Tuesday, 10 March 2020

اقلیتی کی نمائندگی کا معاملہ - Mar 27, 2013

Wed, Mar 27, 2013 at 10:36 PM
اقلیتی  کی نمائندگی کا معاملہ
سہیل سانگی  
پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا سوال روز بروز پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ پنجاب سے لیکر بلوچستان  اور سندھ گزشتہ برسوں میں رونما ہونے والے واقعات  بتاتے ہیں کہ عدم برداشت، رواداری کا ماحول سکڑتا جارہا ہے۔ مذہبی مقامات پر حملے اور قبضے، سندھ میں ہندو لڑکیوں کوغوا کے بعد مذہب تبدیل کراکے شادی کرنے کے واقعات، ہندوؤں کی نقل مکانی  کے واقعات بڑھے ہیں۔ مذہبی انتہا پسندی  میں اضافہ کے ساتھ ریاستی مشنری اور غیر ریاستی ادارے یہ واقعات روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان تمام واقعات کے لیے سیاسی کلچر، ریاستی اداروں اور حکومت کا رویہ ذمہ دار ہے ہی، مگر خود سیاست اور حکومت میں اقلیتوں کی نمائندگی کا معاملہ بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کا معاملہ ایوانوں میں ان کی نمائندگی کی طرح پیچیدہ ہے۔ ایوانوں میں یہ نمائندگی اپر کلاس کا کھیل رہا ہے۔ کوئی اکادکا نچلے طبقے کا شخص منتخب ہو کر آتا ہے۔ جو بھرے ایوان میں اکیلا ہونے کی وجہ سے غیر موثر ہو کر رہ جاتا ہے اورآگے چل کر خود بھی اپنا طبقہ تبدیل کرنے میں لگ جاتا ہے۔ 
اقلیتی نشستوں کے لیے مشہور ہے کہ یہ نشستیں سیاسی جماعتوں یا بااثر افراد کے ہاتھوں بکتی ہیں اور ان نشستوں کے خریدار سیٹھ لوگ ہوتے ہیں۔ نتیجتا صحیح نمائندگی نہیں ہوپاتی۔ ظاہر ہے کہ کروڑوں روپے خرچ کرکے نشست حاصل کی جانے والے عام لوگوں کی نمائندگی یا بھلائی کے  بجائے ذاتی فائدے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ 

مخلوط انتخابات میں اقلیتوں نمائندوں کا انتخاب ہر اسمبلی کے اراکین کرتے ہیں۔ نتیجے میں انکا انتخاب بلواسطہ طریقے سے ہوتا ہے۔یہ نشستیں ان پارٹیوں کو ملتی ہیں جن کی متعلقہ اسمبلی میں نمائندگی ہوتی ہے۔ضیا دور میں یہ انتخاب عام اقلیتوی ووٹرز کے ذریعے ہوتا تھا۔  
 اب مخلوط انتخابی نظام کے تحت اقلیتی ووٹر خاصے اہم  ہوگئے ہیں۔ انتخابی فہرستوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کی 96 حلقے ایسے ہیں جہاں پر اقلیتی ووٹر ہار اور جیت کا سبب بن سکتے ہیں۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر اقلیتی ووٹ اجتماعی طور پر ووٹ کا استعمال کریں تو انتخابی منظر تبدیل کر سکتے ہیں۔لیکن ان کے اجتماعی طور پر اور مرضی سے ووٹ ڈالنے میں بہت سارے اگر مگر ہیں۔ ان میں سے اکثر  شیڈیولڈکاسٹ اورغریب ترین طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ لوگ مقامی زمینداروں اور بااثر لوگوں کے زیر اثر ہوتے ہیں اور ان کے ہی کہنے پر ووٹ دیتے ہیں۔ 
انتخابی فہرستوں  کے مطابق عمرکوٹ میں 49 فیصد، تھرپارکر میں 46 فیصد، میرپورخاص میں 33 فیصد اقلیتی ووٹر ہیں۔ ٹنڈوالہیار میں 26 فیصد، سانگھڑ اور بدین میں 19 فیصد ووٹر، ٹنڈو محمد خان میں 17فیصد،  مٹیاری میں 13 فیصد،  اقلیتی ہیں۔ان میں بڑی تعداد شیڈیولڈ کاسٹ برادریوں کی ہے۔
 یہ امر چلچسپی سے خالی نہیں کہ اس مرتبہ اقلیتوں میں  ہندو ووٹرز کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اس سے پہلے کرسچن ووٹر زیادہ ہوتے تھے۔ 

اس وقت قومی اسمبلی کی  9 اور صوبائی اسمبلی کی11 نشستیں اقلیتوں کے لیے مخصوص ہیں۔مجموعی طور رپر اسمبلیوں میں نشستوں میں اضافے کے بعد اقلیتی نشستیں بھی بڑھانے کی تجویز تھی۔ وفاقی کابینہ نے  فیصلہ بھی کیا مگر قانون سازی نہ ہو سکی۔ اس تجویز کے مطابق قومی اسمبلی کی ایک اور سندھ میں صوبائی اسمبلی کی تین نشستیں بڑھانی تھیں۔ 
قیام پاکستان کے بعد  مجموعی طور پر ملک کے اس حصے میں جو اب پاکستان ہے اقلیتوں کی نمائندگی اپر کلاس یعنی ٹھاکروں اور سیٹھوں کے پاس رہی۔اپر کلاس سے تعلق رکھنے والے بعض اقلیتی نمائندے بعد میں بھارت منتقل ہوگئے۔
 کراچی سے تعلق رکھنے والے جیوراج بھٹو دور میں ایم پی اے بنے تھے۔ بھٹو کے بعد وہ انڈیا چلے گئے۔ ان کا تعلق شیڈیولڈ کاسٹ سے تھا۔  ٹھاکر لچھمن سنگھ مغربی پاکستان اسمبلی کے رکن تھے وہ  70 ع انتخاب کے چند ماہ بعد، مہرومل نوے کے عشرے میں اور رام سنگھ سوڈھو حال ہی میں انڈیا گئے ہیں۔ سوائے جیوراج کے باقی سب کا تعلق اونچے طبقے سے تھا۔ 
 انتخابات کے جداگانہ نظام کے بعد عام ووٹرز کی بناء پر پارومل کولہی اور ٹیکم کولہی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ضیاء الحق نے پسماندہ طبقے  کے امیدواروں کو اہمیت دی۔ یہ اقلیتی بھی تھے اور شیڈیولڈ کاسٹ سے بھی تھے اور ان کو روایتی سیاست کی ہوا نہیں لگی تھی کہ وہ ضیا شاہی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔اسی دور میں گلجی میگھواڑ بھی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے، جو اس سے پہلے ون یونٹ دور میں اسمبلی ممبر رہ چکے تھے۔ وہ میرپورخاص کے علاقے ڈینگان میں پٹواری تھے اور غلام مصطفےٰ بھرگڑی کے دوست بھی۔ بھرگڑی  کے مشورے پر انہوں  نے سرکاری ملازمت چھوڑ کر سیاست میں قدم رکھا۔ گلجی کا حال ہی میں کسمپرسی کے عالم میں انتقال  کرگئے۔ 
 پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں میگھواڑ برادی کے ڈاکٹر کھٹومل جیون سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعد میں وہ قومی اسمبلی تک پہنچے گئے۔ کرشن بھیل نواز لیگ کی ٹکٹ پر دو مرتبہ قومی اسمبلی کے ممبر بنے. 

80 اور 90  کے عشروں میں اپر سندھ کے سیٹھ اور تھرپارکر کے ٹھاکر اقلیتی نمائندگی کے نام پر اقتدار کے مزے لوٹتے رہے۔اسکے بعد لوئر سندھ کے سیٹھ بھی سیاست کے میدان میں اترے۔ اسلام کوٹ تھرپارکر کے سیٹھ اشوک کمار رتنانی مٹھی سے راجویر سنگھ کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے۔ لیکن جیت نہ سکے۔ ان کا حب بلوچستان میں کاروبار ہے۔ جام یوسف کے وزارت اعلیٰ کے دور میں انہوں اپنا ووٹ بھی وہیں داخل کرایا۔ اور سینٹ کا انتخاب بھی وہیں سے لڑا مگر کامیاب نہ ہو سکے۔ 
2002 میں رمیش لوہانہ ارباب گروپ  کی حمایت سے ایم پی اے منتخب ہوئے۔ بعد میں انہوں پاکستان ہندو کونسل بھی بنائی۔ لیکن سندھ میں روشن سیاسی مستقبل  نہ دیکھتے ہوئے انہوں نے بھی بلوچستان میں ووٹ داخل کرایا اور وہیں سے سینٹ کا انتخاب بھی لڑا لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔اب رمیش لوہانہ بلوچستان  میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہیں۔ 
حال ہی میں مدت مکمل کرنے والی اسمبلیوں میں سندھ سے اقلیتوں کی نمائندگی کی صورتحال اس طرح سے تھی۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے مہیش ملانی، رمیش کمار، ڈاکٹر کھٹومل،  لالچند کوہستانی تھے۔ جبکہ گھوٹکی کے تاجر منوہرلال  ایم کیو ایم سے اور گھوٹکی کے درشن لال نواز لیگ سے تھے۔جبکہ پاروانی قاف لیگ سے ہیں۔ان میں سے سوائے ڈاکٹر کٹھومل کے، کسی کے پاس ووٹر یا برادری کی حمایت یا سیاسی کردار کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ لوگ پارٹی قیادت سے ذاتی تعلق یا پیسے کے زور پر اسمبلیوں تک پہنچے ہیں۔
 سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے مکیش چاولہ،۔موہن لال کوہستانی،  لالچند بٹھورائی تھے۔ قاف لیگ سے چیتن آروانی ممبر تھے۔  ایم کیوا یم سے پرتاب بھیل، آصف اسٹیفن اور ہرگن داس ہیں، پرتاب بھیل  کے مرنے کے بعد یہ نشست عارف مسیح کو دے دی گئی ہے۔ سیٹھ دیارام جامشورو سے جنرل نشست پر ایم  پی اے ہیں۔

ان منتخب نمائندوں کی لسٹ پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ کسی پاپولر ووٹ یا سیاسی خدمات کے باعث نہیں بلکہ ذاتی اثر رسوخ یا   پارٹی یا پارٹی کے کسی لیڈر کومالی سپورٹ کی بناء پر اسمبلی کے ممبر بنے۔ یہ تاریخ کی بدنصیبی ہے کہ ممتاز سیاستدان اور دانشور کامریڈ سوبھو گیانچندانی نوے کے عشرے میں قومی اسمبلی کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔ مگر پیسے کی چمک اور اسٹبلشمنٹ کے اثر نے انہیں جیتنے نہیں دیا۔ 

آج سیاسی جماعتوں کے پاس مختلف امیدواروں کے نام زیر غور ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نام وہی ہیں جو اسی اور نوے کے عشرے سے چل رہے ہیں۔اسلام کوٹ کے دو سیٹھ اس مرتبہ سندھ سے مقابلے میں باہر ہیں۔

 ایسا لگتا ہے کہ اقلیتیں خاص طور رپر اقلیتوں میں اکثریت رکھنے والے شیڈیولڈ کاسٹ کی نمائندگی کا معاملہ پھر لٹک جائے گا۔ 

 ٹھاکرہمیرسنگھ پہلے پیپلز پارٹی میں تھے اب انہوں نے فنکشنل لیگ میں شمولیت اختیار کی ہے۔وہ خود اور ان کے والد رانا چندر سنگھ ہردور میں مختلف پارٹیوں کے پلیٹ فارم سے اسمبلیوں میں اور حکومت میں رہے ہیں۔ ٹیکم کولہی ضیا دور میں صوبائی اسمبلی  کے رکن رہے ہیں۔ وہ  میرپور خاص کی بااثر شخصیت سید قربان علی شاہ کی معرفت فنکشنل لیگ میں شامل ہو گئے ہیں۔ 
 پیپلز پارٹی سے میگھواڑ برادری  سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر کھٹومل جیون اور گیانچند امکانی امیدوار ہیں۔ دو مرتبہ ایم این اے رہنے والے کرشن بھیل اور سابق ایم پی اے بھیرو مل بالانی نواز لیگ سے امیدوارہیں۔
 ایم کیو ایم  سے شیڈیولڈ کاسٹ سے تعلق رکھنے والے معصوم تھری اور پونجوبھیل متوقع امیدوارہیں۔ پونجومل پہلے بھی رکن اسمبلی رہ چکے ہیں۔ صحافی، ادیب اور سیاسی کارکن کی شناخت رکھنے والے معصوم تھری اقلیتی ووٹرز  کے اکثریتی علاقے تھر سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک عرصے تک بائیں بازو کی سیاست  سے منسلک رہے۔ ان کی سندھ کے سیاسی، ادبی اور سماجی حلقوں میں اچھی جان پہچان ہے۔
اقلیتی سیاست پر بھی خاندان حاوی ہیں۔ تھانہ بولا خان سے تعلق رکھنے والے لالچند کوہستانی اور پیسو مل بھائی ہیں جبکہ موہن لال ان کے چچازاد ہیں۔ یہ لوگ کنگ آف کارگو کے طور رپرمشہور ہیں۔یہ لوگ بحری جہازوں کے کارگو کا کاروبار کرتے ہیں۔ یہ تینوں سابق وزیراعلیٰ سندھ سید قائم  علی شاہ  کے لوگ ہیں  اور انکے کاروباری مفادات بھی شاہ صاحب سے وابستہ ہیں۔ 
پیرومل کے سیٹھ شاید حکمت عملی کے تحت بڑی پارٹیوں میں موجود ہیں۔کشنچند پاروانی ارباب گروپ کے ساتھ  ہیں۔ لچھمن داس فنکشنل لیگ میں ہیں۔ سنجے پاروانی ایم کیو ایم میں۔انکے ماموں سینیٹر ہری لال کشوری لال پیپلز پارٹی میں ہیں۔
 سیاسی جماعتوں خواہ اقلیتی برادریوں کے لیے لمحہ فکر  ہے کہ ملک میں اور خاص طور سندھ کے پس منظر میں جن لوگوں کو مخصوص نشستوں پر لایا جارہا ہے وہ کس حد تک موثر نمائندگی کریں گے؟اصل معاملہ اقلیتوں میں سیاسی کیڈر پیدا کرنے کا ہے۔ اور ان کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اگر سیاسی پارٹیاں سیٹھوں اور بااثر لوگوں کے بجائے سیاسی کیڈر پر انحصار کرنا شروع کریں۔تواقلیتوں کی موثر نمائندگی ہو سکتی ہے جس سے صورتحال میں بھی خاصی تبدیلی آسکتی ہے۔

No comments:

Post a Comment