Sun, May 5, 2013 at 9:30 PM
میرے دل میرے مسافر
اگر انتخابات مزید مشکوک ہوئے تو۔۔ سہیل سانگی
جیسے انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے،انتخابی سرگرمیوں پر دہشتگرد حملوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کا کہنا ہے کہ تحفظ فراہم کئے بغیر آزادانہ اور منصفانہ انتخاب نہیں ہوسکتے۔ صرف گزشتہ بیس روز کے دوران انتخابی سرگرمیوں پر 41 حملے کئے جا چکے ہیں جس میں 70 ارفراد ہلاک اور 400 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ دہشتگردی کے واقعات کی وجہ سیانتخابات کے انعقاد کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا۔ تاہم اب آرمی چیف کے حالیہ بیان نے عوام اور امیدواروں کو ڈھارس بندھائی ہے کہ انتخابات ضرور ہونگے۔
یہ تاثر عام ہے کہ انتخابی سرگرمیوں پر حملے روکنا الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کے بس کی بات نہیں۔ کہنے کو تو یہ بات ٹھیک ہے لیکن ان دو عہدوں پر جن دو شخصیات کا تقرر ہوا ہے اس عمل میں ملک کی تمام سیاسی جماعتیں خواہ وہ پارلیمنٹ ہوں یا پارلیمنٹ سے باہر شامل تھیں۔چیف الیکشن کمیشنر کے تقرر میں مکمل طورپرآئینی طریقہ اختیار کیا گیا۔ پارلیمنٹ میں موجود تمام پارٹیوں سے مشاورت کی گئی،یہی طریقہ نگراں وزیر اعظم کے تقرر میں بھی اختیار کیا گیا۔ بالفاظ دیگرے تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن اور نگراں وزیر اعظم کے ہاتھ اور بازو ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں اہم ریاستی اداروں کا اثبات بھی ان دو عہدوں کے لیے حاصل کیا گیا تھا۔ تعجب کی بات ہے کہ اس کے باوجودنگراں حکومت اور الیکشن کمیشن کو کمزور کہا جارہا ہے بلکہ یہ دونوں عہدیدران خود کو کمزور سمجھ رہے ہیں۔
تاحال ان دونوں عہدیداران نے ریاستی اداروں اور حکومتی مشنری کو کوئی ٹھوس اور سختی سے ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ تاکہ انتخابی عمل میں تشدد کے واقعات کم ہو سکیں۔ لگتا ہے کہ یہ دونوں اعہدیداران خود کو ریاستی اداروں سے کم سمجھ رہے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ یہ ادارے ان کے کنٹرول میں نہیں۔ یہ سوچ صرف بچارے نگراں یا عبوری سیٹ اپ کے لوگوں کی نہیں،پکا سیٹ اپ والے بھی کچھ ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں۔فرق یہ ہے کہ پکے سیٹ اپ کے لوگ سیلف انیشیٹو initiativeلیتے رہے ہیں۔ ان عبوری حضرات سے یہ انیشیٹو لیا نہیں جا رہا۔
بلاشبہ آرمی چیف کے بیان نے انتخابات کے بارے میں غیریقینی فضا ختم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوا ہے۔ مگر یہ بیان انتخابت سے صرف نو روز پہلے آیا ہے۔ جیسا کہ سیاسی جماعتیں اس بیان کو مؤثر سمجھ رہی ہیں اس لحاظ سے یہ بیان پہلے آنا چاہئے تھا۔ بیان اپنی جگہ پر اہم سہی مگر انگریزی زبان میں کہاوت ہے کہ actions speak louder than words یعنی عمل کی آواز الفاظ سے زیادہ اونچی ہوتی ہے۔ یہاں پر بھی ریاستی اداروں کو اس عزم کا عملی مظاہرہ کرنا پڑے گا۔ انتخابات کے پرامن، منصفانہ اور آزادانہ انعقاد میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشتگردی کے واقعات ہیں جو تین مخصوص پارٹیوں کے خلاف ہو رہے ہیں۔ دہشتگردی کو روکنا ویسے بھی ریاستی اداروں کا فریضہ ہے لوگ چاہتے ہیں کہ یہ ادارے اس رخ میں کوئی پیش رفت کریں۔
الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت کو اس بات کا نوٹس لینا چاہئے تھا کہ انتخابی عمل منصفانہ طور پر نہیں ہو رہا ہے۔ انتہاپسند گروہوں نے تین پارٹیوں کی مہم کو بلکل بلاک کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کا مقصد ان جماعتوں کو انتخابی عمل سے ہی نہیں بلکہ حکومت میں آنے سے بھی روک دیا جائے۔ یہ المیہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت نے اس ناہموار انتخابی مقابلے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اور نہ ہی ریاستی اور حکومتی اداروں کو اس ضمن میں کوئی ٹھوس ہدایات جاری کیں۔
المیہ یہ بھی ہے کہ انتہا پسندوں کی پسندیدہ پارٹیاں بڑے جوش و خروش کے ساتھ انتخابی مہم چلارہی ہیں۔ وہ دہشتگردی کے واقعات سے آنکھیں موند لیتی ہیں یا پھر نہایت ہی ملتجانہ انداز میں کچھ کہہ رہی ہیں۔ ان کا یہ موقف انتخابات اور اس جمہوری عمل کے لیے نقصاندہ ہے۔ جس جمہوری عمل کا یہ جماعتیں خود بھی حصہ بن رہی ہیں۔ ان پارٹیوں کو سمجھنا چاہئے کہ آج اگر انتہا پسندوں کے دباؤ کے نتیجے میں بعض پارٹیاں انتخابی عمل سے باہر رہ جاتی ہیں تو کل ان منظور نظر پارٹیوں کو انتہا پسندوں سے کوئی دوسری ڈکٹیشن ملے گی تب وہ کیا کریں گی؟ اس صورتحال میں ان جماعتوں کا سیاسی یا جمہوری ہونا مشکوک ہوجاتا ہے۔
بات اتنی آسان نہیں جتنی یہ منظور نظر پارٹیاں سمجھ رہی ہیں۔ اگر وہ اس نابرابری کے مقابلے میں جیت بھی جاتی ہیں کیا لوگ ان کو تسلیم کرلیں گے؟ عملا ان کی قانونی و سیاسی حیثیت کیا ہوگی؟ یہ بات وہ بھی سمجھتی ہیں۔
یہ بھی ممکن تھا کہ دہشتگردی کا ٹارگیٹ جماعتیں انتخابات کا بائکاٹ کردیتیں۔ ان بڑی پارٹیوں کی عدم موجودگی میں انتخابات کی حیثیت کیا رہ جاتی؟ بڑا خطرہ یہ بھی تھا کہ یہ پارٹیاں 85 کا تلخ تجربہ دہرانا نہیں چاہتی تھیں۔ مزید یہ کہ بائکاٹ می صورت میں دہشتگرد وں کا واک اوور مل جاتا۔ دہشتگردی کا نشانہ بننے کے باوجود یہ پارٹیاں میدان میں کھڑی ہیں۔ جو قابل تحسین بات ہے۔ ان کا یہ موقف ملک کی جمہوری تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ ایم کیو ایم بائکاٹ کی طرف جارہی تھی۔ مگر پیپلز پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے اس کو ایسا کرنے سے روکا۔ اور کھینچ کر اپنے ساتھ کھڑا کیا۔
بھرپور انتخابی مہم میں مصروف پارٹیاں یہ ذہن نشین کر لیں کہ اگر انتخابات کسی وجہ سے مزید مشکوک ہوجاتے ہیں تو بات دور تک چلی جائے گی۔ مثال کے طور پر پنجاب اکیلا صوبہ ہے جہاں انتخابی سرگرمیوں کا جوش و خروش ہے۔ باقی تین صوبے اس سے محروم ہیں۔ یہاں انتخابی مہم میڈیا تک محدودہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انتخابات عملا ایک ہی صوبے میں ہورہے ہیں۔ کیا ایک صوبے کے نتائج دوسرے صوبوں پر ٹھونس دیئے جائیں گے؟ آخر یہ تین صوبے بھی پاکستان کا حصہ ہیں۔دوئم یہ اپنے اپنے مراکز میں مضبوط پارٹیاں نابرابری کے مقابلے اور امکانی ہیراپھیری کی صورت میں کم ووٹ لیتی ہیں تو کیا وہ ان انتخابات کو تسلیم کرلیں گی؟ اے این پی ایسا عندیہ دے چکی ہے۔ اس طرح کے کئی سوالات ہیں اور معاملہ نئے انتخابات کی طرف چلا جائے گا۔ اس پر مزید سوالات ہیں کہ نئے انتخابات کب اور کیسے ہوں گے؟یوں ہم ایک ایسے تجربے کی طرف چلے جائیں گے جس کا بوجہ عوام برداشت نہیں کر سکتا۔
سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ انتخابات کو محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگوں کا اعتماد تب بحال ہوگا جب ریاستی ادارے اس وارداتوں کو کم کرنے میں کامیاب ہونگے۔اس معاملے میں سب سے بڑا اسٹیک ہولڈر عوام ہیں۔ عوام کو خود سامنے آنا پڑے گا۔ اور انتہاپسندی کی مہم کو ”نہیں“ کہنا پڑگا۔ وہ ایسا دو طریقوں سے کر سکتے ہیں۔ پہلا یہ کہ لوگ متعلقہ اداروں کو پابند بنائیں کہ وہ اپنا کردار مؤثر طریقے سے ادا کریں۔ اسطرح کے مطالبات اور اظہار مختلف ذرائع سے ہونا چاہئے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ عوام تمام خطرات اور خوف کو پھلانگ کر زیادہ سے زیادہ تعداد میں پولنگ اسٹیشن تک پہنچ کر اپنا ووٹ کاسٹ کریں اور انتہاپسندی کی مہم کا نہیں میں عملی جواب دیں۔
No comments:
Post a Comment