Mon, Oct 8, 2012, 138 PM
دہرا بلدیاتی نظام اور احتجاج
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
سندھ سراپا احتجاج ہے کہ پانچ منٹ کے اندر قوائد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر متنازع نیا بلدیاتی نظام نافذ کردیا گیا ہے۔ اس قانون کی ن قوم پرستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کر تمام وفاقی جماعتیں بھی مخالفت کر رہی ہیں۔ مخلوط حکومت میں پی پی کے ساتھ چار سال تک تحادی رہنے والے بھی اتحاد چھوڑعلحدہ ہو کر احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں۔مگر یہ معاملہ صرف قوم پرستوں کا نہیں۔صوبے کا عام آدمی بھی اس قانون کے خلاف ہے۔ اب تو سندھ کے دانشور، ادیب اور شعراء بھی اس دوہرے نظام کے خلاف سڑکوں پر آ گئے ہیں۔
سندھ کے لوگ رنجیدہ ہیں کہ وہ اس قانون کو گزشتہ سال مسترد کر چکے تھے۔ اب دوبارہ پیپلز پارٹی اس کو قبر سے کھود کر کیوں لے آئی؟
گزشتہ سال بھی ایسا ہی قانون لانے کی کوشش کی گئی تھی۔ جس کی سندھ کے عوام نے بھرپور مخالفت کی تھی۔ اس مرتبہ پہلے یہ قانون ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ جس پر سندھ کے سیاسی حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا اور احتجاج کیا۔پیپلز پارٹی نے یہ تاثر دیا کہ اسمبلی میں پیش کرتے وقت ان نکات کا خیال رکھا جائے گا۔ مگر جب اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن چیختی رہ گئی، اس کی ایک بھی نہ سنی گئی۔اور بل پاس کردیا گیا۔ متنازع بل جس طرح سے پاس کیا گیا وہ سیاسی خواہ قانونی طور پر غلط ہے بلکہ یہ ایک نامکمل قانون کے کیونکہ اس کے کم از کم چار شیڈیول جن کا اس بل میں ذکر ہے وہ قانون میں شامل ہی نہیں ہیں۔
سوال یہ کہ پیپلزپارٹی نیا آرڈیننس لانے میں اتنی جلد بازی کیوں کی؟ پھر اتنی ہی جلدی میں یہ بل کیوں لے آئے؟ خیال ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں اپنے ووٹرز کو کچھ نہ دے سکی ہیں اور نہ ہی امن امان بحال کراسکی ہیں۔اب جب انتخابات کی بساط بچھائی جا رہی ہے ایسے میں وہ اپنے ووٹرز کو کیا پیش کریں؟ اس کے لیے یہ لوکل گورنمنٹ قانون لایا گیا ہے۔ ان کو مطمئن کرنے کے لیے یہ بل ایک سیاسی نعرہ ہے اور آسرا بھی۔
سندھ کے مختلف شہروں میں تمام مکاتب فکر کے لوگ احتجاج کر رہے ہیں یہاں تک کہ صدر زردار کا آبائی شہر نواب شاہ ایک ہفتے تک بند رہا۔ اسی شہر میں پولیس فائرنگ سے جیئے سندھ کا ایک کارکن ہلاک ہوگیا۔ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔مگر جب پرامن احتجاج کو پرتشدد بنایا جائے تو اس کی معنی و مفہوم ہی بدل جاتے ہیں۔اب تک اس احتجاج میں تین انسانی جانیں ضایع ہو چکی ہیں۔درجنوں افراد کو گرفتارکئے جاچکے ہیں۔
لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرنا چاہتی ہے اور بزور شمشیر ان احتجاجوں کو روکنا چاہتی ہے۔ دباؤ اتنا ہے اگر لوگوں کے احتجاج کو روکا گیا تویہ احتجاج پیچیدہ ہو جائے گا اورکچھ مشکل شکلیں اختیار کر لے گا۔ جس میں ہڑتالیں، قومی شاہراہ بند کرنا، سول نافرمانی، ریاستی اداروں سے ٹکراؤ شامل ہے۔
دنیا بھر میں سوشل میڈیا عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مگر اس متنازع قانون کے حوالے سے سوشل میڈیا لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا کام سر انجام دے رہی ہے۔ لوگ اپنا غصہ سوشل میڈیا پر تبصرے یا رائے دے کر یا کارٹون اور تصویریں رکھ کے نکال رہے ہیں۔ س سے پہلے یہ ہوتا رہا ہے کہ اتنے غصے اور احتجاجی صورتحال میں یہ لوگ ا عملی طور پر سڑکوں پر آتے۔نفرت کا عنصر اتنا ہے کہ نوجوانوں کی انگلیاں موبائل فون پر چل رہی ہیں۔ جس سے نوشتہ دیوار بن رہی ہے۔آپ کو فیس بک پر بھی اس نفرت اور ناراضگی کا اظہار ملے گا۔
پیپلز پارٹی سیاسی خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔کیونکہ اب لوگ اسے ووٹ دینے سے پہلے تین بار سوچیں گے۔ایسا لگتا ہے کہ اب سندھ میں متبادل قیادت ابھرے۔بلکل اسی طرح سے جیسے ون یونٹ کے خلاف تحریک میں نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی تھی۔ بہرحال موجودہ صورتحال کا براہ راست فائدہ مسلم لیگ فنکشنل کو پہنچے گا۔ کیونکہ فنکشنل لیگ سندھی پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ جو ہر دور میں اقتدار کے ایوانوں میں رہتی آئی ہے۔آج اس بل کی شدومد سے مخالفت بھی کر ہری ہے۔
حکومت مان نہیں رہی ہے،لہٰذا لڑائی لمبی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔یہ لڑائی نہ صرف تیز ہو رہی ہے بلکہ اس میں تشدد کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے۔ دانش سے عاری انتظامیہ اور جاگیرداروں کی انااحتجاجوں کو پرتشدد بنا رہی ہے۔اس تحریک میں تشدد کا جو عنصر شامل ہو رہا ہے جو بہت خطرناک ہے۔
موجودہ تحریک کو بعض چیلینج بھی در پیش ہیں:
1)سندھ نے قیام پاکستان سے لے کر جمہوری جدوجہد میں رہنمایانہ کردار ادا کیا ہے۔ کیا اب سندھ جمہوری حکومت کے خلاف تحریک چلائے گا؟بنگال کی علحدگی کے بعد تو سندھ کا کردار جمہوری جدوجہد میں ہر اول دستے کا رہا۔سندھ کے نوجوانوں، طلباء، دانشوروں نے ون یونٹ اور ایوب خان کے خلاف تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اس وقت رائے عامہ اتنی منقسم نہیں تھی۔لہذا عوام میں اس تحریک کو باآسانی پذیرائی مل گئی۔ابھی پیپلز پارٹی بہرحال سندھ کے لوگوں کی انتخابات میں نمائندہ پارٹی ہے۔
2)ایم آرڈی تحریک میں بھی سندھ نے بڑا کردار ادا کیا۔ لیکن اس تحریک میں بھی لوگ ضیاء الحق کے چھ سال کے بعد سڑکوں پر تب نکل آئے جب جاگیردار بھی باہر نکلے۔ یوں کسانوں کو پشت ملی۔ آج کسی بھی سیاسی جماعت کی کسانوں میں جڑیں نہیں ہیں۔اور سندھ کا وڈیرہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔ایک حصہ فنکشنل لیگ کی شکل میں فی الحال اس تحریک کا حصہ بنا ہوا ہے۔ طلباء بھی بٹے ہوئے ہیں اور پہلے سے ہی چھوٹے چھوٹے مسائل کے لیے یونیورسٹی بند کراتے رہے ہیں۔
3) پیپلز پارٹی نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جو بتدریج مزاحمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نئے قانون کی مخالفت کرنے والوں پر تنقید کی جارہی ہے اورپارٹی کے پانچ اراکین اسمبلی نے ایک مشترکہ بیان میں کے ذریعے اراکین کے گھروں پر احتجاج کرنے اور کالے توے ٹانگنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متنبیہ کیا گیا ہے کہ اس کے نتائج برے نکل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی نے اس گرم ماحول کے باوجود 15 اکتوبر کو حیدرآباد میں جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس طرح کا ردعمل دیا ہے۔ ورنہ گزشتہ سال جب اسی طرح کا آرڈیننس جاری کیا گیا تھا تو احتجاجوں کی وجہ سے اراکین اسمبلی چھپ گئے تھے۔ اور 24 گھنٹے تک کوئی لیڈر میڈیا پر نہیں آیا تھا۔
4) پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو اس بار شبہہ ہے کہ اس تحریک کے پیچھے نواز شریف ہے۔ کیونکہ احتجاج کرنے والی جماعتیں کسی نہ کسی شکل میں نواز شریف سے اتحاد میں ہیں۔ بہرحال ایک ہفتے تک پی پی اس بات کو اٹھاتی رہی اور اس نے کسی حد تک اپنی دفاعی پوزیشن بنا لی ہے۔
5)موجودہ تحریک کے لیے سب سے بڑا چیلینج احتجاج کی قیادت کرنے والے قوم پرست کے آپس میں اختلافات ہیں۔ سندھ بچاؤ کمیٹی جو یہ تحریک چلانا چاہ رہی تھی وہ بقول ڈاکٹر قادر مگسی کے عملی طور پر ٹھنڈی ہو گئی ہے۔ عوامی تحریک کے ایاز لطیف پلیجو نے بھی شبہ ظاہر کیا ہے کہ سندھ بچاؤ کمیٹی کے کچھ لوگ اسمبلی کی ایک دو نشستوں کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کمیٹی میں شامل جماعتیں عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی الگ الگ سرگرمیاں کر رہی ہیں اور احتجاج کے لیے مختلف تاریخوں پر احتجاج کرنے کی اپیل کر رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی نے دیر سے ہی سہی، ناراض اتحادیوں اور قوم پرستوں سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سندھ میں شدیدبے چینی کے پیش نظر اس بات کے کم امکانات ہیں کہ قوم پرست متنازع قانون واپس لیے بغیر بات چیت کے لیے تیارہوں۔
دہرا بلدیاتی نظام اور احتجاج
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی
سندھ سراپا احتجاج ہے کہ پانچ منٹ کے اندر قوائد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر متنازع نیا بلدیاتی نظام نافذ کردیا گیا ہے۔ اس قانون کی ن قوم پرستوں کے ساتھ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کو چھوڑ کر تمام وفاقی جماعتیں بھی مخالفت کر رہی ہیں۔ مخلوط حکومت میں پی پی کے ساتھ چار سال تک تحادی رہنے والے بھی اتحاد چھوڑعلحدہ ہو کر احتجاج میں شامل ہوگئے ہیں۔مگر یہ معاملہ صرف قوم پرستوں کا نہیں۔صوبے کا عام آدمی بھی اس قانون کے خلاف ہے۔ اب تو سندھ کے دانشور، ادیب اور شعراء بھی اس دوہرے نظام کے خلاف سڑکوں پر آ گئے ہیں۔
سندھ کے لوگ رنجیدہ ہیں کہ وہ اس قانون کو گزشتہ سال مسترد کر چکے تھے۔ اب دوبارہ پیپلز پارٹی اس کو قبر سے کھود کر کیوں لے آئی؟
گزشتہ سال بھی ایسا ہی قانون لانے کی کوشش کی گئی تھی۔ جس کی سندھ کے عوام نے بھرپور مخالفت کی تھی۔ اس مرتبہ پہلے یہ قانون ایک آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا گیا۔ جس پر سندھ کے سیاسی حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا اور احتجاج کیا۔پیپلز پارٹی نے یہ تاثر دیا کہ اسمبلی میں پیش کرتے وقت ان نکات کا خیال رکھا جائے گا۔ مگر جب اسمبلی میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن چیختی رہ گئی، اس کی ایک بھی نہ سنی گئی۔اور بل پاس کردیا گیا۔ متنازع بل جس طرح سے پاس کیا گیا وہ سیاسی خواہ قانونی طور پر غلط ہے بلکہ یہ ایک نامکمل قانون کے کیونکہ اس کے کم از کم چار شیڈیول جن کا اس بل میں ذکر ہے وہ قانون میں شامل ہی نہیں ہیں۔
سوال یہ کہ پیپلزپارٹی نیا آرڈیننس لانے میں اتنی جلد بازی کیوں کی؟ پھر اتنی ہی جلدی میں یہ بل کیوں لے آئے؟ خیال ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی دونوں اپنے ووٹرز کو کچھ نہ دے سکی ہیں اور نہ ہی امن امان بحال کراسکی ہیں۔اب جب انتخابات کی بساط بچھائی جا رہی ہے ایسے میں وہ اپنے ووٹرز کو کیا پیش کریں؟ اس کے لیے یہ لوکل گورنمنٹ قانون لایا گیا ہے۔ ان کو مطمئن کرنے کے لیے یہ بل ایک سیاسی نعرہ ہے اور آسرا بھی۔
سندھ کے مختلف شہروں میں تمام مکاتب فکر کے لوگ احتجاج کر رہے ہیں یہاں تک کہ صدر زردار کا آبائی شہر نواب شاہ ایک ہفتے تک بند رہا۔ اسی شہر میں پولیس فائرنگ سے جیئے سندھ کا ایک کارکن ہلاک ہوگیا۔ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے۔مگر جب پرامن احتجاج کو پرتشدد بنایا جائے تو اس کی معنی و مفہوم ہی بدل جاتے ہیں۔اب تک اس احتجاج میں تین انسانی جانیں ضایع ہو چکی ہیں۔درجنوں افراد کو گرفتارکئے جاچکے ہیں۔
لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت کے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرنا چاہتی ہے اور بزور شمشیر ان احتجاجوں کو روکنا چاہتی ہے۔ دباؤ اتنا ہے اگر لوگوں کے احتجاج کو روکا گیا تویہ احتجاج پیچیدہ ہو جائے گا اورکچھ مشکل شکلیں اختیار کر لے گا۔ جس میں ہڑتالیں، قومی شاہراہ بند کرنا، سول نافرمانی، ریاستی اداروں سے ٹکراؤ شامل ہے۔
دنیا بھر میں سوشل میڈیا عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو عملی شکل دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مگر اس متنازع قانون کے حوالے سے سوشل میڈیا لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا کام سر انجام دے رہی ہے۔ لوگ اپنا غصہ سوشل میڈیا پر تبصرے یا رائے دے کر یا کارٹون اور تصویریں رکھ کے نکال رہے ہیں۔ س سے پہلے یہ ہوتا رہا ہے کہ اتنے غصے اور احتجاجی صورتحال میں یہ لوگ ا عملی طور پر سڑکوں پر آتے۔نفرت کا عنصر اتنا ہے کہ نوجوانوں کی انگلیاں موبائل فون پر چل رہی ہیں۔ جس سے نوشتہ دیوار بن رہی ہے۔آپ کو فیس بک پر بھی اس نفرت اور ناراضگی کا اظہار ملے گا۔
پیپلز پارٹی سیاسی خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔کیونکہ اب لوگ اسے ووٹ دینے سے پہلے تین بار سوچیں گے۔ایسا لگتا ہے کہ اب سندھ میں متبادل قیادت ابھرے۔بلکل اسی طرح سے جیسے ون یونٹ کے خلاف تحریک میں نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی تھی۔ بہرحال موجودہ صورتحال کا براہ راست فائدہ مسلم لیگ فنکشنل کو پہنچے گا۔ کیونکہ فنکشنل لیگ سندھی پارٹی سمجھی جاتی ہے۔ جو ہر دور میں اقتدار کے ایوانوں میں رہتی آئی ہے۔آج اس بل کی شدومد سے مخالفت بھی کر ہری ہے۔
حکومت مان نہیں رہی ہے،لہٰذا لڑائی لمبی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔یہ لڑائی نہ صرف تیز ہو رہی ہے بلکہ اس میں تشدد کا عنصر بھی شامل ہوگیا ہے۔ دانش سے عاری انتظامیہ اور جاگیرداروں کی انااحتجاجوں کو پرتشدد بنا رہی ہے۔اس تحریک میں تشدد کا جو عنصر شامل ہو رہا ہے جو بہت خطرناک ہے۔
موجودہ تحریک کو بعض چیلینج بھی در پیش ہیں:
1)سندھ نے قیام پاکستان سے لے کر جمہوری جدوجہد میں رہنمایانہ کردار ادا کیا ہے۔ کیا اب سندھ جمہوری حکومت کے خلاف تحریک چلائے گا؟بنگال کی علحدگی کے بعد تو سندھ کا کردار جمہوری جدوجہد میں ہر اول دستے کا رہا۔سندھ کے نوجوانوں، طلباء، دانشوروں نے ون یونٹ اور ایوب خان کے خلاف تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا۔ اس وقت رائے عامہ اتنی منقسم نہیں تھی۔لہذا عوام میں اس تحریک کو باآسانی پذیرائی مل گئی۔ابھی پیپلز پارٹی بہرحال سندھ کے لوگوں کی انتخابات میں نمائندہ پارٹی ہے۔
2)ایم آرڈی تحریک میں بھی سندھ نے بڑا کردار ادا کیا۔ لیکن اس تحریک میں بھی لوگ ضیاء الحق کے چھ سال کے بعد سڑکوں پر تب نکل آئے جب جاگیردار بھی باہر نکلے۔ یوں کسانوں کو پشت ملی۔ آج کسی بھی سیاسی جماعت کی کسانوں میں جڑیں نہیں ہیں۔اور سندھ کا وڈیرہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔ایک حصہ فنکشنل لیگ کی شکل میں فی الحال اس تحریک کا حصہ بنا ہوا ہے۔ طلباء بھی بٹے ہوئے ہیں اور پہلے سے ہی چھوٹے چھوٹے مسائل کے لیے یونیورسٹی بند کراتے رہے ہیں۔
3) پیپلز پارٹی نے بھی ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جو بتدریج مزاحمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نئے قانون کی مخالفت کرنے والوں پر تنقید کی جارہی ہے اورپارٹی کے پانچ اراکین اسمبلی نے ایک مشترکہ بیان میں کے ذریعے اراکین کے گھروں پر احتجاج کرنے اور کالے توے ٹانگنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متنبیہ کیا گیا ہے کہ اس کے نتائج برے نکل سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی نے اس گرم ماحول کے باوجود 15 اکتوبر کو حیدرآباد میں جلسہ عام منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس طرح کا ردعمل دیا ہے۔ ورنہ گزشتہ سال جب اسی طرح کا آرڈیننس جاری کیا گیا تھا تو احتجاجوں کی وجہ سے اراکین اسمبلی چھپ گئے تھے۔ اور 24 گھنٹے تک کوئی لیڈر میڈیا پر نہیں آیا تھا۔
4) پیپلز پارٹی کے لیڈروں کو اس بار شبہہ ہے کہ اس تحریک کے پیچھے نواز شریف ہے۔ کیونکہ احتجاج کرنے والی جماعتیں کسی نہ کسی شکل میں نواز شریف سے اتحاد میں ہیں۔ بہرحال ایک ہفتے تک پی پی اس بات کو اٹھاتی رہی اور اس نے کسی حد تک اپنی دفاعی پوزیشن بنا لی ہے۔
5)موجودہ تحریک کے لیے سب سے بڑا چیلینج احتجاج کی قیادت کرنے والے قوم پرست کے آپس میں اختلافات ہیں۔ سندھ بچاؤ کمیٹی جو یہ تحریک چلانا چاہ رہی تھی وہ بقول ڈاکٹر قادر مگسی کے عملی طور پر ٹھنڈی ہو گئی ہے۔ عوامی تحریک کے ایاز لطیف پلیجو نے بھی شبہ ظاہر کیا ہے کہ سندھ بچاؤ کمیٹی کے کچھ لوگ اسمبلی کی ایک دو نشستوں کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ اس کمیٹی میں شامل جماعتیں عوامی تحریک، سندھ ترقی پسند پارٹی الگ الگ سرگرمیاں کر رہی ہیں اور احتجاج کے لیے مختلف تاریخوں پر احتجاج کرنے کی اپیل کر رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی نے دیر سے ہی سہی، ناراض اتحادیوں اور قوم پرستوں سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سندھ میں شدیدبے چینی کے پیش نظر اس بات کے کم امکانات ہیں کہ قوم پرست متنازع قانون واپس لیے بغیر بات چیت کے لیے تیارہوں۔
No comments:
Post a Comment