Tuesday, 10 March 2020

علامہ کا لانگ مارچ - Jan 14, 2013

Mon, Jan 14, 2013 at 12:44 PM

علامہ کا مارچ بہتی گنگا
میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی 

چوہدری شجاعت حسین کی ثالثی نے بھی کام نہیں دکھایا۔ علامہ طاہرالقادری نے لانگ مارچ شروع کردیا ہے۔ شاید حکومت کے لیے لانگ مارچ کا اسلام آباد پہنچنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنی اسلام آباد کو التحریر اسکوائر بنانے کی دھمکی اہم ہے۔ حکومت کو یہ بھی پریشانی ہے کہ اگر طالبان یا کسی دوسرے ایسے عناصر نے کچھ کیا تو بڑی خوں ریزی ہوگی۔ اس صورت میں لانگ مارچ حکومت کا کچھ بگاڑ سکے یا نہ بگاڑ سکے  یہ خوں ریزی یقیننا حکومت اور پورے نظام کو ہلا کے رکھ دے گی۔ کوئٹہ میں لاشیں رکھ کے کیا جانے والا احتجاج نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک پر اثرانداز ہو رہا ہے جہاں سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ کوئٹہ میں فوج تعینات کی جائے۔ بلاشبہ کئی چیزوں میں حکومت کی ناہلی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت کی ناہلی یا خراب حکمرانی کی سزا  جمہوری عمل کو دی جاسکتی ہے؟ 
لانگ مارچ کا سیاست میں رواج چینی کیمونسٹ رہنما ماؤزی تنگ نے 1934 میں ڈالا تھا، جب چیانگ کائی شیک کے خلاف لڑائی میں 
 چینی کمیونسٹ پارٹی کی ریڈ آرمی نے اپنی صفوں کی از سرنو ترتیب کے لیے پیچھے ہٹی تھی۔ چینی کمیونسٹوں نے چھ ہزار میل کا سفرکرکے نقلابی مرکز جنوب سے شمال میں منتقل ہوگیا۔اور کئی کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ لانگ مارچ چین میں آمریت کے خاتمے اور سوشلسٹ نظام رائج کرنے کے لیے تھا۔
مولاناعبدالحمید بھاشانی نے مارچ  1976ع میں بگلادیش میں لانگ مارچ کیا تھا۔ بنگلادیش بننے سے  پہلے مولانا بھاشانی پاکستانی سیاست میں بڑا نام تھے۔مولانا نے یہ مارچ فر خا ڈیم کی تعمیر پر بھارت کے خلاف لانگ مارچ کیا۔ اس ڈیم کی تعمیرکے لیے بھارت دریائے پدما  سے پانی دریائے گنگا  میں ڈالنا چاہ رہی تھی،جو بنگلا دیش کوغیرآبادکردیتا۔ کہا جاتا ہے کہ بنگلادیشی حکومت اس لانگ مارچ کے پیچھے تھی۔
پاکستان کو بھی تین لانگ مارچوں کا تجربہ ہے۔ پہلا لانگ مارچ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نومبر 1992 میں کیا تھا۔یہ نواز شریف کے خلاف تھا، جب وہ ان کو ہٹاکر حکومت میں آئے تھے اور ان کے خلاف کاررویاں شروع کردی تھیں۔پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیاں جھڑپیں ہوئیں۔اسلام آباد میں سخت حفاظتی اقدامات کئے گئے تھے۔ پولیس نے محترمہ کے گھر کے باہر خاردار تار بچھا دیئے تھے۔ سینکڑوں رکاوٹیں کھڑی کردی تھی، تاکہ وہ راولپنڈی میں نہ پہنچ سکیں جہاں لانگ مارچ پہنچا تھا۔ محترمہ جیالوں کی حصار میں راولپنڈی پہنچ گئیں۔ اس کے تقریبا چھ ماہ بعد نواز شریف کی حکومت ختم ہوگئی۔ 
دوسرا مارچ بینظیر بھٹو نے نواز شریف حکومت کے خلاف کالاباغ ڈیم کے مخالفت کے حوالے سے کیا تھا۔ اور سندھ پنجاب سرحد پر کموں شہید کے مقام پر قوم پرستوں کے ساتھ مل کر دھرنا دیا تھا۔ اس مارچ میں عوامی نیشنل پارٹی بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ تھی جس نے پیپلز پارٹی کے ساتھ ملکر اٹک کے پل پر اسی دن دھرنا دیا تھا۔یہ دھرنا چھوٹے صوبوں کا نواز شریف کے خلاف احتجاج تھا اور سندھ اور خیبرپختونخوا کا اتحاد تھا۔ اس دھرنے کے نتیجے میں بھی  نواز شریف حکومت کو جانا پڑا تھا۔ 
تیسراا لانگ مارچ نواز شریف نے 2008 میں مشرف کی برطرف کردہ عدلیہ کی بحالی کے لیے پیپلز پارٹی کی حالیہ حکومت پر پریشر ڈالنے کے لیے کیا تھا۔ لاہور سے شروع ہونے والا مارچ ابھی آدھے راستے میں ہی تھا کہ آرمی چیف کا انہیں ٹیلیفون کال آئی کہ ان کے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔  لہٰذا وہ اپنا احتجاج ختم کردیں۔ پہلے دو مارچوں کا نتیجہ پانچ سات ماہ بعدسامنے آیا جبکہ تیسرے مارچ کا 24 گھنٹے کے اندر نتیجہ آیا۔ اب چوتھے کی باری ہے۔ کیا  اس کا نتیجہ ان تین سے مختلف ہوگا؟ 
اس سے قبل 80 کے عشرے میں شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے  والے لوگوں پر یکساں زکوات کا نظام نافذ کرنے کے خلاف لانگ مارچ کی کوشش کی تھی۔ مگر یہ لانگ مارچ کوئی زیادہ رنگ نہیں دکھا پایا۔
پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ مارچ وہی کامیاب ہوتا ہے جس کو اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔تو کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ اس مارچ  کا مقصد عوام کو موٹیویٹ یا قائل اور متحرک کرنا نہیں اسٹبلشمنٹ کو موٹیویٹ کرنا ہوتا ہے؟
علامہ قادر ی آج ایسے موقع پر لانگ مارچ کر رہے ہیں جب پیپلز پارٹی اپنی آئینی مدت مکمل کرنے میں چالیس یا پینتالیس روز باقی ہیں۔ہاں یہ اور بات ہے کہ یہ پارٹی آئندہ انتخابات  میں بھی اقتدار  میں آنے کے لیے کوشاں ہے۔ملک میں دہشتگردی  کے واقعات نے  عام زندگی کو معطل کرکے رکھا ہوا ہے۔ کوئٹہ  کے حالیہ واقع اور اس پر احتجاج نے ایک نئی صورتحال پیدا کردی ہے، جس کی وجہ سے کوئٹہ کے مظاہرین  وہاں فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔  
علامہ قادری کے تین مطالبات ہیں نئے الیکشن کمیشن کی تشکیل، فوج اور عدلیہ کی مشاورت سے نگراں حکومت کا قیام، اور انتخابات میں امیدواروں کے لیے اہلیت کی شرط پر سختی سے عمل درآمد۔یہ بہت بڑی فرمائش ہے۔راتوں رات ایسا ہو جائے، آئین میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ وہ ایساکیوں کر رہے ہیں؟ علامہ خود کا دعوا ہے کہ وہ ملک کے عوام کے لیے کر رہا ہے۔ الیکشن کمیشن کی از سرنو تشکیل ملک کی کوئی بھی جماعت نہیں چاہ رہی ہے۔آج کی صورتحال میں علامہ قادری کے بیچ میں آنے سے پرامن طریقے جمہوری حکومت کی منتقلی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ کیونکہ اگر انتخابات ہو جاتے ہیں تو فوج کے بیچ میں پڑنے کے بجائے جمہوری طور پر اقتدار منتقل ہو جائے گا۔تو یہ عمل پختہ ہو جاتا۔ایسا لگتا ہے کہ یہ بازار کھیل کے نئے شرئط طے کرنے کے لیے لگاہے۔ 
 علامہ قادری کا لانگ مارچ کتنا کامیاب ہوتا ہے اور خیر خوبی سے ہو جاتا ہے، اس کے دور رس اثرات بھی مرتب ہونے ہیں۔ان تمام  باتوں سے ہٹ کر اس لانگ مارچ کے موجودہ حالات پر بھی اثرات پڑے ہیں اور سیاسی صف بندی پر بھی اثرات ہوئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ایک دوسرے کے قریب آئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض سیاسی جماعتوں کی پوزیشن مضبوط بھی ہوئی ہے۔ اس مارچ سے علامہ طاہرالقادری کے علاوہ  باقی سب سیاسی جماعتوں کو موجودہ منظرنامے میں فائدہ ہوا۔دور رس ناتئج تو پاکستان کے سیایس کھلاڑیوں نے کونسے پہلے دیکھے تھے کہ اب دیکھیں گے؟
 ایم کیوایم  کی پوزیشن تبدیل ہوئی۔ کچھ ہی گھنٹے پہلے الطاف حسین  ڈرون حملہ کر چکے تھے اور ہر حال میں علامہ کے مارچ میں شرکت کا اعلان کرچکے تھے۔  ایم کیو ایم نے اٹھارہ گھنٹے میں یو  ٹرن لیا ہے۔ یہ کیا دانشمندی کی کمی ہے؟اس پر کئی سوالات کئے جارہے ہیں۔ کیا یہ جماعت صرف ردعمل کی سیاست کرتے ہیں۔ کیا ایک سیاسی پارٹی کے طور پر اس اعلان کے امکانی پہلو پر غور نہیں کیا تھا؟
علامہ قادری کی آمد ان کا ساتھ دینے اعلان  کے نتیجے میں سودے بازی ہوئی ہے۔ ایم کیو ایم  نے لانگ مارچ میں شرکت نہ کرنے کا اعلان گورنر ہاؤس میں اعلان کیا ہے اس کا مطلب یہ کہ موجودہ گورنر برقرار رہیں گے۔ نگراں سیٹ اپ میں بھی تبدیل نہیں ہوگا۔ٰیہ الگ بات ہے کہ گزشتہ انتخابات میں گورنر کے کردار پرمختلف باتیں ہوتی رہی ہیں۔کراچی میں ووٹرز کی تصدیق اور حلقہ بندی کا معاملہ بھی لٹک گیا۔ ووٹروں کی تصدیق کے عمل میں فوج کا کردار صرف تحفظ فراہم کرنا  اور پیٹرولنگ تک محدود کردیا گیا ہے۔ اس صورتحال پر اے این پی کا کہنا ہے کہ ان دو انتخابی مراحل کو مفاہمت کھا گئی۔ایم کیوایم اور مسلم لیگ  (ق)کو موقعہ ملا کہ وہ اپنے اپنے معاملات نمٹائیں اور صورتحال سے فائدہ اٹھائیں۔مسلم لیگ (ق) نے پنجاب میں سیٹ ایڈجسمنٹ کرالی۔حکومت نے سندھ میں بلدیاتی نظام  پر ایم کیو ایم کی بات مان لی ہے۔ یہ نظام فی الحال سپریم کورٹ کے سہارے پر کھڑا ہے جس کے لیے عدالت نے حکم امتناعی جاری کیاہوا ہے۔ نگراں سیٹ اپ کے لیے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان بات چیت ہوگئی ہے۔ یہ اپنی سیاست کو آگے بڑھانے کے لیے اب ایک دوسرے پر تنقید نہیں کر رہی ہیں ان دونوں جماعتوں کے پاس ٹارگیٹ کرنے کے لیے اب علامہ قادری موجود ہے۔ علامہ تو خیر دوسروں کا فائدہ کرنے  ہی آئے ہیں۔ اور اس بہتی گنگا میں ہماری سیاسی جماعتوں نے بھی ہاتھ  دھو لیے تو کوئی مضاحقہ ہے کیا؟
=======================

ماضی میں دو لانگ مارچ ہوئی تھیں۔ کیا تیسری ان سے مختلف ہوگی؟
پہلی لانگ مارچ محترمہ بے نظیر بھٹو نے نومبر 1992 میں کیا تھا۔ نواز شریف ان کو ہٹاکر حکومت میں آئے تھے اور ان کے خلاف کاررویاں شروع کردی تھی۔پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور پولیس کے درمیاں جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے محترمہ کے گھر کے باہر خاردار تار بچھا دیئے تھے۔  سینکڑوں  رکاوٹیں کھڑی کردی تھی۔ تاکہ وہ راولپنڈی میں نہ پہنچ سکیں جہاں لانگ مارچ پہنچا تھا۔

یہ سمجھا جا رہا تھا کہ بے نظیر احتجاج کرنے والوں تک راولپنڈی میں نہیں پہنچ سکیں گی۔ مگر وہ  پہنچ گئیں۔ اس کے پانچ ماہ بعد نواز شریف کی حکومت ختم ہوگئی۔
دوسرا لانگ مارچ نواز شریف نے  مارچ 2008 میں پیپلز پارٹی کی حالیہ حکومت پر پریشر ڈالنے کے لیے کیا تھا تاکہ وہ عدلیہ کو بحال کرے۔ یہ مارچ لاہور سے شروع ہوا تھا۔  یہ مارچ ابھی آدھے راستے میں ہی تھا کہ آرمی چیف کا انہیں ٹیلیفون کال آئی کہ ان کے مطالبات مان لیے گئے ہیں۔  لہٰذا وہ اپنا احتجاج ختم کردیں۔ پہلے لانگ مارچ کا نتیجہ سات ماہ بعد ملا جبکہ دوسرے کا 24 گھنٹے کے اندر نتیجہ آیا۔ اب تیسرے کی باری ہے۔

کوئٹہ میں دہشگردی کے واقعہ کے خلاف معاملہ خاصا گرم ہے۔
دہشتگردی ملک کو تباہ کئے ہوئے ہے۔

پیپلز پارٹی اپنی آئینی مدت ہرحال میں مکمل کرنا چاہتی تھی۔ اب اس میں چالیس یا پینتالیس روز باقی ہیں۔مگر یہ پارٹی آئندہ انتخابات  بھی نظر میں ہیں۔

No comments:

Post a Comment