجاج سے زیادہ افرتفری تھی۔ ہنگامے تھے جس میں 22 افراد جاں بحق ہوئے۔200 سے زائد زخمی ہوئے۔کروڑوں کی نجی و سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔علاوہ ازیں حکومتی بے بسی بھی عیاں ہوئی۔
 اب میڈیا میں اور عام بحث میں بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ ایسا کرکے ہم نے اپنے پیغمبر کے اصولوں کی ترجمانی یا پیروی کرلی؟  یا اسلام کی خدمت کر لی؟  دنیا میں پاکستان کا نام بطور ایک مہذب قوم کے شمار کرا لیا؟بلکہ ہم نے تو یہ ثابت کیا کہ ہمارے پاس افراتفری کا راج ہے۔
پیپلز پارٹی نے جمع کے روز یوم عشق رسول منانے کا فیصلہ کیا  تو وہ تمام حلقے اور جماعتیں  جو پیپلز پارٹی کی حکومت کو اس اشو پر اکیلا کرنا چاہتی تھیں ان کو مایوسی ہوئی۔ پھر ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ کسی نہ کسی طرح سے معاملے کو اس حد تک لے جایا جائے کہ تمام مذہبی جماعتوں کی حیثیت اور سودے بازی کی پوزیشن  میں  اضافہ ہو سکے۔نئی حکمت عملی کے تحت شہری علاقوں کو  ہنگاموں کے لیے منتخب کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی یہ شدید خواہش سمجھ میں آتی ہے کہ کہیں اس اشو  پر وہ  اپوزیشن جماعتوں سے پیچھے نہ رہ جائے۔ پیپلز پارٹی نے شاید اس دن چھٹی کرکے غلطی کی کہ ملک بھر میں مکمل شٹ ڈاؤن ہو گیا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سیاست کو الگ رکھ کر  پوری قوم  حکومت اور اپوزیشن کے چکر سے ہٹ کرایک آواز ہو کر امریکہ کے خلاف یک جہتی کامظاہرہ کرتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ حکومت نے جو اعلان کیا اس کو  ایک لحاظ سے اس سے ہٹ کر چیزیں کر رہے تھے۔ یوں ہم حکومت کو کمزور کرنے کے چکر میں خود کو بھی کمزور کر رہے ہیں۔لہٰذا عملا ہمارے احتجاج بے اثر ہو رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، اے این پی، ایم کیو ایم، پاکستان تحریک انصاف وغیرہ تمام نے اس گستاخانہ فلم کی مذمت کی اور عوام کو پرامن رہنے کی اپیل کی۔تب تک بعض خود کو بہترمسلمان  سمجھنے والے میدان  میں آگئے۔ بڑے شہروں میں  پرتشدد واقعات بھڑک اٹھے۔ مظاہرین نے عملا شہروں کا کنٹرول سنبھال لیا۔ جہاں پولیس اور سول انتظامیہ بے بس بن گئی۔
ہڑتال کرنا اتنی بھی خراب نہیں  جب دوسرے طریقے ناکام ہو جائیں تویہ بھی  اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کا جمہوری طریقہ ہے۔یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں شہریوں اور ملک کو پہنچنے والا نقصان کو جانے بغیراس عمل کو گاہے بگاہے دہراتی رہتی ہیں۔خوفناک پہلو یہ ہے کہ اب پاکستان میں ہر مجمع  پرتشدد ہے۔ بجلی کے خلاف احتجاج ہو یا کچھ اور۔ ہمارے پاس یہ کلچر مقبول ہو گیا ہے کہ تشدد سے ہی نتائج حاصؒ ہو سکتے ہیں۔ جو لوگ ہڑتال کی اپیل کرتے ہیں انکو ان ہڑتالوں کے نتائج اور اثرات سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے۔ پر تشدد واقعات نے کسی طور پر بھی اسلامی دنیا کے کاز کو آگے نہیں بڑھیایا۔بلکہ اس سے پاکستان کی ایسی تصویر بنی ہے کی یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں خونریز مجمع گھومتے رہتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس مخصوص ذہنیت کو کوئی جمہوری پاکستان پر  وار کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ پر تشدد واقعات صرف سندھ، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور خیبر پٹونخوا میں ہوئے جبکہ پنجاب اور بلوچستان میں احتجاج نسبتا پرامن رہے جہاں پر کسی کی ہلاکت یا بہت بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں۔
 کوئی بھی سیاسی یا مذہبی رہنما ان احتجاجوں میں موجود نہیں تھا اور نہ ہی کوئی جان پہچانا عالم دین ان کی قیادت کر رہا تھا۔ بعض اخبارات لکھتے ہیں کہ ان احتجاجوں میں افغان ی اور مدرسوں کے طالب تھے۔
 جمع کا دن تو نماز عبادت اور پاکیزگی کا دن ہوتا ہے۔ مگر یہ دن  لوگوں پر مصیبت نازل کرنے کے لیے چنا۔
  ہم نے دوسرے ممالک میں بھی  احتجاج دیکھے ہیں۔کہیں بھی اپوزیشن نے ہڑتال کی اپیل نہیں کی اور نہ وہاں پر حکومت اتنی معاون و مددگار بنی ہوئی تھیں۔حکومت کا کام تو کاروبار کو جاری کھنا ہوتا ہے بند کرنا نہیں۔ کل کی ہڑتاک سے جو نقصانانت ہوئے  اس کا اب حکومت خواہ معاشرے کے دیگر حلقوں بھی بخوبی اندازہ ہو گیا ہوگا۔
یہ جمع کا دن 1977ع کے جمع  کی طرح ہی تھا جب پاکستان قومی اتحاد نے احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد ملک  میں جو سیاسی، معاشی حالات بنے اور ملک کو جس طرح سے افغان جنگ میں دھکیل دیا گیا۔اس جنگ کے زخم ابھی بھی ہرے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ جس  بیناد پرستی کا بیج بویا گیا وہ ابھی  بڑا درخت ہو چکا ہے اور اس کے کانٹے کسی سے چنے نہیں جا رہے ہیں اور آئے دن ہمارے معاشرے کے ہر فرد کو چبھتے ہی رہتے ہیں۔
  ان احتجاجوں کا نشانہ امریکہ ہے۔ مگر اس کے لیے باقاعدہ  ایک فضا بن چکی تھی۔ مذہبی جماعتیں جو گزشتہ تین چار سال سے ملکی سیاسی اور بارگیننگ کے اسٹیج سے گم تھیں انہیں اپنے وجود کے بارے میں فکر ہو رہی تھی۔ان کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور پھر ایک فلم سے تمام معاملات تبدیل ہو گئے۔
 حکومت اور میڈیا کا  رول بھی زیادہ قابل تعریف نہیں ہے۔ ان دونوں نے میں لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھادی کہ عاملی طور  تنہاء رہ سکتے ہیں۔اور یوں  گستاخوں کو سزا دینے کے بجائے خود کو سزا دیتے رہیں۔
معاملہ نبی کریم کے شان میں گستاخی کا تھا مگر ملک بھر میں کہیں بھی  وہ رہنما نظر نہیں ّئے جو اپنی پارٹیوں کی قیادت کے دعویدار ہیں۔جو لوڈ شیڈنگ اور جسٹس کی حمایت میں تو سڑکوں پر نکل آئے مگر یہاں موجود نہیں تھے۔
  سوال یہ ہے کہ اس گستاخی کا مؤثر جواب کیا ہوسکتا تھا؟جب معاملہ امریکہ جیسے سپر پاور اور سازشی ملک سے ہو تو کیا اس طرح کا غیر منظم احتجاج کوئی نتیجہ دے سکتا ہے۔ کبھی کسی نے سوچا ہے کہ مغرب وقفے قفے سے ہمیں اشتعال میں لاکر  ایسے کام کرا رہا ہے جو ہمیں ہی نقصان دیتا ہے۔
بعض مبصرین  یہ کہتے ہیں کہ ہم غصے کا گھر ہیں۔ ڈینمارک کے اخبار میں شایع ہونے والا کارٹون نے بھی اشتعال دلایا۔کیا یہ سمجھا جائے کہ ہمیں غصۃ دلانے کا کوئی بہانہ چاہئے۔
ایسا لگتا ہے کہ دنیا کا کوئی فرد واحد مداری ہم پونے دو ارب مسلمانوں کو  جب چاہے ہم  چھیڑ کر اپنے ہی کپڑے پھاڑنے پر مجبور کرسکتا ہے۔ 

No comments:

Post a Comment