Thu, Jan 10, 2013 at 11:20 AM
خورشید قائمخانی ۔خانہ بدوش اور اچھوتوں کے سیلانی محقق
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
خانہ بدوش اور اچھوت لوگوں کی شناخت اور وطن کے متلاشی اب اس جہان میں نہیں رہے۔ آج مزید غریب ہو گئے۔۔ ان کی تاریخ، کلچر اور دکھوں کو اجاگر کرنے والی ایک موثر آواز ہمیشہ کے لیے بند ہوگئی۔ یہ آوازسیلانی اینتھروپالاجسٹ اورمنفرد محقق خورشید قائمخانی کی تھی۔ وہ بدھ کے روز کراچی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔
فوجی افسر خورشید قائم خانی نے خود کوبدل دیا اور انسان دوست اورغریب پرور ی ان کی شناخت بن گئی۔
خانہ بدوش قبائل پرعملی تحقیق کرنے والے خورشید قائم خانی نے 1933 ع میں بھارت کے صوبے راجستھان کے گاؤں سیکر میں ایک فوجی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ تقسیم کے بعدبعد میں ان کا خاندان ٹنڈوالہیار سندھ میں آکر آباد ہوا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم راجستھان میں گاؤں کے مادھوسنگھ اسکول میں حاصل کی اور مڈل تک میونسپل اسکول ٹنڈوالہیار سے کرنے کے بعد میٹرک نورمحمد ہائی اسکول حیدرآباد، اور انٹر گورنمنٹ کالج کالی موری حیدرآباد سے کیا۔
خاندانی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے فوج میں شمولیت اختیار کی اور 1958 میں ملٹری اکیڈمی کاکول سے کمیشن کیا۔ مگر انہوں نے فوج میں ملازمت اپنی طبیعت کے مطابق نہیں پائی۔ اور یہ کہہ کر فوجی ملازمت سے علحدہ ہو گئے کہ اس اہم ادارے نے پروفیشنلزم چھوڑدی ہے اور سیاست میں ملوث ہو گیا ہے۔ 1970ع میں جب بنگال میں فوجی آپریشن کیا جا رہا تھا تو یہ وہیں پر تعینات تھے۔ میجرخورشید نے اس آپریشن کے دوران بنگال کے عوام کا درد نہ سہہ سکے اور استعیفا دے دیا۔ اس وقت انہیں باتیا گیا کہ اس بات پر ان کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے اور پینشن بھی نہیں ملے گی۔ ان فوائد کی پرواہ کئے بغیر وہ مستعفی ہوکر گاؤں آگئے۔ انہوں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
ایک مرتبہ فوج کی ملازمت سے آزاد ہونے کے بعد وہ سیاح اومحقق بن گئے۔ اور اخبارات میں کالم لکھنے لگے۔ انہوں نے بھیل، کولہی، میگھواڑ اوراوڈ قبیلوں کی نفسیات پر قلم اٹھایا جس نے انہیں منفرد بنادیا۔ان کا پہلا کالم انگریزی ایوننگر”اسٹار“ میں شایع ہوا جو کہ ہندو شیڈیولڈ کاسٹ لوگوں کے روحانی پیشو راما پیر پر تھا۔
راجستھان میں جنم لینے والے سیلانی محقق نے اگرچہ عمرانیات یا اینتھروپالاجی کی تعلیم حاصل نہیں کی مگر جنون کی حد تک دلچسپی اورعملی طور پر بھٹکتے ہوئے قبائل کے ساتھ رہنے نے انہیں اینتھروپالاجسٹ بنا دیا۔
جپسی اور شیڈیولڈ کاسٹ قبائل کی تاریخ، ادب اور کلچر میں ان کا کنٹری بیوشن مسلمہ ہے۔جپسی اور دلیت ہی ان کے موضوعات تھے۔ انہوں نے جو بھی لکھا جب بھی لکھا انہی موضوعات پر لکھا۔ خورشید قائم خانی نے خانہ بدوش اورشیڈیولڈ کاسٹ اور بھٹکتے ہوئے قبائل کی زندگی، کلچراور اینتھروپالاجی پرعملی تحقیق کی۔
سندھ کے سماجی خدمت گزار اور لوگوں کی تنظیم سندھ گریجوئیٹس ایسوسی ایشن نے پچھڑے ہوئے طبقات پر نئے انداز سے تحقیق پر انہیں ایوارڈ دیا۔
انہوں نے پاکستان خواہ دیگر ممالک میں کئی روز جپسیوں کے ساتھ گزارے۔ افریقی نسل کے شیدی قبیلے کے رہنما فیضو شیدی ان کے بہترین دوست تھے۔ ایک مرتبہ ممتاز خاتون صحافی انجم نیاز نے انہیں طعنہ دیا کہ بڑے میاں آپ بھیلوں، کولہیوں اور خانہ بدوشوں پر لکھنے سے کبھی تھکیں گے بھی یا نہیں۔ خورشید نے برجستہ جواب دیا”محترمہ آپ کبھی الیٹ کلاس پر لکھنے سے تھکیں گی؟“
وہ تین کتابوں ”سپیاں اورپتھر“، ”بھٹکتی نسلیں“، ”سپنوں کا دیس“ کے مصنف اوخدیجہ گوہر کی کتاب”امیدوں کی فصل“ کے مترجم تھے۔ جبکہ ایک سو سے زائد ان کے کالم انگریزی، اردو اور سندھی زبانوں میں شایع ہوچکے ہیں۔ان کا علمی اور تحقیقی خدمات کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے امریکہ اور فرانس میں قدیم باشندوں سے متعلق عالمی کانفرنسوں میں بھی شرکت کی اور وہاں مقالے پڑھے۔
راجستھان سے بچھڑنے کے بعدخانہ بدوش، بھیل کولہی وغیرہ اور ٹنڈوالہیاران کے لیئے سب کچھ تھا۔ قائم خانی نے ٹنڈوالہیار کے قریب اپنے گاؤں میں ایک اچھی بھلی لائبرری بھی قائم کی ہوئی تھی جو علاقے کے کسانوں کے لیے تھی۔ کبھی صوفی منش تو کبھی سوشلسٹ ہونے کا عکس دینے والے خورشید نے اپنی تین ایکڑ زمین کسانوں کے نام کر دی جو کہ بھیل قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔وہ انسانیت کے پروکار اور مظلوموں کے حامی تھے۔خورشید قائم خانی نے ٹنڈوالہیار میں جوگیوں کے لیے ایک اسکول بھی کھول رکھا تھا۔
نرم دل اور نرم گفتار قائم خانی ایک بااصول انسان تھے جو اپنی مخصوص طبع کی وجہ سے جانے بھی جاتے تھے اور مقبول بھی تھے۔ میر علی احمد تالپور سے ان کی پکی یاری تھی۔ جب تالپور صاحب جنرل ضیا کے دور میں وزیر دفاع ہوئے اور قائم خانی صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے پیغام بھیجا کہ میر صاحب اب آپ کے لیے میرے گھر کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔
مخصوص راجستھانی طبع کے مالک صرف ریلوے کے ذریعے ہی سفر کرتے تھے، یہاں تک کہ پینتیس میل پر واقع حیدرآبادآنے جانے کے لیے بھی وہ بس میں سفر نہیں کرتے تھے۔ انہیں بس میں سفر کرنا عجیب لگتا تھا۔
ٹنڈوالہیار میں وہ گھر پر شاذ و ناز ہی موجود ہوتے تھے۔ ان سے ملنے والے انہیں باگڑی کالونی، بھیل کالونی، جوی کالونی، وغیرہ میں ڈھونڈتے تھے اور وہ وہیں ملتے تھے۔وہ اپنا وقت دانشوروں یا دوسری فضولیات میں گنوانے کے بجائے عام بھیل، کولہی لوگوں کے ساتھ گزارنا پسند کرتے تھے۔
عجب شخص تھا۔ سیلانی بھی تھا اور مٹی سے محبت کرنے والا بھی۔ان کی اندر سے اپنی جنم بھومی راجستھان آخر تک نہیں نکل سکا۔ اور وہ اس لیے خود کو خانہ بدوش ہی سمجھتے تھے۔
انہوں نے زندگی میں پچھتاوے نام کی کسی چیز کو قریب آنے نہیں دیا۔ آخری ایام میں انہوں نے لوگوں سے دور رہنے اور سکون میں وقت گزارنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت لکھا، بہت باتیں کیں۔ اور خوب محفلیں کیں۔ اب بس کرنی چاہئے۔
انہوں نے کراچی کے ایک پبلشر کو خودنوشتہ سوانح حیات شایع کرنے کے لیے دی۔ پبلشر نے یہ کتاب شایع کرنے کی حامی تو بھر لی، مگر ان سے کہا کہ ان کے جیتے جی یہ کتاب شایع نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں بعض اداروں کے بارے میں مخالفانہ مواد ہے اس واقع کا بیان اپنی ایک کتاب کے پیش لفظ میں یوں کرتے ہیں: میں اردو پبلشروں سے مایوس ہوچکا ہوں، لہٰذا اب سندھی ناشرین سے رجوع کیا ہے جہاں میرے موضوعات کے بڑی تعداد میں قاری بھی موجود ہیں۔
وہ کس طرح کے آدمی تھے؟ یہ بات ان کی اپنی تحریر سے عیاں ہے۔ وہ اپنی ایک کتاب کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں: میں نے دیکھا کہ کس طرح سے سرمایہ دار اور جاگیردار مقبول نعروں کے ذریعے عوام سے غداری کرتے۔ میں نے یہ بھی دیکھا کہ آئین اور قانون کے محافظ خود آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
مرحوم قائمخانی کے سوگواروں میں دو بیٹے، ایک بیٹی، بیوہ اور ہزاروں خانہ بدوش اور اچھوت قبائل کے لوگوں کے علاہ ان کے پرستار اور چاہنے والے ادب اور انسان دوست بھی شامل ہیں۔بدھ کی شام جب میں نے ان کے بیٹے عامر خورشیدکو فون کیا۔ وہ روپڑے۔ میں نے بتایا کہ ہم اس سیلانی محقق اور سچے انسان کے پرستار ہیں۔ یہ صرف آپ اکیلے کا دکھ نہیں۔ آج ہم سب اور خانہ بدوش، اچھوت قبیلے سوگوار ہیں جن کے لیے خورشید صاحب شناخت اور وطن تلاش کر رہے تھے۔
No comments:
Post a Comment