Mon, Jun 10, 2013 at 11:23 AM
پیپلز پارٹی کی ازسرنو تنظیم کا سوال
سہیل سانگی
بعداز خرابی بسیار پیپلز پارٹی نے پارٹی کو سرگرم اور فعال کرنے کے لیے از سرنو تنظیم سازی کا اعلان کیا ہے۔ اچھا ہوتا اگر یہ اعلان پارٹی کے چیئرمن بلاول بھٹو زرادری کرتے۔ مگر یہ اعلان رضا ربانی کی زبانی کرایا گیاہے۔وہ پارٹی کے سنیئر رہنما ہیں۔ ان کی ساکھ بطور اصول پرست اور پارٹی کے وفادار کے طور پر ہے۔ اچھا ہوا کہ پارٹی نے رضا ربانی کو اس مقصد کے لیے چنا اگر کوئی اور پارٹی رہنما کرتا تو شایداتنا سنجیدگی سے نہیں لیاجاتاور اسکو محض ایک سیاسی بیان ہی سمجھاجاتا۔
نئی حکمت عملی میں سندھ حکومت مثالی اور رول ماڈل حکومت، پارٹی کو نظریاتی بنیادوں پر استوارکرنا، انقلابی جوہر کو اجاگر کرنا، وارڈ سطح پر پارٹی کی تنظیم سازی کرنا، کرپشن کامکمل خاتمہ، گڈ گورننس، ٹریڈ یونین، نوجوانوں اور ہم خیال تنظیموں سے رابطے وغیرہ شامل ہیں۔ ایک نقطہ یہ بھی شامل ہے کہ پارٹی کے ناراض رہنماؤں اور کارکنوں کو منایا جائے۔ سات ترجیحات کے کو بنیاد بنا کر پارٹی کا کھویا ہوا وقاربحال کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
اگرچہ رضا ربانی نے کھلے الفاظ میں تسلیم نہیں کیا کہ ماضی قریب میں پارٹی کی پالیسی ناکام رہی۔ تاہم جو نکات اٹھائے گئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی ان شعبوں اور پہلوؤں پر توجہ نہیں دے سکی۔پیپلز پارٹی کو یہ حقیقت تسلیم کرنی پڑیگی کہ سندھ میں عوام نے اس کوووٹ کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ بحالت مجبوری دیا۔کوئی متبادل موجود نہیں تھا۔
سوال یہ ہے کہ کیا واقعی پیپلز پارٹی اپنا نیا پروفائل تبدیل کرنے کے لیے تیار ہے؟ پارٹی کی قیادت کو از سرنو تنظیم سازی سے پہلے تھوڑا سا ماضی کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ نئی تنظیم سازی بہتر طور پر ہوسکے۔ اور نئے زمینی حقائق کو بھی دیکھنا اور پرکھنا ہوگا۔
پیپلز پارٹی کے مختلف حالات میں مختلف روپ ہوتے ہیں۔ جب اپوزیشن ایک روپ ہوتا ہے، انتخابات میں جاتی ہے تو دوسرا اور حکومت میں آتی ہے تو تیسرا روپ سامنے آتا ہے۔
ماضی قریب کی باتیں:
حالیہ انتخابات کی سیاست اور حکومت کے دنوں میں وڈیروں اور بااثر لوگوں کی پارٹی میں شمولیت سے کارکنوں کو نظرانداز کیا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں وڈیرے ہو گئے ہیں۔
رضا ربانی صاحب نیگڈ گورننس پر خاصا زور دیا ہے۔گڈ گورننس کا نعرہ بڑادلکش ہے۔ اس کا اصل مطلب یہ ہے کہ حکومت اور حکومتی ادارے چند افراد یا مخصوص گروہوں کی نہیں بلکہ عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری نبھائیں۔حکومت اور شہریوں کے درمیان اضاکارانہ بندھن ہو، مختلف گروہ اور علاقوں کے لوگ حکومتی فیصلوں کو اپنا سمجھ کر ان پر عمل کریں۔سیاسیات اور ترقیات کے ماہرین گڈ گورننس کے لیے آٹھ نکات بتاتے ہیں۔ ۱) شراکت، برابری، اور شمولیت، ۲)قانون کی حکمرانی، ۳)اختیارات کی تقسیم، ۴) حکومت کی رٹ، احتساب، شفافیت، سیاست میں پیسے کے مضمر اثرات کو محدود کرنا۔دیکھا جائے تو یہ آٹھ نکات ہی جمہوریت کے بنیادی اقدار کی بنیاد بنتے ہیں۔ دراصل گڈ گورننس ایک ایسا مکینزم، پروسیس اور دارے ہیں جن کے ذریعے لوگ اور مختلف گروہ اپنے مفادات کا قانونی طور پر اظہار کرتے ہیں اور جائز قانونی حقوق حاصل کرتے ہیں۔
گڈ گورننس میں حکومت کاذمہ دارانہ رویہ ضروری ہیتاکہ حکومتی ادارے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مساوی طور پر خدمت کریں۔
اداروں اور پروسیس کا موثر ہونا ضروری ہے۔ تاکہ لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے نتائج دے سکیں۔
ریکارڈ موجود ہے کہ ماضی میں پیپلز پارٹی ایسا کچھ نہیں کر پائی۔سیاسی مصلحت پسندی اور مفاہمت اپنی جگہ پر مگر عام آدمی کو بھی رلیف نہیں مل سکا۔ تقرریوں، تبادلوں اور ترقیوں میں میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ اقرباپروری کے رکارڈ توڑدیئے۔ ترقیاتی منصوبوں میں اقربا پروری کی گئی اور مخصوص لوگوں اور گروہوں اور علاقوں کو ہی ترجیح دی گئی۔ لوگ تحفظ کے لیے ترس گئے۔ امن امان کی صورتحال بہتر نہ بن سکی۔
رضا ربانی صاحب نے انقلابی پارٹی اور نظریاتی اساس کی بات کی ہے۔ 70ع وہ زمانہ تھا جب میر، پیر اور وڈیرے ملامت کی علامت بنے ہوئے تھے۔ روٹی، کپڑا اور مکان مقبول نعرہ تھا۔ کسان، مزدور اور طلبا کے حقوق ترجیح بنے ہوئے تھے۔
؎پیپلز پارٹی کا عوامی رجحان تین عشروں تک ملکی سیاست خاص طور پر سندھ کی سیاست پر چھایا رہا۔ وڈیرے اور روایتی سیاستداں پیپلز پارٹی کے دروازے قطار بنائے کھڑے رہتے تھے۔ شاید ہی کبھی پیپلز پارٹی نے میر، پیر یا وڈیرے کے پاس چل کے گئی ہو کہ پارٹی میں آؤ وغیرہ۔پیپلز پارٹی ان وڈیروں سے بڑی تھی۔ اقتدار کے پیاسے پیپلز پارٹی کے پاس جاتے تھے۔ لیکن حالیہ دور میں پیپلز پارٹی ان میروں، پیروں اور وڈیروں کے پاس چل کر جاتی ہے۔وہ بھی ایک بار نہیں بلکہ کئی بار۔گویا پارٹی کوکارکنوں نہیں بلکہ وڈیرے معتبر ٹہرے۔
حالیہ دور میں سیاسی کھلاڑیوں، باثر افراد اور وڈیروں پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ یوں عوام اور پارٹی کارکن غیر اہم ٹہرے۔بااثر اور منتخب ہونے کے قابل افراد ضروری اور اہم ہوگئے۔وڈیروں کے خلاف نعرے دب گئے ہیں۔شاید جو سیاست اور سیاسی کلچر جو ذوالفقار علی بھٹو نے متعارف کرائی تھی وہ آخری سانسیں لے چکا۔ اس کی جگہ روایتی یا مسلم لیگی سیاست جگہ لے رہی ہے۔یعنی سیاسی حمایت کے لیے وڈیرے، میر اور پیر ضروری ہیں۔پارٹی اس صورتحال کو صرف بیان بازی سے تبدیل نہیں کرسکتی۔ اس کے لیے جامع حکمت عملی اور کرشماتی قیادت ضروری ہے۔
جنرل ضیانے نیا سیاسی کلچرمتعارف کرایا۔ سیاست میں ذاتی تعلق اور ذاتی مفاد کو نچلی سطح تک متعارف کرایا گیا۔ اس کلچر نے انتخابی سیاست کا رنگ ہی بدل دیا۔ اور اسمبلی ممبر، ووٹر یا کارکن کے بیچ میں موجود سیاسی رشتہ ختم کرکے اس کو ذاتی تعلق یا ذاتی مفاد میں تبدیل کردیا گیا۔ جب ذاتی مفاد اور تعلق ہی اہم ٹھہرے تو پھر ووٹر اورپاور بروکرزکے لیے کئی آپشنز کھل گئے۔
ضیا ء کے متعارف کردہ اس نطام کو بے نظیر بھٹو بھی ختم نہ کر سکی بلکہ اسے اپنے دور حکومت میں جاری رکھا۔ترقیاتی فنڈ، ملازمتیں،بجٹ وغیرہ اسمبلی ممبران کو ذاتی طور پر ملنے لگیں اورنچلی سطح پر ان کی تقسیم بھی ذاتی طور پر ہونے لگی۔ یہ ایک خطرناک اور غیرسیاسی رجحان تھا جس کے اثرات اب بھرپور انداز سے اثرات ظاہر ہونے لگے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے اس رجحان کو ختم کرنے کے بجائے خود اس کا شکار ہو گئی۔اب پیپلز پارٹی اس پچ پر آگئی جو عوامی نہیں بلکہ سیاسی خاندانوں یا سیاسی کھلاڑیوں کی روایتی پچ تھی۔
پارٹی کی قیادت اور کارکنوں خواہ ووٹروں کے درمیان خلاء نظرآتاہے۔ انتخابات کے موقعے پر یہ خلاء کھل کر سامنے آیا۔ماضی میں ایسا نہیں تھا۔ذوالفقار علی بھٹو ہر ماہ کہیں نہ کہیں جلسہ کرتے تھے یا پارٹی کارکنوں کا ڈویزنل یا صوبائی کنوینشن بلاتے تھے۔ بینظیر بھٹو نے اس روایت کو برقرار رکھا۔جلسے، جلوس، کارکنوں سے رسمی و غیر رسمی ملاقاتیں، ان کو سننا، ان کو اعتماد میں لینا جاری رکھا۔ بھٹو شملہ معاہدہ کے مذاکرات اور بنگلہ دیش منظور کرنے کے معاملات کی بھی عوام سے منظوری لیتے ہوئے نظر آتے تھے۔
اب نہ جلسے جلوس ہیں نہ ہی پارٹی قیادت کی کارکنوں سے ملاقاتیں اور ڈویزنل کنوینشن۔ نتیجۃ پارٹی قیادت کارکنوں کے درمیان رشتہ کمزور ہوا ہے۔ اب پارٹی کارکن اہم رہے نہیں بلکہ سیاسی کھلاڑی اور پاور بروکرز اہم ہیں۔ جن سے بند کمروں میں ملاقاتیں کرنا اور ان کو خوش رکھنا پی پی ضروری سمجھنے لگی ہے۔ اس رجحان کے بعد اسمبلی ممبران پر کارکنوں کا چیک بھی ختم ہو گیا۔ اب شکایت کرنے کا دروازہ بھی نظرنہیں آتاہے۔کیا پارٹی نئی حکمت عملی میں یہ نیا بند توڑنے جا رہی ہے؟
نئے حقائق:
پارٹی کو نئے حقائق سمجھنا ہونگے۔گزشتہ دو دہائیوں میں نئے معاشی اور سیاسی گروہ اور طبقات وجود میں آئے ہیں۔ شہری نیم شہری آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔لوگوں کی ضروریات اور ترجیحات تبدیل ہوئی ہیں۔روزگار کے ذرائع میں بھی تبدیلی آئی ہے۔پرانا کلاس جس کو بھٹو نے جگایا تھااور پراناسیاسی کارکن خود بھی تبدیل ہوگیا ہے۔ ایک پورا نوجوانوں کا کلاس لاکھوں کی تعداد میں وجود میں آیا ہے۔ جس کا پرانی سیاسی تحریکوں اور سیاست سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ صرف آج میں زندہ رہنا چاہتا ہے۔
اب روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ شاید اتنی مقبولیت نہیں رکھتا جتنا فوڈ سیکیورٹی کا معاملہ یا یہ کہ کس طرح سے ماحولیات تباہ ہوئی جس سے روزگار کے وسائل متاثر ہوئے۔ پینے کا صاف پانی نہیں۔جب بھی کوئی بیماری پھیلتی ہے تو ایکدم وبائی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ مطلب جینے کے وسائل کی زنجیر ٹوٹ چکی ہے۔جمہوریت کی تعریف میں توسیع ہوگئی ہے۔ جس میں انسانی حقوق اور صحت، تعلیم وغیرہ بھی شامل ہوگئے ہیں۔ ان سب کے لیے پرانی لفاظی کی نہیں ایک جامع اور انقلابی پروگرام کی ضرورت ہے۔
No comments:
Post a Comment