Monday, 9 March 2020

سندھ میں حکومت کی بھاگ دوڑ ۔۔۔۔ 2012-8-16

Thu, Aug 16, 2012, 1:08 AM
سندھ میں حکومت کی بھاگ دوڑ ۔۔۔۔
 میرے دل میرے مسافر۔۔ سہیل سانگی  
عام لوگ چاہے اسے ڈھیٹ پن کہیں۔ مگر لوگوں کا سامنا کرنا خود ایک فن ہے۔ اور یہ فن بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔
عام آدمی کو چاہے کچھ بھی نہ دیں، مگر میدان میں کھڑے رہیں۔ کچھ نہ دینے کی وضاحتیں اور تشریحات بیان کریں۔ کچھ مجبوریاں کچھ رکاوٹین بتائیں۔ ماضی کی شاندار جدوجہد اور قربانیاں یاد دلائیں۔ کچھ نئے وعدے کریں اور آسرا دیں۔ ہماریہاں یہی سیاست ہے۔ حکمران سمجھتے ہیں کہ اس سے کام چل جائے گا۔لوگوں کا صرف حافظہ ہی کمزور نہیں ہوتا وہ وسیع القلب بھی ہوتے ہیں۔اسی پر سیاستدانوں کی سیاست چلتی ہے۔ آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ 
 بزرگ شخصیت اور سینئرسیاستداں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو بھی یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے۔ کام ہو نہ ہو،کوئی وزیریا اعلیٰ سرکاری اہلکار ان کی بات مانے یا نہ مانے مگر یہ بزرگ ہر جگہ کھڑے ہوتے ہیں۔دوسال قبل جب سیلاب آیا تو دوسرے وزراء اور ایم پی ایز اپنی زمینیں بچانے یا نئے فنڈز میں اپنا حصہ پتی ڈھونڈ رہے تھے، مگر سائیں قائم علی شاہ کبھی گاڑی میں کبھی کشتی میں ہر جگہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ وہ اس وقت بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ 
اب جب حکومت کی مدت پوری ہونے کو چند ماہ باقی ہیں تب اچانک خیال آیا کہ حکومت بہت سارے مسائل حل نہیں کر پائی ہے۔کل جب عوام کے پاس ووٹ کے لیے جائیں گے توکئی چیزوں کا جواب بھی نہیں ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی خبریں شایع ہوئی ہیں کہ بعض اسمبلی ممبران نے انتخابات کے بعد پلٹ کے ووٹروں کو منہ تک نہیں دکھایا ہے۔تمام کام کاج ان کے مقرر کردہ نائبین چلا رہے تھے۔بعض مقامات پر لوگوں نے زیادہ ہمت کا مظاہرہ کیا انہوں نے جلوس نکالے اورتلاش گمشدہ کا اعلان کیا کہ انہیں انکے منتخب نمائندے تلاش کر کے دیں۔جو بھی انہیں منتخب نمائندے تلاش کرکے دے گا ان کو انعام دیا جائے گا۔
آنے والے وقت کی ان مشکلاتوں کو سائیں قائم علی شاہ نے بھانپ لیا۔ ہر ضلع ہیڈکوارٹر میں سندھ کابینہ کے اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ان اجلاسوں کا مقصد یہ بتایا گیا کہ اس کے ذریعے لوگوں کے مسائل حل کئے جائیں گے اور موقع پر ہی انہیں حل کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں گے۔ بعض اضلاع میں ترقیاتی کاموں کا بھی اعلان کیا۔ اسے وزراء کیمسائل کے بارے میں سنجیدگی کہیئے یا وزیر اعلیٰ کے ڈسپلن کا کمال کہ اکثر اجلاسوں میں نصف سے زیادہ وزراء گم تھے۔ انہوں نے اجلاسوں میں شرکت ہی نہیں کی۔ اب تک آدھے اضلاع میں سندھ کابینہ کے اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔یو ں سمجھئے کہ سندھ کے نصف مسائل حل ہو چکے ہیں۔ 
سندھ کابینہ کے اجلاسوں کا اثر الٹا ہوا۔ جیکب آباد اور کندھ کوٹ اضلاع  میں سب سے بڑا مسئلہ ہندو آبادی کو درپیش تھا  جنہوں نے بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، قتل، شادی کے لیے نوجوان لڑکیوں کے اغوا سے متعلق شکایات کیں۔ اجلاسوں کے بعد ان اضلاع سے ہندو آبادی نے ہجرت شروع کردی۔ جس پر وفاقی خواہ صوبائی حکومتیں ہی نہیں سندھ کے باشعور حلقے بھی چونک گئے۔ شکارپور ضلع کاروکاری،  قبائلی جھگڑوں اور جرگوں کی لپیٹ میں ہے۔کابینہ  کا اجلاس  یہاں کی صورتحاکل کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکی۔اغوا انڈسٹری اسی طرح چل رہی ہے۔ قبائلی جھگڑے اور جرگے اسی شان شوکت کے ساتھ منعقد ہو رہے ہیں۔ دادو کے لوگوں نے آبپاشی پانی کی شکایت کی۔وزیراعلیٰ نے سیکریٹری آبپاشی کو تین روز کے لیے دادو میں کیمپ کرنے کی ہدایت کی۔سیکریٹری بھی کیا کرتا۔ خود دریائے سندھ میں پانی  ہی کم ہے۔جو تھوڑا بہت کینالوں میں پانی آرہا ہے وہ وزراء، ایم پی ایز، ایم این ایز اور دیگر بااثر لوگوں کے لیے ہی ناکافی ہے۔ تو عام آدمی کی باری کہاں سے آئے گی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ پانی کی تقسیم کا جھگڑا ان باثر لوگوں کے ہی درمیان ہے، جس کو نمتانے کے لیے ویزر اعلیٰ نے سیکریٹری کو ذحمت دی۔
سندھ کابینہ کا اجلاس تھرپارکرضلع کے شہر مٹھی میں بھی ہوا۔مگر وہاں پر کسی ترقیاتی پروگرام کا اعلان نہیں کیا گیا۔اور نہ ہی بارش پر زندگی گزارنے والے اس ریگستانی علاقے  کے لوگوں کے لیے کسی پیکیج کا اعلان ہوا۔ابھی بھی تھر میں  بارش نہیں ہوئی ہے۔ پڑوسی ملک انڈیا وہاں کے تھر کو بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط زدہ علاقہ قرار دے چکا ہے۔مگر یہاں پر ابھی  سرکاری طور پر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ تھر کے لوگوں کو بتایا گیا کہ ان کی قسمت کوئلے سے وابستہ ہے۔ ویسے حکمران تو پورے ملک کے لوگوں کی قسمت کو تھر کے کوئلے سے منسلک کئے ہوئے ہیں کہ تھر کول پرجیٹ شروع کر کینہ صرف لوڈ شیڈنگ بلکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا ئے گا۔ اس پروجیکٹ سے حکومتوں کے خلوص کا یہ عالم ہے کہ مشرف حکومت نے 1999ع میں تھر کول پروجیکٹ کا اعلان کیا تھا۔ آج 13 سال گزرنے کے بعد بھی  پروجیکٹ شروع نہیں  ہوسکا ہے۔  
مختلف اضلاع میں منعقد ہونے والے سندھ کابینہ کے ان اجلاسوں سے لوگوں کا تو بھلا کیا ہونا تھا البتہ منتخب نمائندوں کا بھلا ہو رہا ہے۔ ان کی پہلے سے ہی  عام فلاح کے کام کرنے کی نیت نہیں تھی۔اب تو بہانہ مل گیا۔اب وہ اپنے حلقے کے لوگوں کو کہہ رہے ہیں کہ ” مسائل کا حل اتنا آسان نہیں۔ ہم نے وزیراعلیٰ اور پوری سندھ کابینہ تک کو لا کر ضلع میں حاضر کیا اب بھی اگر مسئلے حل نہ ہوں تو ہم کیا کریں۔“یوں سمجھئے کہ ضلع ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہونے والے اجلاس  مسائل اور حقائق سے بھاگنے اور ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے کا بہانہ بن رہے ہیں۔ 
کبھی بچپن میں پڑھا تھا کہ بندروں کی برادری پر اچانک بھیڑیوں کے حملہ کردیا۔ دونوں کی سرحدوں کے قریب بندروں کے گھر تھے۔ انہوں نے آکر اپنے سردار یا بادشاہ کوبتایا کہ بھیڑیے حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ بادشاہ سلامت نے  انہیں بتایا کہ وہ اس ضمن میں مختلف اقداماتکے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ آپ فکر نہ کریں اپنے اپنے گھروں کو جائیں۔  دوسرے روز دوبارہ بندر بادشاہ کی حضور میں پیش ہوئے اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا کہ کس طرح بھیڑیوں کا لشکر پیشقدمی کر رہا ہے۔ یوں ایک ہفتے تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ بھیڑیوں کے لشکر نے حملہ کردیا اورحملہ آوروں نے بندروں کے بچے کھانے شروع کئے۔ ایسے میں بندر پھر باشاہ  کی حضور میں پہینچے۔وہ کیا دیکھتے ہیں کہ بادشاہ سلامت تیز تیز دوڑ رہے ہیں اور چکر کاٹ رہے ہیں۔ کچھ دیر کے بعد  جب وہ ٹہرے تو بندروں نے ان کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ بادشاہ سلامت نے کہا کہ آپ خود گواہ ہیں کہ ہم نے بھاگ دوڑ تو بہت کی، مگر بھیڑیوں کا کچھ نہیں کر سکے تو اب کیا کر سکتے ہیں۔ 
ایک خیال یہ بھی ہے کہ سندھ حکومت کے وزراء کے بس میں کچھ بھی نہیں ہے۔کوئی اور چھپا ہوا ہاتھ ہے جو سب کام چلا رہا ہے۔ مگر زمینی حقائق کچھ اور بتاتے ہیں۔ ان وزراء کے ذاتی کام کبھی بھی نہیں رکتے۔ یہاں کون کون سے وزراء کے نام لیں۔ بعض سے تو اچھی خاصی دعا سلام بھی ہے۔ ویسے بھی لوگ کہیں گے کہ یہ وزراء کی ذات پر حملہ ہے۔ لہٰذا اس ے گریز کرتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کسی کا تقرر ہو یا تبادلہ،  حد میں کوئی ترقیاتی کام ہو یا کوئی نیا پروجیکٹ جس سے ان کے ذاتی مفادات وابستہ ہوں،ایسے سب کام بروقت اور بغیر رکاوٹ کے ہو رہے ہیں۔ ہاں البتہ اگر کسی اجتماعی بھلے کا کام ہوگا تو دنیا بھر کی رکاوٹیں اور مجبوریاں ان وزراء کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں اور وہ بچارے بن جاتے ہیں۔ہم یہاں پر حلقہ انتخاب کے بجائے حد کا لفظ اس لیے استعمال کر رہے ہیں کہ یہ حد کسی تھانیدار یا تھانے کی حد کے معنوں میں ہی ہے۔ جہاں پر ان حضرات کا سکہ چلتا ہے، راج ہے۔اگر وہ اس کو حلقہ انتخاب سمجھتے تو وہاں ووٹر اور عام لوگوں کا معاملہ آجاتا ہے۔حلقے کی بات کا مطلب یہ ہوگا کہ عام بھلے یا اجتماعی مفاد کو سامنے رکا جائے گا یا اس کو ترجیح دی جائے گی۔
کسی کو اگرملازمت دی جاتی ہے، کوئی سڑک یا کوئی اور اسکیم دی جاتی ہے تو یہ سب کچھ ذاتی حوالے سے ہوتا ہے۔وزیر یا ایم پی اے اور ایم این اے ذاتی طور پر مہربانی کرتے ہیں۔ یوں سب کام اور اس کا کریڈٹ ذاتی طور پر ہی ہوتا ہے۔یوں ان کا تعلق بھی ذاتی بنتا ہے۔کہیں بھی اجتماعیت یا سیاسی  فائدے کے لیے کاوئی کام نہیں ہوتایہی وجہ ہے کہ بڑے پیمانے پر میرٹ کو کچلا جاتا ہے۔کرپشن اور اپنوں کو نوازنے اور مخصوص گروہ کو آگے لے آنے کی شکایات عام ہیں۔ اور ان شکایات میں وزن بھی ہے۔ یہ شکایات اب محفلوں میں بحث کا موضوع بننے کے ساتھ ساتھ اخبارات کے کالموں کی بھی زینت بن رہی ہیں۔ یوں ایک یا دو بندوں کو خوش کرنے کے لیے سو ڈیڑھ سو بندوں کو ناراض کرنے کا سلسلہ چل نکلا ہے۔اگر یہ سب کچھ میرٹ پہ ہو تو اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ سندھ کا عام ووٹر تو پیپلز پارٹی کا ہے۔اس نیگزشتہ کل بھی پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا تھا اور آنے والی کل بھی دے گا۔یہ سندھ کے لوگوں کا  سیاسی فیصلہ ہے۔ جس کو پیپلز پارٹی کے وزراء اور اسمبلی ممبران  زاتی بنانے کے جتن کر رہے ہیں۔ اور عام آدمی کا پارٹی سے سیاسی رشتہ  توڑنے اور کمزور کرنے کی سعی کر رہے ہیں۔ اور اس کی جگہ پر اپنا ذاتی رشتہ جوڑنا چاہ رہے ہیں۔ یہ ان کی بھول ہے۔ اگر سندھ کے  لوگوں نے سیاسی رشتہ توڑا تو ذاتی رشتے کے لیے  ان کے پاس کئی آپشن ہو سکتے ہیں۔ آنے والی کل کو کسی چھوٹی موٹی بات وہ اپنا ذاتی رشتہ کسی اور سے جوڑ سکتے ہیں۔ عارضی طور پر یعنی  اعیک آدھ انتخابات کی حد تکانہیں یہ حکمت عملی فائدہ دے سکتی ہے۔ مگر طویل مدت میں یہ صرف پارٹی کو ہی نہیں بلکہ ایسے لیڈروں کو بھی نقصان دے گی۔ 
 پیپلز پارٹی کی قیادت کو سوچنا چاہئے کہ ذاتیات اور مفاد پرستی کی سیاست کرنے والے ذاتی طور پر اپنے حلقہ انتخاب بنانے والے  پارٹی کے لیے کتنا نقصاندہ ہیں۔ یہ لوگ دراصل سیاست کے بنیاد روایتی بنیادوں پر رکھنا چاہ رہے ہیں جس کو پیپلز پارٹی نے ستر کے عشرے میں اور اس کے بعد1988ع میں اٹھا کے پھینک دیا تھا۔

No comments:

Post a Comment