Thu, Jan 3, 2013 at 12:10 PM
ایم کیو ایم اور علامہ قادری کا اتحاد
میرے دل میرے مسافر۔۔۔۔ سہیل سانگی
علامہ طاہرالقادری کی اچانک آمد اور لاہور میں بڑے سیاسی شو نے سیاست میں ایک نئے رخ کا اضافہ کردیا ہے۔ علامہ کے تین مطالبات اور دو شرائط اس پر حکومت کے دو اتحادی پارٹیوں کا ان کی طرف جھکنے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
لوگ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اتنے سال کینڈا میں رہائش پزیر اس عالم دین کو اچانک کیا سوجھی اور وطن یاد آگیا۔ان کے بلاوے پر لاکھوں کا مجمع لگ گیا۔نگراں حکومت کے بننے اور انتخابات کے اعلان کے عین موقع پر ان کے پہنچنے کے کیا مقاصد اور محرکات ہیں؟ اگرعلامہ کا نظریہ اتنا مقبول ہوتا اور اور ان کی تنظیم کاری مضبوط ہوتی تو اتنے برسوں تک اس کا کوئی عوامی اظہار اور سیاسی عمل نظر کیوں نہیں آیا؟ عام خیال یہ ہے کہ اتنا بڑا جلسہ اور ان کے اس موقف کی پزیرائی اس کے ساتھ ساتھ بعض مخصوص جماعتوں کا ان کی طرف جانا اکیلے علامہ قادری کا کمال نہیں بلکہ اس کے پیچھے بعض مقتدرہ ادارے اور حلقے موجود ہیں۔
پاکستان کی سیاست کے نشیب وفراز اتنے آسان نہیں جتنے بظاہر نظرآتے ہیں۔ اس کے کئی رنگ اور روپ ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہر فیصلہ کن موڑ پرہرحال میں حکومت اور سیاست کی باگ دوڑ اپنے ہاتھوں میں رکھنے کے خواہاں مقتدرہ حلقے جو ملک کی داخلہ خواہ خارجہ پالیسی اپنی پسند کی رکھنا چاہتے ہیں کبھی کس شکل میں تو کبھی کس کیموفلاج میں ایک نیا مہرہ میدان میں اتارتے ہیں۔ایک سال قبل عمران خان کی سونامی آرہی تھی۔اس کو لاہور خواہ کراچی میں بڑے بڑے جلسے کر کے دیئے گئے۔مگر اس انقلابی سے انقلاب کا پہیہ نہیں ہل سکا۔اب اس سونامی کے بادل چھٹ چکے ہیں تو علامہ کا طوفان آرہا ہے۔ اس کا مقصد کرپٹ سیاستدانوں سے قوم کو نجات دلانا بتایا جا رہا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ کرپشن آج کی دنیا کے سیاسی اور معاشی نظاموں کا لازمی جز ہے۔بالکل ایسے جیسے سرمایہ کاری اور سود ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں۔ یہ نعرہ بہت ہی خوبصور ت ہے۔خاص طور پر پاکستان میں جہاں حکمرانی اور اس کے طور طریقوں کا برا حال ہے۔ مگرکیا اس سے جان چھڑانا کسی ایک یا دو بندوں کے بس کی بات نہیں؟
پاکستان کی سیاست اور اس کے محرک اجزاء پرنظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ملک کے مقتدرہ اداروں کا پرانے سیاستدانوں کے حوالے سے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔کیونکہ یہ سیاستدان شاید اب اپنی الگ حیثٰیت بنا بیٹھے ہیں یا انہوں نے ریاست، حکومت اور خارجہ امور کی مکینزم کو سمجھ لیا ہے۔لہٰذا کئی معاملات میں اپنی چلاتے ہیں یا بحث بہت کرتے ہیں۔ جس سے رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں۔یہ مقتدرہ حلقے چاہتے ہیں کہ ان سے جان چھڑائی جائے اور نئے سیاسی کھلاڑی میدان میں اتارے جائیں۔مگر یہ سب کچھ غیر محسوس طریقے سے کیا جائے کہ ماضی کی طرح برائی ان اداروں کے کھاتے میں نہ آئے۔
اس کا پسندیدہ بنگلادیش ماڈل ہے۔،گر اس میں کچھ ترمیم کے ساتھ تاکہ پرانے سیاستدانوں سے جان چھڑائی جاسکے۔ اور نئے لوگوں کو سامنے لایا جائے۔ اب مصری ماڈل کی بھی باتیں ہو رہی ہیں۔ایسے میں علامہ طاہرالقادری کا کرداراہمیت اختیار کر جاتا ہے جو یہ تجویز کر رہے ہیں کہ انتخابی عمل سے تب تک گریز کیا جائے جب تک مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوتے۔یعنی ایسی اصلاحات جو پرانے سیاستدانوں کا راستہ روک سکیں۔
اگر ایسا واقعی ہے، جس پر اکثر تجزیہ نگار مصر ہیں، تو۔ اس میں صرف ملکی طاقتور قوتیں ہی شامل نہیں بلکہ اس کے پیچھے مغربی قوتیں بھی ہونگی جن کے پاس مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے لیے ایک جامع پلان ہے۔ جو ان براعظموں کی معیشت اور سیاست کو اپنے ماتحت اور اپنے منافع کے لیے رکھنا چاہتے ہیں۔ اور یہاں ہر طرح کی بالادستی چاہتے ہیں۔خیال رہے کہ امریکی پالیسی ساز ادارے اکیسویں صدی کو ایشیا اور پیسفک کی صدی قرار دیتے رہے ہیں۔
آج پاکستان کی صورتحال وہی ہے جو 1977ع میں یا 89 کی دہائی کے شروع میں تھی۔ یعنی دائیں بازو کے لوگ اور شہری سیکٹر ایک طرف تھا تو باقی لوگ دوسری طرف تھے۔ امریکہ اور مغربی طاقتیں پاکستان میں مذہبی سیاست اور سیاسی کلچر کو پروان چڑھا رہے تھے۔ مگر اس مرتبہ روایتی مذہبی جماعتیں اس منظر سے آؤٹ ہیں۔ کچھ ماڈریٹ اور ماڈرن قسم کی مذہبی جماعتیں اور لوگ شامل ہیں۔جو سیاسی اور ثقافت لحاظ سے مغرب کو بھی قابل قبول ہیں۔ان ممالک کا خیال ہے کہ پاکستان میں مذہبی رجحان زیادہ ہے۔ جس کو وہ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔ان کا یہ اندازہ غلط ہے۔ کیوں کہ جب کبھی بھی ملک کے لوگوں کو موقعہ ملا تو انہوں نے مذہبی جماعتوں کو نہیں چنا۔رسول پاک صلعم کے شان میں گستاخی کے حوالے سے کارٹون اور فلم بننا اور اس کے خلاف احتجاج کو جب آج کے منظر نامے میں دیکھا جائے تو خاصا عجیب سا لگتا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سب کچھ آج کی صورتحال کے لیے ہی کرایا گیا تھا۔عجیب بات ہے کہ عالمی قوتیں ایک بار پھر مذہب کا نام استعمال کرنا چاہتی ہیں، وہ یہ بھول گئی ہیں کہ ماضی میں اس آئیڈیا کو عمل میں لانے سے افغان جنگ کے دوران اور اس کے بعد کیا کیا ہوا؟ ایک ایسی جنگ جس سے جان نہیں چھڑائی جا رہی ہے۔
علامہ کا کہنا ہے کہ کہنا ہے کہ وہ اسمبلی ممبران کی اہلیت سع متعلق آئین کی شقوں پر مکمل عمل درآمد سے پہلے انتخابات نہیں ہونے دیں گے۔ چاہتے ہیں۔انہوں نے دسمبر کے آخر میں بیرون ملک سے لاہور پہنچنے پر سترہ دن کی ڈیڈ لائن اور الٹیمیٹم دیا ایک طرف آئین کی شقوں پر مکمل عمل درآمد کی بات کی جارہی ہے تو دوسری طرف بعض شقوں پر عمل درآمد کو روکا جارہا ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے بعد حکمراں جماعت اور حزب مخالف کو متفقہ طور پر نگراں سیٹ اپ بنانا ہے۔مگرعلامہ کا کہنا ہے کہ اس باہمی مشورے میں عدلیہ اور فوج کو بھی شامل کرلیا جائے۔ آئین میں کہیں بھیایسا ذکر نہیں کہ فوج اورعدلیہ کو حکومت اور سیاسی معاملات میں گھسیٹا جائے۔ بلکہ ایسا کرنا خلاف آئین ہے۔ اگر واقعی علامہ ان دو ریاستی ادراوں کا کوئی سیاسی رول چاہتے ہیں تو برہ راست 1973 کے آئین ختم کرکے نیا آئین بنانے کی بات کیوں نہیں کرتے۔ وہ ایسا مطالبہ کرکے دیکھیں تو پتہ چل جائے گا کہ کونسا پینڈورا باکس کھلتا ہے۔
علامہ کے مطابق 90 دن میں انتخابات کرانا ضروری نہیں۔ یہ فارمولا کوئی نیا نہیں۔جنرل ایوب خان نے بھی عام انتخابات سے بھاگنے اور سیاست کو ”پاک“ کرنے کے نام ہر سیاستدانوں کے خلاف مہم چلائی،”ایبڈو“ اور”پروڈا“ جیسے قوا نین نافذ کئے۔ ملک میں بنیادی جمہوریتوں کے نام پر نیا نظام لانے کی کوشش کی۔ مگر اسے واپس انہی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھنا پڑا۔ فرق یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے لیے جگہ بنالی۔ قوم کے پورے گیارہ سال ضایع ہوگئے۔ اور پھر جب عوام کو موقعہ ملا تو انہوں نے ایوب خان اور اس کے نظام دونوں کو اتار کر پھینک دیا۔
جنرل یحیٰ خان بھی سیاست کو ٹھیک کرنے کے”نیک خیالات“کے ساتھ آئے۔انہوں نے انتخابات بھی کرائے۔ چونکہ نتائج ان کی مرضی کے مطابق نہیں تھے تو ان کو تسلیم کرنے اور اقتدار منتقل کرنے سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم آدھا ملک کھو بیٹھے۔
جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق اسلام کے سپاہی کی دعوا کرتے ہوئے آئے۔ نوے دن میں انتخابات کرانے کا وعدہ کرکے وہ گیارہ سال تک مسلط رہے۔ اور انہوں نے بھی ملکی سیاست کو درست کرنے کے نام پر پہلے احتساب پھر انتخاب کا نعرہ لگایا۔ پھر نہ انتخاب ہوئے اور نہ احتساب۔ انہوں نے بھی غیر جماعتی انتخابات کرائے۔ مقصد یہی تھا کہ نئے پاور بروکر پیدا کئے جائیں۔ انتخابی قوانین میں ترامیم کی گئی۔ ملکی نظام کا نقشہ بگاڑ دیا گیا۔ قوم کو اس وقت ان سے نجات ملی جب وہ ہوئی جہاز کے حادثے میں فوت ہوگئے۔دو جنرلوں ایوب خان، ضیا نے ملک کی اندرونی نظام اور خارجہ پالیسی کے ساتھ وہ حشر کیا کہ کئی عشرے گزرنے کے بعد بھی ملک سیدھے پیروں پر کھڑا نہیں ہوسکا ہے۔
ان کے بعد آدھا تیتر آدھا بٹیر والی جہمویرت رہی۔ مگر اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ سرگرم رہے۔ کسی منتخب حکومت نے اپنی آئینی مدت پوری نہ کی۔ اس پر اکتفا نہیں کیا گیا اور جنرل مشرف ملک اور اور ان کے نمائندوں کو ٹھیک کرنے کے لیے میدان میں آگئے۔ان کے سیاسی”اصلاحات“ کا فائدہ تو کوئی نہیں ہوا، بلکہ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی کے نام پر قوم کو برادریوں میں تقسیم کردیا گیا۔انہوں نے ملک کی دو بڑی پارٹیوں کو اقتدارسے اوران کی قیادت کوملک سے باہر رکھنے کا فارمولا چلایا۔عوام اپنی مقبول لیڈر بے نظیر بھٹو سے محروم ہوگئے۔
عوام کے اس”نجات دہندہ“نے تب جان چھوڑی جب ملک کی معیشت، سیاست، اور ادارے تباہ ہو چکے تھے۔ دہشتگردی کا راج تھا۔ اور ملک عالمی قوتوں کی ماتحتی میں چلا گیا تھا۔ دیکھا جائے تو ملک کی تاریخ کا بڑا حصہ ملک پر فوجی جنرلوں نے حکومت کی ہے۔لہذا ملک کی آج جو سیاست ہے اس کی خرابی ذمہ داری بھی انہی فوجی اورنیم فوجی حکومتوں پر آتی ہے۔ مگرعلامہ اس معاملے پرخاموش ہیں۔
اب ان حضرات کون سمجھائے کہ حکومتی معاملات چلانا سیاستدانوں کا کام ہے۔ اور سیاست کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔ دنیا کا بڑا جمہوریت پسند چرچل نے تو یہ تک کہا تھا کہ جنگ ایک ایسی سنجیدہ چیز ہے جس کو صرف جنرلوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔
ابھی تک صرف وہی جماعتیں علامہ کے ساتھ کھڑی ہو پائی ہیں جن کی سیاست اسٹبلشمنٹ کی سیاست کے طورپر پہچانی جاتی ہے۔ علامہ کے مطالبات اور حکمت عملی سے یہی اشارے مل رہے ہیں کہاس کے عسکری اسٹبلشمنٹ ہے۔ یہ بات اتنے زور پکڑ گئی کہ بالآخر فوجی ترجمان کو تردید کرنی پڑی کہ علامہ کی سیاست سے فوج کا کوئی تعلق نہیں۔
یہ بھی تعجب کی بات ہے کہ ایم کیو ایم جس نے پی پی سے کبھی جدا نہ ہونے کے وعدے کئے تھے وہ بھی نظام کو درست کرنے کے لئے علامہ کے ساتھ ہو گئی ہے۔ ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ یہ مارچ جاگیرداروں کے خلاف ہے۔ جاگیردار کون ہیں؟ ایم کوی ایم تو 1988 کے بعد بننے والی ہر حکومت کے ساتھ رہی ہے۔
مشرف اور موجودہ حکومت میں تو عملی طور پر اس کی مؤثر شراکت رہی ہے۔ اٹھارویں ترمیم جس کے تحت حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے باہمی اتفاق سے بگراں حکومت قائم ہونی ہے وہ ایم کیو ایم کے اتفاق رائے سے منظور ہوئی تھی۔ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر بھی اس کے مشورے سے ہوا تھا۔ راتو رات یہ کیا ہو گیا کہ وہ بدل گئی۔ اب اٹھارویں ترمیم بھی غلط اورباتیں بھی غلط۔
اصل میں ایم کیوایم جو کراچی کے مینڈٰٹ کی دعویدار رہی ہے اور کسی بھی سیاسی و غیر سیاسی ادارے کو کراچی میں داخل نہ ہونے دے رہی تھی۔ وہ کراچی میں امن قائم کرنے، بھتہ خوری روکنے، دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگز روکنے میں ناکام رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے کراچی کو الگ جزیرہ بنانے کی کوشش کی۔
جب اس صورتحال کو ووٹر فہرستوں کو درست کرنے، نئی اور منطقی حلقہ بندی کے ذریعے سیاسی اقدامات ہونے لگے تو اس نے مزاحمت شروع کردی۔ اس موقف نے ایم کیو ایم کو سیاسی تننہائی میں دھکیل دیا۔ اس کو ”کونسا پاکستان چاہئے“ اور عدلیہ کے خلاف اسلام آباد میں دھرنا دینے کی کال واپس لینی پڑی۔ کیوںکہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا ریاستی ادارہ اس کی حمایت نہیں کررہا تھا۔ علامہ طاہرالقادری ایم کیو ایم کی ضمانت کرائی ہے۔ اور وہ ایک حد تک بڑے دھارا میں جگہ بنا رہی ہے۔
اکثر تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم واقعتا اسلام آباد لانگ مارچ میں شریک نہیں ہوگی۔ کیونکہ یہ جماعت ماضی میں بھی بظاہر جس کے لیے احتجاج کر رہی ہوتی ہے، اس کے اصل مطالبات کچھ اور ہوتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے ابھی یہ مطالبات ہیں سپریم کورٹ کی ہدایت پر جاری ووٹر فہرستوں کی درستگی اور نئی حلقہ بندی کاکام بند کیا جائے۔بلدیاتی نظام جیسا وہ چاہ رہی ہے وہ نافذ کیا جائے۔ ایک حد تک حکومت اس کے یہ مطالبات مان بھی سکتی ہے۔
بہرحال یہ وقت ہے کہ ملک کی دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اورنواز لیگ جو پارلیمنٹ اور جمہوری عمل کا حصہ ہیں وہ اس صورتحال کو سمجھیں کہ یہ تمام بندوبست انکو نکالنے کے لیے ہو رہا ہے۔ اور یہ جمہوری عمل کو لپیٹنے کا اشارہ ہے۔ لہٰذا وہ الگ الگ سیاست بازی کے بجائے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں۔
No comments:
Post a Comment