Jul 12- 2012 Story of reducing importnace of parliament
پارلیمنٹ کی حیثیت کم ہونے کی کہانی
میرے دل میرے مسافر۔۔ کالم۔۔ سہیل سانگی
ایک وزیراعظم کی قربانی کے بعد دوسرے وزیر اعظم کو بچانے کے لیے حکومت نے جلدی میں قومی اسمبلی سے توہین عدالت کا نیا قانون نمظور کرلیا ہے۔ تاکہ بہت ہی سرگرم عدلیہ کے سامنے ڈھال بنائی جا سکے۔حکومت کا موقف یہ ہے کہ توہین عدالت کے بارے میں مشرف کا قانون ختم کرکے 1976 اور 1988کا قانون واپس لانا چاہتی ہے۔
حکومت کو یہ قدم اس لیے بھی اٹھانا پڑا کہ آئین میں صدر کو حاصل استثنیٰ کی سپریم کورٹ نے یہ تشریح نکالی کہ استثنیٰ دینا نہ دینا عدالت کا ڈسکریشن ہے۔ اگر صدر کو استثنیٰ چاہئے تو وہ عدالت میں آکر مانگیں۔عدالت نے سوئس حکام کوخط نہ وزیراعظم کو چند سیکنڈ کی سزا سنائی اور انہیں کوئی ایک ماہ بعد وزارت عظمیٰ کے عہدے اور قومی اسمبلی کی رکنیت کے لیے نااہل قراردے دیا۔ حکومت کے ایک درجن سے بھی زائد فیصلوں کوعدالت نے روک دیا۔
توہین عدالت کے قانون میں تبدیلی سے حکومت عدالت کے اختیارت کو نہیں بلکہ عدالت کی مرضی کوایک حد تک کم کرے۔صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ کونسا قانون ہو یا نہ ہو اس کا فیصلہ عدالت کرے گی۔بعض اوقات حکومتی فیصلوں اور انتظامی اقدامات جو کہ خالصتا گورننس کے دائرے میں آتے ہیں ان کو بھی عدالت نے اپنے دائرہ اختیار میں لے لیا۔ حالت یہ ہے کہ وفاق اور سندھ میں تمام فیصلوں اور اقدامات کے آگے عدلیہ کی دیوار کھڑی ہے۔ حکومت کی رٹ اتنی کمزورنظرآتی ہے کہ وزراء خواہ سرکاری اعلیٰ افسران اس بات سے ڈرے ہوئے تھے کہ کہیں ان سے کوئی ایسا نہ فیصلہ”سرزد“ نہ ہو جائے کہ ان کی عدالت میں طلبی ہو، ایسا ہوا تو ان کا ”حشر“ بھی وزیراعظم گیلانی جیسا ہوگا۔
ہوا کچھ اس طرح کہ گورننس کو بہتر بناے اور موثر گورننس کے نام پر عدالتی فیصلوں اور رویے نے حکومت کو بے اثر بلکہ حکومتی اہلکاروں کی زبان میں اپاہج بنا دیا۔حکومت کے موثر ہونے نے ملک میں موجود معاشی و سیاسی بحران کو مزیدخراب کردیا۔
قانونی ماہرین یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ عدلیہ جس طرح سے کام کر رہی ہے۔ اس کے بعد آئین اور قانون کی تشریح کرنے والا واحد ادارہ بھی یہی ہے تو قانون پر عمل درآمد، حکمرانی اور انتظامی اقدامت لینا جو حکومت کے فرئض ہیں وہ بھی بلواسطہ طور پرعدلیہ سرانجام دے رہی ہے۔بات اس سے بھی آگے نکل گئی جب عدلیہ نے کہا کہ حکومت اگر کوئی ایسا قانون بنائے گی جس کو عدلیہ نے سمجھا کہ وہ آئین کی روح کی منافی ہے تو اسے کالعدم قرار دے دیگی۔ یا قانون سازی کے حوالے سے عدلیہ کے بعض فیصلے ایسے ہیں کہ جو پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں ّآتے ہیں۔ریاست کے دو ستونوں انتظامیہ اور مقننہ کا کام ایک ہی ستون یعنی عدلیہ سرانجام دینے لگی۔اس صورتحال کو بعض تجزیہ نگار ریاست کے دو ستونوں حکومت اور انتظامیہ اور عدلیہ کے تصادم کا نام دے رہے ہیں۔ مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو یہ ان اداروں یا ستونوں کا تصادم نہیں بلکہ افراد کا تصادم ہے۔ جس کو اداروں کا تصادم کہہ کر معاملے کو الجھایا جا رہا ہے۔آج اگر آصف زراداری صدر کے عہدے پر نہ ہوں تو اپوزیشن یا مخالفت کرنے والے حلقے کو ایوان صدر کی کئی باتوں پر اعتراض نہیں ہوتا۔ یعنی شکایت یا مخالفت صدر زرداری سے ہی ہے۔یہ کل ہی بات ہے کہ نواز لیگ آئی ایس آئی کے سربراہ اور کچھ دوسرے اداروں کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کر رہی تھی۔ مگرآئی ایس آئی کے نئے سربراہرہ آنے کے بعد اور کچھ دیگر اداروں کے رویے میں تبدیلی کے بعد نوازلیگ کا موقف نرم ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے بھی عدلیہ کے بارے میں خدشات شایدبہت کم ہو جائیں گے اگر جسٹس افتخار محمد چوہدری اس عہدے پر نہ ہونگے۔
سوال یہ ہے کہ عدلیہ کی بالادستی اہم یا بڑی ہے یا پارلیمنٹ کی؟ اس بارے میں چیف جسٹس کے ریمارکس ہیں کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پرانا تصور ہے۔ان ریمارکس ّنینئی بحث کاکے دروازے کھول دیئے ہیں۔ یہ تصور جمہوریت کے برعکس ہے۔ کیونکہ پارلیمنٹ ملک کے کروڑوں عوام کا منتخب ادراہ ہے۔ اور اسی کو ہی قانون سازی اور حکمرانی کا حق اور اختیار ہے۔ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے مطابق پارلیمنٹ تمام اداروں کی ماں ہے۔پارلیمنٹ کی بالادست کو تسلیم نہ کرنا آمریت کی راہ دکھانے کے مترادف ہے۔ عدلیہ کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ آئین اور قانونی طریقہ کار کے مطابق حکومت کی مقرری عدلیہ نہیں کرتی۔بلکہ حکومت یا پارلیمنٹ عدلیہ کا تقرر کرتی ہے۔اس بنیادی تصور کی روشنی میں عدلیہ اور حکومت یا پارلیمنٹ کا موازنہ کیا جائے گا تو پارلیمنٹ کی سائیڈ وزنی ہو جائے گی،
دنیا میں آج جمہوریتیں اور جمہوری اقدار پرواں چڑھ رہے ہیں۔عوام کی اور ان کے نمائندوں یعنی پارلیمنٹ کی بالادستی زور پکڑ رہی ہے۔کہیں اس ے الٹ کسی سوچ کو جنم دینا اور پروان چڑھانا جمہوریت کے خلاف تو نہیں؟
وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہا ہے کہ پارلیمنٹ ملک کا بالادست ادارہ ہے۔ دوسرے سب ادارے اس کے ماتحت ہیں۔ ہر ادارہ خود کو آزاد اور خود مختیار سمجھتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد فوج کے ادارے نے خود کو بالاتر و بالادست اور خودمختار ادارہ سمجھا اور کچھ ایسے اقدامات کئے جو ملک کی تباہی کا باعث بنے۔ ملک میں مارشل لا لگتے رہے،، ّئین نہ بن سکا، اور جب بن گیا تو اس کو معطل کردیا، انتخابات نہ ہونے دیئے گئے اور جب ہوئے تو نتائج کو تسلیم نہ کیا گیا یامنتخب حکومتوں کو چلنے نہیں دیا گیا۔
پاکستان میں فوج اور عدلیہ کے خلاف بات کرنا گناہ کبیرا ہے۔ کیونکہ دونوں اداروں کے پاس ایسے اختیارات ہیں کہ جن کو نہ چیلینج کیا جا سکتا۔اور دونوں ادارے ماضی میں بھی ایک دوسرے کے غیر مقبول فیصلوں کی حمایت اور انکو تحفظ فراہم کرتے رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں عدلیہ نے ایک حد تک لوگوں اعتماد حاصل کر لیا ہے۔ حکومت نے جس خراب حکمرانی کا مظاہرہ کیا اور معاملات کو ٹھیک نہ کر سکی تو پارلیمنٹ کو چاہئے تھا کہ وہ اس پر کنٹرول کرتی، اس کالغام دیتی۔ مگر اس کے برعکس پارلیمنٹ جہاں حقیقی معنوں میں کوئی اپوزیشن میں نہیں تھا سب حکومت میں تھے۔اپنا کردار ادا نہ کر سکی۔لہٰذا عدلیہ کا کردار بڑھ گیا۔حکومت پر پارلیمنٹ کی جانب چیک انیڈ بلینس نہ ہونے کی وجہ سے دن بدن کشمکش میں اضافہ ہوتا گیا۔ بعض سیاسی خواہ غیر سیاسی حلقوں اس کونے بڑھاوا دیا۔یوں نہ صرف حکومت بلکہ پارلیمنٹ بھی بے اثر ہوتی گئی۔ایسے میں عدلیہ کے سرگرمی والے کردار کو عوام کی جانب سے شاباس ملی۔یوں لوگ تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ کے بجائے عدلیہ کی طرف دیکھنے لگے۔ اس طرح پارلیمنٹ کی وقعت اور حیثیت رائے عامہ خواہ اداروں کے پاس کم ہوتی گئی اور یہ اسپیس عدلیہ لیتی گئی آج عدلیہ پارلیمنٹ سے رائے عامہ، عملی طور پر بھی اور قانونی طور پر بھی بالادستی حاصؒ کر لی ہے۔ عدلیہ کا یہ رول سیاست اور حکمرانی تاریخ میں نہیں ملتا۔
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں عدلیہ کے فیصلے ایک طرف ہوتے ہیں تو عوام کے فیصلے دوسری طرف۔ مولوی تمیزالدین کیس سے لیکر مشرف کے دور تک جو بھی سیاسی فیصلے عدلیہ نے کئے ہیں (یا اس سے کروائے گئے ہیں) ان کو عوام کی تائید نہیں مل سکی ہے۔ اور وقت نے ان عدالتی فیصلوں کو غلط ثابت کیاہے۔عدالت نے بھٹو صاحب کو پھانسی کی سزا دی، مگر عوام عدالت کے اس فیصلے کو 34سال گزرنے کے بعد بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ضیاالحق اور مشرف کو عدالت نے منتخب حکومتوں کا تختہ الٹنے پر جائز قرار دیا مگر عوام آج بھی انکو غاصب سمجھتے ہیں۔
عوام کے مینڈٰٹ اور رائے کی اپنی طاقت ہوتی ہے۔ نواز شریف کوآخری حکومت میں ہیوی مینڈیٹ حاصل تھا تو انہوں نے عدلیہ پر حملہ کردیا تھا۔ صدر فاروق لغاری کو مواخذہ کی دھمکی دے دی تھی۔ آرمی چیف کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔حال ہی میں مصر کے منتخب صدر محمد مرسی نے سپریم کورٹ کے حکم پر فوج کے ہاتھوں توڑی گئی پارلیمنٹ کو ایک صدارتی حکم کے ذریعے بحال کردیاملک کا آئین بنانے سے متعلق فوجی کونسل کے اس حکمنامے کو مسترد کردیا اور اعلان کیا کہ آئین منتخب پارلیمنٹ بنائے گی۔ یہ تو اس صدر کے احکامات ہیں جوفوجی جنتا کی منشا کے خلاف انتخابات جیت کر آئے ہیں۔ ایک ہمارے صدر اور حکومت ہیں جن کا وجود اور برقرار رہنا سمجھوتوں کی بنیاد پر ہے، اور مفاہمت کے نام پر نہ صرف اپنی بلکہ پارلیمنٹ کی بالادستی بھی کھو چکی ہے، وہ اتنا ہی قدم اٹھا سکتی ہے کہ توہین عدالت جیسا قانون اسمبلی سے پاس کرا لے۔
حکومت کے اس قدام سے عدلیہ اور حکومت کے درمیان کشمکش شدید ہو جائے گی۔ سیاست کے میدان میں مخالفت اور بڑھ جائے گی۔ حکومت کی رٹ مزید کمزور ہوگی، اور روز کا حکومتی کاروبار چلانے میں بھی دقت ہونے لگے گی۔ یہ صورتحال عسکری حلقوں کو بلکل پسند نہیں آئے گی، ایسے میں وہ مداخلت کر سکتے ہیں۔ یہ مداخلت تنی ہوگی اس کا تعلق اندرونی اور بیرونی ایڈجسٹمنٹس پر ہے۔
No comments:
Post a Comment